Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
61 - 123
رسالہ 

لمع الاحکام ان لاوضوء من الزکام(۲۴ ۱۳ھ) 

(روشن احکام کہ زکام سے وضو نہیں)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
مسئلہ ۷ف        غرہ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکام جاری ہونے سے وضو جاتا ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا(بیان کیجیے اجر لیجیے ۔ت)ف:مسئلہ زکام کتناہی بہے وضو نہیں جاتا۔
الجواب :الحمد للّٰہ الذی حمدہ نور وذکرہ طہور والصلاۃ والسلام علی سید کل طیب طاہر واٰلہ وصحبہ الاطائب الاطاھر
تمام تعریف خدا کے لئے ،جس کی حمد نور ہے اور جس کا ذکر ، طہور ہے، اور درود و سلام ہو ہر طیب و طاہر کے سردار اور ان کی اطیب و اطہر آل و اصحاب پر ۔ (ت)

زکام کتنا ہی جاری ہو اس سے وضو نہیں جاتا کہ محض بلغمی رطوبات طاہرہ ہیں جس میں آمیزش خون یا ریم کا اصلاً احتمال نہیں ۔ 

اقول ۶۵: ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بلغم کی قے ف کسی قدر کثیر ہو ، ناقضِ وضو نہیں ـــــــ -
ف:مسئلہ بلغم کی قے کتنی ہی کثیر ہو وضو نہ جائے گا ۔
درمختار میں ہے:
لاینقصہ قیئ من بلغم علی المعتمد اصلا ۱؎۔
قولِ معتمد کی بنیاد پر بلغم کی قے اصلاً ناقضِ وضو نہیں۔ (ت)
 (۱؎الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶)
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:
شامل للنازل من الرأس والصاعد من الجوف وقولہ علی المعتمد راجع الی الثانی لان الاول بالاتفاق علی الصحیح ۲؎۔
یہ حکم سر سے اترنے والے اور معدہ سے چڑھنے والے دونوں قسم کے بلغم کو شامل ہے اور ان کا قول ''علی المعتمد'' (قول معتمد کی بنیاد )دوم (معدہ والے ) کی طرف راجع ہے کیونکہ صحیح یہ ہے کہ اول میں وضو نہ ٹوٹنے کا حکم بالاتفاق ہے ۔ (ت)
(۲؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارکتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۱ /۷۹)
ردالمحتار میں ہے:
اصلا ای سواء کان صاعدامن الجوف اوناز لامن الراس ح خلافا لا بی یوسف فی الصاعد من الجوف الیہ اشار بقولہ علی المعتمد ولو اخرہ لکان اولی ۳؎ اھ ای لان تقدیمہ یوھم ان فی عدم النقض بالبلغم خلافا مطلقا ولیس کذلک فی الصحیح۔
''اصلاً''یعنی معدہ سے چڑھنے والا ہو یا سر سے اُترنے والا __ ح__اور معدہ سے چڑھنے والے میں امام ابو یوسف کا اختلاف ہے ۔ اس کی طرف لفظ ''علی المعتمد'' سے اشارہ کیا ہے ، اگر اسے '' اصلاً'' کے بعد رکھتے تو بہتر تھا ا ھ۔ یعنی اس لئے کہ اسے پہلے رکھ دینے سے یہ وہم ہوتا ہے کہ بلغم سے وضو ٹوٹنے میں مطلقاً اختلاف ہے حالاں کہ بر قولِ صحیح ایسا نہیں ہے ۔ (ت)
 (۳؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی نواقض الوضوءداراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۴)
نور الایضاح ومراتی الفلاح میں ہے:
عشرۃ اشیاء لاتنقض الوضوء منھا قیئ بلغم ولوکان کثیرالعدم تخلل النجاسۃ فیہ وھو طاھر۔ ۱؎
دس چیزیں ناقضِ وضو نہیں ہیں ان میں سے ایک بلغم کی قے ہے اگرچہ زیادہ ہو ، اس لئے کہ نجاست اس کے اندر نہیں جاتی اور وہ خود پاک ہے ۔ (ت)
 (۱؎مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی،کتاب الطہارۃ     فصل عشرۃ اشیاء لا تنقض الوضوء،دارالکتب العلمیہ بیروت،ص۹۳۔۹۴)
یہ تصریحاتِ جلیہ ہیں کہ بلغم جو دماغ سے اُترے بالاجماع ناقضِ وضو نہیں اور ظاہر ہے کہ زکام کی رطوبتیں دماغ ہی سے نازل ہیں تو ان سے نقضِ وضو کسی کا قول نہیں ہو سکتا ، حکمِ مسئلہ تو اسی قدر سے واضح ہے مگر یہاں علامہ سید طحطاوی ف۱ رحمۃ اللہ علیہ کو ایک شبہہ عارض ہوا جس کا منشا یہ کہ ہمارے علماء نے فرمایا : جو سائل چیز ف۲ بدن سے بوجہِ علت خارج ہو ناقضِ وضو ہے مثلاً آنکھیں دُکھتی ہیں یا جسے ڈھلکے کا عارضہ ہو یا آنکھ، کان ، ناف وغیرہ میں دانہ یا ناسور یا کوئی مرض ہو ان وجوہ سے جو آنسو ، پانی بہے وضو کا ناقض ہوگا ۔
ف۱: معروضۃ۱۴  علی العلامۃ ط۔

ف۲:مسئلہ آنکھیں دکھنے یا ڈھلکے میں جو آنسو ہے یا آنکھ ، کا ن ،چھاتی ،ناف وغیرہ سے دانے ناسور خواہ کسی مرض کے سبب پانی بہے وضو جاتا رہے گا۔
درمختار باب الحیض میں ہے :
صاحب عذر من بہ سلس بول او استحاضۃ اوبعینہ رمد اوعمش اوغرب وکذا کل ما یخرج بوجع ولو من اذن او ثدی وسرۃ ۲؎۔
عذر والا وہ ہے جسے بار بار پیشاب کا قطرہ آتا ہو یا استحاضہ ہو یا آنکھ میں رمد یا عمش یا غرب ہو ( آشوب یا چندھا پن یا کوئی پھنسی ہو ) اور اسی طرح ہر وہ چیز جو کسی بیماری کی وجہ سے نکلے اگرچہ کان یا پستان یا ناف سے ہو ۔ (ت)
 (۲؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۳)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ رمدای ولیسیل منہ الدمع قولہ عمش ضعف الرؤیۃ مع سیلان الدمع فی اکثر الاوقات، قولہ غرب،قال المطرزی ھو عرق فی مجری الدمع یسقی فلا ینقطع مثل الباسور عن الاصمعی بعینہ غرب اذا کانت تسیل ولا تنقطع دموعھا والغرب بالتحریک ورم فی الماٰقی اھ ۱؎
قولہ ''آشوب ہو '' یعنی اس سے پانی بھی بہتا ہو ----- قولہ عمش یعنی اکثر اوقات پانی بہنے کے ساتھ ، بصارت کی کمزوری ہو----- قولہ غرب -----مطرزی نے کہا : یہ آنسو بہنے کی ایک رگ ہوتی ہے جو بہنے لگتی ہے تو بند نہیں ہوتی جیسے بواسیر---- اصمعی سے منقول ہے : ''بعینہ غرب'' اس وقت بولتے ہیں جب آنکھ بہتی رہتی ہو اور اس کے ساتھ آنسو تھمتے نہ ہوں۔ اور غَرَب----- را پر حرکت کے ساتھ ---- آنکھ کے کویوں میں ایک ورم ہوتا ہے ۔ (ت)
 (۱؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ با ب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت۱/ ۲۰۲)
اس پر علامہ طحطاوی نے فرمایا:
ظاھرہ یعم الانف اذا زکم ۲؎۔
یعنی ظاہراً یہ مسئلہ ناک کو بھی شامل ہے جب زکام ہو ۔
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۱ /۱۵۵)
علامہ شامی نے اُس پر اعتراض کیا کہ ہمارے علما ء تصریح ف ۱فرما چکے ہیں کہ سوتے آدمی کے مُنہ سے جو رال بہے اگرچہ پیٹ سے آئے اگرچہ بدبودار ہو پاک ہے،
قول سید طحطاوی نقل کرکے فرماتے ہیں:
لکن صرحوا بان ماء فم النائم طاھر ولو منتنا فتأمل۔ ۳؎
لیکن ہمارے علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ سونے والے کے منہ کی رال اگرچہ بدبو دار ہے، پاک ہے۔ تو تأمل کرو ۔ (ت)
 (۳؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت۱/ ۲۰۲)
ف۱:مسئلہ سوتے میں جو رال بہے اگرچہ پیٹ سے آئے اگرچہ بدبودار ہوپاک ہے۔
اقول۶۶: علامہ طحطاوی کی طرف سے اس پر دو۲ شبہے وارد ہوسکتے ہیں :اوّل کلام ف۲ اس پانی میں ہے کہ مرض سے بہے اور سوتے میں رال نکلنا مرض نہیں، نہ اس کی بو دلیلِ علت ہے ، جیسے آخر روز میں بوئے دہان صائم کا تغیر۔
ف۲ :معروضۃ علی العلامۃ ش
Flag Counter