Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
58 - 123
اقول۶۱: یہ اہلِ تجربہ کی ارشادی باتیں ہیں کوئی شرعی ممانعت نہیں، جامع ترمذی وسنن ابنِ ماجہ کی حدیثیں گزریں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گوشہ جامہ مبارک سے چہرہ اقدس کا پانی صاف فرمایا ،
وذکر فی اشعہ اللمعات فی حدیث معاذبن جبل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ یحتمل ان یراد بالثوب الخرقۃ والمندیل ۴؎۔
اشعۃ اللمعات میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث کے تحت ذکر ہے کہ ہو سکتا ہے جامہ سے کپڑے کا کوئی ٹکڑا اور رومال مراد ہو ۔
 (۴؎اشعہ لمعات کتاب الطہارۃ با ب سنن الوضوء     الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۲۷)
اقول۶۲:مع کونہ(ف) خلاف الظاھر لایحتملہ حدیث سلمان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
اقول: ایک تو یہ خلافِ ظاہر ہے دوسرے حضرت سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث میں اس کا احتمال نہیں ۔ (ت)
 (ف: تطفل ۳۹علی الشیخ المحقق)
ہاں ان کا ضعف اور علماء میں اس کی شہرت اسے مقتضی کہ اس سے احتراز اولٰی ہے ،
بل فی البنایۃ شرح الہدایۃ للامام العینی عن شرح الجامع الصغیر للامام الاجل فخر الاسلام ان الخرقۃ التی یمسح بھا الوضوء محدثۃ بدعۃ یجب ان تکرہ لانھا لم تکن فی عہد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ولااحد من الصحابۃ والتابعین قبل ذلک وانما کانوا یتمسحون باطراف اردیتھم ۱؎ اھ
بلکہ امام عینی کی شرح ہدایہ بنایہ میں امام اجل فخر الاسلام کی شرح جامع صغیر سے نقل ہے کہ وضو کا پانی پونچھنے کے لئے یہ جو کپڑے کا ٹکڑا وضع ہوا ہے نو ایجاد بدعت ہے جس کا مکروہ ہونا ضروری ہے اس لئے کہ اس سے پہلے یہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا نہ صحابہ و تابعین میں سے کسی کے دور میں تھا ، وہ حضرات بس اپنی چادروں کے کناروں سے پونچھ لیا کرتے تھے ا ھ ۔
 (۱؎البنایۃ فی شرح الہدایہ کتاب الکراھیۃ باب اللبس المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۴ /۲۲۱)
فھذا النص فی المقصود---- ثم ماذکر قدس سرہ من الکراھۃ فمحلہ اذا کان بثیاب فاخرۃ کما تعودہ المتجبرون، قال الامام العینی بعد نقلہ'' وقال الفقیہ ابو اللیث فی شرح الجامع الصغیر کان الفقیہ ابو جعفر یقول انما یکرہ ذلک اذاکان شیئا نفیسا لان فی ذلک فخر ا وتکبرا واما اذالم تکن الخرقۃ نفیسۃ فلا باس بہ لانہ لایکون فیہ کبر وقول المصنف (ای صاحب الہدایۃ) ھو الصحیح ای ھذا القول (المذکور عن الفقیھین ابی اللیث وابی جعفر) ھو الصحیح وکذا قال فی جامع قاضی خان والمحبوبی وذلک لان المسلمین قداستعملوا فی عامۃ البلد ان منا دیل فی الوضوء کیف وقدروی الترمذی فی جامعہ ۱؎ الخ ذکرھھنا حدیث ام المؤمنین المقدم رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا۔
یہ اس مقصود میں نص ہے ----پھر حضرت موصوف قدس سرہ نے جو کراہت ذکر فرمائی ہے اس کا موقع اس صورت میں ہے جب عمدہ قسم کے کپڑوں سے پونچھا جائے جیسے متکبرین نے عادت بنا رکھی ہے ۔ امام عینی نے ارشاد مذکور نقل فرمانے کے بعد لکھا ہے کہ فقیہ ابو اللیث سے شرح جامع صغیر میں فرمایا ہے کہ فقیہ ابو جعفر فرماتے تھے : یہ مکروہ اسی صورت میں ہے جب وہ نفیس قسم کا ہو کیوں کہ اسی میں فخر و تکبّر ہوتا ہے۔ اگر وہ کپڑا عمدہ قسم کا نہ ہو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس میں کوئی تکبر نہیں ہوتا ۔ اور مصنف ( صاحبِ ہدایہ ) کی عبارت ''ھو الصحیح'' کا معنٰی یہ ہے کہ یہی قول ( جو فقیہ ابو اللیث اور فقیہ ابو جعفر کے حوالے سے مذکور ہے ) صحیح ہے------ اور ایسا ہی جامع قاضی خان اور محبوبی میں ہے --- اس کی وجہ یہ ہے کہ اب اہلِ اسلام عامہ بلاد میں وضو کا پانی پونچھنے کے لئے رومال کا استعمال کر رہے ہیں، کیوں نہ ہو جب کہ ترمذی نے اپنی جامع میں روایت کی ہے الخ۔ یہاں ام المومنین صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی حدیث ذکر کی ہے جو پہلے گزر چکی ( کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رومال رکھتے تھے کہ وضو کے بعد اس سے اعضائے منّور صاف فرماتے )۔
 (۱؎البنایۃ فی شرح الہدایہ کتاب الکراھیۃ باب اللبس المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۴ /۲۲۱)
قلت اما ما وقع فی القنیۃ من عدم جواز المسح بثیابہ والعمامۃ ففی مسح الید بعد الاکل فانہ رمز اولاعس للامام علاء الدین السغدی وذکرانہ یجوز مسح الید علی الکاغذ، ثم ذکر رامزاط للمحیط یکرہ استعمال ف۱ الکاغذ فی ولیمۃ لیمسح بھا الاصابع، ولا یجوز مسح ف۲ الید علی ثیابہ ولا بدستار، ثم نقل عن استاذہ البدیع انہ قال فعلی ھذا لایجوز علی المندیل الذی یوضع عندالخوان لمسح الایدی بہ، ثم ردہ بقولہ قلت لکن تعلیل عس فی بیانہ یقتضی جوازہ بالمندیل فانہ قال لان الثوب ما ینسج لہذا والمندیل ینسج لہذا ۱؎ اھ فہذا کلہ فی المسح بعدالاکل۔
قلت رہا وہ جو قنیہ میں آیا ہے کہ اپنے کپڑے اور عمامے سے پونچھنا ناجائز ہے ، تو یہ کھانے کے بعد ہاتھ پونچھنے سے متعلق ہے ،اس لئے کہ اس میں پہلے امام علاؤ الدین سغدی کے لئے عس کا رمز دے کر ذکر کیا ہے کہ کاغذ سے ہاتھ پونچھنا جائز ہے ۔ پھر محیط کے لئے ط کا رمز دے کر ذکر کیا ہے کہ ولیمہ کے اندر انگلیاں پونچھنے کے لئے کاغذ کا استعمال مکروہ ہے اور اپنے کپڑے یا دستار سے ہاتھ پونچھنا، ناجائز ہے ۔ پھر اپنے استاد بدیع سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : تو اس بنیاد پر اُس رومال سے بھی جائز نہ ہو گا جو دستر خوان کے پاس ہاتھ پونچھنے ہی کے لئے رکھا جاتاہے --- پھر اسے یوں رد کر دیا ہے کہ میں کہتا ہوں : لیکن علاؤ الدین سغدی نے اس کے بیان میں جو علّت پیش کی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ رومال سے پونچھنا جائز ہو کیونکہ انہوں نے کہا ہے اس لئے کہ کپڑا اس کام کے لئے تیار نہ کیا گیا اور رومال اُسی کے لئے بُنا جاتا ہے اھ ۔ تو یہ سارا کلام کھانے کے بعد پونچھنے سے متعلق ہے ۔
ف۱: مسئلہ کھانے کے بعد کاغذ سے ہاتھ پونچھنا نہ چاہیے ۔

ف۲ : کھانے کے بعد اپنے عمامے وغیرہ لباس سے ہاتھ پونچھنا منع ہے مصنف کے نزدیک یہ ممانعت اس وقت ہے کہ ابھی ہاتھ نہ دھوئے ہوں یا دھونے کے بعد بھی چکنائی یا بو باقی ہو جس سے کپڑاخراب ہو ۔
 (۱؎ القنیۃ المنیۃ لتتمیم الغنیۃ کتاب الکراھیۃ والاحسان مطبوعہ کلکتہ ہند ص ۱۵۸و۱۵۹)
اقول۶۳: و انما لم یجز بثیاب اللبس والعمامۃ لانہ یفسدھا وافساد المال لایجوز ویتحصل من ھذا ان محلہ مااذا مسح قبل الغسل وکذا بعدہ ان کان فیہ دسم اورائحۃ تکرہ من الثوب وان احبّت فی الطعام والا فلاما نع فیما یظھر فلیراجع ولیحرر واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی اعلم ولنسم ھذا التحریر المنیر تنویر القندیل فی اوصاف المندیل''(۱۳۲۴ھ) والحمد للّٰہ رب العٰلمین ۔
اقول: پہننے کے کپڑوں اور عمامہ سے ناجائز اسی لئے ہے کہ پونچھنے سے وہ خراب ہو جائیں گے اور مال خراب کرنا جائز نہیں-----اور اس سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ عدمِ جواز اس صورت میں ہے جب کھانے میں چکنائی یا ایسی بو ہو جو کپڑے میں ناپسند ہوتی ہے اگرچہ کھانے میں پسندیدہ ہو ورنہ بظاہر اس سے کوئی مانع نہیں تو اس بارے میں مراجعت اور تنقیح کر لی جائے اور خدائے پاک و برتر ہی خوب جانتاہے اور چاہئے کہ ہم اس روشن تحریر کا نام یہ رکھیں :
''تَنْوِیرُ الْقِنْدِیلِ فِیْ اَوْصَافِ الْمِنْدِیلِ''
 (رومال کے اوصاف بیان کرنے میں قندیل کی تنویر ۔ ت) اور تمام ستائش خدا کیلئے جو سارے جہانوں کا رب ہے ۔
رسالہ ''تنویر القندیل فی اوصاف المندیل '' ختم ہوا ]
مسئلہ ۴ :مرسلہ شیخ شوکت علی صاحب    ۱۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس صورت میں کہ شرع محمدی فصل بست وہشتم دربیان مکروہات وضو میں ہے ؎ 

تیسرے تانبے کے برتن سے اگر 	ہے وضو ناقص کرے گا جو بشر

یہ نہ معلوم ہوا کہ تانبے کے برتن سے کیوں وضو ناقص ہے آج کل بہت شخص تانبے کے برتن لوٹے سے وضو کرتے ہیں کیا ان سب کا وضو ناقص ہوتا ہے بینوا توجروا( بیان کرواجر دیے جاؤگے ۔ت)
الجواب : تانبے کے برتن سے وضو کرنا، اُس میں کھانا پینا ،سب بلاکراہت جائز ہے، وضو میں کچھ نقصان نہیں آتا۔ ہاں قلعی کے بعد چاہیے بے قلعی برتن میں کھانا پینا مکروہ ہے کہ جسمانی ضرر کا باعث ہے اور مٹی کا برتن تانبے سے افضل ہے۔ علماء نے وضو کے آداب ومستحبات سے شمار فرمایا کہ مٹی کے برتن سے ہو اور اس میں کھانا پینا بھی تواضع سے قریب تر ہے۔
ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے:
 (منھا) ای من اٰداب الوضو( کون اٰنیتہ من خزف) ۱؎
 (ان ہی میں سے) یعنی آدابِ وضو میں سے (یہ ہے کہ وضو کا برتن پکی مٹی کا ہو ) ۔ (ت)
 (۱؎ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ،دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۸۴)
اُسی میں اختیار شرح مختار سے ہے ۔
 (اتخاذھا) ای اوانی الاکل والشرب (من الخزف افضل اذلا سرف فیہ ولا مخیلۃ وفی الحدیث من اتخذ اوانی بیتہ خزفا زارتہ الملٰئکۃ ویجوز اتخاذھا من نحاس او رصاص۲؎
کھانے پینے کے برتن مٹی کے ہونا افضل ہے کہ اُس میں نہ اسراف ہے نہ اِترانا، اور حدیث میں ہے: جو اپنے گھر کے برتن مٹی کے رکھے فرشتے اس کی زیارت کریں۔ اور تانبے اور رانگ کے بھی جائز ہیں۔۱۲
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الحظر والاباحۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۱۸)
اُسی میں ہے:
یکرہ الاکل فی النحاس بالغیر المطلی بالرصاص لانہ یدخل الصداء فی الطعام فیورث ضررا عظیما واما بعدہ فلا ۱؎ اھ ملخصا واللّٰہ تعالٰی اعلم
بغیرقلعی کیے ہوئے تانبے کے برتن میں کھانا مکروہ ہے، کیونکہ اُس کا زنگ کھانے میں مل کر ضررِ عظیم پیدا کرتا ہے اور قلعی ہو جانے کے بعد ایسا نہیں ا ھ ملخصاً۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم ۔
 ( ۱؎ ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۵ /۲۱۸)
Flag Counter