Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
57 - 123
بالجملہ تحقیق مسئلہ و ہی ہے کہ کراہت اصلاً نہیں ، ہاں حاجت نہ ہو تو عادت نہ ڈالے اور پُونچھے بھی تو حتی الوسع نم باقی رکھنا افضل ہے ۔
فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے :
لاباس للمتوضئ والمغتسل ان یتمسح بالمندیل روی عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یفعل ذلک ومنھم من کرہ ذلک ومنھم من کرہ للمتوضی دون المغتسل والصحیح ماقلناہ الاانہ ینبغی ان لایبالغ ولایستقصی فیبقی اثر الوضوء علی اعضائہ۔ ۱؎
وضو و غسل کرنے والے کے لئے رومال سے بدن پونچھنے میں حرج نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ وہ ایسا کرتے تھے ۔ بعض نے اسے مکروہ کہا ہے، اور بعض نے وضو کرنے والے کے لئے مکروہ کہا ہے غسل والے کے لئے نہیں اور صحیح وہی ہے جو ہم نے کہا مگر چاہئے کہ اس میں مبالغہ نہ کرے اور پانی بالکل خشک نہ کر دے اعضاء پر کچھ اثر باقی رہنے دے ۔ (ت)
 (۱؎ردالمحتاربحوالہ خانیہ کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۸۹)
حلیہ میں ہے:وکذا وقع ذکر التنشیف بلفظ لاباس فی خزانۃ الاکمل و غیرہ و عزاہ فی الخلاصۃ الی الاصل بھذا للفظ ایضاً ۲؎ اھ
اسی طرح خزانۃ الاکمل وغیرہ میں پانی سُکھانے کا ذکر '' لا باس ''(حرج نہیں ) کے لفظ کے ساتھ آیا ہے اور ان ہی الفاظ کے ساتھ خلاصہ میں اسے اصل ( مبسوط) کے حوالہ سے بیان کیا ہے ۔ (ت)
 ( ۲؎ردالمحتاربحوالہ الحلیۃ کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۹)
یہاں سے ظاہر ہوا ف کہ وہ جو درمختار میں واقع ہوا کہ وضو کے بعد رومال سے اعضاء پونچھنا مستحب ہے ۔
حیث قال من الاٰداب التمسح بمندیل وعدم نفض یدہ ۳؎ اھ
اس کے الفاظ یہ ہیں کہ : آدابِ وضو میں یہ بھی ہے کہ رومال سے پانی پونچھ لے اور ہاتھ سے نہ جھاڑے ا ھ ۔ (ت)
(۳؎ الدرالمختار ،کتاب الطہارۃ،مطبع مجتبائی دہلی ،۱ /۲۴)
ف: تنبیہ علی مافی المنیۃ والدرالمختار۔
اور منیہ میں واقع ہوا کہ غسل کے بعد مستحب ہے
حیث قال ویستحب ان یمسح بمندیل بعد الغسل۴؎ اھ
 (اس کے الفاظ یہ ہیں:مستحب ہے کہ غسل کے بعد کسی رومال سے بدن پونچھ لے۔ اھ ت )
 (۴؎ منیۃالمصلی کتاب الطہارۃ فرائض الغسل وسننہا     مکتبہ قادیہ لاہور     ص۴۰)
دونوں سہوِ قلم ہیں ،
لااعلم لہما سلفا فی ذلک فی المذھب فان الخلاف کما علمت فی الکراھۃ فضلا عن الاستحباب۔
مجھے اس بارے میں علمائے مذہب میں سے کوئی بھی ان دونوں حضرات کا پیش رَو معلوم نہیں اس لئے کہ اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ ہے یا نہیں ، مستحب کہاں سے ہو گا (ت)
ولہٰذا ردالمحتار میں قولِ دُر پر فرمایا:
ذکرہ صاحب المنیۃ فی الغسل وقال فی الحلیۃ ولم ارمن ذکرہ غیرہ وانما وقع الخلاف فی الکراھۃ ۱؎ الخ فاشارالی ان نقلہ الی الوضوء تفرد علی تفرد۔
اسے صاحبِ منیہ نے غسل کے بیان میں ذکر کیا اور حلیہ میں اس پر لکھا کہ صاحبِ منیہ کے سوا کسی اور کے یہاں میں نے اس کا ذکر نہ دیکھا بلکہ یہاں تو کراہت میں اختلاف ہے الخ ۔ اس سے علامہ شامی نے اشارہ کیا کہ اس استحباب کو غسل سے نکال کر وضو میں لانا صاحبِ درمختار کا تفرد پر تفرد ہے (ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃمطلب فی التمسح بمندیل     داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۸۹)
ہاں علامہ طحطاوی نے قولِ دُر کو بعد استنجاء آبِ استنجاء ف رومال سے پونچھنے پر حمل کیا اور وہ محمل حسن ہے 

ف:مسئلہ پانی سے استنجے کے بعد کپڑے سے خوب صاف کرلینا مستحب ہے کپڑا نہ ہو تو باربار بائیں ہاتھ سے یہاں تک کہ خشک ہو جائے ۔ 

متعدد کتب میں اس کا استحباب مصرح ہے ،
قال ط قولہ والتمسح ای مسح موضع الاستنجاء بخرقۃ کذافی فتح القدیر۲؎اھ
سیّد طحطاوی نے کہا : قولہ والتمسح یعنی مقام استنجاء کو کسی کپڑے سے پونچھ لینا ، ایسا ہی فتح القدیر میں ہے ا ھ (ت)
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ     المکتبۃ العربیہ کوئٹہ     ۱ /۷۶)
منیہ کے آداب الوضو میں ہے :
وان یمسح موضع الاستنجاء بالخرقۃ بعد الغسل قبل ان یقوم وان لم یکن معہ خرقۃ یجففہ بیدہ ۔۳؎
مقام استنجاء کو دھونے کے بعد کھڑے ہونے سے پہلے کپڑے سے پونچھ لے --- اور پا س میں کپڑا نہ ہو تو ہاتھ سے خشک کر لے ۔ (ت)
 (۳؎ منیۃالمصلی کتاب الطہارۃ مستحبات الوضوء     مکتبہ قادیہ لاہور     ص۲۷)
حلیہ میں ہے:
یعنی الیسری مرۃ بعد اخری حتی لایبقی البلل علی ذلک المحل ومنھم من فسر الاستنقاء بھٰذا۱؎۔
یعنی بائیں ہاتھ سے بار بار پُونچھ لے کہ اس جگہ تری نہ رہ جائے اور بعض نے استنقاء (صفائی) کی یہی تفسیر کی ہے ۔ (ت)
 (۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
غنیہ میں ہے:
لیزول اثر الماء المستعمل بالکلیۃ ۲؎ الخ ثم قال ط وفی الہندیۃ ولایمسح ف ۱سائر اعضائہ بالخرقۃ التی یمسح بھا موضع الاستنجاء فلاینا فی انہ یمسح بغیرھا۳؎ اھ ونحوہ فی ردالمحتار۔
تاکہ ماءِ مستعمل کا اثر بالکل ختم ہو جائے الخ ----- آگے سید طحطاوی نے فرمایا : اور ہندیہ میں ہے کہ جس کپڑے سے مقامِ استنجاء کو پونچھے اس سے دیگر اعضائے بدن کو نہ پونچھے تو یہ دوسرے کپڑے سے  پُونچھ لینے کے منافی نہیں ا ھ ---- اور اسی کے ہم معنی ردالمحتار میں بھی ہے ،
ف۱:مسئلہ جس کپڑے سے استنجے کا پانی خشک کریں اس سے باقی اعضاء نہ پونچھے
 (۲؎غنیۃ المستملی کتاب الطہارۃ آداب الوضوء     سہیل اکیڈمی لاہور    ص۳۱)

(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ     المکتبۃ العربیہ کوئٹہ     ۱ /۷۶)
اقول۶۰: نعم وکرامۃ ف ۲ولکن لایقتضی ایضا استحباب مسح غیرہ بغیرھا کمالا یخفی فلا یفید کلام الشارح رحمہ اللّٰہ تعالٰی۔
اقول: ہاں منافی نہیں اور دیگر اعضاء کی عزت کا لحاظ بھی ہے لیکن اس کا تقاضا یہ بھی نہیں کہ باقی بدن کو دوسرے کپڑے سے پونچھ لینا مستحب ہے ۔جیساکہ واضح ہے۔ تو یہ کلامِ شارح رحمہ اللہ تعالی کے لئے مفید بھی نہیں ۔ (ت)
ف ۲ :معروضۃ۳۸ علی العلامتین ط وش
تنبیہ : علماء میں مشہور ہے کہ اپنے دامن ف۳ آنچل سے بدن نہ پونچھنا چاہئے اور اسے بعض سلف سے نقل کرتے ہیں اور ردالمحتار میں فرمایا : دامن سے ہاتھ منہ پونچھنا بھول پیدا کرتا ہے۔
ف۳:مسئلہ اپنے دامن یا آنچل سے بدن پونچھناشرعا منع نہیں مگر دامن سے ہاتھ منہ پونچھنے سے اہل تجربہ منع فرماتے ہیں کہ اس سے بھول پیدا ہوتی ہے۔
لمعات باب الغسل میں ہے:
الاولی ان لا ینشف بذیلہ وطرف ثوبہ ونحوھما وحکی ذلک عن بعض السلف ۱؎۔
اولٰی یہ ہے کہ اپنے دامن یا لباس کے کنارے یا اور کسی حصہ سے خشک نہ کرے ،اور یہ بعض سلف سے بطورِ حکایت منقول ہے ۔ (ت)
 (۱؎ لمعات التنقیح کتاب الطہارۃ باب الغسل مکتبۃ المعارف العلمیۃلاہور     ۲/ ۱۰۹ )
ارشاد الساری باب المضمضۃ و الاستنشاق فی الجنابۃ میں ہے :
قال فی الذخائر واذاتنشف فالاولی ان لایکون بذیلہ وطرف ثوبہ ونحوھما ۲؎۔
ذخائر میں ہے اور جب خشک کرے تو اولٰی یہ ہے کہ دامن ، لباس کے کنارے، اور ان کے مثل سے نہ پونچھے ۔ (ت)
 (۲؎ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب الطہارۃ باب المضمضۃ الخ دار الکتب العلمیۃ بیروت۱ /۱۹۸)
ردالمحتار میں قبیلِ تیمم ہے :
زادبعضھم مما یورث النسیان اشیاء منھا مسح وجھہ او یدیہ بذیلہ، ولسیدی عبدالغنی فیھا رسالۃ ۳؎۔
بعض نسیان پیدا کرنے والی چیزوں میں مزید چند باتیں ذکر کی ہیں ، ان ہی میں اپنے چہرے یا ہاتھوں کو دامن سے پونچھنا بھی ہے اور سیّدی عبدالغنی رحمہ اللہ کا ان اشیاء کے بارے میں ایک رسالہ بھی ہے ۔ (ت)
 (۳؎رد المحتار     کتاب الطہارۃ     فصل فی البئر    داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۵۰)
Flag Counter