Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
56 - 123
قلت ۵۵:وبعض اصحابنا وان عدوا عدم النفض من اٰداب الوضوء کما فی الدر وغیرہ فلا غروفان امثال الحدیث فی امثال المقام تقوم بافادۃ الادبیۃ اما ان ینتہض معارضا لحدیث صحیح فکلا۔
قلت ہمارے بعض علماء نے پانی نہ جھاڑنے کو اگرچہ آدابِ وضو سے شمار کیا ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیوں کہ ایسی حدیث ایسی جگہ اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ کسی چیز کے ایک ادب اور مستحب ہونے کا افادہ کر دے ۔ رہا یہ کہ کسی حدیث صحیح کے معارض ہو جائے تو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ۔
وثانیا۵۶ ترک الاولی ف۱ لافادۃ ف۲ الجواز واقع عنہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم بحیث تجاوز حدالاحصاء وذلک ھوالاولی منہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لکونہ من مشارع تبلیغ الشرائع والبیان بالفعل اقوی کما شہد بہ حدیث ام سلمۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا فی واقعۃ الحدیبیۃ۔
ثانیاً کسی چیز کا جواز بتانے کے لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے ترکِ اولٰی بے شمار مقامات میں واقع ہے اور یہ عمل ( ترکِ اولٰی افادہ جواز کے لئے ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا اولٰی ہے اس لئے کہ سرکار قوانین واحکام کی تبلیغ کا مصدر و منبع ہیں۔ اور فعل کے ذریعہ بیان زیادہ قوی ہوتا ہے جیساکہ اس پر واقعہ حدیبیہ میں حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث شاہد ہے ۔
ف۱ : تطفل ۳۱ اٰخر علی القاری

ف۲ : ترک الاولی احیانا لبیان الجواز ھو الاولی من النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم۔
وثالثا۵۷: لفظ الحدیث ف۳عند مسلم والنسائی فی طریق اخری عن مخرج الحدیث الاعمش اعنی بطریق عبداللّٰہ بن ادریس عن الاعمش عن سالم ھو ابن ابی الجعد عن کریب عن ابن عباس عن میمونۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اتی بمندیل فلم یمسہ وجعل یقول بالماء ھکذا یعنی ینفضہ اھ ۱؎ ولفظ ابی داؤد عن الاعمش فناولتہ المندیل فلم یأخذہ وجعل ینفض الماء عن جسدہ ۲؎
ثالثا: ( کچھ اور طرق سے جو الفاظِ حدیث وارد ہیں وہ بالکل فیصلہ کن ہیں ) امام مسلم و امام نسائی کے یہاں مخرج حدیث حضرت اعمش سے ایک طریق اور ہے وہ یوں ہے : عبداللہ بن ادریس __ عن الاعمش __ عن سالم __ یہ ابن ابی الجعد ہیں __ عن کریب __ ابن عباس __ عن میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔ اس طریقِ عبد اللہ بن ادریس میں الفاظِ حدیث یہ ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رومال حاضر کیا گیا تو اسے ہاتھ نہ لگایا اور پانی کو یوں کرنے لگے یعنی جھاڑنے لگے ۔ ا ھ اور بطریق عبداللہ بن داؤد عن الاعمش ، سنن ابی داؤد میں یہ الفاظ ہیں : امّ المومنین نے سرکار کو رومال پیش کیا تو نہ لیا اور بدن مبارک سے پانی جھاڑنے لگے۔
ف۳: تطفل ۳۲ ثالث علٰی علی القاری
 (۱؎صحیح مسلم کتاب الحیض     باب صفۃ غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۴۷)

(۲؎سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ آفتا ب عالم پریس لاہور۱/ ۳۳۔۳۲)
فھذہ نصوص مفسرۃ لاتدع لتاویل ذلک البعض مساغا ولا مجالا فضلا عن ان یکون ھو الاولٰی وانا اتعجب ف۱ من القاضی الامام کیف یقتصر علی تبعیدہ وکذا الشیخ المحقق ف۲ حیث نقل ھذا التاویل فی لمعات التنقیح۳؎ شرح مشکوٰۃ المصابیح عن بعض الشروح واقرہ،
یہ ایسے مفسَّر نصوص ہیں کہ اس تاویل ( جھاڑنا یعنی چلنے میں ہاتھ ہلانا ) کی کوئی گنجائش اور جگہ ہی نہیں رہ جاتی ، اس تاویل کا اولٰی ہونا تو بہت دور کی بات ہے اور مجھے تو یہ تعجب ہے کہ امام قاضی عیاض نے اسے صرف بعید کہنے پر اکتفاء کیوں کی ؟ اور اسی طرح شیخ محقق پر بھی تعجب ہے کہ انہوں نے لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں یہ تاویل بعض شروح کے حوالے سے نقل کی اور برقرار رکھی ،
ف۱ : تطفل علی الامام القاضی عیاض ۔

ف۲ :تطفل علی الشیخ المحقق عبدالحق الدہلوی۔
 ( ۳؎ لمعات التنقیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث۴۳۶ مکتبۃ المعارف النعمانیہ لاہور۲ / ۱۰۹)
وقال فی اشعۃ اللمعات ف۳ ایں معنی بعداست از مقام ۱؎ اھ لم لا یقولون باطل مالہ من مساغ ھذا۔
اور اشعۃ اللمعات میں فرمایا : یہ معنی اس مقام سے بعید ہے ۔ ا ھ یہ کیوں نہیں فرماتے کہ باطل ہے اس کی گنجائش ہی نہیں ، یہ بحث تمام ہوئی ۔
ف۳: تطفل اٰخر علیہ۔
 (۱؎اشعۃ للمعات کتاب الطہارۃ باب الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱/ ۲۳۲)
ثم ان من الناس من یقول بکراھۃ المندیل بعد الوضوء دون الغسل قال فی الحلیۃ روی عن ابن عباس ۲؎ اھ
اب یہ ہے کہ بعض حضرات اس کے قائل ہیں کہ وضو کے بعد رومال استعمال کرنا مکروہ ہے ، غسل کے بعد نہیں ۔ حلیہ میں ہے کہ یہ قول حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے ۔ ا ھ
(۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
قلت ۵۸:رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما انہ کرہ ان یمسح بالمندیل من الوضوء ولم یکرھہ اذا اغتسل من الجنابۃ ۳؎ اھ
قلت اسی عبدالرزاق نے اپنی مصنّف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے وضو کے بعد رومال سے پانی پونچھنے کو ناپسند کیا اور غسلِ جنابت کی صورت میں مکروہ نہ رکھا ۔
 (۳؎ المصنف لعبدالرزاق کتاب الطہارۃ بالمندیل حدیث ۷۰۹ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۱ /۱۸۲)
وحاول الامام ابن امیر الحاج فی الحلیۃ توجیہہ بان کراھتہ فی الوضوء لما ذکرنا عن الزھری قال ولم ینقل فی الغسل انہ  یو زن ۴؎ اھ
امام ابنِ امیر الحاج نے حلیہ میں اس کی یہ توجیہہ فرمانے کی کوشش کی ہے کہ وضو میں ان کی کراہت کی وجہ وہ حدیث ہے جو ہم نے امام زہری سے نقل کی ( کہ یہ پانی روزِ قیامت وزن ہوگا ) اور غسل کے بارے میں یہ منقول نہیں کہ اس کا پانی بھی وزن کیا جائے گا ۔ ا ھ
 (۴؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول۵۹:تقاعد(ف) کونہ یوزن عن ایراث کراھۃ المسح قد قدمناہ وان سلم (ف ۱)فالنقل فی الوضوء نقل فی الغسل بالقیاس الجلی ف۲، بل بدلالۃ النص، فان الغسل حسنۃ کالوضوء فان کان یوزن ماء الوضوء فکذا ماؤہ بل ھو اولی لانھا طہارۃ کبرٰی وماؤہ اکثر واوفی، وانما الامر عندی واللّٰہ تعالٰی اعلم ان حبر الامۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ رأی فی منعہ فی الغسل حرجا کما اسلفنا۔
اقول ہم بتا چکے کہ اس پانی کے وزن کئے جانے کی فضیلت اسے پونچھنے میں کراہت لانے سے قاصر ہے----- اور اگر اسے مان ہی لیں تو ( وہی حکم غسل میں بھی ہونا چاہئے اگرچہ خاص لفظ غسل کے ساتھ حدیث واردنہیں ہے کیونکہ ۱۲ م ) وضو میں منقول ہونا قیاس جلی ، بلکہ دلالۃ النص کی رُو سے غسل میں بھی منقول ہونا ہے اس لئے کہ وضو کی طرح غسل بھی ایک نیکی ہے تو اگر وضو کا پانی تولا جائے گا تو غسل کا پانی بھی ایساہی ہوگا بلکہ وہ بدرجہ اولٰی ہو گا اس لئے کہ وہ طہارتِ کبرٰی ہے اور اس کا پانی زیادہ وافر بھی ہوتا ہے ، ------ میرے نزدیک اس کی وجہ----- واللہ تعالٰی اعلم ------ یہی ہے کہ حبرامت رضی اللہ تعالٰی عنہ نے غسل کے اندر اس سے ممانعت میں حرج دیکھا جیسا کہ پہلے ہم بیان کر آئے ہیں ۔
ف :تطفل ۳۶ علی الحلیۃ

ف۱:تطفل ۳۷ آخر علیہا

ف۲ : غسل کاپانی بھی نیکیوں کے پلے میں رکھاجانا ظاہر ہے
Flag Counter