Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
55 - 123
بالجملہ اس قدر میں شک نہیں کہ ترک احیاناً دلیلِ کراہت نہیں ہو سکتا بلکہ وہ تتمّہ دلیل سنیت ہوتا ہے ، اور احسن تاویلات حدیث وہ ہے جو امام اجل ابراہیم نخعی استاذ الاستاذ سیدنا امام اعظم رضی اللہ عنہ نے افادہ فرمائی کہ سلف کرام کپڑے سے پُونچھنے میں حرج نہ جانتے مگر اس کی عادت ڈالنا پسند نہ فرماتے کہ وہ باب ترفہ و تنعم سے ہے ۔ 

سنن ابی داؤد میں حدیثِ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے آخر میں ہے ۔
فذکرت ذلک لابرھیم فقال کانوا لایرون بالمندیل  بأسا ولکن کانوا یکرھون العادۃ ۱؎
حضرت ابراہیم سے میں نے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا : وہ حضرات رومال سے پونچھنے میں حرج نہ جانتے تھے مگر اس کی عادت ڈالنا پسند نہ فرماتے تھے ،
 (۱؎سنن ابی داؤد، کتاب الطہارۃ،باب فی غسل من الجنابۃ، آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۳)
ولفظ الطبری قال الاعمش فذکرت ذلک لابرھیم فقال انما کانوا یکرھون المندیل بعد الوضو مخافۃ العادۃ۔۲؎
طبری کے الفاظ یہ ہیں : امام اعمش نے کہا : پھر میں نے حضرت ابراہیم سے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا : وہ حضرات وضو کے بعد رومال استعمال کرنے کو ناپسند فرماتے تھے کہ کہیں عادت نہ پڑ جائے ۔ (ت)
 (۲؎ المواہب اللدنیہ     المقصدالتاسع     النوع الاول الفصل السادس المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۵۴)
پھر نفسِ حدیث میں دلیلِ جواز موجود کہ ہاتھ سے پانی صاف فرمایا اور صاف کرنے میں جیسا کپڑا ویسا ہاتھ ،
ذکرہ الامام النووی فی شرح المہذب واو ردہ فی شرح مسلم عن بعض العلماء مقرا علیہ لکن نقل العلامۃ علی القاری فی المرقاۃ شرح المشکوٰۃ عن بعض علمائنا ان معنی قولھا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا فانطلق فھو ینفض یدیہ یحرکہما کما ھو عادۃعــــہ من لہ رجولیۃ قال وقیل ینفضھما لازالۃ الماء المستعمل وھو منہی عنہ ف فی الوضوء والغسل لما فیہ من اماطۃ اثر العبادۃ مع ان الماء مادام علی العضو لایسمی مستعملا فالاول اولی اھ۔ ۱؎
اسے امام نووی نے شرح مہذب میں ذکر کیا اور شرح مسلم میں بعض علماء سے نقل کیا اور برقرار رکھا لیکن مُلاّ علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہمارے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ اُمّ المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ارشاد مذکور '' سرکا ر ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے چلے گئے '' کا معنی یہ ہے کہ مردانگی والوں کے طور پر ہاتھوں کوہلاتے ہوئے گئے ۔ آگے لکھا : اورکہا گیا کہ معنی یہ ہے کہ آب مستعمل بدن سے دور کرنے کے لئے ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے گئے اور اس کام سے وضو و غسل دونوں میں ممانعت آئی ہے کیونکہ اس میں عبادت کا اثر اپنے بدن سے دور کرنا ہے باوجودیکہ پانی جب تک بدن سے لگا ہوا ہے مستعمل نہیں کہلاتا تو پہلا معنی اولیٰ ہے ۔
عــــــہ اقول۵۳الاولی ان یقول کتعبیر غیرہ کما ھوعادۃ الاقویاء۱۲منہ

عــــــہ اقول بہتر یوں کہنا ہے کہ'' طاقتوروں کے طور پر'' جیسے بعض دوسرے حضرات کی تعبیر ۱۲منہ(ت)

ف:مسئلہ وضویا غسل میں پانی سے ہاتھ نہ جھٹکنا بہتر ہے مگرمنع نہیں، اوراس بارے میں جو حدیث آئی کہ'' وہ شیطان کا پنکھا ہے ''ضعیف ہے۔
 (۱؎مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث     ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ /۱۴۰)
ثم نقل عن القاضی الامام عیاض ان من فوائد الحدیث جواز النفض والاولٰی ترکہ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام اذا توضأتم فلا تنفضوا ایدیکم ومنھم من حمل النفض علی تحریک الیدین فی المشی وھو تأویل بعید ۱؎ اھ۔ ثم قال اعنی القاری قلت وانکان التاویل بعیدا فالحمل علیہ جمعا بین الحدیثین اولی من الحمل علی ترک الاولٰی ۲؎ اھ
پھر امام قاضی عیاض سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث سے جو فوائد ملتے ہیں اس میں سے یہ بھی ہے کہ ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنا اولٰی ہے اور بہتر اس کا ترک ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کا ارشاد ہے : جب تم وضو کرو تم اپنے ہاتھ نہ جھاڑو اور کسی نے جھاڑنے کا مطلب یہ بتایا ہے : چلنے میں ہاتھوں کو حرکت دینا اور یہ تاویل بعید ہے۔ ا ھ اس پر علامہ قاری لکھتے ہیں میں کہتا ہوں اگرچہ یہ تاویل بعید ہو مگر دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق دینے کے لئے اس معنٰی پر محمول کرنا ترکِ اولٰی پر محمول کرنے سے بہتر ہے ۔ ا ھ
 (۱؎مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث         ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ /۱۴۰)

(۲؎مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث    ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ /۱۴۰)
اقول۵۴: اولا(ف) قد اعترفتم ببعد التاویل وھو کذلک ولم یثبت فی النھی عن النفض حدیث صحیح قال الامام النووی فی المنھاج تحت الحدیث المذکورفیہ دلیل علی ان نفض الید بعد الوضوء والغسل لاباس بہ وقد اختلف اصحابنا فیہ علی اوجہ اشھرھا ان المستحب ترکہ ولایقال انہ مکروہ الثانی انہ مکروہ الثالث انہ مباح یستوی فعلہ وترکہ وھذا ھو الاظھر المختار فقد جاء ھذا الحدیث الصحیح فی الاباحۃ ولم یثبت فی النھی شیئ اصلا اھ۳؎
اقول:  اوّلاً آپ کو اعتراف ہے کہ یہ تاویل ، بعید ہے اور یہ واقعۃً وہ ایسی ہی ہے اور ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنے سے ممانعت کے بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں ۔ امام نووی منہاج (شرح مسلم) میں حدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں : اس میں دلیل موجود ہے کہ وضو اور غسل کے بعد ہاتھ سے پانی جھاڑنے میں کوئی حرج نہیں اور اس بارے میں ہمارے علماء کے مختلف اقوال ہیں ، سب سے مشہور یہ ہے کہ مستحب اس کا ترک ہے اور اسے مکروہ نہ کہا جائے گا ، دوسرا یہ مکروہ ہے ، تیسرا یہ کہ مباح ہے ، کرنا نہ کرنا یکساں اور برابر ہے ۔ یہی اظہر اور مختار ہے کیونکہ اباحت کے بارے میں یہ صحیح حدیث موجود ہے اور نہی کے بارے میں سرے سے کچھ ثابت ہی نہیں ۔ ا ھ
ف:تطفل ۳۰ علی العلامۃ القاری۔
 (۳؎شرح صحیح مسلم کتاب الحیض باب صفۃ غسل الجنابۃ تحت الحدیث ۷۱۰دار الفکر بیروت ۲ /۶۸۔۱۳۶۷)
والحدیث المذکور رواہ ابو یعلی فی مسندہ وابن عدی فی الکامل من طریق البختری بن عبید عن ابیہ عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اشربوا اعینکم من الماء عند الوضوء ولا تنفضوا ایدیکم فانھا مراوح الشیطان ۱؎
اور جو حدیث ذکر ہوئی اسے ابو یعلی نے اپنی مسند میں اور ابنِ عدی نے کامل میں بطریقِ بختری بن عبید عن ابیہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کیا کہ سرکار نے فرمایا : اپنی آنکھوں کو بھی وضو کے وقت کچھ پانی پلاؤ اور اپنے ہاتھوں کو نہ جھاڑو کیوں کہ ا س طرح وہ شیطان کے پنکھے ہیں ۔
 (۱؂ کنز العمال بحوالہ ع وعدعن ابی ھریرۃحدیث ۲۶۲۵۶     موسسۃالرسالہ بیروت۹ /۳۲۶

الجامع الصغیر بحولہ ع وعدعن ابی ھریرۃ حدیث ۱۰۶۴     دارالکتب العلمیہ بیروت۱ /۷۰)
ونحوہ عندالدیلمی فی مسند الفردوس واخرجہ ایضا ابن حبان فی الضعفاء وابن ابی حاتم فی العلل والبختری ف ضعیف متروک کما فی التقریب ۲؎
اسی کے ہم معنی مسند الفردوس میں دیلمی نے روایت کی اور ابنِ حبان نے بھی کتاب الضعفاء میں اور ابنِ ابی حاتم نے کتاب العلل میں ا س کی تخریج کی اور بختری ضعیف ، متروک ہے جیسا کہ تقریب التہذیب میں ہے ۔
ف: تضعیف البختری بن عبید
 ( ۲؎ تقریب التہذیب ترجمہ البختری بن عبید ۶۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۱۲۲)
وقال المناوی فی شرحہ الکبیر للجامع الصغیر المسمّی بفیض القدیر ان البختری ضعفہ ابو حاتم وترکہ غیرہ وقال ابن عدی روی عن ابیہ قدر عشرین حدیثا عامتھا مناکیر ھذا منھا اھ ومن ثم قال العراقی سندہ ضعیف وقال النووی کابن الصلاح لم نجدلہ اصلا اھ ۳؎
علامہ مناوی نے جامع صغیر کی شرح کبیر فیض القدیر میں لکھا ہے کہ : بختری کو ابو حاتم نے ضعیف کہا اور دوسرے حضرات نے اسے ترک کر دیا ۔ ابنِ عدی فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے والد سے بیس حدیثیں روایت کی ہیں جن میں زیادہ تر منکر ہیں یہ بھی انہی میں سے ہے یہی وجہ ہے کہ عراقی نے فرمایا : اس کی سند ضعیف ہے اور ابنِ الصلاح کی طرح امام نووی نے فرمایا : ہمیں اس کی کوئی اصل نہ ملی۔ ا ھ
 ( ۳؎فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث ۱۰۲۴ دارالکتب العلمیہ بیروت۱/ ۶۶۸)
Flag Counter