Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
54 - 123
حلیہ میں فرمایا:
وقول الترمذی ف۲لایصح عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی ھذا الباب شیئ انتھی لاینفی وجود الحسن ونحوہ والمطلوب لایتوقف ثبوتہ علی الصحیح بل یثبت بہ کما یثبت بالحسن ایضاً۔ ۳؎
امام ترمذی کا قول ہے : اس باب میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی حدیث صحیح نہ آئی۔ ا ھ اس قول سے حدیث حسن وغیرہ موجود ہونے کی نفی نہیں ہوتی اور مطلوب کا ثبوت حدیث صحیح پر موقوف نہیں بلکہ اسی کی طرح حدیث حسن سے بھی اس کا ثبوت ہوتا ہے ۔ (ت)
(۳؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
ف ۲ :قول المحدثین لایصح لاینفی الحسن ۔
لا جرم محرر المذہب امام ربانی سیدنا امام محمد شیبانی قدس سرہ النورانی کتاب الآثار شریف میں فرماتے ہیں:
اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد عن ابرھیم فی الرجل یتوضأ فیمسح وجہہ بالثوب قال لاباس بہ ثم قال ارأیت لواغتسل فی لیلۃ باردۃ ایقوم حتی یجف قال محمد وبہ ناخذ ولا نری بذلک باساً وھو قول ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔۱؎
یعنی امام اجل ابراہیم نخعی سے اس باب میں استفتاء ہوا کہ آدمی وضو کر کے کپڑے سے منہ پونچھے: فرمایا کچھ حرج نہیں ۔ پھر فرمایا : بھلا دیکھ تو اگر ٹھنڈی رات میں نہائے تو کیا یوں ہی کھڑا رہے یہاں تک کہ بدن خشک ہو جائے۔ امام محمد نے فرمایا : ہم اسی کو اختیار فرماتے ہیں ہمارے نزدیک اس میں کچھ حرج نہیں اور یہی قول امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا ہے ۔
 (۱؎کتاب الآثار للامام محمدبا ب مسح بعد الوضو بالمندیل     ادارۃ القرآن کراچی         ص۸ )
اور یہیں ف۱ سے ظاہر ہوا کہ وضو و غسل دونوں کا اس باب میں ایک ہی حکم ہے بلکہ بسا اوقات غسل میں کپڑے سے بدن خصوصاً سر پونچھنے کی حاجت بہ نسبت وضو کے زائد ہوتی ہے اور اگر تجربہ ف ۲صحیحہ یا خبر طبیب حاذق مسلم مستور سے معلوم ہو کہ نہ پونچھنا ضرر شدید کا باعث ہو گا تو صاف کر لینا واجب ہو جائیگا اگرچہ وضو میں اگرچہ بنہایت مبالغہ کہ نم کا نام نہ رہے ۔
ف۱ :مسئلہ غسل کے بعد اعضاء پونچھنے کا حکم ۔

ف۲:اگر اعضاء نہ پونچھنے سے ضرر ثابت ہو توپونچھنا واجب تک ہو سکتا ہے ۔
حلیہ میں ہے :
ھذا کلہ اذالم تکن حاجۃ الی التنشیف فان کان فالظاھر انہ لاینبغی ان یختلف فی جوازہ من غیر کراھۃ بل فی استحبابہ او وجوبہ بحسب تلک الحاجۃ۔ ۲؎
یہ سارا کلام اس صورت میں ہے جب پانی خشک کرنے کی ضرورت نہ ہو اور اگر اس کی ضرورت ہے تو ظاہر یہ ہے کہ اس ضرورت کے حسبِ حال اس عمل کے بلاکراہت جواز بلکہ استحباب یا وجوب میں ، کوئی اختلاف نہ ہونا چاہئے۔(ت)
 (۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اور صحیحین کی حدیث جو ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے :
انھا اتت النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بخرقہ بعد الغسل فلم یردھا وجعل ینفض الماء بیدہ۔ ۱؎
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہائے ، یہ کپڑا جسمِ اقدس کو صاف کرنے کے لئے حاضر لائیں ، حضور پُر نور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ لیا اور ہاتھ سے پانی پونچھ پونچھ کر جھاڑا۔
 (۱؎صحیح البخاری ،کتاب الغسل باب من افرغ بیمینہ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۴۰۔۴۱)

(صحیح مسلم ،کتاب الحیض باب صفۃ غسل الجنابۃ      قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۴۷)
اس سے کراہت ثابت نہیں ہوتی
لانھا واقعۃ عین ف ۱لا عموم لھا
 ( یہ ایک معین واقعہ ہے اس میں عموم نہیں ہے ۔ ت) ممکن ہے کہ وہ کپڑا میلا تھا پسند نہ فرمایا
ذکرہ الامام النووی فی شرح المھذب
 ( امام نووی نے یہ وجہ شرح مہذب میں بیان فرمائی ۔ ت)
ف۱:حکایۃ وقائع الحال لا تدل علی العموم
اقول۴۹: وفیہ بُعد ف۲ان تکون ام المومنین اختارت لہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مثل ھذا مع علمھا بکمال نزاھتہ ونظافتہ ولطافتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الا ان یقال ظنت الحاجۃ لبردونحوہ ولم یجد الاما اتت بہ۔
اقول  : اس توجیہ پر اعتراض ہے کہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کی انتہائی پاکیزگی ، صفائی اور لطافت معلوم تھی اس لئے یہ بعید ہے کہ انھوں نے سرکار صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے ایسا کپڑا پسند کیا ہو مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ٹھنڈک وغیرہ کی وجہ سے یہ سمجھا کہ رومال کی ضرورت ہے اور جو حاضر لائیں اس کے علاوہ دوسرا انھیں دستیاب نہ ہوا ۔ (ت)
ف۲:تطفل۲۸ علی الامام النووی۔
ممکن ہے کہ نماز کی جلدی تھی اس لئے نہ لیا ، ذکرہ ایضًا ( اسے بھی امام نووی ہی نے ذکر کیا ۔ ت)
اقول۵۰: ولا یرد علیہ انہ لا یظہر الفرق بین النشف بالثوب و النفض بالید فی الاستعجال لان لفظ البخاری فناولتہ ثوبا فلم یاخذہ فانطلق وھوینفض یدیہ ۱ ؎ اھ فلعلہ لاجل الاستعجال لم یقم لینتشف بالثوب و لم یرد استصحابہ بخلاف النفض بالید فکان یحصل ماشیا کما فعل صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلّم۔
اقول:اس پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ جلدی کے معاملہ میں کپڑے سے سُکھانے اور ہاتھ سے جھاڑنے کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں۔( عدمِ اعتراض ) اس لئے کہ بخاری کے الفاظ یہ ہیں : اُم المومنین نے حضور کو کپڑا پیش کیا تو نہ لیا اور ہاتھوں سے پانی جھاڑتے ہوئے چلے گئے ا ھ ۔ تو ہو سکتا ہے کہ جلدی کی وجہ سے کپڑے سے سُکھانے کے لئے ٹھہرے نہ ہوں اور کپڑا ساتھ لے جانا بھی نہ چاہا ہواور ہاتھ سے پانی جھاڑنے کا کام تو چلتے ہوئے بھی ہو جاتا ہے ، جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہی کیا۔(ت)
 (۱؎صحیح البخاری کتاب الغسل باب نفض الیدین من غسل الجنابۃ      قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۴۱)
ممکن ہے کہ اپنے ربّ عزوجل کے حضور تواضع کے لئے ایسا کیا ذکرہ ایضاً (اسے بھی امام نووی نے ذکر کیا ۔ ت)
اقول۵۱: یعنی رومالوں سے بدن صاف کرنا اربابِ تنعم کی عادت ہے اور ہاتھ سے پانی پونچھ ڈالنا مساکین کا طریقہ ، تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے توا ضعاً طریقہ مساکین پر اکتفا فرمایا ، ممکن ہے کہ وقت گرم تھا اس وقت بقائے تری ہی مطلوب تھی
ذکرہ القاری فی المرقاۃ۲؎
 ( اسے علامہ علی قاری نے مرقاۃ میں ذکر کیا ۔ ت) بلکہ اُم المومنین کا کپڑا پیش کرناظاہراً اسی طرف ناظر کہ ایسا ہوتا تھا مگر اس وقت کسی وجہ خاص سے قبول نہ فرمایا:
 (۲؎مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث     ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ /۱۴۰)
قالہ ابن التین نقلہ فی ارشاد الساری و لفظہ ما اتی بالمندیل الا انہ کان یتنشف بہ وردہ لنحو وسخ کان فیہ ۳؎ ا ھ
اسے ابنِ التین نے کہا،ان سے ارشاد الساری میں نقل ہوا، الفاظ یہ ہیں : رومال اسی لئے حاضر کیا گیا کہ حضور رومال سے پانی خشک کیا کرتے تھے اور سرکار کا نہ قبول فرمانا اس وجہ سے تھا کہ اس میں کچھ مَیل وغیرہ تھا ۔ (ت)
 (۳؎ ارشاد الساری کتاب الغسل باب المضمضہ الخ تحت الحدیث ۲۵۹ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ /۴۹۷ )
اقول۵۱: ویتوقف ف علی اثبات ان ھذا لم یکن اول غسلہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عندھا وانی لہ ذلک ۔
اقول اس توجیہ کی تمامیت یہ ثابت کرنے پر موقوف ہے کہ ان کے یہاں یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا پہلا غسل نہ تھا اور یہ کہاں سے ثابت ہو پائے گا ۔ (ت)
ف: تطفل ۲۹ علی الامام القسطلانی و ابن التین ۔
Flag Counter