Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
53 - 123
رسالہ 

تَنْوِیرُ الْقِنْدِیلِ فِیْ اَوْصَافِ الْمِنْدِیلِ

(رومال کے اوصاف بیان کرنے میں قندیل کا روشن کرنا۔ ت)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
مسئلہ ۳ف:  ۶ شعبان معظم ۱۳۲۱ ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ بعد وضو منہ کپڑے سے پونچھنا نہیں چاہیے اس میں ثواب وضو کا جاتا رہتا ہے بینوا توجروا ۔
 (ف: مسئلہ وضو کے بعد کپڑے سے اعضاء پونچھنے کا حکم)
الجواب :الحمد للّٰہ الذی  ثقل میزاننا بالوضوء وجعلنا غرا محجلین من اثار الوضوء والصلوۃ والسلام علی من کان مندیل سعدہ احسن وانفس من کل حریر ماسحین بقبولہ عن وجوھنا وقلوبنا کل درن وسخ للتنویر۔
تمام تعریفیں اللہ کے لئے جس نے ہماری میزانِ عمل ، آبِ وضو سے گراں بار فرمائی اور ہمیں آثارِ وضو سے تابندہ رو ، روشن دست وپا والا بنایااور جن کا رومالِ سعادت ہر ریشم سے زیادہ حسین و نفیس تھا ان پر ایسے درود و سلام جو ان کے قبول کے باعث ہمارے چہروں اور دلوں کو تابندگی بخشنے کے لئے ہر میل کچیل سے صاف کر دیں ۔ (ت)
اللہ تعالٰی ثواب عطا فرمائے ، وضو کا ثواب جاتا رہنا محض غلط ہے ۔ ہاں بہتر ہے کہ بے ضرورت نہ پُونچھے ، امراء و متکبرین کی طرح اُس کی عادت نہ ڈالے اور پُونچھے تو بے ضرورت بالکل خشک نہ کر لے قدرے نم باقی رہنے دے کہ حدیث میں ف آیا ہے :
ان الوضوء یوزن رواہ الترمذی ۱؎عن ابن شھاب الزھری من اواسط التابعین و علقہ عن سعید بن المسیب من اکابرھم و افضلھم ۔
یہ پانی روزِ قیامت نیکیوں کے پلّے میں رکھا جائے گا ( اسے ترمذی نے درمیانی طبقہ کے تابعی حضرت ابنِ شھاب زہری سے روایت کیا اور بزرگ طبقہ اور افضل درجہ کے تابعی حضرت سعید بن مسیّب سے تعلیقاً بیان کیا ۔ ت)
 (۱؎سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل بعد الوضو حدیث ۵۴دا رلفکر بیروت۱ /۱۲۰)
ف۱ـ:وضو کا پانی روز قیامت نیکیوں کے پلے میں رکھا جائے گا ۔
اقول ۴۶: والمعلق فـــ۲ عندنا فی الاستناد کالموصول وقد وصلہ ابو بکر بن ابی شیبۃ انہ قال اکرہ المندیل بعد الوضوء وقال ھو یوزن ۲؎
اقول :( حدیثِ معلّق بھی ہمارے نزدیک استناد میں موصول ہی کا حکم رکھتی ہے اور اسے تو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان الفاظ میں موصولاً بھی روایت کیا ہے ۔ سرکار نے فرمایا : میں وضو کے بعد رومال کا استعمال پسند نہیں کرتا اور فرمایا : وضو کا پانی وزن کیا جائے گا ۔
ف۲: المعلق عندنا کا لموصول ۔
 (۲؎المصنف لابن ابی شیبہ ،ابواب الطہارۃ    باب من کرہ المندیل حدیث۱۵۹۹دار الکتب العلمیہ بیروت۱/ ۱۳۹)
ومالا یقال ف۳ بالرأی فعلی الرفع محمول مالم یکن صاحبہ اٰخذ اعن الا سرائیلیات بل قدروی تمام فی فوائدہ وابن عساکر فی تاریخہ عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم من توضأ فمسح بثوب نظیف فلا باس بہ و من لم یفعل فھو افضل لان الوضوء یوزن یوم القیامۃ مع سائر الاعمال۱؎۔
اور جو بات رائے سے نہ کہی جا سکتی ہو وہ اس پر محمول ہوتی ہے کہ سرکار سے مروی اور مرفوع ہے جب کہ راوی اسرائیلیات سے لے کر بیان کرنے والا نہ ہو بلکہ تمام نے فوائد میں اور ابنِ عساکر نے تاریخ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے ۔ ت) یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو وضو کر کے پاکیزہ کپڑے سے بدن پونچھ لے تو کچھ حرج نہیں اور جو ایسا نہ کرے تو یہ بہتر ہے اس لئے کہ قیامت کے دن آبِ وضو بھی سب اعمال کے ساتھ تولا جائے گا۔
(۱؎کنزالعمال بحوالہ تمام وابن عساکرعن ابی ھریرۃ حدیث ۲۶۱۳۹ ،  موسسۃ الرسالہ بیروت۹ /۳۰۷)
ف۳: مالا یقال بالرأ ی یحمل علی الرفع اذالم یکن صاحبہ اخذا عن الاسرائیلیات ۔
اقول: وبہ انتفٰی الاستدلال بو زنہ علی کراھۃ مسحہ کما قال الترمذی فی جامعہ و من کرھہ انما کرھہ من قبل انہ قیل ان الوضو یوزن ۲؎الخ
اقول: آب وضو کے وزن کئے جانے سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ اسے پونچھنا مکروہ ہے جیسا کہ امام ترمذی نے اپنی جامع میں لکھا کہ اس کا م کو جس نے مکروہ کہا ہے اسی وجہ سے مکروہ کہا ہے کہ فرمایا گیا ہے : یہ پانی روزِ قیامت نیکیوں کے پلّے میں رکھا جائے گا ۔
 (۲؎سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل الخ بعد الوضوء حدیث ۵۴دا رلفکر بیروت۱ /۱۲۰)
فھٰذا الحدیث مع تصریحہ بالوزن نص علی نفی الکراھۃ فان ذلک انما ھواستحباب ومعلوم ف۱ان ترک المستحب لایوجب کراھۃ التنزیہ کما حققہ فی البحر والشامی وغیرھما۔
مذکورہ بالا حدیثِ ابو ھریرہ سے یہ استدلال رَد ہو جاتا ہے کیوں کہ اس میں وزن کئے جانے کی صراحت کے ساتھ کراہت کی نفی ،اور اس کے صرف مستحب ہونے پر نص موجود ہے -----اور یہ معلوم ہے کہ ترکِ مستحب، کراہتِ تنزیہ کا مُوجب نہیں۔ جیسا کہ محقق بحر اور علامہ شامی وغیرہما نے اس کی تحقیق فرمائی ہے ۔ (ت)
ف۱ :ترک المستحب لایوجب کراھۃ تنزیہ۔
اس کے سوا اس کی ممانعت یا کراہت کے بارے میں اصلاً کوئی حدیث نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد حدیثوں میں اس کا فعل مروی ہوا۔ جامع ترمذی میں ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ تعالٰی سے ہے :
قالت کان لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم خرقۃ یتنشف بھا بعد الوضوء ۱؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رومال رکھتے کہ وضو کے بعد اُس سے اعضائے منوّر صاف فرماتے۔
 ( ۱؎سنن الترمذی، ابواب الطہارۃ، باب ما جاء فی المندیل، بعد الوضوء حدیث۵۳دا رلفکر بیروت۱ /۱۱۹)
قلت ۴۸ونحوہ للدار قطنی فی الا فراد۲؎ عن ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قلت :
اسی طرح امام دار قطنی نے یہ حدیث افراد میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے(ت)
 (۲؎کنزالعمال قط فی الافرادعن ابی بکر حدیث ۲۶۹۹۷     موسسۃ الرسالہ بیروت۹ /۴۷۰)
نیز جامع ترمذی میں معاذبن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
قال رأیت النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذا توضأ مسح وجہہ بطرف ثوبہ ۳؎
میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب وضو فرماتے اپنے آنچل سے روئے مبارک صاف کرتے۔
 ( ۳؎سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل بعد الوضوء حدیث۵۳دا رالفکر بیروت ۱ /۱۲۰)
سُنن ابن ماجہ میں سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضأ فقلب جبۃ صوف کانت علیہ فمسح بھا وجہہ ۴؎
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وضو فرما کر اُونی کُرتا کہ زیبِ بدن اقدس تھا اُلٹ کر اُس سے چہرہ انور پونچھا۔
 (۴؎سنن ابن ماجہ،ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل بعد الوضو      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۷)
اقول۴۸ : یہ چاروں حدیثیں اگرچہ ضعیف ہیں مگر تعددِطرق سے اس کا انجبار ہوتا ہے معہذا حلیہ میں فرمایا کہ جب حدیث ف۱ ضعیف بالاجماع فضائل میں مقبول ہے تو اباحت میں بدرجہ اولیٰ،
 (ف ۱:حدیث ضعیف استحباب واباحت میں بالاجماع مقبول ہے ۔)
علاوہ بریں یہاں ایک حدیث حسن قولی بھی موجود امام ابو المحاسن محمد بن علی رحمہ اللہ تعالٰی کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام میں روایت فرماتے ہیں:
اخبرنا محمد بن اسمٰعیل انا ابو اسحٰق الارموی اخبرتنا کریمۃ القرشیۃ انا ابو علی بن المحبوبی انا ابو القاسم المصیصی اناابو عبدالرحمٰن بن عثمٰن انا ابرٰھیم بن محمد بن احمد بن ابی ثابت ثنااحمد بن بکیر یعلی ثنا سفین عن لیث عن زریق عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لاباس بالمندیل بعد الوضوء ۱؎۔
یعنی انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''وضو کے بعد رومال میں کچھ حرج نہیں''۔  امام مذکور اس حدیث کو روایت کر کے فرماتے ہیں ہذ الاسناد لا باس بہ ۲؎ ( اس اسناد میں کوئی حرج نہیں ت )
 (۱؎ الالمام باداب دخول الحمام) ( ۲؎ الالمام باداب دخول الحمام)
Flag Counter