Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
51 - 123
اقول اولا ۳۹ مبنی ف۱ علی الاشتراک ونفی الحقیقۃ متعین بظہورہ وان اکتسب القطع بالاجماع۔
ا قول اولا: یہ ساری گفتگو (لائے نفی جنس کی مذکورہ دو معنوں میں ) مشترک ماننے کی بنیاد پر ہے (حالاں کہ اس کا اصلی معنی صرف ایک ہے نفی حقیقت اور دوسرا معنی مجازی ہے جس کے قرینے کی حاجت ہوتی ہے ۱۲م) اور پہلی حدیث میں نفی حقیققت متعین ہے اس لئے کہ وہی ظاہر ہے اگر چہ اس معنی کو اجماع کے باعث قطعیت بھی حاصل ہوگئی ہے ۔ (ورنہ معنی حقیقی متعین ہونے کے لئے ظہور اور تبادر ذہنی کافی ہوتا ہے ۱۲م)
ف۱ : تطفل ۲۰خامس علی البحر
وثانیا۴۰ف۲ ماذکر فی الثانی ان حققت یکن حجۃ علیہ فان تلقی الامۃ بالقبول بمعنی نفی الصحۃ غیر مسلم لخلاف امام دار الہجرۃ ومن معہ فلم یبق الاتلقی الحدیث بالقبول فیفید قطعیۃ الثبوت فقط فلوکان مشترک الدلالۃ  تقاعد عن صلوح الزیادۃ بہ علی الکتاب من قبل الدلالۃ وان تکامل من جہۃ الثبوت۔
ثانیا :حدیث ثانی کے بارے میں جو بیان کیا اگر اس کی تحقیق کیجئے تو معلوم ہوگا کہ وہ تو ان کے خلاف حجت ہے اس لئے کہ اس سے اگر یہ مراد ہے کہ اس حدیث میں گواہوں کے بغیر نکاح کے عدم جواز کا معنی امت کے قبول عام سے سر فراز ہے تو یہ تسلیم نہیں اس لئے کہ امام مالک اور ان کے موافق حضرات اس کے خلاف ہیں (وہ بغیر شہادت کے بھی نکاح جائز مانتے ہیں ۱۲م) اور اگر یہ مراد ہے کہ یہ حدیث قبول عام سے سر فراز ہے یعنی امت نے اسے حدیث رسول مانا ہے اور اس کے ثبوت سے کسی کو انکار نہیں تو اس کا مفاد بس اتنا ہوا کہ حدیث قطعی الثبوت ہے ۔ اب اگر (بقول بحر کے ) اثبات اور دلالت کے معاملے میں یہ ظنی اور مشترک ہے تو ثبوت کی جہت سے کامل اور بلند پایہ ہو کر بھی دلالت کی جہت سے قاصر اور فروتر ہوگی جس کے با عث وہ اس قابل نہ رہ جائے گی کہ اس سے قرآن پر زیادتی ہوسکے
ف ۲تطفل۲۱ سادس۔
وثالثاف۳ اشتراط الشہادۃ للصحۃ لایقضی بنفی الحقیقۃ بدونھا فان الحق کما حققت فیما علقت علی ردالمحتار الفرق بین باطل النکاح وفاسدہ وقد قال فی الدر المختار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد وھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشھود ۱؎ اھ
ثالثا :صحت نکاح کے لئے شرط شہادت کا تقاضا یہ نہیں کہ اس کے بغیر حقیقت نکاح کا وجود ہی نہ ہوسکے ، اس لئے کہ حق یہ ہے کہ نکاح باطل اور نکاح فاسد میں فر ق ہے جیسا کہ میں نے اس کی تحقیق رد المحتار پر اپنے رقم کردہ حواشی میں کی ہے اور درمختار میں ہے نکاح فاسد میں مہر مثل واجب ہے ، نکاح فاسد وہ ہے جس میں صحت نکاح کی کوئی شرط مفقود ہو ، جیسے گواہوں کا ہونا اھ ،
 (۱؎ الدرالمختار، کتاب النکاح، باب المہرمکتبہ مجتبائی دہلی ، ۱ /۲۰۱)
ف :۳تطفل۲۲ سابع۔
بہ صرح فی النھر بل قد نقل البحر مقرا ان کل نکاح اختلف العلماء فی جوازہ کالنکاح بلا شہود فالد خول فیہ یوجب العدۃ اما نکاح منکوحۃ الغیر فلم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا اھ ۱؎
او رالنہر الفائق میں بھی اسی کی تصریح ہے بلکہ خود صاحب بحر نے درج ذیل عبارت نقل کر کے بر قرار رکھی ہے ،ہر وہ نکاح جس کے جائز ہونے میں علماء کا اختلاف ہوا س میں مباشرت سے عدت واجب ہوجاتی ہے جیسے بغیر گواہوں کے نکاح لیکن دوسرے کی منکوحہ سے نکاح تو کوئی بھی اس کے جواز کا قائل نہیں اس لئے تو وہ سر ے سے منعقد ہی نہ ہوا ۔ اھ۔
 ( ۱؎ البحرالرائق کتاب الطلاق باب العدۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۱۴۴)
ثم قال فعند عدم المرجح لاحد المعنیین کان الحدیث ظنیا وبہ تثبت السنۃ ومنہ حدیث التسمیۃ اھ ۲؎
پھر فرماتے ہیں تو جب دومعنوں میں سے کسی کو تر جیح دینے والا کوئی امر نہ ہو توحدیث ظنی ہوگی اور اسی سے سنت ہونا ثابت ہوتا ہے حد و ضو میں تسمیہ والی حدیث بھی ایسی ہے اھ ۔
 (۲؎ البحرالرائق،کتاب الطہارۃ      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۱۹)
اقول:  اولاف۱ اکفی بالظھور مرجحا۔
اولا ترجیح کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ معنی ظاہر ہو ۔
ف۱ تطفل۲۳ ثامن ۔
وثانیا: مبنی ف۲ علی ماسبق الیہ ذھنہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی من ان المحقق یدعی الوجوب بناء علی ادعاء قطعیہ الدلالۃ وقد علمت انہ ضدما صرح المحقق۔
ثانیا :اس گفتگو کی بنیاد بھی اسی خیال پر ہے جس کی طر ف صاحب بحر رحمہ اللہ تعالی کا ذہن پہلے جاچکا کہ حضرت محقق وجوب تسمیہ کے مدعی اس بنیاد پر ہیں کہ وہ وجوب پر دلالت حدیث کے قطعی ہونے کا دعوی رکھتے ہیں ، حالاں کہ واضح ہوچکا کہ یہ خیال خود حضرت محقق کی تصریحات کے بر عکس ہے ۔
ف ۲تطفل۲۴ تاسع۔
وثالثا : ف قولہ بہ تثبت السنۃ ذھول عما حقق المحقق من ان الظنیۃ ولو فی جانبی الثبوت والاثبات لایقعد الطلب الجازم عن افادۃ الایجاب کما قدمنا تحقیقہ ھذا مامست الحاجۃ الیہ للاحقاق والانتصار للمحقق علی الاطلاق ولنرجع الی ماکنا فیہ۔
ثالثا :صاحب بحر نے کہا ، اس سے (یعنی ظنی الدلالۃ حدیث سے ) سنت ہونا ثابت ہوتا ہے اس میں اس تحقیق سے ذہول ہے جو حضرت محقق نے رقم فرمائی کہ ظنیت طلب جزمی کو افادہ وجوب کے مرتبے سے نیچے نہیں لاتی اگرچہ ثبوت اور اثبات دونوں ہی جانب ظنیت ہو ، جیسا کہ ہم اس کی تحقیق پہلے بیان کر آئے ہیں ۔ یہ وہ کلام تھا جو احقاق حق اور حضرت محقق علی الاطلاق کی حمایت اور دفاع کی حاجت کے با عث قلم بند ہوا ۔ اب پھر ہم اپنی سابقہ گفتگو پر لوٹ آئیں ۔(ت)
ف: تطفل۲۵ عاشر
ثالثا :اگر اس بحث محقق پر لحاظ بھی ہو تو بسم اللہ واجب للوضوء ہوگی نہ کہ فی الوضوء، اور ہمارا کلام افعال داخلہ فی الوضوء میں ہے کماعلمت (جیسا کہ واضح ہوا۔ ت)
ھذا والکلام وان افضی الی قلیل تطویل فقد اتی بحمد اللّٰہ بجزیل تحصیل والحمد للّٰہ علی ماعلم وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا واٰلہ وصحبہ وسلم واللّٰہ سبحانہ وتعالٰی اعلم ،واذ خرجت العجالۃ فی صورۃ الرسالۃ سمیتھاالجود الحلو فی ارکان الوضوء ۱۳۲۴ھ ،والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔
یہ بحث تمام ہوئی ، اور کلام  اگرچہ ذرا طویل ہوگیا مگر بحمدہ تعالی بہت مفید ہوا------ اور تمام تعریف خدا ہی کے لئے ہے اس پر جو اس نے علم دیا اور ہمارے آقا اور ان کی آل واصحاب پر خدائے بر تر کا درودو سلام ہو------- اور خدائے پاک وبر تر کو ہی خوب علم ہے ------ اور جب یہ عجالہ (عجلت میں لکھا جانے والا مضمون) ایک رسالہ کی صورت اختیار کر گیا تو میں نے اس کا نام یہ رکھا ۔الجود الحلو فی ارکان الوضوء ۱۳۲۴ھ( ارکان وضو کے بیان میں باران شیریں) اور تمام ستائش خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا رب ہے ۔
 (رسالہ الجود الحلوفی ارکان الوضوء ختم ہوا )
Flag Counter