ثم اقول: العجب ف کل العجب من المحقق صاحب البحر کیف نسب ھھنا الی المحقق مالم یقلہ ولم یرِدہ فانہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی انما نفی ھھنا عن خبر التسمیۃ الظنیۃ بمعنی الاشتراک اعنی تساوی الاحتمالین کما یتساوی معنیا المشترک مالم تقم علی احدھما قرینۃ ولم یقل مکان قولہ مشترکھا، مشکوکہا اذلا شک فی الدلالۃ انما الشک فی تعیین المدلول ولم یعترف بھذا فی شروط الصّلاۃ انما اعترف بقیام الاحتمال ولم ینکرہ ھھنا بل قدصرح بہ( حیث قال نفی الکمال فیھما احتمال یقابلہ الظہور اھ ۱؎ ولاجل کونہ مرجوحاً لم یستنزل الحدیث عن افادۃ الوجوب کما قدمنا نقل کلامہ وھو بمرأی منک فلاتعارض بین کلامیہ اصلاً وباللّٰہ التوفیق۔۲؎
ثم اقول : سخت تعجب محقق صاحب بحر پر ہے کہ انہوں نے یہا ں محقق علی الاطلاق کی جانب ایک ایسی بات کیسے منسوب کردی جو نہ انہوں نے کہی ، نہ ہی وہ ان کا مقصود ہے اس لئے کہ حضرت محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے یہاں جس بات کا انکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ حدیث تسمیہ میں ظنیت اثبات بمعنی اشتراک ہو ۔ اشتراک کا مطلب یہ کہ دونوں احتمال برابر ہوں جیسے مشترک کے دونوں معنی برابر ہوتے ہیں جب تک کہ کسی ایک پر کوئی قرینہ نہ قائم ہو ، اور انہوں نے لفظ مشترک الدلالۃ کے بجائے مشکوک الدلالۃ نہ کہا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ( دلالت تو دونوں معنوں پر موجود ہے ۱۲م) دلالت میں کوئی شک نہیں ، صرف مدلول کی تعیین میں شک ہے ، او رشرائط نماز میں اعتراف اس بات کا نہیں ، وہاں انہوں نے بس احتمال موجود ہونے کا اعتراف کیا ہے اس کا انکار یہا ں بھی نہیں ، بلکہ اس کی تو صراحت فرمائی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں '' ان دونوں حدیثوں میں نفی کمال ایک ایسا احتمال ہے کہ ظاہر اس کی مخالفت کر رہا ہے اھ ''یعنی احتمال ہے مگر چونکہ مرجوع ہے اس لئے وہ حدیث کو افادہ وجوب کے درجے سے نیچے نہ لاسکے گا ، جسیا کہ ہم ان کی پوری عبارت پہلے نقل کر آئے ہیں ، اور وہ آپ کے سامنے ہے اس سے ثابت ہوا کہ ان کی دونوں مقام کی عبارتوں میں بالکل کوئی تعارض نہیں وباللہ التو فیق۔
ف: تطفل ۱۶ علی البحر الرائق
(۱؎فتح القدیر کتا ب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۱)
( ۲؎جد الممتار علی ردالمحتار کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارکپور(الہند) ۱ /۹۶)
ثمّ اشد العجب ف العجب علی العجب ان المحقق صاحب البحر فھم من کلام المحقق حیث اطلق رحمہما اللّٰہ تعالی انہ یدعی قطعیۃ دلالۃ الحدیث علی ایجاب التسمیۃ للوضوء حیث قال وقد اجاب (ای فی الفتح) عن قولھم لاواجب فی الوضوء بما حاصلہ ان ھذا الحدیث لما کان ظنی الثبوت قطعی الدلالۃ ولم یصرف صارف افاد الوجوب اھ ۱؎
پھر سخت حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ محقق صاحب بحر نے محقق علی الاطلاق رحمہما اللہ تعالی کے کلام سے یہ سمجھ لیا کہ وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ وضو کے لئے وجوب تسمیہ پر حدیث کی دلالت قطعی ہے ، بحر کے الفا ظ یہ ہیں فقہا نے فرمایا کہ وضو میں کوئی واجب نہیں ، اس کا فتح القدیر میں جو جواب دیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث جب ثبوت میں ظنی ، دلالت میں قطعی ہے اور اسے اس معنی سے پھیرنے والی کوئی چیز نہیں تو وہ وجوب کا افادہ کرے گی اھ ( اور وضو میں یہ واجب ( تسمیہ) اس حدیث کے پیش نظر ثابت ہوجائے گا ۱۲م)
اقول: ھذا نقیض ماصرح بہ المحقق فانہ انما قرر ان الحدیث ظنی الثبوت والدلالۃ جمیعا وحقق ان الثابت بمثلہ الوجوب دون الاستنان ا ذاکان احتمال الخلاف مرجوحا وقال ان الظن واجب الاتباع فی الادلۃ الشرعیۃ الاجتھادیۃ وھو متعلق بالاحتمال الراجح فیجب اعتبار متعلقہ ۲؎ اھ
اقول :یہ اس کے بالکل بر عکس ہے جس کی حضرت محقق نے صراحت فرمائی ، کیونکہ انہوں نے تو یہی تقریر فرمائی ہے کہ حدیث ، ثبوت اور دلالت دونوں میں ظنی ہے اور یہ تحقیق کی ہے کہ ایسی حدیث سے سنیت نہیں ،وجوب ثابت ہوتا ہے بشرطیکہ احتمال مخالف مرجوح ہو۔ اور انہوں نے فرمایا ہے کہ شریعت کی اجتہادی دلیلوں میں ظن کا اتباع واجب ہے اور ظن (احتمال راجح )کو ماننا واجب ہے اھ ،
(۲؎ فتح القدیر،کتاب الطہارات، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھ ۱ /۲۱)
کما تقدم وقد نقلہ المحقق صاحب البحر بقولہ ان ارید بظنیھا مافیہ احتمال ولو مرجوحا فلا نسلم انہ لایثبت بہ الوجوب لان الظن واجب الاتباع وانکان فیہ احتمال ۱؎ اھ فسبحن من لایزل ولا ینسٰی۔
جیسا کہ پہلے ان کی یہ عبارت گزری ، اور اسے صاحب بحر نے بھی اپنے ان الفاظ میں نقل کیا ہے اگر ظنی الدلالۃ کا یہ مطلب لیا گیا ہے کہ وہ دلیل جس میں کوئی بھی دوسرا احتمال ہو اگر چہ مرجوح سہی ، تو ہم یہ نہیں مانتے کہ ایسی دلیل سے وجوب ثابت نہ ہوگا ، اس لئے کہ ظن کا اتباع واجب ہے اگر چہ اس میں کوئی اور احتمال موجود ہے اھ ، تو پاکی ہے اس ذات کے لئے جسے لغزش اور فراموشی نہیں۔
ثم حاول المحقق ف صاحب البحر الرد علی المحقق حیث اطلق باختیار الشق الاول فقال مرادھم من ظنی الدلالۃ مشترکھا ولا شک انہ مشترک شرعی اطلق تارۃ وارید بہ نفی الحقیقۃ نحولا صلوۃ لحائض الابخمار ولا نکاح الابشھود واطلق تارۃ مراد بہ نفی الکمال نحولا صلاۃ للعبد الاٰبق ولا صلاۃ لجار المسجد الافی المسجد ۲؎ اھ
پھر محقق صاحب بحر نے پہلی شق اختیار کر کے محقق علی الاطلاق کی تردید کر نے کی کوشش کی ہے ، کہتے ہیں '' ظنی الدلالۃ سے علماء کی مراد مشترک الدلالۃ ہے ، اور اس میں شک نہیں کہ یہ مشترک شرعی ہے ، کبھی اس کا اطلاق ہوا اور اس سے نفی حقیقت مقصود ہوئی جیسے '' بالغہ کے لئے اوڑھنی کے بغیر نماز نہیں''اور گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ''اور کبھی اس کا ا طلاق ہوا اور نفی کمال مقصود رہی جیسے ''آقا کے پاس سے بھاگئے ہوئے غلام کی نماز نہیں'' اور مسجد کے پڑوسی کی نماز نہیں مگر مسجد میں، اھ
ف :تطفل ثالث علی ا لبحرالرائق وانتصارللامام ابن الہمام
اقول: المحقق لاینکر انہ یاتی لہذا وھذا کیف وقد نص بقیام احتمال نفی الکمال فی الموضعین من کلامہ انما یقول ان الاصل نفی الاصل ونفی الکمال خلاف الظاھر ولا ینفیہ ارادتہ حیث دعا الیہ الدلیل ومجرد استعمال لفظ فی معنیین لایجعلہ مشترکا فیھما متساوی الدلالۃ علیھما والا لارتفع المجاز من البین۔
اقول :حضرت محقق کو اس سے انکار نہیں کہ وہ اس کے لئے بھی آتا ہے اور اس کے لئے بھی (یعنی لائے نفی جنس کی نفی حقیقت اور نفی کمال دونوں معنی میں مستعمل ہونے سے انہیں انکار نہیں۱۲م) انکار کیسے ہوگا جبکہ اپنے کلام کے دونوں مقام پر انہوں نے نفی کمال کا احتمال موجود ہونے کی تصریح کی ہے ۔ اور وہ تو صرف یہ فرمارہے ہیں کہ اصل یہی ہے کہ اصل اور حقیقت کی نفی ہو ۔ اور کمال کی نفی خلاف ظاہر ہے اس کی تردید اس سے نہیں ہوسکتی کہ نفی کمال اس سے کسی ایسے مقام میں مراد لی گئی ہے جہاں دلیل اسی کی مقتضی ہے اور دومعنوں میں کسی لفظ کا محض مستعمل ہوجانا اسے ان دونوں میں مشترک اور دونوں پر برابر برابر دلالت کرنے والا نہیں بنا دیتا ورنہ مجاز کا وجود ہی ختم ہوجائے ۔
والعجب ف۱ من المحقق صاحب البحر نسی ھھنا ان مذھب ف۲ الحنفیۃ والجمہور ان لا اجمال فی نحولا صلاۃ الا بطھور انما ادعی الاشتراک القاضی ابو بکر البا قلانی من الشافعیۃ وقد تکفل بردہ علماؤنا فی کتبھم الزکیۃ۔
اورمحقق صاحب بحر پر تعجب ہے کہ وہ یہاں یہ بھول گئے کہ حنفیہ اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ '' لاصلوۃ الابطہور'' ( بغیر طہارت کے نماز نہیں) کے مثل میں کوئی اجمال نہیں ( یہاں صرف نفی حقیقت کا معنی ہے ، ایسا نہیں کہ دوسرے معنی کابھی احتمال مساوی موجود ہو اورتعیین کے لئے بیان متکلم کی حاجت ہو ۱۲م) اشتراک کے مدعی تو صرف قاضی ابوبکر باقلانی شافعی ہیں جن کی تردید کی ذمہ داری ہمارے علماء اپنی پاکیزہ کتا بوں میں پورے طور سے ادا کر چکے ہیں ۔
ف۱: تطفل۹ ۱رابع علی البحر۔
ف۲: لااجمال فی نحو لا صلوۃ الا بطہور ۔
ثم قال المحقق صاحب البحر فتعین نفی الحقیقۃ فی الاولیٰ بالاجماع وفی الثانی لانہ مشہور تلقتہ الامۃ بالقبول فتجوز الزیادۃ بمثلہ علی النصوص المطلقۃ کانت الشہادۃ شرطا ۱؎ اھ
پھر محقق صاحب بحر لکھتے ہیں ، تو پہلی حدیث میں نفی حقیقت اجماع سے متعین ہوئی اور دوسری میں اس لئے کہ یہ حدیث مشہور ہے جو امت کے قبول عام سے سرفراز ہے ، ایسی حدیث سے نصوص مطلقہ پر کسی قید کا اضافہ ہوسکتا ہے اس لئے نکاح میں شہادت شرط ہوئی ۔''