( میں کہتا ہوں اے اللہ ! مغفرت فرما۔ ت)یہ سخت تعجب کا محل ہے فقیر نے رد المحتار پر جو حواشی لکھے ہیں ان میں اس قول پر لکھا،
اقول: سبحن ف۱ من تنزہ عن النسیان والخطأ انما عبارۃ المحقق فی شروط الصلاۃ (فی الکلام علی الاستدلال بقولہ تعالٰی خذوا زینتکم عند کل مسجد علی لزوم سترالعورۃ فی الصلاۃ) بھذا القدر الحق ان الاٰیۃ ظنیۃ الدلالۃ فی سترالعورۃ فمقتضاھا الوجوب فی الصلاۃ ومنھم من اخذ منھا قطعیۃ الثبوت ومن حدیث ''لاصلاۃ لحائض الابخمار'' قطعیۃ الدلالۃ فی سترالعورۃ فیثبت الفرض بالمجوع وفیہ مالایخفی بعد تسلیم قطعیۃ الدلالۃ فی الحدیث والا فھو قداعترف فی نظیرہ من نحو ''لاوضوء لمن لم یسم ولاصلاۃ لجار المسجد'' انہ ظنی الدلالۃ ولاشک فی ذلک لان احتمال نفی الکمال قائم ۱؎
اقول: پاکی ہے اسے جو خطا ونسیان سے منزہ ہے باری تعالی کا ارشاد ہے ، تم ہر نماز کے وقت اپنی آرائش اختیار کرو '' اس سے نماز کے اندرستر عورت کی فر ضیت کے استدلال پر ، کلام کرتے ہوئے شرا ئط نماز کی بحث میں محقق علی الاطلاق کی عبارت صرف اس قدر ہے ، حق یہ ہے کہ ستر عورت کے بارے میں اس آیت کی دلالت ظنی ہے اس لئے اس کا مقتضابس وجوب ہوگا نماز میں ۔ اور بعض حضرات نے ستر عورت کے بارے میں اس آیت سے قطعیت ثبوت لی اور حدیث
'' لا صلوۃ الحائض الا بخمار ''
( بالغہ کے لئے اوڑھنی کے بغیر نماز نہیں )سے قطعیت اثبات ودلالت لی اور دونوں کے مجموعے سے ستر کی فرضیت ثابت کی ، حالانکہ حدیث میں ستر پر دلالت کی قطعیت اگر مان لی جائے تب بھی اس استدلال پر جو کلام ہے وہ محتاج بیان نہیں ، ورنہ اس مستدل نے تو خود حدیث مذکور کی نظیر
(جس نے بسم اللہ نہ پڑھی اس کا وضو نہیں)اور
'' لا صلوۃ لجار المسجد الا فی المسجد"
( مسجدکے پڑوسی کے لئے نماز نہیں مگر مسجد ہی میں) وغیرہ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ وجوب پر ان سب کی دلالت ظنی ہے ۔ اور واقعۃ وجوب پر ان سب کی دلالت کے ظنی ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ اس لئے کہ یہ احتمال موجود ہے کہ ان سب میں وضو ونماز کے کامل ہونے کی نفی ہو (اور لاصلوۃ ، لاوضوء کہہ کر حقیقت نماز اور حقیقت وضو کی نفی مقصودنہ ہو)
(۲؎جد الممتار علٰی ردالمحتار کتاب الطہارۃ المجمع السلامی مبارک پور انڈیا ۱/ ۹۶)
ف۱:معروضۃ۱۵علٰی ردالمحتار
والاوجہ الاستدلال بالاجماع علی الافتراض فی الصلاۃ کما نقلہ غیر واحد من ائمۃ النقل الی ان حدث بعض المالکیۃ فخالف فیہ کالقاضی اسمٰعیل وھو لایجوز بعد تقرر الاجماع اھ ۱؎ بلفظہ الشریف۔
اوجہ او رزیادہ مناسب یہ ہے کہ نماز میں فرضیت ستر پر اجماع کو دلیل میں پیش کیا جائے جیسا کہ متعدد ائمہ نقل نے اس پر اجماع نقل کیا ہے یہاں تک کہ مالکیہ میں بعض افراد ، جیسے قاضی اسمعیل ، پیدا ہوئے اور اس اجماع کی مخالفت کی جب کہ اجماع ثابت و مقرر ہوجانے کے بعد اس مخالفت کا کوئی جواز نہیں'' اھ بلفظہ الشریف
(۱؎ فتح القدیر باب شروط الصلوۃالتی تتقدمہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۲۴)
ولیس فیہ من قولہ فالحق ماعلیہ وعلماؤنا الخ عین ولا اثر وانما ھومن کلام البحر حیث قال والعجب من الکمال ابن الھمام انہ فی ھذا الموضع نفی ظنیۃ الدلالۃ عن حدیث التسمیۃ بمعنی مشترکھا واثبتھا لہ فی باب شروط الصلاۃ بابلغ وجوہ الاثبات بان قال ولا شک فی ذلک لان احتمال نفی الکمال قائم فالحق ماعلیہ علماؤناالی اٰخر( مانقل الشامی۔فالعلامۃ الشامی رحمہ اللّٰہ تعالٰی لم یراجع ھھنا الی الفتح وظن ان الکلام کلہ منقول عنہ ''وانما ھو عنہ الی قولہ قائم وما بعدہ فمن البحر''۔)
اس میں بحر کے حوالے سے شامی کی بیان کردہ عبارت
'' فالحق ماعلیہ علما ء و نا الخ ''
( تو حق وہی ہے جس پر ہمارے علماء ہیں کہ وضو میں تسمیہ مستحب ہے ) کا کوئی نام ونشان نہیں دراصل وہ بحر کی عبارت ہے ، ان کے الفاظ اس طرح ہیں '' کمال ابن ہمام پر تعجب ہے کہ یہاں تو انہوں نے حدیث تسمیہ کے ظنی الدلالۃ بمعنی مشترک الدلالۃ ہونے کی نفی کی اور شرائط نماز کے باب میں بڑے شدومد کے ساتھ اس کا اثبات کیااور کہا :
ولا شک فی ذالک لان احتمال نفی الکمال قائم، ''
یعنی واقعۃ'' ان سب کی دلالت کے ظنی ہونے میں کوئی شک نہیں ، اس لئے کہ یہ احتمال موجود ہے کہ ان سب میں وضو ونماز کے کامل ہونے کی نفی ہو ، تو حق وہی ہے جس پر ہمارے علماء ہیں ، اس عبارت کے آخر تک جو علامہ شامی نے نقل کی ، اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں فتح القدیر کی مراجعت نہ کی اور یہ خیال کرلیا کہ بحر کی ساری عبارت فتح ہی سے منقول ہے، حالانکہ اس میں فتح سے صرف لفظ ''قائم '' تک نقل ہے اس کے بعد کا کلام خود بحر کا ہے ،