اقول :۳۱؎: وکانّ مراد العلامۃ الشامی بقولہ بخلاف نحوشحم وسمن جامد ۲؎حیث لاحرج ولا ضرورۃ فان مسألۃ الدھن والشبرج عامۃ لاتقتصر علی الضرورۃ فافادان الشحم لیس کمثلہ لکن ف العجب انہ ذکرمامر عن الجوھرۃ ثم استدرک علیہ بالفتویٰ المذکورۃ فی النھر ثم عقبھا بقولہ نعم وذکر الخلاف فی شرح المنیۃ فی العجین واستظھر المنع لان فیہ لزوجۃ وصلابۃ تمنع نفوذ الماء اھ ۳؎ وکانہ سکت علیہ اکتفاء بما قدمہ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: ''بخلاف چربی اور جمے ہوئے گھی کے مثل '' کہنے سے غالبا علامہ شامی کی مراد یہ ہے کہ جہاں حرج اور ضرورت نہ ہو ۔اس لئے کہ رو غن اور تلوں کے تیل کا مسئلہ عام ہے صرف ضرورت پر محدود نہیں تو یہ افادہ کیا کہ چربی اس طر ح کی نہیں ۔ لیکن تعجب یہ ہے کہ انہوں نے پہلے جوہرہ سے گزشتہ عبارت نقل کی پھر النہر الفائق میں مذکورہ فتوی سے اس پر استدراک کیا (کہ لیکن نہر میں ہے کہ ناخنوں میں خمیرہو تو فتوی یہ ہے کہ وہ معاف ہے ) پھرا س کے بعد یہ لکھا کہ ہاں شرح منیہ میں خمیرسے متعلق اختلاف ذکر کیا ہے اور مانع ہونے کو ظاہر کیا ہے کیونکہ اس میں لزوجت اور صلابت ہوتی ہے جو پانی کے نفو ذ سے مانع ہوتی ہے اھ، شاید انہوں نے ما سبق پر اکتفا کرتے ہوئے یہاں سکوت کیا ۔ واللہ تعالی اعلم( ت)۔
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۰۴)
(۳؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۰۴)
ف :معروضۃعلی رد المحتار
رہا واجب، عملی ف۱ وہ وضو میں کوئی نہیں، بحرالرائق سے گزرا
ا تفق الاصحاب انہ لاواجب فی الوضوء ۱؎
( ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ وضو میں کوئی واجب نہیں ۔ت)
فائدہ ۱مسئلہ :وضو وغسل میں ایسا واجب کوئی نہیں جس کے نہ کرنے سے گناہگا ر ہو مگرطہارت ادا ہو جائے۔
درمختار میں ہے
افاد انہ لاواجب للوضوء ولا للغسل ۲؎
(وضو وغسل میں ارکان کے بعد واجب چھوڑکر سنتوں کا ذکر لاکر یہ افادہ فرمایا کہ وضو وغسل میں کوئی واجب نہیں۔ت)
(۲؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ،مطبع مجتبائی دہلی۱ /۲۰)
اسی طرح کتب کثیرہ میں ہے اور خود بعد نقل اتفاق اصحاب کیا حاجت اطناب واسہاب مگر محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اپنی بحث سے وضو کیلئے بسم اللہ ف۲ وذکر الٰہی سے ابتدا کرنا برخلاف مذہب واجب ٹھہرایا اور اس مسئلہ متفق علیہا کے جواب میں فرمایا:
ماقیل انہ لامدخل للوجوب فی الوضوء لانہ شرط تابع فلوقلنا بالوجوب فیہ لساوی التبع الاصل غیر لازم اذا شتراکہما بثبوت الواجب فیھما لایقتضیہ لثبوت عدم المساواۃ بوجہ اٰخرنحو انہ لایلزم بالنذر بخلاف الصلاۃ مع انہ لامانع من الحکم بان واجبہ احط رتبۃ من واجب الصلاۃ کفرضہ بالنسبۃ الی فرضھا ۱؎ اھ کلامہ الشریف۔
کہا گیا کہ وضو میں ثبوت واجب کا کوئی دخل نہیں اس لئے کہ وضو نماز کی ایک شرط تابع ہے اگراس میں بھی ہم وجوب کے قائل ہوں تو تا بع واصل میں برابری ہوجائے گی ، مگر ہم کہتے ہیں کہ برابر ہونا لازم نہ آئے گا اس لئے کہ اگر نماز و وضو دونوں میں واجب کا ثبوت ہو تو اس کا مقتضایہ نہیں کہ دونوں میں مساوات ہو کیوں کہ عدم مساوات دوسرے طریقہ سے ثابت ہوسکتی ہے مثلا یہ کہ نذر ماننے سے وضو لازم نہیں اور نماز لازم ہے اور برابری دفع کرنے کے لئے یہ حکم بھی کیا جاسکتاہے کہ واجب وضو، واجب نماز سے کم رتبہ ہوگا جیسے فر ض وضو ، فر ض نماز سے کم رتبہ ہے اھ ان کا کلام ختم ہوا ۔(ت)
(۳؎ فتح القدیر کتاب الطہارات نوریہ رضویہ سکھر۱ /۲۱)
ف۲مسئلہ:ہمارے مذہب میں بسم اللہ سے وضو کی ابتدا صرف سنت ہے واجب نہیں اگرچہ امام ابن الہمام کا خیال وجوب کی طرف گیا۔
اقول۳۲: لم یأت ف ۱ المستدل بشیئ حتی سمع ماسمع واذا لم یمنع تبعیۃ الوضوء ثبوت الفرائض فیہ فلم یمنع ثبوت الواجبات والرواتب توابع للفرائض انماشرعت مکملات لامحصلات لہا فلیست فی مرتبۃ الوضوء ایضا ثم لا یقعدھا ذلک عن ان یکون لھا کل من الفروض والواجبات والسنن والمستحبات کماللاصول۔ولم نعن ان الوضوء لایستاھل فی نفسہ ان یکون لہ واجب حتی نحتاج الٰی ماذکر المستدل وانما عنینا ان لیس فی مذھبنا واجب فی الوضوء لایجوز ترکہ ویصح بدونہ وھذا ظاھر لایفتاق الی اظھار وثابت لایصلح للانکار۔
اقول: مستدل نے کوئی مضبو ط بات نہ کی جس کے نتیجے میں اسے یہ سب سننا پڑا ۔ مزید ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ جب وضو کا تا بع نماز ہونا وضو میں فرائض کے ثبوت سے مانع نہ ہوا تو واجبات ثابت ہونے سے مانع کیوں ہوگا ؟ سنن رواتب، فرائض کے تابع ہیں ، وہ فرائض کو حاصل کرانے والی اور ان کے وجود وثبوت کا ذریعہ بھی نہیں صرف ان کی تکمیل کرنے والی ہو کر مشروع ہوئی ہیں تو یہ وضو کے درجہ میں بھی نہیں مگر ان کی یہ تبعیت اس سے مانع نہ ہوئی کہ ان میں بھی فرائض و واجبات او رسنن ومستحبات ہوں جیسے ان کی اصل یعنی فرائض میں ہیں '' وضو میں کوئی واجب نہیں'' سے یہ مراد نہیں کہ وضو اس قابل نہیں کہ اس کے اندر کوئی واجب ہوا ور ہمیں وہ بات کہنے کی ضرورت ہو جو مستدل نے ذکر کی ، اسی سے ہماری مراد صرف یہ ہے کہ ہمارے مذہب میں وضو کا کوئی واجب نہیں ، جس کا ترک جائز نہ ہو اور جس کے بغیر نفس وضو کی صحت حاصل ہوجائے او ریہ بالکل واضح ہو جس کے اظہار کی ضرورت نہیں ،اور ثابت ہے جس کے انکار کی گنجائش نہیں۔ ت)
ف: تطفل ۱۳ علی الفتح وعلی ۱۴ من نقل عنہ فی الفتح
اور مسئلہ تسمیہ اولا تنہا محقق کی اپنی بحث ہے کہ نہ ائمہ مذہب سے منقول نہ محققین مابعد میں مقبول، خود ان کے تلمیذ علاّمہ قاسم بن قطلو بغا نے ف فرمایا: ہمارے شیخ کی جو بحثیں خلافِ مذہب ہیں اُن کا اعتبار نہ ہوگا۔
ف:ضروریہ خلاف مذہب بحثیں اگرچہ امام ابن الہمام کی ہوں مقبول نہیں جبکہ خلاف اختلاف زمانہ سے ناشی نہ ہو۔
اقول: یعنی جب کہ خلاف، اختلافِ زمانہ سے ناشی نہ ہو،
کماافتو بجواز الا جارۃ علی التعلیم والاذان والامامۃ وباخذ صاحب الحق من خلاف جنسہ اذظفر الی نظائر کثیرۃ۔
جیسے علماء نے تعلیم ، اذان اور امامت پر اجارہ کے جواز کا فتوی دیااور یہ فتوی دیا کہ صاحب حق اپنے حق سے مختلف جنس پاجائے تو اسے لے سکتا ہے (یعنی لینے والامثلا ظالم ہے اور صاحب حق کو ا پنی چیز ملنے کی امید نہیں تو اس کی قیمت کے مساوی ظالم کے مال سے جو ہاتھ لگے لے کر رکھ سکتاہے۔ ) اس کی بہت سی نظیریں ہیں۔(ت)
ردالمحتار جنایات الحج میں ہے:
قد قال تلمیذہ العلامۃ قاسم ان ابحاثہ المخالفۃ للمذھب لاتعتبر۱؎
ان کے شاگرد علامہ قاسم نے کہا کہ حضرت محقق کی خلاف مذہب بحثوں کا اعتبار نہیں(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحج باب الجنایات دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۰۶)
اور خاص اس مسئلہ میں ان کے تلمیذ ارشد امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج نے بحثِ محقق پر تعویل درکنار سُنّیت بھی نہ مانی، صرف استحباب کو مرجح قرار دیا جسے خلاصہ میں مفاد ظاہر الراویۃ اور ھدایہ میں اصح فرمایا، حلیہ میں فرماتے ہیں:
وانی لمتعجب ممن استدل بہ وحدہ علی الاستنان۱ (یرید حدیث انس قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ھل مع احد منکم ماء فوضع یدہ فی الاناء وقال توضوا بسم اللّٰہ قال فرأیت الماء یخرج من بین اصابعہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم حتی توضوا من عند اٰخرھم وکانوا نحوا من سبعین اخرجہ النسائی۲؎ وابن خزیمۃ والبیھقی وقال انہ اصح مافی التسمیۃ ۳؎ وقال النووی اسنادہ جید۔
'' مجھے تو اس پرتعجب ہے جس نے صرف اس حدیث سے وضو میں تسمیہ کے مسنون ہونے پر استدلال کیا ''( اس سے مراد حضرت انس رضی اللہ علی عنہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ، کیا تم میں سے کسی کے پاس کچھ پانی ہے ؟ پھر دست مبارک برتن میں رکھا اور فرمایا اللہ کے نام سے وضو کرو ، میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی نکلنے لگا یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کرلیا اور یہ ستر کے قریب تھے ۔ اسے نسائی ، ابن خزیمہ اور بیہقی نے روایت کیا اور بیہقی نے کہا ، یہ تسمیہ میں سب سے صحیح حدیث ہے ۔ اور نووی نے کہا اس کی سند جید ہے )
(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
(۲؎سنن نسائی باب تسمیۃعند الوضوء نور محمدکار خانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۵ )
(صحیح ابن خزیمہ باب ذکر تسمیۃ اللہ عزوجل عند وضوء حدیث ۱۴۴ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۴۷)
(السنن الکبریٰ کتاب الطہارۃ باب تسمیۃ علی الوضوء دار صادر بیروت ۱ /۴۳)
(۳؎ السنن الکبریٰ کتاب الطہارۃ باب تسمیۃ علی الوضوء دار صادر بیروت ۱ /۴۳)
اقول: وضعف دلالتہ علی استنان التسمیۃ لکل وضوء ظاھر فالظاھر انہ ھھنا لاستجلاب البرکۃ فی الماء القلیل واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: ہر وضو کے لئے تسمیہ کے مسنون ہونے پر اس حدیث کی دلالت کا کمزور ہونا واضح ہے اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ یہاں پر بسم اللہ تھوڑے پانی میں برکت حاصل کرانے کیلئے ہے اور خدائے بر ترہی کو خوب علم ہے ۔
قال فی الحلیہ وکذلک غایۃ مایفیدہ الاستدلال الماضی بقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ولا وضوءلمن لم یذکر اسم اللّٰہ علیہ الاستحباب فانہ کما یثبت نفی الفضیلۃ والکمال بترک السنۃ یثبت بترک المستحب فی الجملۃ فیترجح بھذا البحث القول بالاستحباب واللّٰہ سبحانہ وتعالٰی اعلم بالصواب اھ ۱؎
آگے حلیہ میں فرمایا )'' اسی طر ح حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد'' اس کا وضو نہیں جس نے وضو پر خدا کا نام نہ ذکر کیا '' سے سابقا جو استدلال ہے اس سے زیادہ سے زیادہ استحباب مستفاد ہوتا ہے اس لئے کہ کامل وافضل وضو ہونے کی نفی جیسے ترک سنت سے ثابت ہوتی ہے فی الجملہ ترک مستحب سے بھی ثابت ہوتی ہے تو اس بحث سے اس کے استحباب ہی کا قول ترجیح پاتا ہے ، اور خدائے بزرگ و بر تر ہی صواب ودرستی کو خوب جانتا ہے اھ ۔(ت)