Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
47 - 123
تنبیہ جلیل: 

متعدد کتب فــــــ معتمد ہ مثلا خلاصہ وجوہر ہ نیرہ وحلیہ وغنیہ ودر مختار وغیرہا
میں وہ استثنا کہ ہاتھوں میں دوسرا اور پاؤں میں تیسرا تھا اس میں یہ قید لگائی کہ وہ چیز ایسی نرم ہو جس میں پانی سرایت کر سکے جیسے مٹی گار انہ سخت اور نفوذ کو مانع جیسے آٹا ، موم ، چربی ، جما ہو اگھی ، مچھلی کا سنا ، چبائی ہوئی روٹی ،
ف : مسئلہ : تحقیق جلیل کہ مواضع ضرورت میں جس طرح بے اطلاع مٹی گارے کا لگا رہ جانا مانع وضو و غسل نہیں ، یونہی سب چیزوں مثلا آٹے وغیرہ کا بھی ۔۔۔
درمختار سے گزرا۔
بخـلاف نحوعجین۱؎
گندھے ہوئے آٹے جیسی چیز کے بر خلاف(ت)
(۱؎ الدر المختار کتاب الطہار ۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹)
ردالمحتار میں قول شارح لایمنع دھن (مانع نہیں تیل، ت) کے تحت میں ہے :
ای کزیت وشیرج بخلاف نحوشحم وسمن جامد ۲؎
 (یعنی جیسے زیتو ن کا اورتلوں کا تیل ، چربی اور جمے ہوئے گھی کے بر خلاف۔ت)
 (۲؎ ردالمحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث بیروت ۱ / ۱۰۴)
اُسی میں بخلاف نحو عجین کے نیچے ہے
ای کعلک وشمع وقشر سمک وخبز ممضوغ متلبد جوھرۃ ۳؎
 (یعنی جیسے گوند ، موم ، مچھلی کا سنا ، چبائی ہوئی چپکنے والی روٹی ۔ جوہرہ۔ت)
 (۱؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۰۴)
در مختار میں ہے:
لایمنع طعام بین اسنانہ اوفی سنہ المجوف بہ یفتی وقیل ان صلبا منع وھو الاصح ۲؎
کھانے کا ٹکڑا جو دانتوں کے درمیان یا جوف کے اندر رہ جائے وہ مانع نہیں ، اسی پر فتوی ہے اور کہا گیا کہ اگر سخت ہو تو مانع ہے ، اور وہی اصح ہے ۔ت)
 (۲؎الدرالمختار کتاب الطہار ۃ      مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۲۹)
رد المحتار میں ہے:
صرح بہ فی الخلاصۃ وقال لان الماء شیئ لطیف یصل تحتہ غالبا اھ ومفادہ عدم الجواز اذا علم انہ لم یصل انماء تحتہ قال فی الحلیۃ وھو اثبت ۳؎
اسی کی تصریح خلاصہ میں فرمائی ہے اور کہا ہے ، اس لئے کہ پانی لطیف ہوتا ہے غالب گمان یہی ہے کہ اس کے نیچے پہنچ جائے گا اھ
 (۳؎ردالمحتار         کتاب الطہارۃ      دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۱۰۴)
قولہ وھو الاصح صرح بہ فی شرح المنیۃ وقال لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج ۴؎۔
اور اس کا مفادیہ ہے کہ جائز نہ ہوگا اگر یہ معلوم ہو کہ پانی اس کے نیچے نہ پہنچا حلیہ میں کہا ، یہ ا ثبت ہے قول در مختار وہی اصح ہے منیہ میں اس کی تصریح کی ہے اور کہا ہے ، اس لئے کہ پانی نفوذ نہ کرسکے گا اور ضرورت وحرج بھی نہیں۔(ت)
 (۴؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ      دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۱۰۴)
تو اس کا لحاظ مناسب ہے اگر چہ تحقی (ف) یہ ہے کہ مدار کا ر ضرورت وحرج عام یا خاص پر ہے اگر حرج نہیں طہارت نہ ہوگی اگر چہ پانی سرایت کرے کہ مجرد تری پہنچنا کافی نہیں بہنا شر ط ہے ، اور وہ قطعا گارے وغیرہ جرم دار چیزوں میں بھی نہ ہوگا جب تک ان کا جرم زائل نہ ہو تو نرمی وسختی کا فر ق بیکار ہے اور حرج وضرورت ہو اور طہارت کرلی اور ایسی چیز لگی رہ گئی اور نماز پڑھ لی تومعافی ہے اگر چہ سخت ومانع نفوذ ہو آخر مکھی مچھر کی بیٹ پر خود درمختار میں
لم یصل الماء تحتہ
 (اس کے نیچے پانی نہ پہنچا ۔ت)فرما کر حکم دیا کہ
لایمنع الطہارۃ
 (طہارت سے مانع نہیں ہے ۔ت) اور مہندی کے جرم کو بھی مانع نہ مانا اور فرمایا بہ یفتی۱؎ (اسی پر فتوی ہے ۔ت)حالانکہ اس کا جرم خصوصا بعد خشکی یقینا نفوذ آب کو مانع ہے ۔
(۱؎الدرالمختار  کتاب الطہارۃ    مطبع مجتبائی دہلی۱ /۲۹)
ف:تطفل۱۱؎ علی الغنیۃ و الدروغیرھما
ولہذا رد المحتار میں فرمایا۔
قولہ بہ یفتی صرح بہ فی المنیۃ عن الذخیرہ فی مسألۃ الحناء والطین والدرن معللا بالضرورۃ قال فی شرحہا لان الماء ینفذ لتخللہ وعدم لزوجتہ وصلابتہ والمعتبر فی جمیع ذلک نفوذ الماء و وصولہ الی البدن اھ لکن یرد علیہ ان الواجب الغسل وھو اسالۃ الماء مع التقاطر کما مرفی ارکان الوضوء والظاھر ان ھذہ الاشیاء تمنع الاسالۃ فالاظھر التعلیل بالضرورۃ ۲؎۔
اس کی تصریح منیہ میں ذخیرہ کے حوالہ سے مہندی ، مٹی ، گار ے اور میل کے مسئلہ میں ضرورت سے بیان علت کے ساتھ ہے ۔ اسی کی شرح میں کہا ، اس لئے کہ پانی نفوذ کر جائے گا کیونکہ اس میں تخلل ہوتا ہے اور لزوجت وصلابت نہیں ہوتی ۔ اور ان سب میں پانی کے نفو ذ کرجانے اور بدن تک پہنچ جانے ہی کا اعتبار ہے اھ، لیکن اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ واجب دھونا ہے اور وہ تقاطر کے ساتھ پانی بہانے کا نام ہے جیسا کہ ارکان وضو میں گزرا اور ظاہر یہ ہے کہ یہ چیزیں پانی بہنے سے مانع ہیں تو زیادہ ظاہر ضرورت سے بیان علت ہے ۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار   فرائض الغسل      دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۱۰۴)
 قول مذکور خلاصہ
لان الماء شیئ لطیف الخ
 ( اس لئے کہ پانی لطیف چیز ہے الخ۔ت)نقل کر کے فرمایا:
یرد علیہ ماقد مناہ اٰنفا۳؎
اس پر وہ اعتراض وارد ہوتا ہے جو ہم ابھی بیان کرچکے ہیں۔(ت)
 (۳؎ردالمحتار   فرائض الغسل      دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۱۰۴)
لاجرم بعض مشائخ نے کہ ناخنوں کے میل میں فر ق کیا کہ دیہاتی کے لئے اجازت ہے کہ اس کا میل خاک مٹی سے ہوگا اس میں پانی سرایت کرجائے گا اور شہری کو نہیں کہ اس کا میل چکنائی سے ہوگا ، انہیں اکابر نے اس تفرقہ کو رد کردیا ، اور فرمایا ، اصح یہ کہ دنوں یکساں ہیں ۔
درمختار سے گزرا
قرویا اومدنیا فی الاصح ۱؎
خواہ دیہاتی ہو یا شہری، یہی اصح قول ہے۔(ت) جب یہی قضیہ نظراور یہی مفتی بہ تو اسی پر عمل اور یہی معول۔
 (۱؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ  مطبع مجتبائی دہلی۱ /۲۹)
Flag Counter