Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
46 - 123
 (۶) کنپٹیاں فـــــ ، کان اور رخسار کے بیچ میں جو حصّہ ہے اس کا دھونا واجب ہے جتنا حصہ داڑھی اور کان کے بیچ میں ہے وہ مطلقاً اور جتنا بالوں کے نیچے ہے اگر بال چھدرے ہوں تو وہ بھی ، ہاں گھنے ہوں تو اس کا فرض بالوں کی طرف منتقل ہو جائے گا ،
و قد تقدم ما یکفی لافادتہ
 ( اس کے افادہ کے لئے بقدرِ کفایت عبارتیں گزر چکی ہیں ۔ (ت)
فــــــ :مسئلہ : وضو میں کنپٹیوں پر بھی پانی بہانا فرض ہے ۔
 (۷) دونوں کہنیاں تمام و کمال ۔ (۸) انگوٹھی فـــــ، چھلّے وغیرہا جائز ، ناجائز ہر قسم کے گہنے مرد ، عورت سب کے لئے جب کہ تنگ ہوں کہ بے اُتارے اُن کے نیچے پانی نہ بہے گا اُتار کر دھونا فرض ہے ورنہ ہلا ہلا کر پانی ڈالنا کہ ان کے نیچے بَہہ جائے مُطلقاً ضرور ہے ۔
فــــــ ۱ :مسئلہ: وضو میں انگوٹھی چھلوں چوڑیوں وغیرہ گہنوں کا حکم۔
در مختار میں ہے:
لو خاتمہ ضیقا نزعہ اوحرکہ وجوبا ۱؎۔
اگر انگوٹھی تنگ ہو تو ضروری ہے کہ اُسے اتار دے یا حرکت دے ۔ (ت)
 (۱؎ الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۱۸۴)
 (۹) مسح کی نم سر کی کھال یا خاص سر پر جو بال ہیں ( نہ وہ کہ سرفـــــ ۲ سے نیچے لٹکے ہیں) اُن پر پہنچنا فرض ہے ، عمامے ، دوپٹے وغیرہ پر مسح ہرگز کافی نہیں مگر جب کہ کپڑا فـــــ ۳ اتنا باریک اور نم اتنی کثیر ہو کہ کپڑے سے پھوٹ کر سر یا بالوں کی مقدار شرعی پر پہنچ جائے ۔
فــــــ ۲:مسئلہ :سر کے نیچے جو بال لٹکتے ہیں ان کا مسح کا فی نہیں۔

فـــــ ۳ : مسئلہ: ٹوپی یا دو پٹہ اگر ایسا ہو کہ اس پر سے نم سر کے چوتھائی حصہ پر یقینا پہنچ جائے تو کافی ہے ورنہ نہیں۔
بحر میں ہے :
فـی معراج الدرایۃ لومسحت علی خمارھا ونفذت البلۃ الی رأسھا حتی ابتل قدر الربع منہ یجوز قال مشائخنا اذا کان الخمار جدیدا یجوز لان ثقوب الجدید لم تسد بالاستعمال فتنفذ البلۃ اما اذا لم یکن جدید الا یجوز لانسداد ثقوبہ ۲؎ اھ۔
معراج الدرایہ میں ہے کہ عورت نے اگر دوپٹے پر مسح کیا اور تری نفوذ کر کے سر تک پہنچی یہاں تک کہ سر کا چوتھائی حصہ نم ہو گیا تو جائز ہے ۔ہمارے مشائخ فرماتے ہیں ، جب دو پٹہ نیا ہو تو جائز ہے اس لئے کہ نئے کپڑے کے سوارخ استعمال کی وجہ سے بند نہ ہوئے ہوں گے تو تری نفوذ کر جائیگی، لیکن اگر نیانہ ہو تو جائز نہیں کیونکہ اس کے سوارخ بند ہوچکے ہوں گے ۔(ت)
 (۲؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب المسح علی الخفین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۸۳ و۱۸۴)
اقــول: جرت فــــــــ عادتہم رحمہم اللّٰہ باحالۃ الامور علی مظانھا الا غلبیۃ کقولھم فی شرب الجنب ماء یجزیئ عن المضمضۃ ان جاھلا لعبہ لاعالما لمصہ وفی عض الکلب علی ثوب ینجس فی الرضا لسیلان لعابہ دون الغضب لجفافہ ووقوع الفارۃ حیۃ فی البئر ینجس لوھاربۃ من ھرۃ لبولہ والا لاونظائرہ لاتحصی والذی یعرف المناط یعرف المقصود فالمناط نفوذ البلۃ الی قدر الفرض فان علم اجزأ ولو الثوب خلقا والا لاولو جدیدا کما لایخفی۔
اقــول: حضرات مشائخ رحمہم اللہ تعالی کی عادت یہ ہے کہ معاملات کو غالب گمان کی جگہوں کے حوالے کرتے ہیں جیسے جنب کے پانی پینے سے متعلق کہتے ہیں کہ اگر وہ جاہل ہے تو اس کا پینا کلی کی جگہ کام دے گا کیونکہ وہ منہ بھر کر بڑے بڑے گھونٹ پئے گا اور عالم ہے تو کافی نہ ہوگا کیونکہ وہ چوس چوس کر پئے گا ، اورکپڑے پر کتے کے دانت کاٹنے سے متعلق کہتے ہیں کہ اگر وہ رضا کی حالت میں ہو توکپڑا نا پاک ہوجائے گا کیونکہ اس کا لعاب بہتا ہوگا اور غصے میں ہو تو ناپاک نہ ہوگا کیونکہ اس کاتھوک خشک ہوچکا ہوگا اور کنویں میں چوہے کے زندہ گر نے سے متعلق کہتے ہیں اگربلی سے بھاگتے ہوئے گر ا تو کنواں ناپاک ہوجائے گا کیونکہ اس کا پیشاب نکلتا ہوگا ،ورنہ ناپاک نہ ہوگا ، اور اس کی بے شمار نظیریں ہیں جو مدار کا ر سے آشنا ہے وہ مقصد پہچان لیتا ہے تو یہاں مدار اس پر ہے کہ تری مقدار فرض تک نفو ذ کر جائے اگر نفوذ معلوم ہے تو یہ کافی ہے اگرچہ کپڑا پرانا ہے ورنہ کافی نہیں اگر چہ کپڑا نیا ہو ، جیسا کہ واضح ہے۔(ت)
فـــ : مسئلہ : عادۃ الفقہاء بناء الامر علی المظنۃ الغالیۃ ویعرف المراد من عرف المناط ۔
(۱۰) نم کم ازکم چوتھائی سرکو استیعاب کرلے
ھوا لصحیح المفتٰی بہ الماخوذ وان قیل وقیل وقداشتھرت المسألۃ متونا وشروحا
 (یہی صحیح ،مفتی بہ ، ماخوذ ہے ۔ اگر چہ ضعیف اقوال متعدد ہیں اور یہ مسئلہ متون وشروح میں معروف ومشہورہے (ت)
 (۱۱) کعبین گٹوں یعنی ٹخنوں کا نام ہے اُن کے بالائی کناروں سے ناخنوں کے منتہی تک ہر حصے پرزے ذرّے ذرّے کا دُھلنا فرض ہے اُس میں سے سرِ سوزن برابر اگر کوئی جگہ پانی بہنے سے رہ گئی وضو نہ ہوگا، ہاں پاؤں میں تیسرا استثناء جو گزرا اپنے محل پر مسلم ہے جس کی تحقیق فقیر کے فتاوٰی بیان غسل میں ملے گی، چھلّے اور سب گہنے کہ گٹوں پر یا اُن سے نیچے ہوں اُن کا حکم وہی ہے جو فرض ہشتم میں گزرا ۔
 (۱۲) مُنہ، فـــــ ہاتھ، پاؤں(۱) تینوں عضوؤں کے تمام مذکور ذرّوں پر پانی کا بہنا فرض ہے فقط بہے گا ہاتھ پھر جانا یا تیل کی طرح پانی چُپڑ لینا تو بالاجماع کافی نہیں
اللھم الامامر فی الرجلین
 (مگر وہ جو پیروں سے متعلق گزار۔ت)اور صحیح مذہب میں ایک بوند ہرجگہ سے ٹپک جانا بھی کافی نہیں کم سے کم دو بوندیں ہر ذرہ ابدان مذکورہ پر سے بہیں۔
ف :مسئلہ ضروریہ:منہ، ہاتھ ،پاؤں کے ذرے ذرے پر پانی بہنا فرض ہے فقط بھیگا ہاتھ پہنچنا کافی نہیں کم از کم ہر پرزے پر سے دو قطرے ٹپکے ۔
درمختار میں ہے:
غسل الوجہ ای اسالۃ الماء مع التقاطر ولو قطرۃ وفی الفیض اقلہ قطرتان فی الاصح اھ ۱؎
چہرے کا دھونا یعنی '' تقاطر''کے ساتھ پانی بہانا اگر چہ ایک ہی قطرہ ٹپکے ، اور فیض میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ کم از کم دو دو قطرے ٹپکیں اھ
 (۱؎ الدرالمختار، کتاب الطہار ۃ مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۱۹)
قــال ح ثم ط ثم ش کلھم فی حواشی الدر یدل علیہ صیغۃ التفاعل اھ ۲ ؎ اماما عن ابی یوسف ان الغسل مجرد بلّ المحل بالماء سال اولم یسل۳؎ ولاجلہ جعل فی البحر الاسالۃ مختلفا فیھا بینہ وبین الطرفین و زعم ان اشتراطھا ھو ظاھر الروایۃ
رمختار کے حواشی میں حلبی پھر طحطاوی پھر شامی لکھتے ہیں ، اس پر تفاعل کا صیغہ (تقاطر) دلالت کر رہا ہے اھ لیکن وہ جو امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ دھونا ، اعضاء وضو کو پانی سے صرف تر کر لینے کا نام ہے پانی بہے یا نہ بہے ، او راسی وجہ سے بحر میں بہانے کو امام ابو یوسف اور طر فین کے درمیان مختلف فیہ ٹھہرایا ہے اور ان کا خیال ہے کہ بہانے کا شرط ہونا یہ ظاہر الروایہ ہے۔
 (۲؎ ردالمحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۶۵)

(۳؎ ردالمحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۶۵)
فالحق الذی لامحید عنہ ولا یحل المصیر الا الیہ ان تأویلہ مافی حلیۃ عن الذخیرۃ انہ سال من العضو قطرۃ اوقطرتان ولم یتدارک ۱؎کیف ولولا ذلک لکان ھذا والعیاذ باللّٰہ تعالٰی انکار اللنّص وتبدیلا للشرع فان اللّٰہ تعالٰی امر بالغسل وھذا لیس بغسل لالغۃ ولا عرفا وقد قال فی البحر نفسہ الغسل بفتح الغین ازالۃ الوسخ عن الشیئ ونحوہ باجراء الماء علیہ لغۃ اھ ۲؎ وھل الاجراء الا الاسالۃ وقد فرق المولی سبحنہ وتعالٰی بین الاعضاء فجعل وظیفۃ بعضھا الغسل وبعضھا المسح فانہ اذالم یسل الماء لم یکن الا اصابۃ بلل وھو المسح۔
تو حق جس سے انحراف نہیں اور جس کی طر ف رجوع کے سوا کچھ روا نہیں وہ یہ ہے کہ اس روایت کی تا ویل وہ ہے جو حلیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عضو سے قطرہ دو قطرہ بہ جائے اور تسلسل کے ساتھ نہ گرے ۔ یہ حق کیوں نہ ہو اگر اس کا یہ مطلب نہ لیں تو معاذاللہ یہ نص کا انکار اور شر ع کی تبدیلی ہوگی اس لیے کہ اللہ تعالٰی نے دھونے کا حکم دیا ہے اور یہ لغۃ عرفا کسی طر ح بھی دھونا نہیں ۔ اور خود بحر میں لکھا ہے کہ غسل بفتح غین (دھونا)لغت میں کسی پر پانی بہاکر اس سے میل وغیرہ دو ر کرنے کا نام ہے اھ۔ اجرا ، اسالہ ، بہنا ایک ہی چیز ہے مولی سبحنہ وتعالی نے اعضاء کے درمیان فر ق رکھا ہے کہ کسی میں دھونے کا عمل مقرر فرمایا ہے او رکسی میں مسح رکھا ہے ، اگریہ مان لیں کہ بہنا ضروری نہیں تو تمام اعضاء میں مسح ہی کا عمل رہ جائے گا ، اس لئے کہ پانی جب بہے گا نہیں تو صرف یہ ہوگا کہ تری پہنچ گئی اور یہی مسح ہے
 (۱؎ ردالمحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۶۵)

(۲؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱)
اقــول: فما کان فـــــ ینبغی لمثل ھذا المحقق البحران یجعلہ مختلفا فیہ کی یجترئ علیہ الجاھلون کما نشاھد الاٰن من کثیر منھم انہ لایزید فی جبہتہ وعارضیہ وغیرھا علی اصابۃ ید مبتلۃ من دون سیلان ولا تقاطر اصلا واذا اخبران قد بقی لمعۃ مثلا فی مرفقہ او ا خمصہ اوعقبہ امر علیہ یدہ الباقی فیھابلل الماء من دون ان یأخذ ماء جدیدا فضلا عن الاسالۃ فالی اللّٰہ المشتکی ولاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم۔
اقــول:تو محقق بحر جیسی شخصیت کو یہ نہ چاہئے تھا کہ اسے مختلف فیہ ٹھہرائیں کہ جاہلوں کو اس کی جسارت ہو جیسا کہ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں کتنے ایسے ہیں کہ پیشانی اور رخسار وغیرہ میں اس سے زیادہ نہیں کرتے کہ بھیگا ہوا ہاتھ لگادیتے ہیں نہ پانی بہتا ہے نہ کوئی قطرہ ٹپکتا ہے اگر کسی کو بتا یا جائے کہ دیکھو کہنی یا تلوے یا ایڑی میں تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی تو بس ہاتھ اس جگہ پھیر دے گا اور اس میں پانی کی باقیماندہ تری کو کافی سمجھے گا از سر نو دو سرا پانی بھی نہ لے گا ، پانی بہانا تو دور کی بات ہے ، تو خدا ہی کی بارگاہ میں شکایت ہے اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر عظمت والے خدائے بر ترہی سے ۔(ت)
فـــــ : تطفل علی البحر
Flag Counter