فر ض عملی : فــــــ ۱ ہر مذہب میں جدا ہوتے ہیں ، ہمارے مذہب صحیح معتمد مفتی بہ پر وضو میں فر ض عملی بمعنی مذکور اعنی ارکان عملیہ کہ یہاں وہی واجب اعتقادی ہیں بارہ ہیں جن میں اکثر کا استخراج متامل پر ہمارے بیان سابق سے دشوار نہیں کہ مفتی بہ کی غیر ماخوذ سے تمیز صریح اور اپنے کم علم بھائیوں کی تفہیم کے لئے صاف تصریح بہتر ہے ۔
( ۱) دونوں لب ، حق یہ ہے کہ ان کا دھونا فرض ہے یہاں تک کہ اگر لب فــــــ۲ خوب زور سے بند کرلئے کہ ان کی کچھ تحریر جو عادی طور پر بند کرنے میں کھلی رہتی اب چھپ گئی اور اس پر پانی نہ بہا نہ کلی کی وضونہ ہوگا ، ہاں عادی طور پر خاموش بیٹھنے کی حالت میں لبو ں کا جتنا حصہ باہم مل کر چھپ جاتا ہے وہ دہن کا تا بع ہے کہ وضو میں اس کا دھونا فر ض نہیں ،
فــــ ۱ :مسئلہ: وضو میں بارہ فرض عملی ہیں۔
فــــ ۲ :مسئلہ: اگر لب خوب زور سے بند کر کے وضو کیا اور کلی نہ کی وضو نہ ہوگا ۔
درمختار میں ہے۔
یجب غسل مایظھر من الشفۃ عند انضما مھا ۱؎۔
لب بند ہونے کے وقت اس کا جو حصّہ کھلا رہتا ہے اسے دھونا واجب ہے ۔(ت)
ای یفترض کما صححہ فی الخلاصۃ والمراد مایظھر عند انضمامھا الطبیعی لاعند انضمامھا بشدۃ وتکلف اھ ح۲؎
یعنی فرض ہے ۔ جیسا کہ خلاصہ میں اسے صحیح کہا اور مراد وہ حصہ ہے جو لب کے طبعی طور پر بند ہونے کے وقت کھلارہتا ہے صرف وہ نہیں جو شدّت اور تکلیف سے بند ہونے کے وقت کھلا رہتا ہے ۔ ا ھ حلبی
(۲ رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶)
( ۲، ۳ ، ۴)بھوؤں ،فـــــ ۱ مونچھوں ، بچّی کے نیچے کی کھال جب کہ بال چھدرے ہوں کھال نظر آتی ہو وضو میں دھونا فرض ہے ، ہاں گھنے ہوں کہ کھال بالکل نہ دکھائی دے تو وضو میں ضرور نہیں ، غسل میں جب بھی ضرور ہے ۔
(۵) داڑھی فـــــ ۲ چھدری ہو تو اس کے نیچے کی کھال دُھلنا فرض اور گھنی ہو تو جس قدر بال دائرہ رُخ میں داخل ہیں ان سب کا دھونا فرض ہے ، یہی صحیح و معتمد ہے ، ہاں جو بال نیچے چھوٹے ہوتے ہیں اُن کا مسح سنّت ہے اور دھونا مستحب ، اور نیچے ہونے کے یہ معنی کہ داڑھی کو ہاتھ سے ذقن ( ٹھوڑی) کی طرف دبائیں تو جتنے بال مُنہ کے دائرہ سے نکل گئے اُن کا دھونا ضروری نہیں باقی کا ضرور ہے ، ہاں خاص جڑیں اُن کی بھی دھونی ضرور کہ اُن کا دھونا بعینہٖ کھال کا دھونا ہو گا اور گھنی داڑھی میں اس کا دھونا ساقط ہو چکا ہے ۔
ف ۱ : مسئلہ: بھویں مونچھیں بچی کے بال چھدرے ہوں تو ان کا اور ان کے نیچے کی کھال سب کا دھونا وضو میں فرض ہے
ف ۲ :مسئلہ: کتنی داڑھی کا دھونا وضو میں فر ض ہے کتنی کا مستحب۔
در مختار میں ہے :
غسل جمیع اللحیۃ فرض عملیا علی المذھب الصحیح المفتی بہ المرجوع الیہ بدائع ثم لاخلاف ان المسترسل لایجب غسلہ ولا مسحہ بل یسن وان الحنفیۃ التی تری بشرتھا یجب غسل ماتحتھا نھر ۱؎۔
پوری داڑھی کا دھونا فرض عملی ہے ۔ مذہب صحیح مفتٰی بہ پر جس کی طرف رجوع ہو چکا ہے ، بدائع ۔ پھر اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ داڑھی کے جو بال لٹکے ہوئے ہیں انھیں دھونا ضروری نہیں انکا مسح بھی ضروری نہیں بلکہ مسنون ہے اور اس میں بھی اختلاف نہیں کہ خفیف داڑھی جس کی جلد دکھائی دیتی ہے اس کے نیچے کی جلد دھونا ضروری ہے ۔ نہر (ت)
قولہ واصول شعرالحاجین یحمل علی مااذا کانا کثیفین اما اذا بدت البشرۃ فیجب کما یاتی لہ قریبا عن البرھان وکذا یقال فی اللحیہ والشارب ونقلہ ح عن عصام الدین شارح الھدایۃ ط ۳؎
شرح کی عبارت ''بھووں کے بالوں کی جڑیں الخ '' اس صورت پر محمول ہے جب بھووں کے بال گھنے ہوں اور اگر جِلد دکھائی دیتی ہو تو جِلد دھونا ضروری ہے جیسا کہ آگے شرح ہی میں برہان کے حوالہ سے آ رہا ہے ۔ اسی طرح داڑھی اور مونچھ کے بارے میں بھی کہا جائے گا اور اسے حلبی نے عصام الدین شارح ہدایہ سے نقل کیا ہے ۔ طحطاوی ۔ (ت)
(۳؎ رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶)
اُسی میں ہے:
قـولہ لاخلاف ای بین اھل المذھب علی جمیع الروایات ط اھ ۱؎
عبارت نہر ''کوئی اختلاف نہیں '' یعنی اہلِ مذہب کے درمیان تمام روایات پر کوئی اختلاف نہیں ، طحطاوی، ا ھ ۔ (ت)
(۱؎ رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۸)
اقـــول: فلا ینافی ما قدمنا لثبوت الخلاف من غیرنا۔
اقول: تو اس کے منافی نہیں جو پہلے ہم نے ذکر کیا کیونکہ غیر حنفیہ کا اس میں اختلاف موجود ہے ۔ (ت)
اُسی میں ہے:
قولہ المسترسل ای الخارج عن دائرۃ الوجہ وفسرہ ابن حجر فی شرح المنہاج بما لومد من جہۃ نزولہ لخرج عن دائرۃ الوجہ ۲؎۔
عبارتِ نہر ''داڑھی کے لٹکے ہوئے بال '' یعنی وہ جو چہرے کے دائرے سے خارج ہیں اور ابنِ حجر نے شرح منہاج میں اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ وہ حصہ جسے نیچے کو پھیلایا جائے تو دائرہ رخ سے باہر ہو جائے ۔ (ت)
(۲؎ رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶)
اُسی میں ہے:
قــولــہ بل یسن ای المسح لکونہ الاقرب لمرجع الضمیر وعبارۃ المنیۃ صریحۃ فی ذلک ح ۳؎
عبارتِ نہر ''بلکہ مسنون ہے '' یعنی مسح ، اس لئے کہ ضمیر کا قریب تر مرجع وہی ہے ، اور منیہ کی عبارت اس بارے میں صریح ہے ۔ حلبی ۔ (ت)
(۳؎ رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۹)