Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
44 - 123
چہارم :  پاؤں کہ بشرائط شرعیہ موزہ شرعی کے اندر نہ ہو ں انہیں ناخنوں سے پنڈلی اور پاؤں کے جوڑ تک جو وسط قدم میں چار طر ف جدا گانہ تحریر سے ممتاز ہے جہاں عربی نعال کا دوال باندھا جاتا ہے اور نیچے کروٹو ں او رایڑیوں سب پر پانی پہنچنا فر ض اعتقادی اسی قدر ہے او رموزے بشرائط ہوں تو مدت معلوم تک مسح کا فی، اوریہاں بھی ہاتھوں کی طر ح تین استثناء :

(۱)گٹوں سے تحریر مذکور تک کہ اس قدر کا دھونا بروایت ہشام عن محمد ضرور نہیں اور نفس کعبین مثل مرفقین امام زفر کے نزدیک خارج ہیں کافی میں ہے :
وغسل یدیہ مع مرفقیہ ورجلیہ مع کعبیہ خلافالزفر فی الغایتین۔ ۲؎
اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت اور دو نوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا دونوں حدود (کہنیوں او رٹخنوں) میں امام زفر کا اختلاف ہے ۔(ت)
(۲؎ الکافی شرح الوافی )
بحر میں ہے:
الکعبان العظمان الناشزان من جانبی القدم صححہ فی الہدایۃ وغیرھا وروی ھشام عن محمد انہ فی ظھر القدم معقد الشراک قالو اھو سھو من ھشام ۱؎ الخ۔
کعبین وہ دو ہڈیاں ہیں جو قدم کی دو نوں جانب ابھری ہوئی ہیں ، اسی کو ہدایہ وغیرہا میں صحیح کہا اور ہشام نے امام محمد سے روایت کی ہے کہ کعب پشت قدم میں عربی جوتو ں کے تسمے باندھنے کی جگہ ہے ، مشائخ نے فرمایا یہ ہشام کا سہو ہے ۔(ت)
 (۱؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی   ۱ /۱۳)
ردالمحتار میں ہے:
قدمنا عن شرح المنیۃ ان غسل المرفقین والکعبین لیس بفرض قطعی بل ھو فرض عملی ۲؎۔
ہم شرح منیہ کے حوالے سے سابقا لکھ آئے ہیں کہ کہنیوں اور ٹخنوں کا دھونا فرض قطعی نہیں بلکہ فرض عملی ہے ۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہار ۃ فی معنی الاجتہاد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۶۷)
 (۲) عورتوں کے لئے چھلے وغیرہ جائز گہنوں کے نیچے کہ مالکیہ عفو کرتے ہیں۔

(۳) میل ، مکھی مچھر کی بیٹ کہ سارے ہی بدن میں معاف ہیں او رمہندی ، مٹی ، گارا جس طر ح ہاتھوں میں گزرا۔
اقــول: وعبرت بوصول الماء لما عبر ولرعایۃ مافی المیزان اتفاق الائمۃ علی ان غسل القدمین فی الطہارۃ مع القدرۃ فرض اذا لم یکن لابسا للخف مع ماحکی احمد والاوز اعی والثوری وابن جریر من جواز مسح جمیع القدمین وان الانسان عندھم مخیربین الغسل والمسح وقد کان ابن عباس یقول فرض الرجلین المسح لاالغسل اھ ۳؎
میں نے '' پانی پہنچنا '' کہا اس کی وجہ گزر چکی ( کہ ہمارے نزدیک پہنچانا فر ض نہیں ، اور پانی بہہ جانا کے بجائے صرف پہنچنا )اس کی رعایت کے پیش نظر جو میزان میں ہے کہ ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ قدرت کی حالت میں وضو کے اندر دونوں پیروں کا دھونا فرض ہے جبکہ موزہ نہ پہنے ہو ، اس کے ساتھ امام احمد ، اوزاعی ، ثوری اور ابن جریر سے حکایت کی گئی ہے کہ پورے دونوں قدموں پر مسح کرنا جائز ہے اور ان کے نزدیک انسا ن کو اختیار ہے کہ دھوئے یا مسح کرلے۔ او رحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے تھے کہ پیروں پر مسح فرض ہے دھونا نہیں اھ۔
 (۳؎ المیزان الشریعۃ کتاب الطہارۃ باب الوضوء دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۵۲)
واللّٰہ اعلم بصحۃ ھذہ الحکایات فقد فـــــــ قال فی البحر الرائق ان الاجماع انعقد علی غسلھما ولا اعتبار بخلاف الروافض اھ۴؎ وکذا قال الامام النووی اجمع علیہ الصحابۃ والفقہاء اھ ۔
خدا جانے یہ حکایات کہاں تک صحیح ہیں ۔ البحر الرائق میں تو یہ کہا ہے کہ دونوں پیروں کے دھونے پر اجماع ہوچکا ہے اور روافض کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں اھ ، اور اسی طر ح امام نووی نے فرمایا ہے کہ اس پر صحابہ اور فقہاء کا اجماع ہے اھ ۔
ف: تحقیق ان غسل الرجلین مجمع علیہ و انہ لم یقل بالمسح الا شرذمۃ قلیلۃ قد رجعو ا عنہ۔
 (۴؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی     ۱ /۱۴)
قـلت: واخرج سعید بن منصور فی سننہ عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلی قال اجتمع اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم علی غسل القدمین۲؎ نعم روی ابن ماجۃ وغیرہ من طریق عبداللّٰہ بن محمد بن عقیل مختلف فیہ کثیرا وقال الحافظ فی التقریب صدوق فی حدیثہ لین ویقال تغیر باٰخرہ ۳؎ عن الربیع رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا قالت اتانی ابن عباس فسألنی عن ھذا الحدیث تعنی حدیثھا الذی ذکرت ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم توضّأ وغسل رجلیہ فقال ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما ان الناس ابوا الا الغسل ولا اجد فی کتاب اللّٰہ الاالمسح ۱؎۔
قـلت: (میں نے کہا) سعید بن منصور نے اپنی سنن میں عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا ، دونوں پیر دھونے پر اصحاب رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا اجماع ہے ہاں ابن ماجہ وغیرہ نے بطریق عبداللہ بن محمد بن عقیل ، روایت کیا کہ ان کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف ہے اور حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا کہ صدوق (راست گو) ہیں ان کی حدیث میں کچھ لین(نرمی) ہے اور کہا جاتا ہے کہ آخر عمر میں ان کے اندر تغیر آگیا تھا حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتی ہیں میرے یہاں ابن عباس آئے تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا ، اس سے اپنی وہ حدیث مراد لے رہی ہیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اوردونوں قد م مبارک دھوئے ، تو ابن عباس رضی اللہ عالی عنہما نے فرمایا ، لوگ تو دھونے کے سوا کچھ مانتے نہیں میں کتا ب اللہ میں مسح کے سوا کچھ پاتا نہیں ۔
 (۲؎الدر منثور بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۰)

(۳؎ تقریب التہذیب، حرف العین ذکر من اسمہ عبداللہ بن محمد عقیل دارا لکتب العلیمہ بیروت ۱ /۵۳۰)

(۱؎سنن ابن ماجہ، ابواب الطہارۃ وسننہا باب ماجاء فی غسل القدمین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۶)
اقـــول: وکفٰی حجۃ لنا قول نفسہ ان الناس ابوا الاالغسل فابی الحق الا ان یکون مع الجماعۃ وقد ثبت عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ما یعارضہ اخرج سعید بن منصور وابن ابی شیبۃ وعبدالرزاق وعبد بن حمید والطبرانی فی الکبیر وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والنحاس عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما انہ قرأھا وارجلکم بالنصب یقول رجعت الی الغسل ۲؎ وقـد اخرج ابن جریر عن عطاء قال لم ار احدا یمسح علی القدمین۳؎
اقـــول: (میں کہتا ہوں ) ہماری دلیل کے لئے خود انہی کا یہ کہنا کافی ہے کہ '' ان الناس ابواالاالغسل'' لوگو ں کو دھونے کے سوا کچھ منظور نہیں ''اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے اس کے معارض بھی ثابت ہے سعید بن منصور ، ابن ابی شیبہ ، عبدالرزاق ، عبد بن حمید ، معجم کبیر میں طبرانی ، ابن جریر ، ابن المنذر ، ابن ابی حاتم اور نحاس ، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ہیں کہ انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ میں نے دھونے کی جانب رجوع کرلیا ، آیت کریمہ میں'' وارجلکم '' نصب کے ساتھ پڑھا اور ابن جریر نے عطا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا ، میں نے کسی کو پیرو ں پر مسح کرتے نہ دیکھا ،
 (۲؎ الدر منثور بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹

جامع البیان (التفسیر الطبری ) بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۴ )

(۳؎ جامع البیان (التفسیر الطبری ) بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۵)
فھذا من اخص تلامذۃ ابن عباس یقول ماتسمع فلا جرم رجع ابن عباس عن ھذا کمارجع عن قولہ فی المتعۃ وتلا الایۃ الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم وقال کل فرج سواھما حرام ۱؎ وکذلک ثبت الرجوع عن کل من نقل عنہ المسح وھم شرذمۃ قلیلۃ فلا شک فی استقرارا لاجماع علی الغسل کما قال التابعی الجلیل الکبیر الشان عبدالرحمٰن بن ابی لیلٰی رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما واللّٰہ الھادی،
یہ حضرت ابن عباس کے مخصوص ترین تلامذہ سے ہو کر یہ بات فرمارہے ہیں تو قطعی بات ہے کہ حضرت ابن عباس قول مسح سے رجوع کر چکے ہیں جیسے متعہ کے بارے میں اپنے قول سے انہوں نے رجوع کرلیا اور آیت کریمہ '' الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم''( مگراپنی بیویوں یا اپنی باندیوں پر) تلاوت کی اور فرمایا : ان دو نوں کے سوا ہر فرج حرام ہے ، اسی طر ح جن سے بھی مسح منقول ہے ان میں ہر ایک سے رجوع ثابت ہے اور وہ محض چند افراد ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ دھونے پر اجماع ہوچکا ہے جیسا کہ جلیل الشان تا بعی بزرگ عبدالرحمن بن ابی لیلٰی رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا اور خداہی ہدایت دینے والا ہے ۔
 (۱؎ الدر منثور بحوالہ ابن عباس تحت الآیہ ۴ / ۲۴ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۳)
Flag Counter