(۳)مالکیہ کے نزدیک مرد کے لئے چاندی کی انگوٹھی بقدر جائز کہ ان کے مذہب میں دو درم شرعی ہے اور عورت کے لئے سونے چاندی کے مطلقا گہنے ، چھلے ، انگوٹھیاں ، علی بند ، حسین بند ، آرسی ، پہنچیاں ،کنگن ، چھن بتانے ، چوہے دتیا ں ۔یونہی چوڑیاں اگرچہ کانچ یا لاکھ وغیرہ کی ہوں ، اور ریشم کے لچھے ، غرض جتنے گہنے سنگارشرعاجائز ہیں کسی قدرتنگ اور پھنسے ہوئے ہوں کہ پانی بہنے کو روکیں ان کے مذہب میں سب معاف ہیں ، ہاں لوہے ، تا نبے ، رانگ وغیرہا کے مکروہ گہنے یا مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی کہ شرعا جائز نہیں ، ان میں وہ بھی اجازت نہیں مانتے ۔
اقــول: وکانھم قاسوہ علی ضفیرۃ المرأۃ حیث لم تؤمرفــــــــ بنقضھا فی الغسل عندنا الااذالم یصل الماء الی الاصول وفی الغسل والوضوء جمیعا عندھم الا اذا اشتدت اوکانت مفتولۃ بثلثلۃ خیوط فاکثر عندھم۔
اقــول شاید اسے ان حضرات نے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی پر قیاس کیا ہے کہ ہمارے نزدیک غسل میں اسے چوٹی کھولنے کاحکم نہیں مگر اس صورت میں جب کہ پانی اس کی جڑوں تک نہ پہنچتاہو اور ان حضرات کے نزدیک غسل اور وضو دونوں میں اسے کھولنے کا حکم نہیں مگر جب کہ سخت بندھی ہو یا دو یا دو سے زیادہ دھاگوں سے بٹی ہو ، یہ ان کے یہاں ہے ۔(ت)
ف : مسئلہ عورت کو غسل میں گندھی چوٹی کھولنی ضرور نہیں بالوں کی جڑیں بھیگ جانا کافی ہے ہاں چوٹی اتنی سخت گندھی ہو کہ جڑوں تک پانی نہ پہنچے گا تو کھولنا ضرور ہے ۔
جس انگوٹھی کے پہننے کی اجازت ہے اسے اتارنایاحرکت دینا واجب نہیں خواہ کشادہ ہو یا تنگ اور جو حرام ہے جیسے مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی ، اور جو مکروہ ہے جیسے لوہے ، تا نبے ، رانگ کی انگوٹھی اسے اتارنا واجب ہے جب کہ تنگ ہو اور کشادہ ہو تو قول معتمد پر اسے حرکت دینا کافی ہے ، اسی طر ح تیرا انداز اپنے ہاتھوں میں جوہڈی وغیرہ لگا رکھتے ہیں اس کا بھی یہی حکم ہے ، اور لوہے کی انگوٹھی میں کراہت اس وقت ہے جب علاج کے لئے نہ ہو ، او راجازت یافتہ ہی میں عورت کے لئے سونے کی انگوٹھی داخل ہے اور وہ کنگن اور چھلے بھی جنہیں عورت انگوٹھی کی جگہ پہنتی ہے یہی قول معتمد ہے تو ان سب کو حرکت دینا واجب نہیں کیونکہ عورت کے لیے ان سب کی اجازت ہے جیسا کہ حاشیہ خرشی میں ہے اور اسی پر ہمارے شیخ نے تقریر خرشی میں اعتماد کیا ہے اس کے بر خلاف جو شر ح اصیلی میں ہے اور مرد کے لئے چاندی کی جس انگوٹھی کا پہننا جائز ہے اس کا وزن دودرم شرعی ہے اھ۔
(؎۱ حاشیہ سفطی علی مقدمہ عشماویہ)
اقول۲۲: وعندنا مادون مثقال لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ولا تتمہ مثقالا۱؎۔ کما بیناہ فی محلہ من فتاوٰنا۔
اقول : اور ہمارے نزدیک وہ جو ایک مثقال (ساڑھے چار ماشہ) سے کم ہو اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ''اور اسے پورا ایک مثقال نہ کرو ''جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی میں اس کے مقام پر بیان کیا ہے ۔(ت)
(۱؎ سنن الترمذی کتاب اللباس حدیث ۱۷۹۲ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۰۵
سنن ابی داؤد باب ماجاء فی خاتم الحدید آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۲۴)
سوم۔ سرکا مسح یعنی اس کے کسی جز کھال یا بال یا نائب شرعی پر نم پہنچ جانا ، فرض اعتقادی اسی قدر ہے کتاب الانوار لاعمال الابرار امام یوسف ارد بیلی شافعی میں ہے :
الفرض الرابع مسح الرأس بما شاء اما علی البشرۃ ولو قدر ابرۃ اوعلی شعر ولو واحد ان لم یخرج الممسوح من حدہ ۲؎۔
چوتھا: فر ض سرکا مسح جس قدر چاہے ،یا تو جلد پر ہواگر چہ سوئی برابر ، یا بال پر ہوا گر چہ ایک ہی بال پر بشرطیکہ بال کے جس حصے پر مسح ہو وہ سر کی حد سے باہر نہ ہو ۔(ت)
(۲؎ الانوار لاعمال الابرار کتاب الطہارۃ فصل فروض الوضوء مطبع جمالیہ مصر۱ / ۲۳)
قرۃ العین علامہ زین تلمیذ امام ابن حجر مکی شافعی میں ہے :
ولـو شعر ۃ واحدۃ اھ ۳؎
اگر چہ ایک بال کے کسی حصے پر ہواھ ۔
(۳؎ فتح المعین شرح قرۃ العین فروض الوضوء عامر الاسلام پریس کیبرص ص ۱۴)
اقـول: وعبرت انا بوصول البلل لانہ فــــ الفرض عندنا دون الایصال حتی لواصابہ مطر اجزأہ ۴؎ کما فی الدر المختار وزدت النائب الشرعی لقول الامام احمد بن حنبل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ علی ما فی میزان الشعرانی حیث قال قول الائمۃالثلثۃ ان المسح علی العمامۃ لایجزیئ مع قول احمد بانہ یجزیئ لکن بشرط ان یکون تحت الحنک منھا شیئ روایۃ واحدۃ وعنہ فی مسح المرأۃ علی قناعھا المستدیر تحت حلقھا روایۃ وھل یشترط ان یکون لبس العمامۃ علی طھرروایتان اھ ۱؎۔
میں نے '' نم پہنچ جانا '' کہا اس لئے کہ ہمارے نزدیک یہی فرض ہے ، پہنچا نا فرض نہیں ، اگر بارش سے بھیگ گیا تو بھی کافی ہے جیساکہ درمختار میں ہے اور میں نے '' نائب شرعی '' کا اضافہ کیا اس لئے کہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ '' عمامہ پر بھی مسح ہوسکتا ہے ، جیسا کہ میزان امام شعرانی میں یہ لکھا ہے کہ '' تینوں ائمہ کا قول ہے کہ عمامہ پر مسح کافی نہیں ، جبکہ امام احمد کا قول ہے کہ کافی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس عمامہ کا کچھ حصہ ٹھوڑی کے نیچے بھی ہو ۔ اس بارے میں ان سے یہی ایک روایت ہے اور عورت کا دوپٹہ جو اس کے گلے کے نیچے گھیرے ہوئے ہو اس پر عورت کے مسح سے متعلق ان سے ایک روایت ہے ۔ عمامہ کا طہارت پر پہنے ہونا شرط ہے یا نہیں اس بارے میں دو روا یتیں ہیں۔''
فــــــ. مسئلہ: وضو وغسل میں پانی پہنچنا فر ض ہے اگر چہ اپنے فعل سے نہ ہو مثلاپھوہار بر سی اور چوتھائی سرکو نم پہنچ گئی مسح سرکا فرض اتر گیا۔
(۴؎ الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹)
(۱؎ المیزان الشریعۃ الکبری کتاب الطہارۃ باب الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۵۱)
قلت: وکلامہ شیخہ الذی صحبہ الامام الشعرانی عشر سنین وقال لم ارہ یغضب فی سفر ولا حضرا عنی محقق عصرہ العلامۃ زین بن ابراھیم بن نُجَیم المصری رحمھما اللّٰہ تعالٰی فی البحر الرائق اتم وانفع حیث قال اما علی العمامۃ فاجمعوا علی عدم جوازہ الا احمد فانہ اجازہ، بشرط ان تکون ساترۃ لجمیع الرأس الاماجرت العادۃ بکشفہ وان یکون تحت الحنک منھا شیئ سواء کانت لھا ذؤابۃ اولم تکن وان لا تکون عمامۃ محرمۃ فلا یجوز المسح علی العمامۃ المغصوبۃ ولا یجوز للمرأہ اذا لبست عمامۃ للرجل ان تمسح علیھا والاظھر عند احمد وجوب استیعابھا والتوقیت فیھا کالخف ویبطل بالنزع والانکشاف الا ان یکون یسیرا مثل ان یحک رأسہ اویرفعھا لاجل الوضوء فی اشتراط لبسھا علی طھارۃ روایتان اھ ۱؎
قلت:امام شعرانی کے شیخ جن کی صحبت میں وہ دس سال تک رہے اور بتایاکہ میں نے انہیں سفر یا حضرمیں کبھی غصہ ہوتے نہ دیکھا یعنی محقق عصر علامہ زین بن ابراہیم بن نجیم مصری رحمہما اللہ تعالی ، بحر الرائق میں ان کا کلام اس سلسلہ میں زیادہ کامل ونافع ہے وہ فرماتے ہیں اور عمامہ پر مسح کے عدم جواز پر سوا امام احمد کے تمام ائمہ کا اجماع ہے امام احمد نے اسے جائز کہا ہے بشرطیکہ اس سے پورا سر چھپاہوا ہو مگر اس قدر جو عادۃ کھلا رہتا ہے اور ٹھوڑی کے نیچے بھی اس کا کچھ حصہ ہو خواہ اس میں شملہ ہو یا نہ ہو او روہ عمامہ حرام نہ ہو تو غصب کئے ہوئے عمامہ پر مسح جائز نہیں ، اور عورت اگر مرد کا عمامہ پہنے تو اس کے لئے اس پر مسح جائز نہیں ، اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کا استیعاب ( پورے عمامہ پر مسح) واجب ہے او راس میں مدت مسح کی تجدید موزے کی طر ح ہے اور عمامہ اتارنے یا سر کھل جانے سے مسح باطل ہوجاتا ہے مگر یہ کہ تھوڑا سا کھل جائے مثلا سر کھجلائے یا وضو کے لئے کچھ اٹھائے ، او راسے طہارت پر پہننے کی شرط ہو نے سے متعلق دو روایتیں ہیں اھ(ت)
(۱؎ البحرالرائق کتاب الطہار ۃ باب مسح علی الخفین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۸۴)