تنبیہ: اس روایت پر خلاف امام ابو یوسف اگرچہ اس صورت سے خاص ہے کہ وہاں داڑھی کے بال ہوں مگر یہ مراد نہیں کہ خاص اُس حصہ بدن پر بال ہوں۔
حتی یدخل فی بشرۃ ماتحت اللحیۃ کماظن۔
(حتی کہ یہ اس جلد کے شمارمیں آجائے جو داڑھی کے نیچے ہوتی ہے جیسا کہ بعض کو گمان ہوا ت )بلکہ داڑھی کا بالائی حصہ جو کانوں کے محاذی ہوتا ہے جسے عربی میں عذار کہتے ہیں، اس حصّے اور کان کے بیچ میں جلد کی ایک صاف سطح ہوتی ہے جس پر بال نہیں نکلتے۔ یہاں اس سطح خالی میں خلاف ہے کہ عِذار والے کیلئے اس روایت پر اس کا دھونا ضروری نہیں، اور ظاہر الروایۃ ومذہب معتمد میں مطلقا فرض ہے۔
امامِ اجل ابو البرکات عبداللہ نسفی، کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں:
البیاض الذی بین العذاروشحمۃ الاذن من الوجہ حتی یجب غسلہ عندھما خلافالا بی یوسف لان البشرۃ التی ینبت علیھا الشعر لایجب ایصال الماء الیھا فما ھوا بعد اولی وقالا انما لم یجب ثم لانہ استتر بالشعر ولا شعرھنا فبقی علی ماکان اھ۔ ۱؎
جو سپیدی رخسار اور کان کی لو کے مابین ہوتی ہے وہ چہرے میں شامل ہے ، اسی لئے طرفین کے نزدیک اسے دھونا ضروری ہے ، اس میں امام ابو یوسف کا اختلاف ہے ، ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ جلد جس پر بال اگے ہوئے ہیں اس تک پانی پہنچا نا ضروری نہیں تو جو حصہ اس سے دور ہے اس تک پہنچا بدرجہ اولی ضروری نہ ہوگا۔ اورطرفین کہتے ہیں کہ وہاں اس لئے ضروری نہ ہو اکہ وہ جلد بالوں سے چھپی ہوئی ہے اور یہاں بال نہیں ہیں تو اس کا حکم وہی رہا جو پہلے تھا کہ دھونا ضروری ہے اھ ۔(ت)
(۱؎ الکافی شرح الوافی )
اور امام دارالہجرہ سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہوا کہ ان کا دھونا مطلقا ضرور نہیں میزان الشریعہ الکبری للعارف الربانی سیدی عبدالوھاب الشعر انی میں ہے :
قـول الائمۃ الثلثۃ ان البیاض الذی بین الشعرا لاذن واللحیۃ من الوجہ مع قول مالک وابی یوسف انہ لیس من الوجہ فلایجب غسلہ مع الوجہ فی الوضوء ۲؎۔
تینوں ائمہ کا قول یہ ہے کہ جو سپیدی کان او ر داڑھی کے درمیان ہے وہ چہرے میں شامل ہے ، اور امام مالک و امام ابویوسف کا قول یہ ہے کہ وہ چہرے میں نہیں ہے تو وضو میں اسے دھونا واجب نہیں۔(ت)
( ۲؎ میزان الشریعہ الکبرٰی کتاب الطہارۃ باب الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت مصر ۱/۱۵۰ )
اسی طرح رحمۃ الامہ میں اختلاف الامہ میں ہے :
اقول: اما ابو فـــــــــ یوسف فقد علمت ان قولہ کقول الجمھور والروایۃنادرۃ عنہ ایضا مفصلۃ لامرسلۃ واھل البیت ادری بما فی البیت واما مالک فالذی رأیتہ من کتب مذھبہ فی شرح المقدمۃ العشما ویۃ لابن ترکی ان الوجہ حدہ طولا من منابت شعرالراس المعتاد الی اٰخرالذقن وحدہ عرضا من الاذن الی الاذن ۱؎ اھ وفی حاشیۃ للسفطی مابین العذارین والاذن وھو البیاض الذی تحت الوتد (ای وتد الاذن) اوالمسامت لہ یجب غسلہ لانہ من الوجہ ۲؎ اھ فاللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول:امام ابو یوسف سے متعلق تو واضح ہوچکا کہ ان کا قول ۔ قول جمہور کے مطابق ہے ۔ اور ان سے جو روایت نادرہ آئی ہے اس میں بھی تفصیل ہے ،اطلاق نہیں اور اہل خانہ کو اشیائے خانہ کا زیادہ علم ہوتا ہے ۔اب رہا امام مالک کا قول تو ان کے مذہب کی کتابوں میں سے ابن ترکی کی شرح مقدمہ عشماویہ میں جو حکم میں نے دیکھا وہ یہ ہے کہ طول میں چہرے کی حد عا دۃ سر کے بال اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی کے آخری حصہ تک ہے اور عرض میں اس کی حد ایک کان سے دوسرے کان تک ہے اھ ۔ اس شرح کے حاشیہ سفطی میں ہے کہ جو حصہ دونوں رخساروں او رکان کے درمیان ہے یعنی وہ سپیدی جو جان کی ابھری ہوئی لو کے نیچے یا اس کی سمت مقابل میں ہوتی ہے ،اسے دھونا واجب ہے اس لئے کہ وہ چہرے میں شامل ہے اھ ۔ تو خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔(ت)
فـــــــ : تطفل علی الامام الشعرانی
(۱؎ شرح المقدمۃ العشماویۃ لابن ترکی )
(۲؎ حاشیہ شرح المقدمۃ العشماویہ للسفطی )
تنبیہ : یہاں ایک ا ستثنائے عام اور بھی ہے کہ فر ض دوم کے استثنا ئے ثانی میں مذکور ہوگا دو م دونوں ہاتھ ناخنوں سے کہنیوں تک دھونا ، اس میں تین استثناء ہیں
(۱) خود کہنیاں دھونا ، امام زفر رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک ضرور نہیں۔
(۲) جس فـــــــ چیز کی آدمی کو عموما یا خصوصا ضرورت پڑتی رہتی ہے اور اس کے ملاحظہ واحتیاط میں حرج ہے اس کا ناخنوں کے اندر یا اوپر یا اور کہیں لگا رہ جانا اگر چہ جرم دار ہو اگر چہ پانی اس کے نیچے نہ پہنچ سکے ، جیسے پکانے گوندھنے والوں کے لئے آٹا، رنگریز کے لئے رنگ کا جرم ، عورات کے لئے مہندی کا جرم ، کاتب کے لئے روشنائی ، مزدور کے لئے گارا مٹی ، عام لوگو ں کے لئے کوئے یا پلک میں سرمہ کا جرم ، بد ن کا میل مٹی غبار ، مکھی مچھر کی بیٹ وغیرہا کہ ان کا رہ جانا فر ض اعتقادی کی ادا کو مانع نہیں ۔
فـــ مسئلہ : کن چیزوں کا بدن پر لگارہ جانا وضو و غسل کا مانع نہیں
در مختار میں ہے:
لایمنع الطہارۃ خر ء ذباب وبرغوث لم یصل الماء تحتہ وحناء فـــــ ۱ ولو جرمہ بہ یفتی ودرن ودھن ودسومۃ وتراب وطین ولو فی ظفر مطلقا ای قرویا اومدنیا فی الاصح بخلاف نحوعجین ولایمنع ماعلی ظفر صباغ۔ ۱؎
طہارت سے مانع نہیں مکھی اور پسو کی بیٹ جس کے نیچے پانی نہ پہنچا ، اور مہندی اگر چہ جرم دار ہو ، اسی پر فتوی ہے ، اورمیل، تیل ، چکنائی ، مٹی ، گارا اگر چہ ناخن میں ہو ۔ قول اصح پر مطلقا یعنی دیہاتی ہو یا شہری ، بخلاف گندھے ہوئے آٹے کے ، اور رنگر یز کے ناخن پر جو رنگ ہوتا ہے وہ مانع نہیں۔
(۱؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۹)
فـــــــ : مسئلہ : عورت کے ہاتھ پاؤں پر مہندی کا جرم لگا رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو وضو و غسل ہوجائے گا ہاں جب اطلاع ہو چھڑا کر وہاں پانی بہائے ۔
لیکن النہر الفائق میں ہے کہ اگر ناخنوں کے اندر خمیر رہ گیا ہو تو فتوی اس پر ہے کہ وہ معاف ہے اھ۔
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴)
ورأیتنی کتبت فیما علقت علی ردالمحتار علی قولہ وحناء ولوجرمہ بہ یفتی اقول وبہ یظھر بحکم بعض اجزاء فـــــ۲ کحل تخرج فی النوم وتلتصق ببعض الجفون اوتستقر فی بعض الماٰقی و ربما تمر الید علیھما فی الوضوء والغسل ولا یعلم بھا اصلا فلا یکفی فیہ التعاھد المعتاد ایضا الا بتیقظ خاص وتفحص مخصوص فذلک کجرم الحناء لابالقیاس بل بدلالۃ النص فان الحاجۃ الی الکحل اشدو اکثر۔ولیعلم ان ظھورہ فی مؤق بعدما یمرعلی الطہارۃ شیئ من زمان کما یراہ بعد ما صلی مایلتفت الیہ اصلا فانہ ربما ینتقل بعد التطھر من داخل العین الی الماقی والحادث یضاف الی قرب الاوقات اما الملتزق بالجفن فلعل فیہ الوجہ الاول لاغیرھذا کلہ ماظھر لی ولیحرر۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں نے دیکھا کہ رد المحتار پر جو حواشی میں نے لکھے ہیں ان میں درمختار کی عبارت اور مہندی اگر چہ جرم دار ہو ، اسی پر فتوی ہے پر میں نے یہ لکھا ہے ، اقول اس سے سرمہ کے ان ریزوں کا حکم ظاہر ہوجاتا ہے جو سوتے وقت نکل کر پلک میں چپک جاتے ہیں یا آنکھ کے کوئے میں بیٹھ جاتے ہیں اور کبھی وضووغسل میں ان پر ہاتھ بھی گزرتا ہے اور ان کا پتہ نہیں چلتا ، کیونکہ اس کے لئے الگ سے خاص دھیان دئیے اور مخصوص جستجو کئے بغیر معمولی توجہ سے کام نہیں بن سکتا ۔ تو وہ مہندی کے جرم کا حکم رکھتے ہیں ، قیاس سے نہیں بلکہ دلالۃ النص سے اس لئے کہ سرمہ کی حاجت زیادہ شدت وکثرت سے ہوتی ہے او ریہ بھی واضح رہے کہ طہارت پر کچھ دیر گزرجانے کے بعد اگر سرمہ آنکھ کے کوئے میں نمودار ہوا جیسے اسے نماز پڑھنے کے بعد محسوس ہو تو وہ ذرا بھی قابل التفات نہیں اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ طہارت حاصل کرنے کے بعد آنکھ کے اندر سے کوئے میں آگیا ہو ایسا ہوتا رہتا ہے ، اور نو پیدا چیز قریب تر وقت کی جانب منسوب ہوتی ہے لیکن جو پلک سے چپکا ہوا ہو تو امید یہ ہے کہ اس میں مناسب وہی پہلی صورت ہے دو سری نہیں ( یعنی وہ وضو کے پہلے سے لگا ہوا ہے او رگرفت میں نہ آیا ) یہ سب وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا، اس کی تنقیح کرلی جائے ، واللہ تعالی اعلم
فــــــ ۲: مسئلہ : سرمہ آنکھ کے کوئے یا پلک میں رہ گیااور اطلاع نہ ہوئی تو ظاہرا حرج نہیں اور بعد نماز کوئے میں محسوس ہوا تو اصلاباک نہیں۔
و رأیتنی کتبت فیہ علی قولہ لایمنع ما علی ظفر صباغ اقول ویعلم فـــــ ۱ منہ حکم المداد علی ظفرا لکاتب فانہ یضع القلم علی ظفر ابھامہ الیسری ویغمزہ لینفتح فیصیب الظفر جرم من المداد و ربما ینسی فیتو ضأ ویمر الماءفوق المداد ولا یزیلہ فمفاد ماھنا الجواز و رأیت التنصیص بہ فی حاشیۃ العشماویۃ من کتب السادۃ المالکیۃ حیث قال تجب ازالۃ مایمنع من وصول الماء کعجین وشمع وکذلک الحبر المتجسد لغیر کاتبہ ونحوہ کبائعہ وصانعہ واما الکاتب ونحوہ ان راٰہ بعد ان صلی فلا یضراذا مریدہ علی المداد لعسر الاحتراز منہ لاان راٰہ قبل الصلاۃ وامکنہ ازالتہ اھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھو کلہ واضح موافق لقواعدنا الا قولہ اذا مریدہ علی المداد فانما شرطہ لان الدلک فرض عندھم واما علی مذھبنا فیقال اذامرالماء علی المداد والذی ذکرہ ھوعین ماکنت بحثتہ فی فتاوی ان الذی لاحرج فی ازالتہ بل فی مقاصدہ اذا اطلع علیہ یجب ازالتہ ولایجوز ترکہ کالحناء والکحل والونیم ونحوھا وللّٰہ الحمد۱؎۔
اور میں نے دیکھا کہ اس میں درمختار کی عبارت '' رنگریز کے ناخن پر جو رنگ ہوتا ہے وہ مانع نہیں'' کے تحت میں نے یہ لکھا ہے اقول اس سے اس روشنائی کا حکم معلوم ہوجاتا ہے جوکاتب کے ناخن پرلگی ہوتی ہے،اس لئے کہ وہ اپنے بائیں انگوٹھے کے ناخن پر قلم رکھ کر دباتا ہے تا کہ اس کا شگاف کشادہ ہوجائے اس طر ح سے روشنائی کا جرم ناخن پر لگ جاتا ہے اوربسا اوقات اسے بھول جاتا ہے اور وضوکرتا ہے تو رو شنائی کے اوپر سے پانی گزاردیتا ہے اسے چھڑاتا نہیں ہے تو یہاں جو حکم ہے اس کا مفادیہ ہے کہ وضو ہوجائے ۔ اور اس کی تصریح میں نے حضرات مالکیہ کی کتابوں میں سے حاشیہ عشماویہ میں دیکھی ، اس میں لکھا ہے اس چیز کو دور کرنا ضروری ہے جو پانی کے پہنچنے سے مانع ہو جیسے خمیر ، موم،اور ایسے ہی جرم دارروشنائی اس کے لئے جو کاتب اور اس کے مثل، جیسے روشنائی بیچنے یا بنانے والا نہ ہو ، رہاوہ جو کاتب ہے یااس کے مثل ہے تو اس نے اگر نماز پڑھ لینے کے بعد دیکھا تو حرج نہیں بشرطیکہ روشنائی پر اس کا ہاتھ پھر گیا ہو اس لئے کہ اس سے بچنا مشکل ہے ، اور اس صورت میں یہ حکم نہیں جب کہ اس نے نماز سے پہلے دیکھ لیا ہو اور اسے چھڑاسکتا ہواھ ۔ یہ سب واضح اور ہمارے قواعد کے مطابق ہے سوا اس بات کے کہ بشرطیکہ روشنائی پر اس کا ہاتھ پھر گیا ہو ، یہ شرط اس لئے لگائی کہ مالکیہ کے نزدیک دلک (ہاتھ پھیرنا) فرض ہے ، او رہمارے مذہب کی رو سے یوں کہا جائے گا کہ بشرطیکہ پانی روشنائی پر گزر گیا ہو ، او رجوانہوں نے ذکر کیا بعینہ یہی میں نے اپنے فتا وی میں بحث کی ہے کہ جس کے چھڑانے میں حرج نہیں بلکہ اس کا دھیان رکھنے میں دشواری ہے جب اس پر مطلع ہو تو اسے چھڑانا ضروری ہے اور چھوڑنا جائز نہیں جیسے مہندی ، سرمہ ، مکھی کی بیٹ اور ان کے مثل۔ وللہ الحمد۔
فـــــ ۱ : مسئلۃ : کاتب کے ناخن پر روشنائی کا جرم رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو ظاہرا حرج نہیں ۔
(۱؎ جدالممتار علی رد المحتار کتاب الطہارت فصل فی الوضوء مکتب المجمع الاسلامی مبارکپورانڈیا ۱ / ۱۱۰)