Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
41 - 123
وضو میں فــــ۱ فرض اعتقادی یعنی ارکان اعتقادیہ
فــان فــــ۲ الفرض یطلق علی الرکن وعلی الشرط کما فی الدر ۱؎ وعلی ما لیس برکن ولاشرط کترتیب ما شرع غیر مکرر فی رکعۃ کترتیب القعدۃ علی السجود والسجود علی الرکوع والرکوع علی القراء ۃ والقراء ۃ علی القیام فانھا فروض لیست بارکان ولا شروط کمافی ۲؎ الشامی عن الغنیۃ۔اقــول: وکانہ فــــ ۳ نظر الی انھا برزخ بین الدخول والخروج والاففیہ کلام لمن تأمل فلیتأمل۔
 ( اس لئے کہ فرض کا اطلاق رکن پر بھی ہوتا ہے اور شرط پر بھی، جیسا کہ در مختار میں ہے ۔ اور اس پر بھی جونہ رکن ہے نہ شرط ہے ، جیسے ان امور میں ترتیب جو ایک رکعت میں بلا تکرار مشروع ہوئے ہیں جیسے قعدہ کی ترتیب سجدہ پر ، سجدہ کی رکوع پر ، رکوع کی قرأت پر ، قرأت کی قیام پر ۔ کہ یہ سب ترتیبیں فرض ہیں ، نہ رکن ہیں نہ شرط۔ جیسا کہ شامی میں غنیہ سے نقل ہے۔ اقول شاید انھوں نے یہ دیکھا کہ یہ ترتیبیں تو رکن کی طرح داخلِ نماز ہیں نہ شرط کی طرح خارج نماز ہیں بلکہ دونوں کے درمیان  برزخ ہیں ۔ ورنہ اس میں صاحبِ تأمل کے لئے کلام کی گنجائش ہے ۔ تو اس میں تأمل کرنا چاہیے۔ (ت)
فــــــ :۱ وضو میں چار فرض اعتقادی ہیں ۔ فــــــ :۲ الفرض یطلق علی الرکن والشرط وما سوا ھما ۔ فــــــ :۳ تطفل علی الغنیۃ و ردالمحتار
 (۱؎ الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸

ردالمحتار کتاب الطہارۃ قد یطلق الفرض ما لیس برکن ولا شرط داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۴)

(۲ ؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ قد یطلق الفرض ما لیس برکن ولا شرط داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۴)
چارہیں اول منہ دھونا یعنی علاوہ مستثنیات کے طول میں شروع سطح پیشانی سے نیچے کے دانت جمنے کی جگہ تک اور عرض میں ایک کان سے دوسرے کان تک ۔ اس میں دس استثناء ہیں۔ 

(۱) آنکھوں کے ڈھیلے (۲) پپوٹوں کی اندرونی سطح کہ ان دونوں مواضح کا دھوناباجماع معتد بہ اصلا فرض کیا مستحب بھی نہیں ۔
وبالغ الامامان عبداللّٰہ بن عمروعبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم فکف بصرھما۔
دو اماموں حضرت عبد اللہ بن عمرو اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنھم نے ان کے دھونے میں مبالغہ سے کام لیا تو ان کی بینائی جاتی رہی ۔ (ت)

(۳) آنکھیں خوب فــــ ۱ زور سے بند کرنے میں جو حصہ بند ہوجاتا ہے کہ نرم بند کرے تو ظاہر رہتا اتنا حصہ دھلنا مختلف ہی ہے ، ظاہر الروایہ یہ ہے کہ اس کا دھلنا بھی واجب نہیں یہاں تک خوب آنکھیں بند کرکے وضو کیا وضو ہوجائے گا اور بعض نے کہا  نہ ہو ۔
فــــــ :۱:مسئلہ: وضو میں آنکھیں زور سے نہ بند کرے مگر وضو ہوجائے گا ۔
ردالمحتار میں ہے :
لوغمض عینیہ شدیدا لایجوز ، بحر، لکن نقل العلامۃ المقدسی فی شرحہ علی نظم الکنز ان ظاھر الروایۃ الجواز واقرہ فی الشر نبلالیۃ تأمل ۱؎ اھ کلام الشامی۔
اگر آنکھیں زور سے بند کر کے دھوئیں تو وضو نہ ہو گا ۔ بحر ۔ لیکن علامہ مقدسی سے نظم کنز پر اپنی شرح میں نقل کیا ہے کہ ظاہر الروایۃ یہ ہے کہ وضو ہو جائیگا اور شرنبلالیہ میں اسے برقرار رکھا ہے ۔ تأمل کرو۔ ۱ ھ شامی کی عبارت ختم ہوئی ۔
 (۱؎ کتاب الطہار ۃ مطلب فی معنی الاشتقاق و نسمیہ الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶)
اقول:فـــ ۲ رحم اللّٰہ العلامۃ السید انما عبارۃ البحر ھکذا ذکر فی المجتبٰی لاتغسل العین بالماء ولا باس بغسل الوجہ مغمضا عینیہ وقال الفقیہ احمد بن ابراھیم ان غمض عینیہ شدیدا لایجوز ۲؎ اھ فمفادہ ایضا لیس الا ان المذھب الجواز وعدمہ قول احمد بن ابرھیم فلیتنبہ۔
اقول: علامہ شامی پر خدا کی رحمت ہو ، بحر کی عبارت اس طرح ہے : مجتبٰی میں ذکر کیا ہے کہ آنکھ پانی سے نہ دھوئی جائے ، اور آنکھیں بند کر کے چہرہ دھونے میں حرج نہیں ۔ اور فقیہ احمد بن ابراھیم نے فرمایا کہ ــ اگر آنکھیں زور سے بند کر لیں تو وضو نہ ہو گا ۱ ھ ۔ توعبارتِ بحر کا مفاد بھی یہی ہے کہ اس صورت میں وضو ہو جانا ہی مذہب ہے اور نہ ہونا احمد بن ابراہیم کا قول ہے ۔ تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے (ت)
فــــــ :۲ معروضۃ علی رد المحتار
 (۲؎ البحرالرائق کتاب الطہار ۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱)
 (۴) دونوں لب کہ بعض نے کہا وہ تابع دہن ہیں اور وضو میں دہن کا دھونا صرف سنت ہے
بحرالرائق میں ہے :
اما الشفۃ فقیل تبع للفم ۱؎
مگر ہونٹ کے بارے میں کہا گیا کہ وہ منہ کے تابع ہے۔ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق کتاب الطہار ۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱)
 (۵،۶،۷)ابروؤں اور مونچھوں اور اور بچی کے نیچے کی کھال کہ بعض نے کہا کہ اگرچہ بال چھدرے ہوں کھال نظر آتی ہو اس کا دھونا ضرور نہیں ۔
درمختار میں ہے :
فی البرھان یجب غسل بشرۃ لم یسترھا الشعر کحاجب وشارب وعنفقۃ فی المختار۔ ۲؎
برہان میں ہے کہ قولِ مختار پر اس جلد کا دھونا ضروری ہے جو بالوں مثلاً ابرو ، مونچھ ، بچّی، سے چھپی ہوئی نہ ہو ۔ (ت)
 (۲؎ الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹)
 (۸) گھنی داڑھی کے نیچے کی کھال کہ اس کا دھونا اصلا ضرور نہیں : (۹) داڑھی مطلقا کہ اس کے باب میں نو قول ہیں :
فقیل یفترض مسحہ اوغسلہ کل منھما کلا اوثُلُثا او ربعا اولما یلاقی البشرۃ فقط اولا شیئ کما فی ردالمحتار۔ ۳؎
کہا گیا کہ پوری داڑھی ، یا تہائی ، یا چوتھائی یا صرف جلد سے متصل حصہ کا مسح یا دھونا فرض ہے اور نواں قول یہ کہ کسی حصہ کا مسح دھونا کچھ بھی فرض نہیں جیسا کہ ردالمحتار میں ہے۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۸)
کنپٹیاں کہ جب داڑھی کے بال ہوں تو امام ابو یوسف سے ایک روایت آئی کہ ان کا دھونا ضرور نہیں ۔
درمختار میں ہے :
یجب غسل مابین العذار والاُذن بہ یفتی۔ ۱؎
رخسار اور کان کے درمیان والے حصّے کو دھونا ضروری ہے ، اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت)
 (۱؎ الدر المحتار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹)
قال فی البدائع وعن ابی یوسف عدمہ وظاھرہ ان مذھبہ بخلافہ بحر والخلاف فی الملتحی اما المرأ ۃ والامرد والکوسج فیفترض الغسل اتفاقا۔ ۲؎
بدائع میں کہا کہ امام ابو یوسف سے ایک روایت یہ ہے کہ اس حصّہ کا دھونا ضروری نہیں ۔ اس عبارتِ بدائع کا ظاہر یہ ہے کہ امام ابو یوسف کا مذہب اس کے بر خلاف ہے ( بحر)اور یہ اختلاف داڑھی والے سے متعلق ہے ۔ عورت ، کم عمر بے ریش ، اور وہ سِن رسیدہ جسے داڑھی آتی ہی نہیں ان سب پر اس حصہ کو دھونا بالاتفاق فرض ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی معنی الاشتقاق الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶)
Flag Counter