| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
ثــم الـظـاھـر( ف) ان السنیۃ لاتثبت بالشک بل ھو المتعین والالزم التقول علی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بمجرد شک واحتمال ولذا افاد المحقق فی الفتح وتلمیذہ فی الحلیۃ ان الاستنان لایثبت بالحدیث الضعیف حیث حقق فی الفتح ان غسل الجمعۃ مستحب لاسنۃ ثم قال یقاس علیہ باقی الاغتسال (ای غسل العیدین والعرفۃ والاحرام) وانما یتعدی الی الفرع حکم الاصل وھو الاستحباب اما ماروی ابن ماجۃ کان صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یغتسل یوم العیدین و عن الفاکہ بن سعد الصحابی انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان یغتسل یوم عرفۃ ویوم النحر ویوم الفطر فضعیفان قالہ النووی وغیرہ ۱اھ۔
پھر ظاہر ۔ بلکہ متعین ۔ یہ ہے کہ سنیت شک سے ثابت نہیں ہوتی ، ورنہ محض شک و احتمال کی وجہ سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف زبردستی کسی قول کا انتساب لازم آئے گا۔ اسی لئے حضرت محقق نے فتح القدیر میں اور ان کے تلمیذ سے حلیہ میں افادہ کیا ہے کہ سنیت حدیث ضعیف سے ثابت نہیں ہوتی ۔ اس طرح کہ فتح القدیر میں یہ تحقیق فرمائی ہے کہ غسلِ جمعہ مستحب ہے ، سُنت نہیں ۔ پھر آگے لکھا ہے : اسی پر باقی غسل ( یعنی عیدین ، عرفہ اور احرام کے غسل کا قیاس ہو گا) اور فرع کی جانب اصل ہی کا حکم آئے گا اور وہ استحباب ہے ۔ رہی وہ حدیث جو ابنِ ماجہ نے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عید کے دن غسل فرماتے تھے ،اور فاکِہ بن سعد صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم روزِ عرفہ ، روزِ عید قربان اور روزِ عید الفطر غسل فرماتے تھے۔ تو یہ حدیثیں ضعیف ہیں ، جیسا کہ امام نووی وغیرہ نے فرمایا ، ا ھ۔
( ف)بالحدیث الضعیف یثبت الاستحباب دون الاستنان ۔
(۱فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۷۰)
فافادان ضعفھما یقعدھما عن افادۃ الاستنان وکذالک قال فی الحلیۃ بعد ماذکر استنان غسل الجمعۃ مانصہ واستنان غسل العیدین ان قلنا بان تعدد الطرق الواردۃ فیہ تبلغ درجۃ الحسن والا فالندب ۲اھ
حضرت محقق کے اس کلام سے مستفاد ہوا کہ دونوں حدیثیں چونکہ ضعیف ہیں اس لئے افادہ سنیت سے قاصر ہیں ۔ اسی طرح حلیہ میں غسلِ جمعہ کا مسنون ہونا ذکر فرمانے کے بعد لکھتے ہیں '' اور غسل عیدین کا سنت ہونا ثابت ہو گا اگر ہم یہ کہیں کہ اس بارے میں حدیث کے جو متعدد طرق وارد ہیں وہ اسے درجہ حسن تک پہنچا دیتے ہیں ورنہ وہ مندوب ہو گا، ۱ ھ ۔
(۲حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
وقد الممنا بطرف من تحقیق ھذا فی رسالتنا (ف)الھاد الکاف فی حکم الضعاف وایضاً حققنا فیھا بمالا مزید علیہ ان الاستحباب یثبت بالحدیث الضعیف۔
ہم نے اس کی کچھ تحقیق اپنے رسالہ
'' الھاد الکاف فی حکم الضعاف''
میں رقم کی ہے ۔ اور اس میں حدیث ضعیف سے استحباب ثابت ہونے کی ایسی تحقیق کی ہے جس پر اضافے کی گنجائش نہیں۔
(ف) رسالہ ہذا فتاوی رضویہ جلد پنجم مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور میں موجود ہے ، اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے اپنے رسالہ "منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین "میں افادہ شانزدہم سے افادہ بست وسوم ( آٹھ افادات ) کو "الھاد الکاف فی حکم الضعاف "سے موسوم کیا ہے ۔
ثــم اقــول: الشک فی الاثبات مثل الشک فی الثبوت فاذن الاوضح (ف۱) الاجمع الاشمل الاکمل ان نقول النصوص الطلبیۃ علی ثلثۃ اقسام: (۱) مافیہ طلب ترغیب مجرداً (۲) اومع تاکید (۳) اوطلب جازم۔
ثم اقول: اثبات میں شک بھی ویسے ہی ہے جیسے ثبوت میں شک ۔ تو اب زیادہ واضح ، جامع ، کامل اور ہمہ گیر تقسیم یُوں ہو گی کہ ہم کہیں : وہ نصوص جو کسی عمل کی طلب پر مشتمل ہیں ان کی تین قسمیں ہیں : (۱) وہ جن میں بلا تاکید صرف ترغیباً مطالبہ ہو۔ (۲) وہ جن میں ترغیب کے ساتھ تاکید بھی ہو ۔ (۳) وہ جن میں طلب جزمی ہو۔
(ف۱)التحقیق التفصیلی للمصنف ان الادلۃ فی اثبات الفرض وما دونہ علی سبعۃ وعشرین قسما۔
وکل منھا علیٰ تسعۃ اقسام کما قدمت فھی سبعۃ وعشرون قسما لا یثبت الافتراض منھا الاواحد وھو یقینی الثبوت والاثبات مع الطلب الجازم وثلثۃ تفید الوجوب وھو ظنی الثبوت اوالاثبات اوکلیھما مع الطلب الجازم فی الکل واربعۃ تفیدالاستنان وھی نظائر ماتفید الفرضیۃ والوجوب فی الثبوت والاثبات بیدان الطلب فیھا مؤکد غیر جازم والبواقی وھی تسعۃ عشر تفید الندب وھی التی فی احد طرفیھا شک ولوالطلب جازما اوکان الطلب فیھا طلب ترغیب مجرد ولو قطعی الطرفین وقس علی ھذا فی جانب الکف الحرام والمکروہ تحریما وتنزیھا وخلاف الاولی ولا تذھلن عن مقام الاحتیاط واللّٰہ الھادی الی سواء الصراط ھذا ھوالتحقیق الساطع اللامع النور فاحفظہ فلعلک لاتجدہ فی غیر ھذہ السطور۔
اور ان میں سے ہر ایک کی نو قسمیں ہیں ، ایسے ہی جیسے پہلے بیان ہوئیں ۔ تو یہ کل ستائیس ۲۷ قسمیں ہوئیں ( ہر قسم کی تفصیل یوں کر لیں مثلا (۱) طلب صرف ترغیبی ہے اور ثبوت قطعی ہو ، اثبات قطعی یا ظنی یا شکّی ۔ یا ثبوت ظنی ہے ، اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ یا ثبوت شکی ہے ، اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ۱۲ م ) ان میں صرف ایک قسم وہ ہے جس سے فرضیت ثابت ہوتی ہے ۔ یہ وہ ہے جس میں طلب جزمی ہو اور ثبوت و اثبات دونوں قطعی ہوں۔ اور تین قسمیں وہ ہیں جن سے وجوب کا افادہ ہوتا ہے ۔ یہ وہ ہیں جن میں طلب جزمی ہو اور ثبوت یا اثبات یا دونوں ظنی ہوں۔ اور چار وہ ہیں جو سنیت کا افادہ کرتی ہیں ۔ یہ وہ ہیں جن میں طلب غیر جزمی مؤکد ہے اور ثبوت و اثبات کی صورتیں ویسے ہی جیسے فرضیت اور وجوب کا افادہ کرنے والی قسموں میں بیان ہوئیں یعنی دونوں قطعی یا دونوں ظنی یا ایک ظنی ۔ اور باقی انیس ۱۹ قسمیں مندوب و مستحب ہونے کا افادہ کرتی ہیں ۔ یہ وہ ہیں جن کے ثبوت یا اثبات کسی ایک میں شک ہو اگرچہ طلب جزمی ہو ( یہ دس ۱۰ صورتیں ہوئیں طلب جزمی ہے اور ثبوت شکی ہے ، اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ یا ثبوت ظنی ہے اثبات شکی ۔ یا ثبوت قطعی ہے اثبات شکی ۔ طلب غیر جزمی مؤکد ہے اور وہی پانچ صورتیں ۱۲ م ) یا ان میں طلب صرف ترغیبی ہو اگرچہ ثبوت اور اثبات دونوں قطعی ہوں ( یہ نو صورتیں ہوئیں وہی جو چند سطور پہلے توضیح میں لکھی گئیں ، کُل ۱۹ ہو گئیں ۔ ۱۲ م) اسی پر جانب کف میں حرام ،مکروہ تحریمی اور خلاف اولی اور قیاس کرلیں اور مقام احتیاط سے غفلت ہرگز نہ ہو ۔۔۔۔۔اور خدا ہی سیدھی راہ دکھانے والا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ تابندہ ودرخشندہ تحقیق ہے جو ان سطور کے سوا شائد کہیں نہ ملے ۔۔۔۔۔تو اسے حفظ رکھئے (ت)
یہاں سے ظاہر ہوا(ف) کہ فرض اعتقادی سب سے اعظم و اعلیٰ اور دونوں قسم واجب اعتقادی کا مباین ہے اور فرض عملی واجب اعتقادی سے خاص مطلقا کہ ہر فرض عملی واجب اعتقادی ہے ولاعکس اور واجب عملی ہر دوقسم فرض کا مباین اور واجب اعتقادی سے خاص مطلقا ہےکہ ہر فرض عملی واجب اعتقادی ہے ولا عکس ۔
(ف)فرض واجب اعتقادی وعملی چاروں کی نسبتیں ۔
ثم اقول : ( پھر میں کہتا ہوں ۔ت) یہ اس تقدیر پر ہے کہ قسمین عملی بشرط لاہوں
کماھو المتعارف عند علمائنا
( جیسا کہ یہی ہمارے علماء کے ہاں متعارف ہے ۔ت) ولابشرط لیں تو فرض عملی فرض اعتقادی سے عام مطلقا اور واجب اعتقادی سے عام من وجہ ہوگا کہ فرض اعتقادی فرض عملی ہے نہ واجب اعتقادی ، اور واجب عملی بالمعنی الاول واجب اعتقادی ہے نہ فرض عملی ، اور فرض عملی بالمعنی الاول میں دونوں مجتمع ہیں ۔ اور واجب عملی بالمعنی الثانی واجب اعتقادی کا مساوی کہ اعتقاد وجوب موجب وجوب عمل اور ایجاب عمل بے اعتقاد وجوب نامحتمل کلام آتی میں معنی اولی ہی مراد ہونگے کہ وہی شائع بین العلماء ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔