Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
39 - 123
ثــم رأیت المحقق حیث اطلق افاد فی الفتح ماجنحت الیہ واومی الی ماعولت علیہ حیث قال بعدما بحث وجوب التسمیۃ فی الوضوء فان قیل یرد علیہ ما قالوہ من ان الادلۃ السمعیۃ علٰی اربعۃ اقسام الرابع ماھو ظنی الثبوت والدلالۃ وحکمہ افادۃ السنیۃ والاستحباب وجعلوا منہ خبرالتسمیۃ (یعنی قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لاوضوء لمن لم یذکراسم اللّٰہ علیہ ۱؂ فانہ مع اٰحادیثہ یحتمل نفی الفضیلۃ قال) وصرح بعضھم بان وجوب الفاتحۃ لیس من قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لاصلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب بل بالمواظبۃ من غیر ترک لذلک فـالجواب ان ارادوا بظنی الدلالۃ مشترکھا سلمنا الاصل المذکور۔
پھر میں نے دیکھا کہ فتح القدیر میں محقق علی الاطلاق (علامہ ابن ہمام) نے اس بات کا افادہ فرمایا ہے جس کی طرف میرا رجحان ہوا اور اسی کی طرف اشارہ کیا ہے جس پر میں نے اعتماد کیا۔ انھوں نے وضو میں وجوبِ تسمیہ کی بحث کرنے کے بعد لکھا ہے: اگر کہا جائے کہ اس پر اس سے اعتراض ہوتا ہے جو علماء نے فرمایا ہے کہ دلائل سمعیہ کی چار قسمیں ہیں ، چوتھی قسم وہ دلیل جو ثبوت اور دلالت دونوں میں ظنی ہو اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے سنیت اور استحباب کا افادہ ہوتا ہے اور علماء نے حدیثِ تسمیہ کو بھی اسی قسم سے قرار دیا ہے ( یعنی حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اس کا وضو نہیں جس نے وضو میں بسم اللہ نہ پڑھی۔ اس لئے کہ اس حدیث کا ثبوت ظنی ہے کیونکہ خبر واحد ہے اور وجوب پر اس کی دلالت بھی ظنی ہے اس لئے کہ اس مضمون میں اس معنٰی کا احتمال ہے کہ اس کا وضو کامل و افضل نہیں جس نے تسمیہ نہ پڑھی) اور بعض حضرات نے صراحت کی ہے کہ نماز میں قرأتِ فاتحہ کا وجوب سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد
'' لا صلوٰۃ الابفاتحۃ الکتاب''
 ( نماز نہیں مگر فاتحۃ الکتاب سے ) سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اس پر سرکار نے مداومت فرمائی اور نماز میں اس کی قرأت کبھی ترک نہ کی ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ قاعدہ ہمیں تسلیم ہے اگر ظنی الدلالۃ سے مراد مشترک الدلالۃ ہو ۔ (یعنی یہ کہ دلیل میں دو یا زیادہ معانی نکلتے ہیں اور کسی معنی کی تعیین نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایک میں شک ہے۔ ۱۲ مترجم)
 (۱؂الجامع الترمذی باب ماجاء فی التسمیۃ عند الوضوء حدیث ۲۵   دارالفکر  بیروت   ۱ / ۱۰۱)
 (ای فان الوجوب لایثبت بالشک )اقول بل لو کان الشک فی احد طرفی الثبوت و الاثبات لکفی لتنزیلہ عن مرتبۃ اثبات الایجاب۔
 (یعنی اس لئے کہ وجوب شک سے ثابت نہیں ہوتا۔)اقول بلکہ شک اگر ثبوت اور اثبات دونوں میں سے ایک ہی میں ہو تو بھی وہ دلیل کو اثبات وجوب کے درجہ سے نیچے لانے کے لئے کافی ہے۔
ثــم اقول: غیر ان ھذا(ف۱) الاحتمال لامساغ لہ فی کلامھم بعد ملاحظۃ المقابلات اعنی ان ظنی الثبوت قطعی الدلالۃ والعکس یثبتان الوجوب فلیس المراد بالظن الاالمصطلح۔(قال) ومنعنا کون الخبرین من ذلک بل نفی الکمال فیھما احتمال یقابلہ الظھور (ای فلیس مشکوکا بل موھوما قال) فان النفی (ف۲) متسلط علی الوضوء والصلاۃ فیھما فان قلنا النفی لایتلسط علی نفس الجنس بل ینصرف الی حکمہ وجب اعتبارہ فی الحکم الذی ھوالصّحۃ فانہ المجاز الاقرب الی الحقیقۃ وان قلنا یتسلط ھنا علی الجنس لانھا حقائق شرعیۃ فینتفی شرعا بعدم الاعتبار شرعا وان وجدت حسا فاظھر فی المراد فنفی الکمال علی کلا الوجھین احتمال خلاف الظاھر لایصار الیہ الابدلیل۔
ثم اقول: مگر فقہاء کے کلام میں ظنی الدلالۃ بمعنی مشترک الدلالۃ ہونے کا کوئی احتمال نہیں ہو سکتا جب کہ یہ ملاحظہ کر لیا جائے کہ وہ ظنی بمقابلہ قطعی بول رہے ہیں ۔دیکھئے وہ یوں کہتے ہیں : دلیل ثبوت میں ظنی ، دلالت میں قطعی ہو یا اس کے بر عکس ثبوت میں قطعی ، دلالت میں ظنی ہو تو اس سے وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ظن سے مراد وہی ظنِّ اصطلاحی ہے ۔ آگے فرماتے ہیں مگر ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ تسمیہ اور فاتحہ سے متعلق دونوں حدیثیں ظنی بمعنی مشترک ہیں ( اور ان میں نفی  صحت اور نفیِ کمال دونوں معنی پر یکساں دلالت ہونے اور کسی کی تعیین نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایک میں شک ہے ۔ ۱۲ م ) بلکہ ( نفی صحت کامعنی ظاہر و متبادر ہے ۔ ۱۲ م) نفیِ کمال کا احتمال ایسا ہے کہ ظاہر اس کی مخالفت کر رہا ہے ( مقصد یہ ہے کہ اب یہ احتمال مشکوک نہیں بلکہ اس سے بھی فر وتر محض موہوم ہو گا) اس لئے کہ حدیث ''لا وضوء'' اور حدیث ''لا صلوٰۃ '' میں نفی وضو اور نماز پر وارد ہے ۔ اب اگر ہم یہ کہیں کہ نفی خود جنس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کے حکم کی ہوتی ہے تو نفی اس کے حکم یعنی صحّت میں ماننا ہو گا کیونکہ نفی صحت ہی وہ مجاز ہے جو حقیقت سے قریب تر ہے ( اب حاصل یہ ہو گا کہ بغیر تسمیہ وضو نہیں یعنی صحتِ وضو نہیں اور بغیر فاتحہ نماز نہیں یعنی صحتِ نماز نہیں ۱۲ م ) اور اگر ہم یہ کہیں کہ نفی یہاں خود جنس کی ہو رہی ہے اس لئے کہ وضو اور نماز یہ سب حقائق شرعیہ ہیں اور جب شرعاً ان کا اعتبار نہ ہو گا تو یہ شرعی طور پر بے ثبوت اور معدوم ہونگی اگرچہ حسّی طور پر موجود ہوں ( اب معنی یہ ہو گا کہ بے تسمیہ کے وضو کا اور بے فاتحہ کے نماز کا، شریعت میں وجود و ثبوت ہی نہیں ۱۲ م) تو اس تقدیر پر مراد اور زیادہ ظاہر واضح ہے۔اور دونوں تقدیروں پر نفی کمال کا احتمال خلافِ ظاہر ہے جس کی طرف بغیر کسی دلیل کے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔
 (ف۱)تطفل علی فتح القدیر ۔

(ف۲) نحوہ لاصلٰوۃ ظاھرہ نفی الصحۃ لا الکمال ۔
وان ارادو بہ مافیہ احتمال ولو مرجوحا منعنا صحۃ الاصل المذکور (ای اثباتہ ح السنیۃ والندب لاالوجوب بل یثبت الوجوب لحصول الترجیح وان تطرق الظن الی الطرفین جمیعا قال) واسندناہ بان الظن واجب الاتباع فی الادلۃ الشرعیۃ الاجتھادیۃ وھو متعلق بالاحتمال الراجح فیجب اعتبار متعلقہ وعلی ھذا مشی المصنّف رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی خبر الفاتحۃ حیث قال بعد ذکـرہ من طرف الشافعی رحمہ اللّٰہ تعالٰی ولنا قولہ تعالٰی فاقرء واما تیسر من القراٰن والزیادۃ علیہ بخبر الواحد لاتجوز لکنہ یوجب العمل فقلنا بوجوبھا وھذا ھو الصواب ۱؂اھ مزیدا منا مابین الاھلۃ۔
اور اگر ظنی الدلالۃ سے یہ مراد ہے کہ وہ دلیل جس میں کوئی بھی احتمال ہو ، خواہ وہ مرجوح ہی ہو تو ہمیں قاعدہ مذکور تسلیم نہیں ( یعنی یہ کہ ایسی دلیل سے صرف سنیت اور استحباب کا ثبوت ہو گا ، وجوب کا ثبوت نہ ہو گا بلکہ اس سے وجوب ہی کا ثبوت ہو گا کیونکہ ترجیح حاصل ہے اگرچہ ثبوت اور دلالت دونوں میں ظن کا دخل ہو گیا ہے ۔ آگے فرماتے ہیں : ) اور اس کی سند میں ہم یہ کہیں گے کہ شریعت کے اجتہادی دلیلوں میں ظن کا اتباع واجب ہے ۔ وہ احتمالِ راجح سے متعلق ہوتا ہے توا س کے متعلق ( احتمال راجح ) کو ماننا واجب ہے اسی کو مصنف ( صاحبِ ہدایہ ) رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے حدیث  فاتحہ میں اختیار کیا ہے اس طرح کہ اس حدیث کے امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے طرق سے ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اور ہماری دلیل باری تعالٰی کا یہ ارشاد ہے کہ ''قرآن سے جو میسر آئے پڑھو '' اس پر خبرِ واحد سے اضافہ نہیں ہو سکتا لیکن خبرِ واحد سے عمل کا وجوب ثابت ہوتا ہے اس لئے ہم نماز میں قرأتِ فاتحہ کے وجوب کے قائل ہوئے اور یہی صحیح ہے ۔ ا ھ ۔ فتح القدیر کی عبارت قوسین کے درمیان ہمارے (امام احمد رضا بریلوی ) اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔ ( اور جہاں مترجم کا اضافہ ہے وہاں یہ علامت بنا دی گئی ہے : ۱۲ م)
 (۱؂فتح القدیر   کتاب الطہارۃ   دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱ / ۲۱)
اقول: وتحرر(ف) مما تقرران الادلۃ السمعیۃ تسعۃ اقسام لان لہا طرفین الثبوت والاثبات وکل علی ثلثۃ وجوہ القطع والظن والشک۔
اقول :گزشتہ تفصیلات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دلائل سمعیہ کی نو قسمیں ہیں ۔ اس لئے کہ ان میں دو جانب ہیں : (۱) ثبوت (۲) اثبات ۔ اور ہر ایک میں تین صورتیں ہیں : (۱) یقین (۲) ظن (۳) شک ۔ ( اس طرح کل نو صورتیں ہوئیں ۔ ثبوت قطعی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ثبوت ظنی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ثبوت شکّی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ۱۲م )
 (ف)التحقیق الاجمالی للمصنف ان الادلۃ فی اثبات الفرض وما دونہ تسعۃ اقسام ۔
خمسۃ منھا وھی ما فی احد طرفیھا شک لایثبت فوق سنیۃ اوندب وان اشتملت علی طلب جازم والاربعۃ البواقی کذلک ان اشتملت علی طلب غیر جازم و الا فانکان کلا الطرفین قطعیا ثبت الافتراض والا فالوجوب۔
ان میں پانچ صورتیں ہیں جن سے سنّیت یا ندب سے زیادہ ثابت نہیں ہوتا ۔ یہ وہ ہیں جن کے ثبوت یا اثبات کسی ایک میں شک ہو اگرچہ وہ طلب جزمی پر مشتمل ہوں۔ اور باقی چار صورتوں کا بھی یہی حال ہے اگر وہ طلب غیر جزمی پر مشتمل ہوں ۔ اور اگر ایسا نہ ہو ( بلکہ طلب جزمی پر مشتمل ہوں) تو اگر ثبوت و اثبات دونوں قطعی ہیں تو اس سے فرضیّت ثابت ہو گی ورنہ وجوب ثابت ہو گا۔
Flag Counter