Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
38 - 123
درمختار میں ہے :
الفرض ما قطع بلزومہ حتی یکفر جاحدہ کاصل مسح الرأس وقد یطلق علی العملی وھو ماتفوت الصحۃ بفواتہ کالمقدار الاجتھادی فی الفروض  فلا یکفر جاحدہ۱؂۔
فرض وہ ہے جس کا لازم ہونا قطعی ہو یہاں تک کہ اس کا منکر کافر ہو جائے گا جیسے اصل مسحِ سر اور فرض کبھی عملی کو بھی کہا جاتا ہے اور یہ وہ ہے جس کے نہ ہونے سے صحت نہ ہو جیسے فرائض میں اجتہاد سے مقرر شدہ مقدار میں ، تو اس کا منکر کافر نہ ہوگا ۔ (ت)
 (۱؂الدرالمختار   کتاب الطہارۃ   مطبع مجتائی دہلی     ۱ /۱۸)
اقول بیان ذلک ان الادلۃ السمعیۃ اربعۃ:

الاول قطعی الثبوت والدلالۃ کنصوص القراٰن المفسرۃ والمحکمۃ والسنۃ المتواترۃ التی مفھومھا قطعی۔
میں کہتا ہوں اس کا بیان یہ ہے کہ سمعی دلیلیں چار قسم کی ہیں ۔ 

(۱) وہ دلیل جو ثبوت اور دلالت دونوں میں قطعی ہو (ایک توخود وہ یقینی طور پر ثابت ہو ، دوسرے یہ کہ معنی مطلوب پر 

اس کی دلالت اور اس سے مقصود کا اثبات بھی قطعی و یقینی ہو ) جیسے قرآنِ کریم کے مفسَّر محکم نصوص اور وہ حدیث متواتر جس کا معنی قطعی ہے۔
الثانی قطعی الثبوت ظنی الدلالۃ کالاٰیات المؤولۃ۔
 (۲) وہ دلیل جو ثبوت میں قطعی اور دلالت میں ظنی ہو ۔ جیسے وہ آیات جن کے معنی میں تاویل کی گئی ہے
الثالث عکسہ کاخبار الاٰحادالتی مفھومھا قطعی۔
 (۳) اس کے بر عکس ( وُہ دلیل جو ثبوت میں ظنی اور دلالت میں قطعی ہو) جیسے وہ احادیثِ آحاد جن کا معنی قطعی ہے۔
الرابع ظنیھما کاخبار الاٰحادالتی مفھومھا ظنی۔
 (۴) وہ دلیل جو ثبوت و اثبات دونوں میں ظنی ہو ، جیسے وہ اخبار آحاد جن کا معنی ظنی ہے ۔
فبالاول یثبت الفرض والحرام، وبالثانی والثالث الواجب وکراھۃ التحریم وبالرابع السنت والمستحب۔ثم ان المجتہد قد یقوی عندہ الدلیل الظنی حتی یصیر قریبا عندہ من القطعی فما ثبت بہ یسمیہ فرضا عملیا لانہ یعامل معاملۃ الفرض فی وجوب العمل ویسمی واجبا نظر ا الٰی ظنیۃ دلیلہ فھو اقوی نوعی الواجب واضعف نوعی الفرض بل قد یصل خبرالواحد عندہ الٰی حد القطعی ولذا قالوا انہ اذا کان متلقی بالقبول جاز اثبات الرکن بہ حتی تثبت رکنیۃ الوقوف بعرفات بقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الحج عرفۃ۱؂۔
قسم اوّل سے فرض و حرام ، دوم و سوم سے واجب وکراہت تحریم اور چہارم سے سنّت و مستحب کا ثبوت ہوتا ہے ۔ پھر  مجتہد کی نظر میں دلیل ظنی کبھی اتنی قوی ہو جاتی ہے کہ اس کے نزدیک وہ قطعی کے قریب پہنچ جاتی ہے تو ایسی دلیل سے جو حکم ثابت ہوتا ہے اسے وہ ''فرض عملی'' کہتا ہے۔کیونکہ وجوبِ عمل کے بارے میں اس کے ساتھ فرض کا معاملہ ہوتا ہے ۔ اور اسے اس کی دلیل کی ظنیت کا لحاظ کرتے ہوئے واجب بھی کہا جاتا ہے ۔ تو یہ واجب کی دونوں قسموں(اعتقادی وعملی) میں سے اقوی اور فرض کی دونوں قسموں ( اعتقادی و عملی ) میں سے اضعف ہے۔ بلکہ مجتہد کے نزدیک کبھی خبرِ واحد بھی قطعی کی حد تک پہنچ جاتی ہے ۔ اسی لئے علماء نے فرمایا ہے کہ خبرِ واحد جب قبول مجتہدین سے سرفراز ہو تو اس سے رکنیت کا بھی اثبات ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عرفات میں وقوف کی رکنیت حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد '' الحج عرفۃ'' ( حج وقوفِ عرفہ ہے) سے ثابت ہوئی ۔ (ت)
 (۱؂ردالمحتار کتاب الطہارۃ  مطلب فی الفرض القطعی والظنی  داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۴)
اس کے بعد عبارۃ مذکورہ تلویح نقل فرمائی ۔
اقول: ھذا الکلام کلہ مذکور فی الطحطاوی عن النھر بمحصلہ سوی ما افاد بقولہ بل قد یصل الخ وھو کلام کاف من ابداء الفرق فی الفرض والواجب العملیین وصدرہ وانکان علی سنن ما قالہ البحر حیث قال قریبا من القطعی فاٰخرہ وذکر حدیث عرفۃ ناظر الی التحقیق الذی نحوت الیہ وباللّٰہ التوفیق۔
اقول :اس پورے کلام کا مضمون اور حاصل حاشیہ طحطاوی میں النہر الفائق کے حوالے سے مذکور ہے سوا اس مضمون کے جو آخر میں ان الفاظ سے بیان کیا ہے کہ ''بلکہ مجتہد کے نزدیک کبھی خبر واحد بھی قطعی کی حد تک پہنچ جاتی ہے '' الخ ۔ یہ کلام فرضِ عملی اور واجبِ عملی کے فرق کی وضاحت کے لئے کافی ہے ۔ اور اس کا ابتدائی حصّہ اگرچہ کلامِ بحر ہی کے طرز پر ہے کہ یہ کہا کہ '' مجتہد کے نزدیک کبھی دلیل ظنی قطعی کے قریب''پہنچ جاتی ہے مگر آخری حصّہ اور حدیث عرفہ کا تذکرہ اسی تحقیق کی طرف ناظر ہے جو میں نے اختیار کی ۔ اور توفیق خدا ہی کی جانب سے ہے۔
لکن فی مطاویہ ابحاث طوال یخرج الا ستر سال فیہ عن قصدالمقال بیدانہ (ف۱) لاینبغی اخلاء المقام عن افادۃ ان ماذکر تبعا للطحطاوی والنھر وکثیرین من الفارق بین الوجوب وبین السنیۃ والاستحباب من ان ثبوت الاول بما فیہ ظنیۃ فی احد طرفی الثبوت والاثبات والاخرین بما فیہ ظنیۃ فی کلیھما غیر مسلم ولا صواب کیف (ف۲) وحفوف الظن بکلا الطرفین لاینزل الطلب عن المظنونیۃ والرجحان وھو ملاک امر الوجوب لاغیر وانما الفرق بین الفریقین بنفس الطلب فقد یکون حتمیا ویفیدا الوجوب عندالظنیۃ ثبوتا اواثباتا اومعاوقد یکون ندبیا ترغیبیا فیفید السنیۃ اوالاستحباب ولو کان قطعیا یقینیا ثبوتا واثباتا فان القطع انما حصل علی الترغیب والارشاد دون الطلب الجازم من غیران یبقی فیہ للمکلف خیار وھذا ظاھر جدا ھذا ما ظھر للعبد الضعیف۔
لیکن اس کلام کی تَہ میں کچھ ایسی لمبی بحثیں ہیں جن میں عنانِ قلم کو آزادی ملے تو ہم اصل مقصود سے دُور نکل جائیں مگر اس جگہ کم از کم اتنا بتا دینا نا مناسب نہ ہو گا کہ علامہ شامی نے طحطاوی اورصاحبِ نہر کی تبعیت میں وجوب کے درمیان اور سنیت واستحباب کے درمیان جو فرق ذکر کیا ہے کہ وجوب کا ثبوت ایسی دلیل سے ہوتا ہے جس کے ثبوت یا اثبات کسی ایک میں ظنیت ہو اور سنیت و استحباب کا ثبوت ایسی دلیل سے ہوتا ہے جس کے ثبوت اور اثبات دونوں میں ظنیت ہو ، یہ فرق نہ تو قابل تسلیم ہے نہ بجائے خود صحیح و درست ہے اور یہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے جب کہ ثبوت و اثبات دونوں کو اگر ظن نے احاطہ کر رکھا ہے تو اس کی وجہ سے طلب ( بجا آوری کا مطالبہ)تو مظنونیت اور رجحان کے درجہ سے فروتر نہیں ہو جاتی ۔ اور وجوب کا مدار اسی پر ہے کسی اور پر نہیں ۔ دونوں فریقوں ( ایک واجب اور دوسرا سنیت و استحباب)میں فرق صرف ''طلب''سے ہوتا ہے ۔ طلب کبھی حتمی ہوتی ہے اور وجوب کا افادہ کرتی ہے اگر ثبوت یا اثبات دونوں ظنی ہوں اورکبھی ندبی اور ترغیبی ہوتی ہے تو سنیت یا استحباب کا افادہ کرتی ہے اگرچہ ثبوت اور اثبات دونوں میں قطعی و یقینی ہوں۔ اس لئے کہ قطعیت ترغیب و ارشاد ہی سے متعلق حاصل ہوئی ہے ۔ طلب جزمی سے متعلق نہیں کہ اس میں مکلف کے لئے کوئی اختیار باقی نہ رہ جائے۔ اور یہ بہت واضح ہے ۔ یہ بندہ ضعیف پر ظاہر ہوا۔
 (ف۱)تطفل علی النہر الفائق والطحطاوی و رد المحتار وکثیرین۔

(ف۲) تحقیق ان الدلیل الظنی والاثبات معا ھل یثبت الوجوب ام الاستنان ۔
Flag Counter