| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
اقول ؛ ھذا (ف۱) مستفاد من البحر ایضا لقولہ والفارق بین الظنی القوی المثبت للواجب فوصف الاول بالقوی دون الاٰخر ولم یرد ان الدلیلین لایکون الاعلی حد سواء فی القوۃ ثم یظھرافادۃ الافتراض بخصوص المقام وای خصوص یفیدہ بعد مالم یظھر فی الدلیل قوۃ فوق مایفید الوجوب وانما اراد ان بخصوص المقام وحفوف القرائن وامور تظھر للمجتھد یتقوی الظنی قوۃ تکاد تبلغہ درجۃ القطعی فھذا الدلیل الا قوی یثبت الفرض العملی ھذا تقریر کلامہ۔
اقول: ( میں کہتا ہوں) یہ بھی بحر ہی سے ہی سے مستفاد ہے ، اس لئے کہ اس میں لکھا ہے :'' فرض کو ثابت کرنے والی دلیل ظنی قوی اور واجب کو ثابت کرنے والی دلیل ظنی میں فرق خصوصیتِ مقام سے ہوتا ہے '' تو اوّل کو قوی سے موصوف کیا اور دوم کو نہ کیا . اور ان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ قوت میں دونوں دلیلیں بالکل برابر ہوں گی پھر مقام کی خصوصیت سے فرضیت مستفاد ہو گی . جب دلیل میں افادہ وجوب کرنے والی دلیل سے زیادہ کوئی قوت ہی نہ ہو تو پھر کون سی خصوصیت رہ جاتی ہے جس سے فرضیت مستفاد ہو ان کی مراد یہی ہے کہ مقام کی خصوصیت ، قرائن کے ہجوم اور مجتہد پر منکشف ہونے والے امور سے دلیل ظنی کو ایسی قوت مل جاتی ہے کہ وہ تقریباً قطعی کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے . اسی قوی تر دلیل سے فرض عملی کا ثبوت ہوتا ہے . یہ کلام بحر کی تقریر ہوئی.
(ف۱)معروضۃ علی السید الطحطاوی ۔
وانا (ف۱) اقول وباللّٰہ التوفیق بل القطع(ف۲) علی ثلثۃ اوجہ:قطع عام یشترک فیہ الخواص والعوام وھو الحاصل فی ضروریات الدین۔ وخاص یختص بمن مارس العلم وھو الحاصل فی سائر الفرائض الاعتقادیۃ المجمع علیہا۔ الثالث قطع اخص یختلف فی حصولہ العلماء۔کما اختلف فی حصول الثانی العوام والعلماء فربما یؤدی ذھن عالم الی قرائن ھجمت وحفت فرفعت عندہ الظنی الی منصۃ الیقین ولا تظھر ذلک لغیرہ او تظھر فتظھرلہ معارضات تردھا الی المرتبۃ الاولٰی من الظن واعتبرہ بمسئلۃ سمعھا صحابی من النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم شفاھا وبلغ غیرہ باخبارہ فھو قطعی عندہ ظنی عندھم۔فالمجتھد لایثبت الافتراض الابما حصل لہ القطع بہ فانکان العلماء کلھم قاطعین بہ کان فرضا اعتقادیا وانکان قطعاً خاصاً بھذا المجتھد کان فرضا عملیا ھذا ماظھرلی وارجو ان یکون صوابا ان شاء اللّٰہ تعالٰی والیہ اشرت فیما قررت فاعرف۔
اور میں کہتا ہوں . و باللہ التوفیق ۔ بلکہ قطعیت کی تین صورتیں ہیں (۱)عام قطعیت جس میں عوام و خواص سب شریک ہوں ، یہ ضروریاتِ دین میں ہوتی ہے ۔(۲)خاص قطعیت جو علم سے شغف رکھنے والوں کے ساتھ خاص ہے ، یہ وہ ہے جو دیگر اجماعی فرائضِ اعتقادیہ میں ہوتی ہے ۔(۳)اخص قطعیت ، جس کا حصول عُلماء میں کسی کو ہوتا ہے کسی کو نہیں ہوتا ، اس لحاظ سے ان کے درمیان باہم فرق ہوتا ہے ، جیسے قسم دوم کے حاصل ہونے میں عوام اور علماء کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ایک عالم کا ذہن کچھ ایسے قرائن پا لیتا ہے جو دلیل کے گرد احاطہ و ہجوم کئے ہیں جن کے باعث اس کے نزدیک وہ دلیل ظنی درجہ یقین تک پہنچ جاتی ہے اور وہ قرائن دوسرے عالم پر عیاں نہیں ہوتے یا عیاں ہوتے ہیں تو ان کے کچھ معارض قرائن بھی اس کے سامنے جلوہ نماہوتے ہیں جو دلیل کو پھر اسی درجہ ظن پر لوٹا دیتے ہیں۔اسے یوں سمجھئے کہ ایک مسئلہ ہے جسے کسی صحابی نے خود زبان رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سُنا اور دوسروں کو اس صحابی کے بتانے سے معلوم ہوا تو اس صحابی کے نزدیک وہ قطعی ہے اور دوسروں کے نزدیک ظنی ہے ۔تو مجتہد فرضیت کا اثبات اسی دلیل سے کرتا ہے جس کے متعلق اسے قطعیت حاصل ہو چکی ہے ۔ اگر یہی قطعیت تمام علماء کے نزدیک حاصل ہے تو وہ فرضِ اعتقادی ہے اور اگر یہ قطعیت خاص اسی مجتہد کو حاصل ہے تو اس کے نزدیک وہ فرضِ عملی ہے ۔ یہ وہ ہے جو مجھ پر منکشف ہوا ، اور امید رکھتا ہوں کہ ان شاء اللہ تعالٰی درست ہو گا ، اسی کی طرف میں نے اپنی تقریر بالا میں اشارہ کیا ہے۔ تو اس سے با خبر رہیے۔ (ت)
(ف۱) تطفل علی الکافی وغیرہ کثیر من المعتبرات ۔ (ف۲)تحقیق المصنف ان القطع علی ثلثۃ اقسام۔
علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں کلام مذکور بحر کے مؤیدات عبارات نہایہ و شرح قہستانی سے نقل کرکے فرمایا :
ولا یخفی مخالفتہ لما اطبق علیہ الاصولیون من ان الفرض ماثبت بدلیل قطعی لاشبہۃ فیہ ۱؎
مخفی نہیں کہ یہ اس کے بر خلاف ہے جس پر اہلِ اصول کا اتفاق ہے کہ ''فرض وُہ ہے جو ایسی دلیلِ قطعی سے ثابت ہو جس میں کوئی شبہہ نہ ہو۔ (ت) پھر اصول بزدوی کی عبارت ذکر کی اور مغنی و منتخب و تنقیح و تلویح وتحریر و منار وغیرہا کا حوالہ دیا ہے۔
(۱منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی ۱ /۱۰)
اقـول وھذا (ف) بعید من مثلہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فھٰذا اصطلاح فقھی ولایقضی علیہ اصطلاح خاص اصولی مع انہ ھوالناقل ھٰھناوفـی ردالمحتار عن التلویح ان استعمال الفرض فیما ثبت بظنی والواجب فیما ثبت بقطعی شائع مستفیض کقولھم الوتر واجب فرض وتعدیل الارکان فرض ونحو ذلک یسمی فرض عملیا فلفظ الواجب یقع علی ما ھو فرض علما وعملا کصلاۃ الفجر وعلی ظنی ھو فی قوۃ الفرض فی العمل کالوترحتی یمنع تذکرہ صحۃ الفجر کتذکر العشاء وعلی ظنی ھو دون الفرض فی العمل وفوق السنۃ کتعیین الفاتحۃ حتی لا تفسد الصلاۃ بترکہا لکن تجب سجدۃ السہواھ ۱؎
اقول: ایسا اعتراض علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ جیسی شخصیت سے بعید ہے ۔ کیونکہ یہ ایک فقہی اصطلاح ہے جس کے خلاف خاص اصولی اصطلاح سے فیصلہ نہیں ہو سکتا ، باوجودیکہ خودعلامہ شامی ہی یہاں (منحۃالخالق میں) اور ردالمحتار میں تلویح سے ناقل ہیں کہ دلیل ظنی سے ثابت شدہ میں فرض ، اور قطعی سے ثابت شدہ میں واجب کا استعمال رائج اور مشہور ہے جیسے کہتے ہیں : وتر واجب فرض ہے ، تعدیلِ ارکان فرض ہے اور اس کے مثل کو فرضِ عملی کہا جاتا ہے ۔ تو لفظ واجب کا اطلاق ایک تو اس چیز پر ہوتا ہے ۔ جو اعتقاد اور عملا دونوں طرح فرض ہے جیسے نمازِ فجر ، اور اس ظنی پر بھی ہوتا ہے جو عمل میں فرض کی حیثیت رکھتا ہے جیسے نمازِ وتر یہاں تک کہ یاد آ جائے کہ وتر نہ پڑھے تھے تو اسے ادا کئے بغیر فجر پڑھنا درست نہیں جیسے عشاء نہ پڑھنا یاد آ جائے تو فجر نہیں ہو سکتی ۔ اور (واجب کا اطلاق) اس ظنی پر بھی ہوتا ہے جو عمل میں فرض سے فر و تر اور سنّت سے بالاتر ہے جیسے قرأت نماز میں سورہ فاتحہ کی تعیین کہ اسکے ترک سے نماز فاسد نہیں ہوتی مگر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ ا ھ
(ف)معروضۃ علی منحۃ الخالق ۔
(۱منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی ۱ /۱۰) (ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی الفرض القطعی والظنی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۴)
ثم لعلہ لامساغ للشبھۃ اصلا فیما قررت فان الفرض لم یثبت عن المجتہد الا بدلیل قطعی عندہ وان لم یکن کذلک عند غیرہ فافھم۔
علاوہ ازیں امید ہے کہ میری تقریر میں اس اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ (تقریر مذکور کے مطابق) مجتہد کے نزدیک فرض کا ثبوت ایسی ہی دلیل سے ہے جو اس کے نزدیک قطعی ہے اگرچہ دوسرے کے نزدیک وہ دلیل ایسی نہ ہو تو اسے سمجھئے۔(ت)