Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
36 - 123
پھر اگر مجتہد کو بنظر دلائل شرعیہ جو اس پر ظاہر ہوئے اس طلب جزمی میں اصلا شبہ نہیں(عہ۱) ، بایں وجہ اس کی نظر میں اس شے کا وجود شرط صحت و براء ت ذمہ بمعنی عدم بقائے اشتغال قطعی ہے(عہ۱) ، یعنی اگر وہ کسی عمل میں فرض ہو تو بے اس کے وہ عمل باطل محض ہو۔ اور مستقل مطلوب ہے تو بے اس کی براء ت ذمہ  نہ ہونے پر اسے جزم ہو تو فرض عملی ہے ۔اور اگر خود اس کی رائے میں بھی طلب جزمی جزمی نہیں تو واجب عملی ، کہ بغیر اس کے حکم صحت حاصل اور براء ت ذمہ محتمل ۔
وقد علم بذلک حد کل واحد منہا
 ( اس بیان سے ان میں سے ہر ایک کی تعریف معلوم ہوگئی ۔ ت
 (عہ۱) وانکان عارفا بخلاف ما فان سطوع (ف)انوار الحجج الالھیۃ ربما یبلغ عندہ مبلغا یقول اذا جاء نھر اللّٰہ بطل نھر معقل وعن ھذا ربما اول القطعیات الاٰتیۃ علی خلاف ما عن لہ کما وقع لسیدنا ابی ذر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی مسئلۃ الکنز وقولہ فی سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ما قال مع القطعیات الواردۃ فی حق بدریین عموما والعشرۃ خصوصا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم احسن الرضا وعن ھذا تری ائمتنا وغیرھم قائلین فی کثیر من الاجتھادیات المختلف فیھا بین الائمۃ ان ھذا مما لایسوغ الاجتھاد فیہ حتی ینقض القضاء بہ کحل متروک التسمیۃ عمدا وغیر ذلک فھومع علم الخلاف جازم بالحکم ومع جزمہ بہ منکر للا کفار بالخلاف والانکار وھذا الذی اشرت الیہ علم عزیز علیک ان تحتفظ بہ فانہ یحل باذن اللّٰہ تعالٰی عقد حار فی حلھا حائرون وبار بجھلہا بائرون
واللّٰہ یھدی من یشاء الٰی صراط مستقیم۱؂۔
اگرچہ وہ جانتا ہو کہ اس میں کوئی خلاف بھی ہے اس لئے کہ خدا کی حجتوں کے انوار کی تابندگی بعض اوقات اس کی نظر میں اس حد کو پہنچ جاتی ہے کہ وہ کہتا ہے ''جب خدا کی نہر آ گئی تو معقل کی نہر بیکار ہو گئی '' یہی سبب ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ ان قطعیات کی بھی تاویل کرتا ہے جو اس پر ظاہر شدہ مسئلہ کے خلاف آئے ہیں جیسے سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مسئلہ کنز میں ہوا ( جمہور صحابہ کرام کے نزدیک کنز وہ ما ل ہے جس میں فرض زکوۃ کی ادائیگی نہ ہوتی ہو ، اور حضرت ابو ذر کا قول یہ ہے کہ حاجت سے زیادہ جو بھی مال ہے وہ کنز ہے اسے رکھنے پر عذاب ہو گا، اس قول کے خلاف جو قطعیات وارد ہیں وُہ ان کی تاویل کرتے ہیں۔۱۲ مترجم) اور ( مالدار صحابی) سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں انہوں نے بہت کچھ کہہ ڈالا باوجودیکہ اصحابِ بدر کے بارے میں عموماً اور عشرہ مبشرہ کے بارے میں خصوصاً بہت سی قطعی احادیث وارد ہیں ، انہیں خدا برتر کی بہترین رضا و خوشنودی حاصل ہو ۔ اور اسی وجہ سے آپ ہمارے ائمہ اور دوسرے حضرات کو دیکھیں گے کہ وہ ائمہ کے درمیان بہت سے اختلافی اجتہادی مسائل میں کہتے ہیں کہ یہ ان احکام میں سے ہیں جن میں اجتہاد کی گنجائش نہیں یہاں تک کہ ان کے متعلق قضا باطل ہے جیسے اس مذبوح جانور کی حلت جسے ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا قصداً ترک کر دیا گیا ہو ۔ اور ایسے ہی دیگر مسائل تو مجتہد اختلاف کے باوجود حکم پر جزم رکھتا ہے اور جزم کے باوجود اس کے مخالف اور منکر کی تکفیر سے انکار کرتا ہے . یہ جس کی طرف میں نے اشارہ کیا بہت نادر اور وقیع علم ہے جسے محفوظ رکھنا ضروری ہے ۔اس سے باذنِ الٰہی ایسے بہت عقدے حل ہو جاتے ہیں جن میں کچھ لوگ حیرت زدہ ہیں اور جن سے نا آشنائی کے باعث کچھ لو گ ہلاکت میں پڑے ۔اور خدا جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔(ت)
 (۱؂القرآن الکریم  ۲ /۲۱۳ )
 (ف) جلیلہ :ربما یحصل للمجتھد القطع بما یری مع علم الخلاف ۔

 (عہ۱) اقول:  وزدت ھذا لان قولھم (ف۱) مایفوت بفوتہ الجواز المراد فیہ بالجواز الصحۃ لاالحل لفوتہ بفوت کل واجب ولو عملیا والشیئ قد یکون فرضا براسہ وفوات الصحۃ انما کان یشمل الاول فزدت الاٰخر وفسرتہ بما مر لاخراج الواجب العملی فافھم۔
اقول ( میں کہتا ہوں) یہ اضافہ میں نے اس لئے کیا کہ علماء کے قول ''فرض وہ ہے جس کے نہ ہونے سے جواز نہ ہو '' میں جواز سے مراد صحت ہے حلّت نہیں کیونکہ حلت تو کسی بھی واجب کے فقدان سے مفقود ہو جاتی ہے خواہ واجب عملی ہی ہو ، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ عمل خود مستقلاً فرض ہو جاتا ہے اور یہ کہنا کہ جس کے نہ ہونے سے عمل کی صحت نہ ہو صرف اس فرض کو شامل ہے جو دوسرے عمل میں فرض ہو اس لئے میں نے ''برأت ذمہ'' کا اضافہ کیا (تا کہ فرض مستقل بھی تعریف میں داخل ہو جائے ) اور اس کی تفسیر ''عدم بقائے اشتغال '' سے کی تاکہ واجب عملی اس تعریف سے نکل جائے . تو اسے سمجھئے . (مزید توضیح آگے خود عبارتِ مصنّف میں موجود ہے.۱۲ مترجم۔(ت)

 (ف۱) تطفل علی الکافی وغیرہ کثیر من المعتبرات ۔
بحرالرائق میں ہے :
فی التحریر الفرض ما قطع بلزومہ اھ وعرفہ فی الکافی بما یفوت الجواز بفوتہ وھو یشمل کل فرض بخلاف الاوّل اذ یخرج عنہ المقدار فی مسح الرأس فانہ فرض مع انہ ثبت بظنی لکنہ تعریف بالحکم موجب للدور۔ والظاھر من کلامھم فی الاصول والفروع ان المفروض علی نوعین: (۱) قطعی و(۲) ظنّی ھوفی قوۃ القطعی فی العمل بحیث یفوت الجواز بفوتہ فالمقدر فی مسح الرأس من الثانی وعند الاطلاق ینصرف الی الاول لکمالہ والفارق بین الظنی القوی المثبت للفرض والظنی المثبت للواجب خصوص المقام ولیس اکفار جاحدالفرض لازمالہ وانما ھو حکم الفرض القطعی المعلوم من الدین بالضرورۃ۔ وذکر فی النھایۃ انہ یجوزان یکون الفرض فی مقدار المسح بمعنی الواجب لالتقائھما فی معنی اللزوم وتعقب بانہ مخالف لما اتفق علیہ الاصحاب اذ لاواجب فی الوضوء وقد یدفع بان الذی وقع الاتفاق علیہ ھوالواجب الذی لایفوت الجواز بفوتہ بل یحصل بترکہ النقصان والکلام ھنا فی الواجب الذی یفوت الجواز بفوتہ فلا مخالفۃ اھ مختصرا۔ ۱؎
تحریر میں ہےفرض وہ ہے جس کا لازم ہونا قطعی ہو.ا ھ اور کافی میں اس کی یہ تعریف کی ہے کہ جس کے نہ ہونے سے عمل کا جواز نہ ہو . اور یہ تعریف ہر فرض کو شامل ہے بخلاف تعریفِ اوّل کے ، اس لئے کہ اس تعریف سے مسحِ سر کی مقدار خارج ہو جاتی ہے کیونکہ وہ فرض تو ہے مگر اس کا ثبوت دلیلِ قطعی سے نہیں بلکہ ظنی سے ہے . لیکن دوسری تعریف حکم کے ذریعہ تعریف ہے جو دَور کا باعث ہے اور اصول و فروع میں کلامِ عُلماء سے ظاہر یہ ہے کہ فرض کی دو قسمیں ہیں.   (۱)  قطعی     (۲) ظنی
ایسا ظنی جو عمل میں قطعی کی حیثیت رکھتا ہے اس طرح کہ اس کے نہ ہونے سے بھی جوازِ عمل نہیں ہوتا . تو مسحِ سر کی مقررہ مقدار قسمِ دوم کے تحت ہے . اور فرضِ مطلق بولا جائے تو قسمِ اوّل کی طرف راجع ہوتا ہے اس لئے کہ کامل وہی ہے . اور دلیلِ ظنی قوی جس سے فرض کا ثبوت ہوتا ہے اور دلیلِ ظنی جس سے واجب کا ثبوت ہوتا ہے دونوں میں فرق خصوصیتِ مقام سے ہوتا ہے . اور منکر کی تکفیر ہر فرض کا حکمِ لازم نہیں بلکہ یہ صرف فرض  قطعی کا حکم ہے جس کا دین میں ہونا بالضرورۃ معلوم ہے.نہایہ میں مذکور ہے کہ ہو سکتا ہے مقدار مسح میں فرض بمعنی واجب ہو اس مناسبت سے کہ لزوم کا معنٰی دونوں ہی کو شامل ہے . اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ بات حنفیہ کے اس متفقہ قول کے بر خلاف ہے کہ ''وضو میں کوئی واجب نہیں ''اس کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ جس کے نہ ہونے پر اتفاق ہے وہ واجب ، وہ ہے جس کے فقدان سے صحت وجواز مفقود نہ ہو بلکہ جس کے ترک سے عمل میں نقص و کمی آ جائے اور یہاں اس واجب سے متعلق گفتگو ہے جس کے فقدان سے جواز مفقود ہو جائے . لہٰذاکلامِ نہایہ اتفاقِ حنفیہ کے خلاف نہیں اھ مختصراً.
 (۱؂البحر الرائق      کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی       ۱ /۱۰)
علامہ سید طحطاوی نے حاشیہ در مختار میں عبارت مذکور لفظ خصوص المقام تک نقل کرکے فرمایا :
وفی النھر ما یفیدان دلیل الفرض العملی اقوی اھ ۱؎
اور نہر سے مستفاد ہوتا ہے کہ فرض عملی کی دلیل (واجب کی بہ نسبت)زیادہ قوی ہوتی ہے  اھ
 (۱؂حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار  کتاب الطہارۃ   المکتبہ العربیہ کوئٹہ    ۱/۶۱ )
Flag Counter