Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
33 - 123
ومــنھــا وقف صدقۃً علی رجل بعینہ عاد بعد موتہ لورثۃ الواقف قال فی الاجناس ثم فتح القدیر بہ یفتی ۲؎ فقلتم انہ خلاف المعتمد لمخالفتہ لمانص علیہ محققوا المشائخ ولما فی المتون من انہ بعدموت الموقوف علیہ یعود للفقراء ۳؎
کوئی صدقہ ایک شخص معین پر وقف کیا تو یہ وقف اس شخص کی موت کے بعد واقف  کے ورثہ کی طر ف لوٹ آئے گا ، اجناس میں پھر فتح القدیر میں کہا بہ یفتی( اسی پر فتوی دیا جاتا ہے آپ نے فرمایا یہ خلاف معتمد ہے کیونکہ یہ اس کے خلاف ہے جس پر محققین مشائخ نے نص فرمایا او راس کے بھی جو متون میں مذکور ہے ، وہ یہ کہ موقوف علیہ کی موت کے بعد وہ فقراء پر لوٹ آئے گا ۔)
 (۲ ؎الدالمختار    بحوالہ الفتح کتاب الوقف     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۳۷۹)

(۳؎ ردالمحتار     بحوالہ الفتح کتاب الوقف     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۳ /۳۶۶)
ومــنھـا مااختار الامامان الجلیلان والکرخی من الغاء طلاق السکران وفی التفرید ثم التتار خانیہ ثم الدر الفتوی علیہ ۱؎ فقلتم مثل ح قد علمت مخالفتہ لسائر المتون ۲؎
امام جلیلین طحطاوی وکرخی نے اختیار فرمایا کہ نشہ والے کی طلاق بے کار ہے ، او رتفرید پھرتاتار خانیہ پھر درمختار میں ہے کہ فتوی اسی پر ہے آپ نے حلبی کی طرح فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ سارے متون کے خلاف ہے ۔
 (۱؎ الدرالمختار   بحوالہ تاتارخانیہ کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۷)

(۲؎ ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت۲/ ۴۲۴و ۴۲۵)
ومــنـھـا قال محمد اذالم یکن عصبۃ فولایۃ النکاح للحاکم دون الام قال فی المضمرات علیہ الفتوی فقلتم کالبحر والنھر غریب للمخالفۃ المتون الموضوعۃ لبیان الفتوی۳؎
 (۴) امام محمد نے فرمایا ،جب کوئی عصبہ نہ ہو تو نکاح کی ولایت حاکم کو حاصل ہوگی ، ماں کو نہیں مضمرات میں لکھا ، اسی پر فتوی ہے آپ نے بحرونہرکی طر ح فرمایا ، یہ غریب ہے کیوں کہ بیان فتوی کے لئے وضع شدہ متون کے بر خلاف ہے ،
 (۳؎ ردالمحتار    کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۳۱۲)
ومـنھـا قال محمد لا تعتبر الکفاءۃ دیانۃ وفی الفتح عن المحیط علیہ الفتوی وصححہ فی المبسوط فقلتم کالبحر تصحیح الھدایۃ معارض لہ فالافتاء بما فی المتون اولی ۴؎
 (۵) امام محمد نے فرمایا ، دین داری میں کفاء ت کا اعتبار نہیں فتح القدیر میں محیط کے حوالے سے لکھا ، اسی پر فتوی ہے او رمبسوط میں اسی کو صحیح کہا آپ نے بحر کی طر ف فرمایا ، ہدایہ کی تصحیح اس کے معارض ہے تو اسی پر افتا اولی ہے جو متون میں مذکور ہے ۔
 (۴؎ ردالمحتار کتاب النکاح     باب الکفاءۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۲۰)
ومـنـھـا قال لھا اختاری اختاری اختاری فقالت اخترت الاولی اوالوسطی اوالاخیرۃ طلقت ثلثا عندہ وواحدۃ بائنۃ عندھما واختارہ الطحاوی قال فی الدر واقرہ الشیخ علی المقدسی وفی الحاوی القدسی وبہ نأخذ فقد افاد ان قولھما ھو المفتی بہ کذا یخط الشرف الغزی۱؎ فقلتم قول الامام مشی علیہ المتون واخر دلیلہ فــــ۱ فی الھدایۃ فکان ھو المعتمد۲؎۔
 (۶) شوہر نے بیوی سے کہا ، اختیارکر ، اختیار کر، اختیار کر ، تو بیوی نے کہا میں نے پہلی یا درمیانی یا آخری اختیار کی ، امام صاحب کے نزدیک اس پر تین طلاقیں پڑگئیں ، اور صاحبین کے نزدیک ایک طلاق بائن واقع ہوئی اور اسی کو امام طحاوی نے اختیار کیا ، درمختار میں ہے اور اسے شیخ علی مقدسی نے بر قرار رکھا ، اور حاوی قدسی میں ہے ، وبہ ناخذ ہم اسی کو لیتے ہیں تو یہ افادہ کیا کہ قول صاحبین ہی مفتی بہ ہے شرف غزی کی قلمی تحریرمیں اسی طرح ہے آپ نے فرمایا ، قول امام پر متون گام زن ہیں ، اور ہدایہ میں اسی کی دلیل موخر رکھی ہے تو وہی معتمد ہوا ۔
فــــ ۱ : تاخیر الھدایۃ دلیل قول دلیل اعتماد ہ
 (۱؎ الدرالمختار کتاب الطلاق     باب تفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۲۷)

(۲؎ ردالمحتار کتاب الطلاق     باب تفویض الطلاق باب داراحیاء التراث العربی بیروت         ۲ /۴۸۰)
ومــنھـا طلب القسمۃ من لا ینتفع بھا لقلۃ حصّتہ قال شیخ الاسلام خواھر زادہ یجاب قال فی الخانیۃ وعلیہ الفتوی فقال فی الدر لکن فـــــ۲ المتون علی الاول فعلیہ المعول ۳؎ واقرر تموہ انتم وط مع قولکم مرارا منھا فی ھبۃ ردالمحتار کن علی ذکرمما قالوا لا یعدل فــــ۳ عن تصحیح قاضی خان فانہ فقیہ النفس ۴؎ اھ
 (۷) تقسیم کا ایسے شخص نے مطالبہ کیا جو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیوں کہ اس کا حصہ بہت کم ہوگا شیخ الاسلام خواہر زادہ نے کہا ، تقسیم کردی جائے ، خانیہ میں کہا اسی پرفتوی ہے اس پر در مختار میں فرمایا ،لیکن متون اول پر ہیں تواسی پر اعتماد ہے اور اسے آپ نے اور طحطاوی نے بر قراررکھا ، با وجود یکہ آپ نے بارہافرمایا ان میں سے ایک موقع رد المحتار کتاب الہبہ کا بھی ہے کہ اسے یاد رکھنا جو علماء نے فرمایا ہے کہ امام قاضی خاں کی تصحیح سے عدول نہ کیاجائے گا کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں ۔ اھ
فـــ ۲: قول الامام مذکور فی المتون مقدم علی ما صححہ قاضی خان باکدالفاظ الفتوی۔

فــــ۳: لا یعدل عن تصحیحہ قاضی خان فانہ فقیہ النفس ۔
 (۳؎ الدر المختار کتاب القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۱۹)

(۴؎ رد المحتار کتاب الہبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۵۱۳ )
فـقـد ظھر وللہ الحمد ان الترجیح بکون القول قول الامام لایوازیہ شیئ واذا اختلف الترجیح وکان احدھما قول الامام فعلیہ التعویل وکذا اذالم یکن ترجیح فکیف اذا اتفقوا علی ترجیحہ فلم یبق الامااتفقوا فیہ علی ترجیح غیرہ ۔
اس تفصیل سے بحمدہ تعالی روشن ہوگیا کہ کسی قول کے قول امام ہونے کے باعث ترجیح پانے کے مقابل کوئی چیز نہیں اور جب اختلاف ترجیح کی صورت میں دوقولوں میں سے ایک قول امام ہو تو اسی پر اعتماد ہے اسی طر ح اس وقت بھی جب کوئی ترجیح ہی موجود نہ ہو ، پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب سب اسی کی ترجیح پر متفق ہوں تو اب کوئی صورت باقی نہ رہی سوا اس کے جس میں دو سرے کی ترجیح پر سب متفق ہوں ۔
فــاذا حمل کلامہ علی ماوصفنا فلاشک فی صحتہ اذن بالنظر الی حاصل الحکم فانا نوافقہ علی انانا خذ ح بما اتفقوا علی ترجیحہ انما یبقی الخلاف بیننا فی الطریق فھو اختارہ بناء علی اتباع المرجحین ونحن نقول لایکون ھذا الا فی محل احدی الحوامل فیکون ھذا ھو قول الامام الضروری وان خالف قولہ الصوری بل عندنا ایضا مساغ ھھنا لتقلید المشائخ فی بعض الصور علی مایأتی بیانھا۔
تو اگر علامہ شامی کا کلام اس پر محمول کرلیا جائے جو ہم نے بیان کیا تو اس صورت میں وہ بلا شبہ حاصل حکم کے لحاظ سے صحیح ہوگا کیونکہ ہم بھی اس پر ان کی موافقت کرتے ہیں کہ ایسی صورت میں ہم اسی کو لیں گے جس کی ترجیح پر مشائخ کا اتفاق ہے البتہ ہمارے اور ان کے درمیان طریقے حکم کا فر ق رہ جاتا ہے ، انہوں نے اس حکم کو اتباع مرجحین کی بنیاد پر اختیار کیا ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ ایسا اسباب ستہ میں سے کسی ایک کے پائے جانے ہی کے موقع پر ہوگا تو یہی امام کاقول ضروری ہوگا اگرچہ وہ ان کے قول صوری کے بر خلاف ہو بلکہ ہمارے نزدیک یہاں بعض صورتوں میں تقلید مشائخ کی بھی گنجائش ہے جیسا کہ ان کا بیان آرہا ہے ۔
ثــم لاشک انہ لایتقید ح بکونہ قول احد الصاحبین بل ندور مع الحوامل حیث دارت وانکان قول زفر مثلا علی خلاف الائمۃ الثلثۃ کما ذکر وما ذکر من سبرھم الدلیل وسائر کلامہ نشأمن الطریق الذی سلکہ وح یبقی الخلاف بینہ وبین البحر لفظیا فان البحر ایضا لا یابی عند ئذ العدول عن قول الامام الصوری الی قولہ الضروری کیف وقد فعل مثلہ نفسہ والوفاق اولی من الشقاق۔
پھر بلا شبہ ایسے وقت میں اس کی بھی پابندی نہیں کہ وہ دو سرا قول ، صاحبین ہی میں سے کسی کا ہو بلکہ مدار حوادث پر ہوگا وہ جہاں دائر ہوں اگر چہ تینوں ائمہ کے بر خلاف مثلا امام زفر ہی کا قول ہوجیسا کہ پہلے ذکر ہوا ۔اور وہ جو علامہ شامی نے ذکر کیا کہ مشائخ نے دلیل کی جانچ کر رکھی ہے اور باقی کلام ،یہ سب اس طر یق سے پیدا شدہ ہے جسے انہوں نے اپنایا ۔ اور اب ان کے اور بحر کے درمیان صرف لفظی اختلاف رہ جائے گا ۔ کیونکہ بحر بھی ایسی صورت میں امام کے قول صوری سے ان کے قول ضروری کی جانب عدول کے منکر نہیں ۔منکر کیسے ہوں گے ایسا تو انہو ں نے خود کیا ہے ۔ اور اتفاق ، اختلاف سے بہتر ہے ۔
Flag Counter