Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
32 - 123
وان بغیت التفصیل وجدت الترجیح بہ ارجح من جل ماذکر ممایو جد معارضالہ۔ فاقول :  القول لایکون الاظاھر الروایۃ ومحال ان تمشی المتون قاطبۃ علی خلاف قولہ وانما وضعت لنقل مذھبہ وکذا لن تجد ابدا ان المتون سکتت عن قولہ والشروح اجمعت علی خلافہ ولم یلھج بہ الا الفتاوٰی و الا نفعیۃ للوقف من المصالح الجلیلۃ المھمۃ وھی احدی الحوامل الست وکذا الاوفقیۃ لاھل الزمان وکونہ علیہ العمل وکذا الارفق اذا کان فی محل دفع الحرج والاحوط اذاکان فی خلافہ مفسدۃ والا ستحسان اذا کان لنحو ضرورۃ او تعامل اما اذاکان فـــــ لدلیل فمختص باھل النظر وکذا کونہ اوجہ واوضح دلیلا کما اعترف بہ فی شرح عقودہ۔
اور اگر تفصیل طلب کرو تو اس کے باعث ترجیح اس کے مقابل پائے جانے والے مذکورہ تقریبا سبھی مرجحات سے زیادہ راجح ملے گی ۔ فاقول :  تواس کی تفصیل میں ، میں کہتا ہوں ) (۱) وہ قول جب ہوگا ظاہر الروایہ ہی ہوگا (۲) اور یہ محال ہے کہ تمام متون قول امام کی مخالفت پر گام زن ہوں جب کہ ان کی وضع امام ہی کا مذہب نقل کرنے کے لئے ہوئی ہے (۳۔۴) اسی طر ح ہر گز کبھی ایسا نہ ملے گا کہ متون قول امام سے ساکت ہوں او ر شروح نے اس کی مخالفت پر اجماع کرلیا ہو ، صرف فتا وی نے اسے ذکر کیا ہو۔ (۵) اور وقف کے لئے انفع ہونا عظیم اہم مصالح میں شامل ہے او ریہ اسباب ستہ میں سے ایک ہے  (۶) اسی طر ح اہل زمان کے زیادہ موافق ہونا (۷) اور اسی پر عمل ہونا (۸) یوں ہی ارفق اور زیادہ آسان ہونا جب کہ دفع حرج کا مقام ہو (۹) اور احوط بھی ، جب کہ ا س کے خلاف کوئی مفسدہ اور خرابی ہو (۱۰) اور استحسان بھی جب کہ ضرورت یا تعامل جیسی چیز کے با عث ہو ، لیکن استحسان اگر دلیل کے با عث ہو تو وہ اہل نظر سے خاص ہے (۱۱۔۱۲) یوں ہی اس کا اوجہ اور دلیل کے لحاظ سے زیادہ واضح ہونا اہل نظر کا حصہ ہےجیسا کہ علامہ شامی نے شرح عقود میں اس کا اعتراف کیا ہے
فــــ :الاستحسان لغیرنحو ضرورۃ وتعامل لایقدم علی قول الامام ۔
وقد اعلمناک ان المقلد لا یترک قول امامہ لقول غیرہ ان غیرہ اقوی دلیلا فی نظری فاین النظر من النظر وانما یتبعہ فی ذلک تارکاتقلید امامہ من یسلم ان احدا من مقلدبہ ومجتھدی مذھبہ ابصر بالدلیل الصحیح منہ ۔
اور یہ ہم بتا چکے ہیں کہ مقلد اپنے امام کا قول کسی دوسرے کے قول کی وجہ سے ترک نہ کرے گا ، اگر دوسرا قول میری نظر میں دلیل کے لحاظ سے زیادہ قوت رکھتا ہے تو میری نظر کو امام کی نظر سے کیا نسبت؟ اپنے امام کی تقلید چھوڑ کر اس دوسرے کے قول کا اتباع وہی کرے گا جو یہ مانتا ہے کہ امام کے مقلدین اور ان کے مذہب کے مجتہدین میں سے کوئی فرد دلیل صحیح کی ان سے زیادہ بصیرت رکھتا ہے ۔
ولربما یکون قیاس یعارضہ استحسان یعارضہ استحسان اٰخر ادق منہ فکیف یترک القیاس القوی بالا ستحسان الضعیف وھذا ھو المرجو فی کل قیاس قال بہ الامام وقیل لغیرہ لالمثل ضرورۃ وتعامل انہ استحسان ولنحو ھذا ربما قدموا القیاس علی الا ستحسان وقد نقل فی مسألۃ فی الشرکۃ الفاسدۃ ش عن ط عن الحموی عن المفتاح ان قول محمد ھوالمختار للفتوی وعن غایۃ عـــہ البیان ان اقول ابی یوسف استحسان اھ فقال ش وعلیہ فھو من المسائل التی ترجح فیھا القیاس علی الاستحسان ۱؎ اھ
شاید ایسا ہوگا کہ کسی قیاس کے معارض کوئی ایسا استحسان ہو جس کے معارض اس سے زیادہ دقیق دوسرا استحسان موجود ہو تو قیاس قوی کو استحسان ضعیف کے باعث کیسے ترک کردیا جائے گا؟ امید ہے کہ یہی صورت ہر اس قیاس میں پائی جاتی ہوگی جس کے قائل امام ہیں ، اور جس کے مقابل دوسرے کو ،ضرورت وتعامل جیسے امور کے ماسوا میں ، استحسان کہا گیا ہو ایسے ہی نکتے کے باعث بعض اوقات قیاس کو استحسان پر مقدم کرتے ہیں ، علامہ شامی نے طحطاوی سے انہوں نے حموی سے ، انہوں نے مفتاح سے، شرکت فاسدہ کے ایک مسئلے میں نقل کیا ہے کہ امام محمد ہی کا قول فتوی کے لئے مختار (ترجیح یافتہ) ہے او رغایۃ البیان سے نقل کیا کہ امام ابو یوسف کا قول استحسان ہے اس پر علامہ شامی نے فرمایا ، اس کے پیش نظر وہ ان مسائل میں شامل ہے جن میں قیاس کو استحسان پر ترجیح ہوتی ہے ،اھ
عــہ قالہ الامام الکرخی فی مختصرہ وعنہ نقل فی غایۃ البیان ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م) 

اسے امام کرخی نے اپنی مختصر میں بیان کیا اسی میں غایۃ البیان سے منقول ہے ۱۲ منہ ۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار کتاب الشرکۃ فصل فی شرکۃ الفاسدۃ     دار احیا ء التراث العربی بیروت     ۳ /۳۵۰)
فـافادان فـــــ ما علیہ الفتوی مقدم علی الاستحسان وکذا ضرورۃً علی ما عُلل فا لتعلیل من امارات الترجیح والفتوی اعظم ترجیح صریح وکذا لاشک فی تقدیمھا علی الاوجہ والارفق والا حوط کما نصوا علیہ فلم یبق من المرجحات المذکورۃ الا اٰکدیۃ التصحیح واکثریۃ القائلین ولذا اقتصرنا علی ذکرھما فیما مضی۔
اس بیان سے انہوں نے یہ افادہ کیا کہ (ما علیہ الفتوی) جس قول پر فتوی ہوتا ہے وہ استحسان پر مقدم ہوتا ہے( ۱۳) یوں ہی بدیہی وضروری طوپر یہ اس قول سے بھی مقد م ہوگا جس کی تعلیل ہوئی ہو ، اس لئے کہ تعلیل ترجیح کی صرف ایک علامت ہے او رفتوی سب سے عظیم ترجیح صریح ہے (۱۴۔۱۶) یوں ہی اوجہ ، ارفق اور احوط پر بھی اس کے مقدم ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ا ب تصحیح کے زیادہ موکد ہونے اور قائلین کی تعداد زیادہ ہونے کے سوا مذکورہ مرحجات سے کوئی مر جح باقی نہ رہا ، اسی لئے سابق میں ہم نے صرف ان ہی دونوں کے ذکر پر اکتفاکی ،
فــــ ۱: ماعلیہ الفتوی مقدم علی الاستحسان ۔
و ای فـــــ ۲ اکثریۃ اکثر ممافی مسألتی وقت العصر والعشاء حتی ادعوا علی خلاف قولہ التعامل بل عمل عامۃ الصحابۃ فی العشاء ولم یمنع ذلک لاسیما فی العصر عن التعویل علی قول الامام ونقلتم عن البحر واقررتم انہ لایعدل عن قول الامام الالضرورۃ وان صرح المشائخ ان الفتوی علی قولھما کما ھنا ۱؎
اب بتائیے قائلین کی اکثریت کہیں اس سے زیادہ ہوگی جو وقت عصراور وقت عشاء کے مسئلوں میں امام کے مقابل موجود ہے ؟ یہاں تک کہ لوگوں نے قول امام کے بر خلاف تعامل بلکہ عشا میں عامہ صحابہ کا عمل ہونے کابھی دعوی کیا پھر بھی یہ اکثر یت ، خصوصا عصر میں ، قول امام پر اعتماد سے مانع نہ ہوسکی ، اورآپ ہی نے بحر سے یہ نقل کیا اور برقرار رکھا کہ قول امام سے بجز ضرورت کے عدول نہ ہوگا اگر چہ مشائخ نے تصریح فرمائی ہو کہ فتوی قول صاحبین پر ہے ، جیسے یہا ں ہے اھ۔
 (۱؎ بحرالرائق کتاب الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۴۶)
فـــــ ۲:عند قول الامام لاینظر الی کثرۃ الترجیح فی الجانب الاخر ۔
ونا ھیک فـــــ بہ جوابا عن اٰکدیۃ لفظ التصحیح وایضا قدمنا نصوص ش فی ذلک فی سردالنقول عن کتاب النکاح وکتاب الھبۃ وایضا اکثر فی ردالمحتار من معارضۃ الفتوی بالمتون وتقدیم ما فیھا علی ما علیہ الفتوی وما ھو الا لان المتون وضعت لنقل مذھب صاحب المذھب رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
اور لفظ تصحیح کے زیادہ موکد ہونے سے متعلق جواب کے لئے بھی یہی کافی ہے اور اس بارے میں علامہ شامی کی صریح عبارتیں ذکر نقول کے تحت کتا ب النکاح او رکتا ب الہبہ سے ہم پہلے بھی نقل کرچکے ہیں ، اور انہوں نے رد المحتار میں بہت سے مقامات پر فتوی کے مقابلہ میں متون کوپیش کیا ہے اور متون میں جو مذکورہ ہے اسے ما علیہ الفتوی (اور قول جس پر فتوی ہے) پر مقد م قرار دیا ہے ، اوریہ اسی لئے کہ متون صاحب مذہب رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب نقل کرنے کے لئے وضع ہوئے ہیں ۔
فــــ: اذا رجع قول الامام وقول خلافہ کان العمل بقول الامام وان قالوا لغیرہ علیہ الفتوی ۔
فــمـنـھا الاسناد فی البئر الی یوم اوثلثۃ فی حق الوضوء والغسل والا قتصار فی حق غیرھما افتی بہ الصباغی وصححہ فی المحیط والتبیین واقرہ فی البحر والمنح واعتمدہ فی التنویر والدر فقلتم مخالف لاطلاق المتون قاطبۃ (الی قولکم) فلا یعول علیہ وان اقرہ فی البحر والمنح ۱؎
ان میں سے چند مقامات کی نشان دہی (۱) کنویں میں کوئی جانور مراد دیکھا گیا اور گرنے کا وقت معلوم نہیں تو اگر پھولا پھٹانہیں ہے تو ایک دن اورپھولاپھٹا ہے تو تین دن سے پانی نجس ماناجائے گا وضو اور غسل کے حق میں او ردوسری چیزوں سے متعلق جب سے دیکھا گیا اس وقت سے یعنی اب سے نجس مانا جائے گا پہلے سے نہیں ۔

اسی پر صباغی نے فتوی دیا ،محیط اورتبیین میں اسی کو صحیح کہا البحرالرائق اور منح الغفار میں اسی پر اعتماد کیا تو آپ نے فرمایا ،یہ تمام متون کے اطلاق کے بر خلاف ہے (یہاں تک کہ فرمایا) تو اس پر اعتماد نہ ہوگا اگرچہ بحر اور منح میں اسے بر قرار رکھا ۔
 (۱؎ ردالمحتار     باب المیاہ     فصل فے البئر    دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۱۴۶)
Flag Counter