Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
31 - 123
فـالــوجہ عندی حمل کلام الرسالۃ علی مااذا ذیلت احدھما بافعل والاخری بغیرہ فیکون ثالث مافی المسألۃ عن الخیریۃ والغنیۃ من اختیار الاصح اوالصحیح وھو التخییر وھذا اولی من حملہ علی ما یقبل۔
تو میرے نزدیک مناسب طریقہ یہ ہے کہ رسالہ کا کلام اس صورت پر محمول کیا جائے جس میں ایک کے ذیل میں '' افعل '' سے ترجیح ہو اور دوسرے میں غیر افعل سے ، تو اس مسئلہ میں خیر یہ سے اصح کو اور غنیہ سے صحیح کو اختیار کرنے کا جو حکم منقول ہے اس کی یہ تیسری شق ہوجائے گی وہ یہ کہ تخییر ہے (کسی ایک کی پابندی نہیں صحیح یا اصح کسی کو بھی اختیار کرسکتا ہے) یہ معنی لینا اس معنی پر محمول کرنے سے بہتر ہے جو ناقابل قبول ہے ۔
لاسیما والرسالۃ مجھول لاتدری ھی ولامؤلفہا والنقل فــــــ عن المجھول لایعتمد وان کان عــــہ الناقل من المعتمدین کما افصح بہ ش فی مواضع من کتبہ وبیناہ فی فصل القضاء ۔
خصوصا جبکہ رسالہ مجہول ہے ، نہ اس کا پتا نہ اس کے مؤلف کا پتا، او رمجہول سے نقل قابل اعتماد نہیں اگرچہ ناقل معتمد ہوجیسا کہ یہ ضابطہ خود علامہ شامی نے اپنی تصانیف کے متعدد مقامات میں صاف طور پر بیان کیا ہے اور ہم نے بھی فصل القضاء میں اسے واضح کیا ہے ۔
ف : لایعتمد علی النقل عن مجھول وان کان الناقل ثقۃ۔ 

عـــہ : اقول وثم تفصیل یعرفہ الماھر باسالیب الکلام والمطلع علی مراتب الرجال فافھم اھ منہ 

عــــہ : اقول یہاں کچھ تفصیل ہے جس کی معرفت اسالیب کلام کے ماہر اور مراتب رجال سے باخبر شخص سے ہوگی تو اسے سمجھ لیں ۔۱۲ منہ
وبالجملۃ فالثنیا تخالف ماقررہ اما انھا لاتخالفنا فلان فــــ مفادھا اذ ذاک التخییر وھو حاصل ما فی شقی الثانی لانہ لما وقع فی شقہ الاول الخلاف من دون ترجیح اٰل الی التخییر والتخییر مقید بقیود قد ذکرھا من قبل وذکّرھا ھنا بقولہ ولاتنس ماقدمناہ من قیود التخییر ۱؎ اھ
الحاصل وہ استثنا ء ان ہی کے طے کردہ اور مقررہ امر کے خلاف ہے ، رہا یہ کہ وہ ہمارے خلاف نہیں تو اس لئے کہ اس وقت اس کا مفاد تخییر ہے او ریہی اس کا حاصل ہے جو صورت دوم کی دونوں شقوں کے تحت مذکور ہے کیونکہ جب اس کی پہلی شق میں اختلاف ہوگیا ( کہ اصح کو اختیار کرے ، یا صحیح کو اختیار کرے ) اور ترجیح کسی کو نہیں تو مال یہ ہوا کہ تخییر ہے ، اور تخییر کچھ قیدوں سے مقید ہے جنہیں پہلے ذکر کیا ہے اور یہا ں بھی ان کی یاد دہانی کی ہے یہ کہہ کر کہ اور تخییر کی ان قیدوں کو فراموش نہ کرنا جو ہم پہلے بیان کرچکے اھ ،
ف : تحقیق ان ماذکر من حاصل کلام الدر فانہ لایخالفنا۔
 (۱؎ ردالمحتار مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۰)
من اعظمھا ان لایکون احدھما قول الامام فاذا کان فلا تخییر کما اسلفنا اٰنفا نقلہ، وقد قال فی شرح عقودہ اذ کان احدھما قول الامام الاعظم والاٰخر قول بعض اصحابہ عند عدم الترجیح لاحدھما یقدم قول الامام فلذا بعدہ ۱؎ اھ ای بعد ترجیح القولین جمیعا فرجع حاصل القول الی ان قول الامام ھو المتبع الا ان یتفق المرجحون علی تصحیح خلافہ۔
ان میں سے عظیم ترین قید یہ ہے کہ دونوں میں کوئی ایک ، قول امام نہ ہو ، اگر ایسا ہو ا تو تخییر نہ ہوگی جیسا اسے ہم ابھی نقل کرآئے ، او رعلامہ شامی نے اپنی شرح عقود میں لکھا ہے کہ جب دونوں میں سے ایک ، امام اعظم کا قول ہو اور دوسرا ان کے بعض اصحاب کا قول ہو تو کسی کی ترجیح نہ ہونے کے وقت قول امام کو مقدم رکھا جاتا ہے تو ایسے ہی اس کے بعد بھی ہوگا اھ، یعنی دونوں قولوں کی ترجیح کے بعد بھی ہوگا تو حاصل کلام یہی نکلا کہ اتباع قول امام ہی کا ہوگا مگر یہ کہ مرجحین اس کے خلاف کی ترجیح پر متفق ہوں۔
 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی     رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۴۰)
فــان قــلـــت فــــ الیس قد ذکر عشر مرجحات اُخر ونفی التخییر مع کل منھا: أکدیۃ التصحیح کونہ (۳) فی المتون والاٰخر فی الشروح اوفی(۳) الشروح والاٰخر فی الفتاوٰی او عللوہ (۴) دون الاٰخر اوکونہ (۵) استحسانا او ظاھر (۶) الروایۃ اوا نفع (۷) للوقف اوقول (۸) الاکثر او اوفق (۹) باھل الزمان او اوجہ زاد ھذین فی شرح عقودہ۔
اگر سوال ہو کہ کیا ایسا نہیں کہ اس میں دس مرجع او ربھی ذکر کئے ہیں او رہر ایک کے ساتھ تخییر کی نفی کی ہے (۱) تصحیح کا زیادہ موکد ہونا(۲) یا اس کا متون میں اور دوسرے کا شرو ح میں ہونا(۳) اس کا شروح میں اور دوسرے کا فتاوی میں ہونا(۴) ان حضرات نے اس کی تعلیل فرمائی دوسرے کی کوئی علت ودلیل نہ بتائی(۵) اس کا استحسان ہونا (۶) یا ظاہر الروایہ(۷)یا وقف کے لئے زیادہ نفع بخش(۸) یاقول اکثر(۹) یا اہل زمانہ سے زیادہ ہم آہنگ اورموافق (۱۰) یا اوجہ ہونا،ان دونوں کا شرح عقود میں اضافہ ہے ۔
فـــــ :ذکر عشر مر جحات لاحد القولین علی الاخر
قلت بلی ولا ننکرھاأفقال ان الترجح بھا اٰکد من الترجح بانہ قول الامام انما ذکر رحمہ اللہ تعالٰی ان التصحیح اذا اختلف وکان لاحدھما مرجح من ھذہ ترجح ولا تخییر ولم یذکر ماذا کان لکل منھما مرجح منھا۔
میں کہوں گا کیو ں نہیں ، ہمیں ان سے انکار نہیں ، بتائے کیا یہ بھی کہا ہے کہ ان سب وجہوں سے ترجیح پانا قول اما م ہونے کے سبب ترجیح پانے سے زیادہ موکد ہے ؟ انہوں نے تو صرف یہ ذکر کیا ہے کہ جب تصحیح میں اختلاف ہو اور ایک تصحیح کے ساتھ ان دس میں سے کوئی ایک مرجح ہو تو وہ ترجیح پاجائے گی اور تخییر نہ ہوگی ، اس صورت کا تو ذکر ہی نہ فرمایا جس میں ہر ایک تصحیح کے ساتھ ان میں سے کوئی ایک مرجح ہو۔
اقــول فــــ۱وقد بقی من المرجحات کونہ احوط اوارفق اوعلیہ العمل وھذا یقتضی الکلام علی تفاضل ھذہ المرجحات فیما بینھا وکانہ لم یلم بہ لصعوبۃ استقصائہ فلیس فی کلامہ مضادۃ لما ذکرنا۔
اقول : اور ابھی یہ مرجحات باقی رہ گئے اس کااحوط ، یا ارفق ، یا معمول بہ ہونا ( علیہ العمل) اور یہ اس کا متقضی ہے کہ ان تر جیحات کے باہمی تفاوت اورفرق مراتب پر کلام کیا جائے ، اس کی چھان بین دشوار ہونے کے با عث شاید اسے ہاتھ نہ لگایا ، تو ہم نے جو ذکر کیا اس کی کوئی مخالفت ان کے کلام میں نہیں۔
فــــــ ۱:ذکر ثلث مرجحات اخر ۔
وانــا اقــول  : فـــ ۲ الترجح بکونہ مذھب الامام ارجح من الکل التصریحات القاھرۃ الظاھرۃ الباھرۃ المتواترۃ ان الفتویٰ بقول الامام مطلقا وقد صرح الامام الاجل صاحب الھدایۃ بوجوبہ علی کل حال۔
وانا اقول  : ( اور میں کہتا ہوں) مذہب امام ہونے کے با عث ترجیح پانا سب سے ارجح ہے اس لئے کہ قاہر ظاہر باہر متواتر تصریحات موجود ہیں کہ فتوی مطلقا قول اما م پر ہوگا اور امام جلیل صاحب ہدایہ نے ہر حال میں قول امام پر افتا ء واجب ہونے کی تصریح فرمائی ہے ،
فــــــ ۲:الترجیح بکونہ قول الامام ارجح من کل مایوجد معارضا لہ ۔
Flag Counter