فـاقـول اولا: ھذا فــــ ۱ مسلم اذا قوبل الاصح بالصحیح اما اذا ذکروا قولین وقالوا فی احدھما وحدہ انہ الاصح ولم یلموا ببیان قوۃ مافی الاٰخر اصلا فلایفھم منہ الا ان الاول ھو الراجح المنصور ولا ینقدح فی ذھن احد انھم یریدون بہ تصحیح کلا القولین و ان للاول مزیۃ ما علی الاٰخر فافعل ھھنا من باب اھل الجنۃ خیر مستقرا واحسن مقیلا ولو سبرت کلماتھم فــــ۲ لوجد تھم یقولون ھذا احوط وھذا ارفق مع ان الاٰخر لارفق فیہ ولا احتیاط وھذا بدیھی عند من خدم کلامھم ۔
فاقول( تو میں کہتا ہوں)اولایہ بات اس صورت میں تسلیم ہے جب اصح کے مقابلے میں صحیح لایا گیا ہو۔ لیکن جب دو قول ذکر کریں اور صرف ایک کے بارے میں کہیں کہ وہ اصح ہے اور دوسرے میں جو قوت ہے اس کے بیان سے کچھ بھی تعرض نہ کرے تو ایسی حالت میں یہ ہی سمجھا جائے گا کہ اول ہی راجح اور تائید یافتہ ہے ۔ اور کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ گزرے گا کہ وہ اول کو اصح کہہ کر دو نوں قولوں کو صحیح کہنا اور یہ بتانا چاہتے کہ اول کو دوسرے پر کچھ فضیلت ہے تو یہ افعل ''اھل الجنۃخیر مستقرا واحسن مقیلا'' جنت والے بہتر قرار گاہ اور سب سے اچھی آرام گاہ والے ہیں ، کے باب سے ہوگا ، اگر کلمات مشائخ کی تفتیش کیجئے تو یہ ملے گا کہ وہ حضرات فرماتے ہیں یہ احوط ( زیادہ احتیاط والا) ہے ، یہ ارفق ( زیادہ نرمی وفائدے والا ہے) با وجودیکہ دوسرے میں کوئی احتیاط اور کوئی آسانی نہیں ، یہ ان حضرات کے کلام کے خدمت گزاروں کے نزدیک بدیہی ہے ، اھ
فــــ ۱: معروضۃ علیہ وعلی العلامتین ح و ط
فـــــ ۲: ربما لایکون افعل فی قول الفقہاء ھذا اصح احوط ارفق اوفق وامثالہ من باب التفضیل ۔
ولذا فــــ ۳ قال فی الخیریۃ من الطلاق انت علی علم بانہ بعد التنصیص علی اصحیتہ لایعدل عنہ الی غیرہ ۱؎ اھ
اسی لئے خیر یہ کتاب الطلاق میں فرمایا ، تمہیں خبر ہے کہ اس کے اصح ہونے کی تصریح ہوجانے کے بعد اس سے کسی اور کی جانب عدول نہ ہوگا، اھ
(۱؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۳۹)
فــــ ۳:اذا ثبت الاصح لایعدل عنہ ای اذا لم یوجد الاقوی منہ۔
بل قال فی صلحھا فی مسألۃ قالوا فیھا لقائل ان یقول تجوز وھو الاصح ولقائل ان یقول لاما نصہ حیث ثبت الاصح لایعدل عنہ ۲؎ اھ
بلکہ خیر یہ کتاب الصلح میں جہاں یہ مسئلہ ہے کہ: لوگوں نے کہا اس میں کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ جائز ہے ، اور وہی اصح ہے ، اورکہنے والا کہہ سکتا ہے جائز نہیں ، وہاں وہ لکھتے ہیں جب اصح ثابت ہوگا تو اس سے عدول نہ ہوگا ،
(۲؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلح دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۰۴)
وھذا مفادفــــ ۱متنہ العقود وان مال فی شرحہ الی ما ھنا فانہ قال:
یہی ان کے متن عقود کا بھی مفاد ہے اگر چہ اس کی شرح میں وہ اس بات کی طرف مائل ہوگئے جو یہاں زیر بحث ہے کیوں کہ اس میں یہ لکھا ہے ،
فــــ ۱: معروضۃ علی العلامۃ ش
وحیثما وجدت قولین وقد صحح واحد فذاک المعتمد بنحو ذاالفتوی علیہ الا شبہ والاظھر المختار ذا والاوجہ ۳؎
جہاں تم کو دو قول ملیں ، جن میں ایک کی تصحیح اس طر ح کے الفاظ سے ہو ، اسی پر فتوی ہے ، یہ اشبہ ہے ، اظہر ہے ، مختار ہے ، اوجہ ہے ،تووہی معتمد ہے اھ۔
(۳؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین،سہیل اکیڈمی لاہور ،۱ / ۳۷)
فقد حکم بقصرالاعتماد علی ما قیل فیہ افعل ولم یصحّح خلافہ ۔
تو معتمد ہونے کا حکم اسی پر محدود رکھا جس کی تصحیح میں لفظ افعل آیا ہے اور اس کے مخالف قول کی تصحیح نہیں ہوئی ہے۔
ولما قال فــــ ۲ فی الدر فیمن نسی التسلیم عن یسارہ اتی بہ مالم یستدبر القبلہ ۱؎ فی الاصح ۔
در مختار کے اندر اس شخص سے متعلق جو بائیں جانب سلام پھیرنا بھول گیا یہ لکھا ہے جب تک قبلہ سے پیٹھ نہ پھیری ہو اس کی بجا آوری کرلے اصح مذہب میں،
فــــ ۲:مسئلہ نماز میں بائیں طرف کا سلام پھیرنا بھول گیا جب تک قبلہ سے نہ پھرا ہو کہہ لے۔
(۱؎ الدر المختار کتاب الصّلٰوۃ فصل اذا اراد الشروع فی الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷۸ )
وکان فی القنیۃ انہ الصحیح۲؎ قال ش فــــ۱ عبرالشارح بالا صح بدل الصحیح والخطب فیہ سھل ۳؎ اھ
اسی مسئلے کے تحت قنیہ میں لکھا تھا کہ یہی صحیح ہے ، تو اس پر علامہ شامی نے لکھا کہ شارح نے صحیح کی جگہ اصح سے تعبیر کی ، اورمعاملہ اس میں سہل ہے اھ۔
فــــ۱ : الصحیح والاصح متقاربان والخطب فیہ سھل ۔
(۲؎ القنیۃ المنیہ تتمیم الغنیہ کتاب الصلوۃ باب فی القعدۃ والذکرفیہا کلکۃ انڈیا ص۳۱)
(۳؎ رد المحتار کتاب الصّلٰوۃ فصل اذا اراد الشروع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۵۲)
وکیف یکون سھلا فــــ ۲وھما عندکم علی طرفی نقیض فان الصحیح کان یفید ان خلافہ فاسد وافاد الاصح عندکم انہ صحیح فقد جعل الفاسد صحیحا۔
سہل کیسے ہوگا جب دو نوں آپ کے نزدیک ایک دوسرے کی بالکل نقیض اورضد ہیں ۔ کیوں کہ صحیح کا مفاد یہ تھا کہ اس کا تقابل فاسد ہے ۔ اور اصح کا مفاد آپ کے نزدیک یہ ہو ا کہ اس کا مقابل صحیح ہے تو آپ کے طور پر تو شارح نے فاسد کو صحیح بنادیا ؟
فــــ ۲: معروضۃ علی العلامۃ ش
وثــانــیا قدقلتم فــــ۳ علینا اتباع مارجحوہ ولیس بیان قوۃ للشیئ فی نفسہ ترجیحا لہ اذ لابد للترجیح من مرجح ومرجح علیہ فالمعنی قطعا ما فضلوہ علی غیرہ فلا شک انھم اذا قالو الاحد قولین انہ الاصح وسکتوا عن الاٰخر فقد فضلوہ و رجحوہ علی الاٰخر فوجب اتباعہ عندکم وسقط التخییر۔
ثانیا آپ نے فرمایا جسے ان حضرات نے تر جیح دے دی ہم پر اسی کی پیروی لازم ہے ، اور شے کی ذات میں پائی جانے والی کسی قوت کا بیان ، ترجیح نہیں ، کیونکہ ترجیح کے لئے مرجح اور مرجح علیہ ( جس کو راجح کہا گیا اور جس پر راجح کہا گیا) دونوں ضروری ہیں، تو قطعا یہ معنی ہوگا کہ جسے ان حضرات نے دوسرے سے افضل قراردیا اس کی پیروی ضروری ہے ، اب یہ قطعی بات ہے کہ جب انہوں نے دو قولوں میں سے ایک کو اصح کہا اور دوسرے سے متعلق سکوت اختیار کیا تو اسے انہوں نے دوسرے سے افضل اور راجح قرار دیا تو آپ کے نزدیک اس کا اتباع واجب ہو ااور تخییر ساقط ہوگئی۔