Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
29 - 123
واقــول: سبحٰن اللہ فـــــ ۱ ھو الحکم الماثور، ومعتمد الجمھور، والمصحح المنصور، فکیف یصح تسمیتہ بحث البحر ھذا ۔
اقول : سبحان اللہ یہی تو حکم منقول ہے جمہور کا معتمد ا ور تصحیح وتائید یافتہ بھی ، پھر اسے بحر کی بحث کہنا کیوں کر درست ہے ؟
فــ۱: معروضۃ علیہ
واقـول: یظھر لی فی توجیہ فـــــ۲ کلامہ رحمہ اللہ تعالٰی ان مرادہ اذا اتفق المرجحون علی ترجیح قول غیرہ رضی اللہ تعالی عنہ ذکرہ ردا لما فھم من اطلاق قول البحر وان افتی المشائخ بخلافہ فانہ بظاھرہ یشمل مااذا اجمع المشائخ علی ترجیح قول غیرہ ۔
اقـول مجھے علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی کے کلام کی توجیہ میں یہ سمجھ آتا ہے کہ ان کی مراد وہ صورت ہے جس میں حضر ت امام رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا کسی اور کے قول کی ترجیح پر مرجحین کا اتفاق ہو، اسے اس اطلاق کی تردید میں ذکر کیا جو بحر کی اس عبارت سے سمجھ میں آتا ہے کہ '' اگر چہ مشائخ نے اس کے خلاف فتوی دیا ہو '' کیوں کہ بظاہر یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں غیر امام کے قول کی ترجیح پر اجماع مشائخ ہو ۔
فــــ۲: السعی الجمیل فی توجیہ کلام العلامۃ الشامی رحمہ اللہ تعالی ۔
والدلیل علی ھذہ العنایۃ فی کلام ش انہ انما تمسک باتباع المرجحین وانھم اعلم وانھم سبروا الدلائل فحکموا بترجیحہ ولم یلم فی شیئ من الکلام الی صورۃ اختلاف الترجیح فضلا عن ارجحیۃ احد الترجیحین ولو کان مرادہ ذلک لم یقتصر علی اتباع المرجحین فانہ حاصل ح فی کلام الجانبین بل ذکر اتباع ارجح الترجیحین ۔
یہ مراد ہونے پر کلام شامی میں دلیل یہ ہے کہ انہوں نے اتباع مرجحین سے استدلال کیا ہے اور اس بات سے کہ وہ زیاد ہ علم والے ہیں او رانہوں نے دلائل کی جانچ کر کے اس کی ترجیح کا فیصلہ کیا ہے ، اور کلام کے کسی حصے میں اختلاف ترجیح کی صورت کو ہاتھ نہ لگایا ، دو ترجیحوں میں سے ایک کے ارجح ہونے کا تذکرہ تودر کنار ، اختلاف ترجیح کی صورت اگر انہیں مقصود ہوتی تو صرف اتباع مرجحین کے حکم پر اکتفا نہ کرتے کیونکہ اس صورت میں اتباع مرجحین تو دو نوں ہی جانب موجو د ہے ، بلکہ اس تقدیر پر وہ دونوں ترجیحوں میں سے ارجح کے اتباع کا ذکر کرتے ۔
ویـؤیدہ ایضا ما قدمنا فی السابعۃ من قولہ رحمہ اللہ تعالٰی لما تعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام ۱؎ اھ
اس کی تائید ان کے اس کلام سے بھی ہوتی ہے جسے ہم مقدمہ ہفتم میں نقل کر آئے ہیں کہ ، جب دونوں تصحیحوں میں تعا رض ہوا تو دونوں ساقط ہوگئیں اس لئے ہم نے اصل کی جانب رجوع کیا ، وہ یہ ہے کہ امام کا قول مقدم رہے گا اھ۔
 (۱؎ ردالمحتار     مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۹)
وھذا وان کان ظاھرہ فی ما استوی الترجیحان لکن ماذکرہ مترقیا علیہ عن الخیریۃ والبحریعین ان الحکم اعم۔
یہ اگرچہ بظاہر دنوں ترجیحیں برابر ہونے کی صورت میں ہے لیکن آگے اس پر ترقی کرتے ہوئے خیر یہ اور بحر کے حوالے سے جوذکر کیا ہے و ہ تعین کردیتا ہے کہ حکم اعم ہے ۔
ویؤیدہ ایضا ماجعل اٰخرا الکلام محصل جمیع کلام الدر فی المراد اذ قال قولہ فلیحفظ ای جمیع ما ذکرناہ وحاصلہ ان الحکم ان اتفق علیہ اصحابنا یفتی بہ قطعا والا فاما(۱) ان یصحح المشائخ احد القولین فیہ او (۲ )کلا منھما (۳ )اولا ولا ففی الثالث یعتبر الترتیب بان یفتی بقول ابی حنیفۃ ثم ابی یوسف الخ او قوۃ الدلیل ومرا لتوفیق وفی الاول ان کان التصحیح بافعل التفضیل خیر المفتی والا فلا بل یفتی بالمصحح فقط وھذا ما نقلہ عن الرسالۃ وفی الثانی اما ان یکون احدھما عــــہ بافعل التفضیل اولا ففی الاول قیل یفتی بالاصح وھوالمنقول عن الخیریۃ وقیل بالصحیح وھو المنقول عن شرح المنیۃ وفی الثانی یخیر المفتی وھو المنقول عن وقف البحر والرسالۃ افادہ ح ۱؎ اھ
اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے جسے آخر کلام میں مقصود سے متعلق پوری عبارت درمختار کا حاصل قرار دیا کہ وہاں یہ لکھا ہے ،عبارت در'' فلیحفظ ، تو اسے یاد رکھا جائے '' کا معنی یہ ہے کہ وہ سب یاد رکھا جائے جو ہم نے ذکر کیا اور اس کا حاصل یہ ہے کہ جب کسی حکم پر ہمارے اصحاب کا اتفاق ہو تو قطعا اسی پر فتوی دیا جائے گا ورنہ تین صورتیں ہوں گی ، (۱) مشائخ نے دونوں قولوں میں سے صرف ایک کو صحیح قرار دیا ہو (۲) ہرایک کی تصحیح ہوئی ہو (۳) مذکورہ دونوں صورتیں نہ ہوں ۔تیسری صورت میں ترتیب کا اعتبارہوگا اس طر ح کہ امام ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دیاجائے گا ، پھر امام ابو یوسف کے قول پر الخ ، یاقوت دلیل کا اعتبارہوگا ، اور ان دونوں میں تطبیق کا بیان گزر چکا ۔اور پہلی صورت میں اگر تصحیح افعل التفضیل کے صیغے (مثلا لفظ اصح) سے ہو تو مفتی کو تخییر ہوگی ورنہ (مثلا صرف لفظ صحیح ہو تو) نہیں ، بلکہ مفتی کو اسی پر فتوی دینا ہے جسے صحیح کہا گیا ،یہ وہ بات ہے جو انہوں نے رسالہ سے نقل کی، اور دو سری صورت میں کوئی ایک ترجیح بلفظ افعل التفضیل ہوگی یا نہ ہوگی ، برتقدیر اول کہا گیا کہ اصح پر فتوی دیا جائے گا ، یہ خیر یہ سے منقول ہے ، او رکہا گیا کہ صحیح پر فتوی ہوگا ، یہ شرح منیہ سے منقول ہے، برتقدیر دوم مفتی کو تخییر ہوگی یہ بحر کتاب الوقف او ر رسالہ سے منقول ہے ۔ یہ حلبی نے افادہ فرمایا ۔ اھ
عـــــــہ : اقول یشمل فــــ ما اذا کان کلاھما بہ ولا یتأتی فیہ الخلاف المذکور فکان ینبغی ان یقول احدھما وحدہ لیشمل قولہ اولا مااذا کان بافعل ۱۲ منہ غفرلہ (م) 

یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں دونوں تر جحیں بلفظ افعل ہوں حالانکہ اس میں خلاف مذکور حاصل نہ ہوگا تو انہیں کوئی ایک کے بجائے '' احد ھما وحدہ''(صرف ایک) کہناچاہئے تھا ، تا کہ ان کا قول '' یا نہ'' اس صورت کو بھی شامل ہوجائے جس میں ہر ایک لفظ افعل ہو ۱۲منہ

فــــ : معروضۃ علی العلامہ ش
 (۱؎ ردالمحتار     مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۹)
فما ذکرہ فی الثالث عین مرادنا وکذا ما ذکرہ فی الاول اما استثناء ما اذاکان التصحیح بافعل فــاقـول یخالف فــــ نفسہ ولا یخالفنا فان الترجیح اذا لم یوجد الا فی جانب واحد کما جعلہ محمل الرسالۃ ومع ذلک خیر المفتی لم یکن علیہ اتباع مارجحوہ والتاویل بان افعل افادان الروایۃ المخالفۃ صحیحۃ ایضا کما قالاہ ھما وط ۔
تو تیسری صورت میں جوذکر کیا بعینہ وہی ہماری مراد ہے ، اسی طرح وہ بھی جو پہلی صورت میں ذکر کیا ، رہا اس صورت کا استثنا جس میں تصحیح بصیغہ اسم تفضیل ہو فاقول (تو میں کہتا ہوں) وہ خود ان کے خلاف ہے ہمارے خلاف نہیں ، کیوں کہ جب ترجیح صرف ایک طرف ہو ،جیسا کہ اسے رسالے کا محمل اور معنی مراد ٹھہرایا ، ا س کے با وجود مفتی کو تخییر ہو تو اس کے ذمہ اس کی پیر وی لازم نہ رہی جسے مشائخ نے ترجیح دی ، اور یہ تاویل کہ '' افعل''کامفاد یہ ہوگا کہ روایت خلاف بھی صحیح ہے ، جیسا کہ حلبی وشامی اور طحطاوی نے کہا ۔
فــــ : معروضۃ علیہ
Flag Counter