اقـول رحمک اللہ قولک فـــــ ۲ فنتبع مارجحوہ ان کان داخلا فی ما ذکرت من مفاد السراجیۃ فتوجیہ القول بضدہ وردہ فان السراجیۃ توجب علی غیر المجتھد اتباع الترتیب لا الترجیح وان کان زیادۃ من عندکم فمخالف للمنصوص وتفریع للشیئ علی ما ھو تفریع لہ فانک ان کنت اھل النظر فعلیک بالنظر المصیب، اولا فعلیک بالترتیب، فمن این ھذا الثالث الغریب۔
اللہ آپ پررحم فرمائے ، تو ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی ، یہ عبارت اگر آپ نے کلام سراجیہ کے مفاد ومفہوم کے تحت داخل کر کے ذکر کی ہے تو یہ اس کلام کی توجیہ نہیں بلکہ اس کی مخالفت اور تردید ہے کیونکہ سراجیہ تو غیر مجتہد پر ترتیب کی پیروی واجب کرتی ہے نہ کہ ترجیح کی پیروی ۔اور اگر یہ عبارت آپ نے اپنی طر ف سے بڑھائی ہے تو یہ منصوص کے برخلاف ہے اور ایک چیز کی تفریح ایسی چیزپر ہے جو در اصل اس کی تردید ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ آپ اگر صاحب نظر ہیں توآپ کے ذمہ نظر صحیح ہے یا آپ اہل نظر نہیں تو آپ کے ذمہ اتباع ترتیب ہے ، پھر یہ تیسرا بیگا نہ و اجنبی کہاں سے آگیا؟
فــــ ۲: معروضۃ علیہ
قــولـہ لایجوز لہ مخالفۃ الترتیب الا اذاکان لہ ملکۃ فعلیہ ترجیح مارجح عندہ و نحن نتبع مارجحوہ۔۱؎
علامہ شامی: اس کے لئے ترتیب مذکور کی مخالفت جائز نہیں مگر جب اس کے پاس ملکہ ہو تو اس کے ذمہ یہ ہے اس کے نزدیک جو راجح ہو اسے تر جیح دے اور ہمیں اس کی پیروی کرنا ہے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی ۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۰۲)
اقول: رحمک اللہ فـــــ ھذا کذٰلک فحاصل کلامھم جمیعا ما ذکرت الی قولک ونحن اما ھذا فرد علیہ وخروج عنہ فان من لاملکۃ لہ لا یجوز لہ عندھم مخالفۃ الترتیب وانتم اوجبتموہ علیہ ادارۃ لہ مع الترجیح۔
اقول : اللہ آپ پر رحم فرمائے ۔یہ بھی اسی کی طر ح ہے ۔ کیونکہ ان تمام حضرات کے کلام کا حاصل وہی ہے جو آپ نے ''اور ہمیں'' تک ذکر کیا ۔۔۔۔۔۔ اور یہ اضافہ تو اس کی تردید اور اس کی مخالفت ہے ۔ کیوں کہ جس کے پاس ملکہ نہیں اس کے لئے ان حضرات کے نزدیک ترتیب کی مخالفت روا نہیں اور آپ نے تو اس پر یہ مخالفت واجب کردی ہے کیونکہ اسے آپ نے ترجیح کے ساتھ چکر لگانے کا پا بند کردیا ہے ۔
فــــ : معروضۃ علی العلامہ ش
قــولہ کما حققہ الشارح عن العلامۃ ۱؎
قاسم ۔علامہ شامی ، جیسا کہ علامہ قاسم سے نقل کرتے ہوئے شارح نے اس کی تحقیق کی ہے۔
(۱؎ ردالمحتار،کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۰۲)
اقــول علمت فـــــ ۱ ان لا موافقۃ فیہ لما لدیہ ولا فیہ میل الیہ قولہ ویأتی عن الملتقط ۲؎
معلوم ہوچکا کہ اس میں نہ تو اس خیال کی کوئی ہم نوائی ہے نہ اس کا کوئی میلان ۔ علامہ شامی،اور ملتقط کے حوالے سے آرہا ہے ۔
فــــ ۱: معروضۃ علی العلامہ ش
(۲؎ ردالمحتار ،کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۰۲)
اقول : اولا فـــــ ۲حاصل ما فیہ ان القاضی المجتہد یقضی برأی نفسہ والمقلد برأی المجتہدین ولیس لہ ان یخالفھم واین فیہ ان الذین یفتنونہ ان کانوا من مجتھدی مذھب امامہ فاختلفوا فی الافتاء بقولہ وجب علیہ ان یأخذ بقول الذین خالفوا امامہ وامامھم ان کانوا اکثر اولفظھم اٰکدو انما النزاع فی ھذا۔
اقول اولا: اس کاحاصل صرف یہ ہے کہ قاضی مجتہد خود اپنی رائے پر فیصلہ کر ے گا او ر قاضی مقلد مجتہدین کی رائے پر فیصلہ کرے گا اسے ان کی مخالفت کا حق نہیں۔ اس میں یہ کہاں ہے کہ جو لوگ اس قاضی مقلد کو فتوی دیں گے اگر وہ اس کے امام کے مذہب کے مجتہدین سے ہوں پھر قول امام پر افتا ء میں باہم مختلف ہوں تو اس پر واجب یہ ہے کہ ان لوگوں کا قول لے جو اس کے امام او راپنے امام کے خلاف ہوگئے ہوں بشرطیکہ تعداد میں وہ زیادہ ہوں یا ان کے الفا ظ زیادہ موکد ہوں حالاں کہ نزاع تو اسی بارے میں ہے ۔
فــ۲: معروضۃ علیہ
وثــانیــا المنع فـــــ۱من ان نخالفھم باٰرائنا اذ لارأی لنا ونحن لانخالفہم باٰرائنا بل برأی امامھم وامامنا۔
اگر ہم اپنی رائے لے کر ان کی مخالفت کریں تو اس سے ممانعت ہے کیونکہ ہماری کوئی رائے ہی نہیں لیکن ان کی مخالفت ہم اپنی رائے کے مقابل نہیں کرتے بلکہ ان کے امام اور اپنے امام کی رائے کو لے کر ان کی مخالفت کرتے ہیں۔
فــ۱: معروضۃ علیہ
وقد قال فی الملتقط فـــــ۲ فی تلک العبارۃ فی القاضی المجتھدقضی بما راہ صوابا لا بغیرہ الا ان یکون غیرہ اقوی فی الفقہ و وجوہ الاجتہاد فیجوز ترک رأیہ برأی ۱؎
او ر ملتقط کے اندر تو اسی عبارت میں قاضی مجتہد سے متعلق یہ لکھاہے کہ خود جسے درست سمجھے اس پر فیصلہ کرے دوسرے کی رائے پر نہیں لیکن دوسرا اگر فقہ اور وجوہ اجتہاد میں اس سے زیادہ قوی ہو تو اس کی رائے اختیار کر کے اپنی رائے ترک کردینا جائز ہے ۔ اھ
فــ۲: معروضۃ علیہ
(۱؎ الدرالمختار بحوالہ الملتقط کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲/۷۲)
فاذا جاز للمجتھد ان یترک رأیہ برأی من ھو اقوی منہ مع انہ مأمور باتباع رأیہ ولیس لہ تقلید غیرہ فان ترکنا اٰراء ھؤلاء المفتین ارأ ی امامنا وامامھم الاعظم الذی ھو اقوی من مجموعھم فی الفقہ ووجوہ الاجتہاد بل فضلہ علیھم کفضلھم علینا اوھو اعظم الاولی بالجواز واجدر ۔
جب مجتہد کے لئے اپنے سے اقوی کی رائے کو اختیار کر کے اپنی رائے ترک کرنا جائز ہے حالاں کہ اسے حکم یہ ہے کہ اپنی رائے کا اتباع کرے اور دوسرے کی تقلید اس کے لئے روا نہیں ، تو ہمارے اور ان مفتیوں کے امام اعظم جو فقہ اور وجوہ اجتہاد میں ان حضرات کی مجموعی قوت سے بھی زیادہ قوت رکھتے ہیں بلکہ ان پر امام کو اسی طرح فوقیت ہے جیسے ہم پر ان حضرات کو فوقیت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ تو اگر ہم ان کی رائے اختیار کر کے ان مفتیوں کی رائے ترک کریں تو یہ بدرجہ اولی جائز اور انسب ہوگا ۔
قـولـہ سقط ما بحثہ فی البحر ۱؎۔علامہ شامی :
بحر کی بحث ساقط ہوگئی۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۰۳)