Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
27 - 123
اقول : فـــــ ۱ وھذا وانکان قیلا باطلا مغسولا قد صرح ببطلانہ کبار الائمۃ الناصحین، وصنف فی ابطالہ زبر فی الاولین والاٰخرین، وقد حدثت منہ فتنۃ عظیمۃ فی الدین، من جھۃ الوھابیۃ الغیر المقلدین، واللہ لایصلح عمل المفسدین۔
اقول:  یہ اگر چہ ایک باطل وپامال قول تھا ، بزرگ ، ناصح وخیر خواہ ائمہ نے اس کے بطلان کی تصریح بھی فرمادی ہے اور اس کے ابطال کے لئے اولین و آخرین میں متعد د کتا بیں تصنیف ہوئی ہیں ،ا س کی وجہ سے وہابیہ غیر مقلدین کی جانب سے دین میں عظیم فتنہ بھی پیدا ہوا ہے اور خدا مفسدو ں کا کام نہیں بناتا ۔
فــــ ۱ : مسئلہ : تقلید شخصی واجب ہے اور یہ بات کہ جس مسئلہ میں جس مذہب پرچاہو عمل کرو باطل ہے ، اکابر ائمہ نے اس کے باطل ہونے کی تصریح فرمائی اس کے سبب غیر مقلد وہابیوں کا دین میں ایک بڑا فتنہ پیدا ہوا۔
ولعمری ھؤلاء المبیحون فــــمن العلماء غفراللہ تعالی لنا بھم ان سبرتھم واختبر تھم لوجدت قلوبھم عـــــہ اٰبیۃ عما یقولون، وصنیعھم شاھدا انھم لا یحبونہ ولا یریدون، ولا یجتنبونہ بل یحتنبون، ویقولون فی مسائل ھذہ تعلم وتکتم کیلا یتجاسر الجھال علی ھدم المذھب ثم طول اعمارھم یتمذھبون لامامھم ولایخرجون عن المذھب فی افعالھم واقوالھم ویصرفون العمر فی الانتصار لہ والذب عنہ وھذا فتح القدیر لصاحب التحریر ماصنف الاجد لا وکذلک فی مذھبنا والمذاھب الثلثۃ الباقیۃ دفاتر ضخام فی ھذا المرام فلولا التمذھب لامام بعینہ لازما وکان یسوغ ان یتبع من شاء ماشاء لکان ھذا کلہ اضاعۃ عمر فی فضول واشتعالا بمالا یعنی وقد اجمع علیہ علماء المذاھب الاربعۃ واھلھا ھم الائمۃ بل المناظرۃ فی الفروع وذب کل ذاھب عما ذھب الیہ جاریۃ من لدن الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنھم بدون نکیر فاذن یکون الاجماع العملی علی الاھتمام بمالایعنی واستحسان الاشتغال بالفضول وای شناعۃ اشنع منہ۔
یہ جائز کہنے والے علماء خدائے تعالی ان کے سبب ہماری مغفرت فرمائے ، بخدا اگر ان کو جانچا اور آزما یا جائے تو ان کے قلوب ان کے قول سے منکر ، اور ان کے اعمال اس پر شاہد ملیں گے کہ وہ اسے نہ پسند کرتے ہیں نہ اس کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ اسے اچھا نہیں جانتے بلکہ اس سے کنارہ کش رہتے ہیں ، بس بحث کے طور پر اسے لکھ گئے اور بحث ہی تک بات رہ گئی اعتقاد وعمل کوئی اس کا ہم نوا نہ ہوا بہت سے مسائل میں خود کہتے ہیں کہ یہ بس جاننے کے قابل ہیں بتانے کے لائق نہیں کہیں جاہلوں میں مذہب کے گرانے کی جرات نہ پید اہو ، پھر یہ زندگی بھر اپنے ایک امام کے مذہب پر رہ گئے اور افعال و اقوال میں سبھی مذہب سے باہر نہ ہوئے ۔ اسی کی تائید اور اسی کے دفاع میں عمر یں صر ف کردیں ۔ یہ صاحب تحریر کی فتح القدیر ہی کو دیکھ لیجئے صرف مناظرہ کے طور پر لکھی گئی ہے ، اسی طر ح ہمارے مسلک میں اور باقی تینوں مذاہب میں اس مقصد کے تحت بڑے بڑے دفتر تصنیف ہوئے ۔ اگر ایک امام معین کے مذہب کی پابندی لازم نہ ہوتی اور یہ روا ہوتا کہ جو  چاہے جس کی چاہے پیروی کرے یہ سب ایک لایعنی کارروائی اور فضول چیز میں عمر عزیز کی بربادی ہوتی حالانکہ یہ اس کام پر مذاہب اربع  کے علماء اورمذاہب کے ماننے والے ان ہی ائمہ کا اتفاق ہے بلکہ فروع میں مناظرہ اور اپنے اپنے مذہب کی حمایت تو زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ہی بلانکیر جاری ہے مذہب کی پابندی کوئی چیز نہ ہو تو لازم آئے گا کہ ایک لایعنی کام کے اھتمام اور فضول قسم کی مشغولیت کو اچھا سمجھنے پر اس وقت سے اب تک کے ائمہ و علماء کا عملی اجماع قائم رہا ، اس سے بدتر کون سی شناعت ہوگی ؟
فــــ ۱ : ترجمہ فائدہ جلیلہ :بعض علما بحث کی جگہ لکھ تو گئے ہیں کہ آدمی جس قول پر چاہے عمل کرے مگر یہ بحث ہی تک کہنے کی بات ہے ، دل ان کے بھی اسے پسند نہیں کرتے بلکہ برا جانتے ہیں جابجا جس کسی مسئلہ میں بے قیدی عوام کا اندیشہ سمجھتے ہیں صاف فرمادیتے ہیں کہ اسے عوام پرظاہر نہ کیا جائے کہ وہ مذہب کے گرانے پر جرأت نہ کریں پھر یہی علماء اپنے کو حنفی شافعی مالکی اورحنبلی کہلاتے رہےکبھی مذہب سے بے قیدی نہ برتی ، عمریں اپنے اپنے مذہب کی تائید میں صر ف کیں اور اس میں بڑے بڑے دفتر تصنیف ہوئے اور تمام علماء امت نے اس پر اجماع کیا بلکہ اپنے اپنے مذہب کی تائید میں مناظر ہ تو زمانہ صحابہ کرام سے چلا آتا ہے ، اگر مذہب کوئی چیز نہ ہوتا اور آدمی کو عمل کے لئے سب برابرہوتے تو یہ سب کچھ مناظر ے اور ہزار ہا کتا بیں اور ائمہ واکابر کی عمر وں کی کارروائیاں سب لغو و فضول میں وقت وعمر و مال بر باد کرنا ہوتا اس سے بد تر کون سی شناعت ہے ۔
عـــــہ : اقول والوجہ فیہ ان للشیئ حکما فی نفسہ مع قطع النظر عن الخارج وحکما بالنظر الی ما یعرضہ عن خارج فالاول ھو البحث والثانی علیہ العمل عن المفاسد وان لم یکن انبعاثھا عن نفس ذات الشیئ کمالا یخفی اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

عـــــہ :اقول اس کا سبب یہ ہے کہ کسی شے کاایک حکم تو اس کی نفس ذات کے اعتبار سے ہوتا ہے جس میں خارج سے قطع نظرہوتی ہے ، اور ایک حکم ان با توں کے سبب ہوتا ہے جو خارج سے پیش آتی ہیں ، تو ان علماء نے جوبحث میں فرمایا وہ پہلا حکم ہے اور جس پر عمل رکھا وہ دوسرا کہ مفسدوں سے بچنا واجب ہے اگرچہ وہ شے کی نفس ذات سے پیدا نہ ہوں ۔ جیسا کہ مخفی نہیں، اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔
لکن سَل فـــــ۱ السید اذالم یجب التقید بالمذھب وجاز الخروج عنہ بالکلیۃ فمن ذا الذی اوجب اتباع مرجحین فی مذھب معین رجحوا احد قولین فیہ ھذا اذا اتفقوا فکیف فـــــ۲ وقد اختلفو اوفی احد الجانبین الامام الاعظم المجتھد المطلق الذی لم یلحقوا غبارہ ولم یبلغ مجموعھم عشر فضلہ ولا معشارہ ھل ھذا الا جمعا بین الضب والنون (عہ۱) اذ حاصلہ ان الامام واصحابہ واصحاب الترجیح: فی مذھبہ اذا اجمعوا کلھم اجمعون علی قول لم یجب علی المقلدین الاخذ بہ بل یأخذون بہ او بما تھوی انفسھم من قیلات خارجۃ عن المذھب لکن اذا قال الامام قولا وخالفہ صاحباہ ورجح مرجحون کلا من القولین وکالترجیح فی جانب الصاحبین اکثر ذاھبا او اٰکد لفظا فح یجب تقلید ھؤلاء ویمتنع تقلید الامام ومن معہ بل فـــــ ۳ ان اجمع الامام وصاحباہ علی شیئ ورجع ناس من ھؤلاء المتأخرین قیلا مخالفا لا جماعھم، وجب ترک تقلید الائمۃ الی تقلید ھؤلاء واتباعھم، ھذا ھوالباطل المبین، لادلیل علیہ اصل من الشرع المتین، والحمد للہ رب العالمین،
لیکن علامہ شامی فـــــ ۱ سے سوال ہوسکتا ہے کہ جب مذہب کی پابندی ضروری نہیں اور اس سے بالکلیہ باہر آنا روا ہے تو کسی معین مذہب کے حضرات مرجحین جنہوں نے اس مذہب کے دو قولوں میں سے ایک کوترجیح دی ، ان کی پیروی کیسے ضروری ہوگئی ؟یہ کلام تو ان حضرات کے متفق ہونے کی صورت میں ہے۔پھر اس صورت کا کیا حال ہوگا جب یہ باہم مختلف ہوں اورایک طرف مجتہد مطلق امام اعظم بھی ہوں یہ جن کی گرد پا کو بھی نہ پاسکے اور ان سب حضرات کا مجموعی کمال بھی ان کے فضل وکمال کے دسویں حصے کو نہ پہنچ سکا۔ یہ ضب اور نون کو جمع کرنے کے سوا کیا ہے ؟ اس لئے کہ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ حضرت امام، ان کے اصحاب او ران کے مذہب کے اصحاب تر جیح سب کے سب متفقہ طور پر جب کسی قول پر اجماع کرلیں تو مقلدین کے ذمہ اسے لیناضروی نہیں بلکہ انہیں اختیار ہے اسے لے لیں، یا اپنی خواہشات نفس کے مطابق مذہب سے خارج اقوال کو لے لیں، لیکن جب امام کوئی قول ارشاد فرمائیں ، اور ان کے صاحبین ان کے خلاف کہیں پھر دو نوں قولوں میں سے ہر ایک کو کچھ مرجحین ترجیح دیں او رصاحبین کی جانب ترجیح دینے والوں کی تعداد زیادہ ہو یا اس طر ف ترجیح کے الفاظ زیادہ موکد ہوں توایسی صورت میں ان مرجحین کی تقلید واجب  ہوجائے اور امام اور ان کے موافق حضرات کی تقلیدناجائز ہوجائے ، بلکہ اگر امام اور صاحبین کا کسی بات پراجماع ہو اور ان متا خرین میں سے کچھ افراد ان کے اجماع کے مخالف کسی قول کو ترجیح دے دیں توان ائمہ کی تقلید چھوڑ کر ان افراد کی تقلید اور پیروی واجب ہوجائے ، یہی وہ کھلا ہوا باطل خیال ہے جس پر شرع متین سے ہر گز کوئی دلیل نہیں، والحمد للہ رب العالمین۔
فـــ ۱ : معروضۃعلی العلامـۃ ش  فــــ۲ : معروضۃ علیہ فــــ۳ : معروضۃ علیہ

(عہ۱)ضب : گوہ ، جو جنگلی جانور ہے اور نون : مچھلی ، جو دریائی جانور ہے ۔ دونوں میں کیا جوڑ ، ایک عربی مثل سے ماخوذ ہے ۱۲ ،
بہ ظھر ان قول البحر وان کان مبنیا علی ذلک الحق المنصور المعتمد المختار، المأخوذ بہ قولا عند الائمۃ الکبار، وفعلا عندھم وعند ھؤلاء المناز عین الاخیار، لکن (۱) مازعم السید لایبتغی علیہ ولا علی مازعم انہ المختار، بل یخالفھما جمیعا بالاعلان والجھار، والحجۃ للہ العزیز الغفار، والصّلٰوۃ والسلام علی سید الابرار، واٰلہ الاطھار، وصحبہ الکبار، وعلینا معھم فی دارالقرار، آمین 

قولہ قول السراجیۃ صریح ان المجتھد یتبع ماکان اقوی الاتبع الترتیب فنتبع مارجحوہ ۱؎۔
اسی سے ظاہر ہوا کہ بحر کا کلام تواس قول حق پر مبنی تھا جو منصور ، معتمد ، مختار ہے ، جسے قولا تمام ائمہ کبار نے لیا اور عملا ان کے ساتھ ان بزرگ مخالفین نے بھی لیا لیکن علامہ شامی کے خیال کی بنیاد نہ اس مختار پر قائم ہے نہ اس پر جس کو بزعم خویش مختار سمجھابلکہ وہ علانیہ و عیاں طور پردونوں ہی کے خلاف ہے اور حجت خدائے عزیز وغفار ہی کی ہے او ردرود و سلام ہو سید ابرار ، ان کی آل اطہار ،اصحاب کرام پر اوران کے ساتھ ہم پر بھی دار القرار میں الہی قبول فرما!

علامہ شامی سراجیہ کی عبارت اس بارے میں صریح ہے کہ مجتہد اس کی پیروی کرے گا جو زیادہ قوی ہو ، ورنہ ترتیب سابق کا اتباع کرے گا ، تو ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی۔
 (۱؎ ردالمحتار     مطلب رسم المفتی     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۸)
Flag Counter