Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
26 - 123
وثالثا فیہ فــــــــــ ۳ ذھول عن محل النزاع کما علمت تحریرہ بل فوق ذلک لان فـــــــ۴ــ ماخالف فیہ صاحباہ ینقسم الاٰن الی ستۃ اقسام اما یتفق المرجحون علی ترجیح قولہ او قولھما او یکون ارجح الترجحین لکثرۃ المرجحین او قوۃ لفظ الترجیح لہ اولھما او یتساویان فیہ او فی عدمہ ولا یستا ھل لخلاف السید الاالرابع ان یکون ارجح الترجحین لھما فاذن ھو عاشر عشرۃ (عہ۱) وقد تعدیٰ الی ماھوا عم من المقسم ایضا وھو اتباع الترجیح سواء خالفہ صاحباہ او احدھما اولا احد۔
ثالثا: محل نزاع جس کی پوری وضاحت آپ کے سامنے گزری یہاں اس سے بھی ذہول ہے بلکہ اور بھی زیادہ ہے اس لئے کہ (محل نزاع صرف وہ صورت ہے ) جس میں صاحبین باہم ایک قول پر متفق ہونے کے ساتھ امام کے مخالف ہوں اب اس کی چھ قسمیں ہوں گی ،(۱) مرجحین قول امام کی ترجیح پر متفق ہوں(۲) یا قول صاحبین کی ترجیح پر( گزرچکا کہ یہ صورت نہ کبھی ہوئی نہ ہوگی )(۳) مرجحین کی کثرت یالفظ ترجیح کی قوت کے با عث دو نوں ترجیحوں سے ارجح ، قول امام کے حق میں ہو (۴) یا قول صاحبین کے حق میں ہو(۵) دو نوں قول تر جیح میں برابر ہو ں (۶) یا عدم ترجیح میں برابر ہوں، ان میں سے علامہ شامی کے اختلاف کے قابل صرف چوتھی قسم ہے وہ یہ کہ دونوں ترجیحوں میں سے ارجح، قول صاحبین کے حق میں ہو مگر اب یہ دس قسموں میں سے دسویں قسم بن جاتی ہے ، او ر اس حد تک تعدی ہوجاتی ہے جو مقسم سے بھی اعم ہے وہ یہ کہ بہر حال ترجیح کی پیروی ہوگی خواہ مخالف امام دونوں حضرات ہوں یا ایک ہی ہوں ، یا کوئی بھی مخالف نہ ہو۔
فــــ ۳: معروضۃ علیہ  فــــ ۴: معروضۃ علیہ

 (عہ۱) وہ اس طرح کہ امام کے مخالف صاحبین ہیں یا ایک یا کوئی نہیں (۱۔۔۔۲) اور ترجیح یا عدم ترجیح میں سب برابر ہیں (۳) اتفاق قول امام کی ترجیح پر ہے (۴) قول صاحبین پر (۵) ایک صاحب کے قول پر (۶) اس پر جو کسی کا قول نہیں (۴۔۔۔۶) کبھی واقع ہوئیں  نہ ہونگی (۷) ارجح ترجیحات قول امام کے حق میں ہے ۔ (۸) قول صاحبین کے حق میں (۹) ایک صاحب کے حق میں (۱۰) اس کے حق میں جو کسی کا قول نہیں ۔ محمد احمد مصباحی
و رابعا:  ان کان لہذا القول المحدث اثر فی الزبر کان قول التقلید بتقلید الامام مرجحا علیہ و واجب الاتباع بوجوہ ،
رابعا: بالفر ض اس نوپیدا قول کا کتا بوں میں کوئی نام ونشان ہو جب بھی تقلید امام کی پابندی والا قول اس پر ترجیح یا فتہ اور واجب الاتباع ہوگا ۔ اس کی چند وجہیں ہیں ۔
الاوّل فـــــــ ۱انـہ قول صاحب الامام الاعظم بحر العلم امام الفقھاء والمحدثین والاولیاء سیدنا عبداللہ بن المبارک رضی اللہ تعالی عنہ ونفعنا ببرکاتہ العظیمۃ فی الدین والدنیا والاٰخرہ فقد فــــــ ۲ قال فی الحاوی القدسی ونقلتموہ انتم فی شرح العقود متی لم یوجد فی المسألۃ عن ابی حنیفۃ روایۃ یؤخذ بظاھر قول ابی یوسف ثم بظاھر قول محمد ثم بظاھر قول زفر والحسن وغیرھم الاکبر فالاکبر الی اخر من کان من کبار الاصحاب ۱؎ اھ
وجہ اول : یہ امام اعظم کے شاگرد ، بحر علم فقہا ، محدثین اور اولیا کے امام سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے ، خدا ہمیں دین ،دنیا او رآخرت میں ان کی عظیم بر کتو ں سے فائدہ پہنچا ئے ، حاوی قدسی میں ہے : اور آپ نے شرح عقود میں اسے نقل بھی فرمایا ہے کہ جب مسئلہ میں امام ابو حنیفہ سے کوئی روایت نہ ملے تو ظاہر قول امام ابو یوسف ، پھر ظاہر قول امام محمد ، پھر ظاہر قول امام زفر و حسن وغیرہم لیا جائے گا ( ظاہر سے مراد وہ جو ظاہر الروایہ میں ہو جیسا کہ حاشیہ مصنف میں گزرا ۱۲ م) بزرگ تر پھر بزرگ تر ، یوں ہی کبار اصحاب کے آخری فرد تک ۔)
فــــ ۱: معروضۃ علیہ

فــــ ۲: مــسئلہ : جب کسی مسئلہ میں امام کا قول نہ ملے امام ابو یوسف کے قول پر عمل ہو، ان کے بعدامام محمد ، پھر امام زفر ، پھر امام حسن بن زیاد وغیرہم مثل امام عبداللہ بن مبارک و امام اسد بن عمرو و امام زاہد و لیث بن سعد و امام عارف داؤد طائی وغیرہم اکابر اصحاب امام رضی اللہ تعالی عنہ کے اقوال پرعمل  ہو ۔
 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور       ۱ /۲۶)
الثانی فــــــ۳ علیہ الجمھور والعمل بما علیہ فــــــ ۴ الاکثر کما صرحتم بہ فی ردالمحتار والعقود الدریۃ واکثرنا النصوص علیہ فی فتاوٰنا وفی فصل القضاء فی رسم الافتاء ۔
وجہ دوم : اسی پر جمہور ہیں ، او رعمل اسی پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں ، جیسا کہ آپ نے خود رد المحتار اور العقود الدریہ میں اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اس پر اپنے فتاوی اور فصل القضا ء فی رسم الافتا ء میں بکثر ت نصوص جمع کردئے ہیں۔
فــــ ۳: معروضۃ علیہ  فــــ ۴:العمل بما فیہ الاکثر
 (۱؎ رد المحتار باب المیاہ فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۵۱)
الـثالث فـــــ ھوالذی تواردت علیہ التصحیحات واتفقت علیہ الترجیحات فان وجب اتباعھا وجب القول بوجوب تقلید الامام وان خالفہ مطلقا وان لم یجب سقط البحث رأسا فانما کان النزاع فی وجوب اتباع الترجیحات فظھر ان نفس النزاع یھدم النزاع و ای شیئ اعجب منہ۔
وجہ سوم : یہی وہ قول ہے جس پر تصحیحات کا توارد اور ترجیحات کا اتفاق ہے ، تو اگر ترجیحات کااتباع واجب ہے ، تو اس کا قائل ہو نا بھی واجب کہ امام کی تقلید ضروری ہے اگر چہ صاحبین مطلقا ان کے مخالف ہوں ۔ او ر اگراتباع تر جیحات واجب نہیں توسرے سے بحث ہی ساقط ہوگئی، کیونکہ یہ سارا اختلاف ، تر جیحات کا اتباع واجب ہونے ہی کے بارے میں تھا ، اس سے ظاہر ہوا کہ خود نزاع ہی نزاع کو ختم کر دیتا ہے ۔اس سے زیادہ عجیب بات کیا ہوگی ؟
فــــ: معروضۃ علیہ
وخـامسا السید المحقق من الذین زعموا ان العامی لامذھب لہ وان لہ ان یقلد من شاء فیما شاء وقد قال فی قضاء المنحۃ فی نفس ھذا المبحث نعم ما ذکرہ المؤلف یظھر بناء علی القول بان من التزم مذھب الامام لایحل لہ تقلید غیرہ فی غیرما عمل بہ وقد علمت ما قدمناہ عن التحریر انہ خلاف المختار ۱؎ اھ۔
خامسا، سید محقق ان لوگو ں میں سے ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ عامی کا کوئی مذہب نہیں او روہ جس بات میں چاہے جس کی چاہے تقلید کرسکتا ہے ۔ منحۃ الخالق کی کتاب القضاء میں خود اسی بحث کے تحت لکھتے ہیں ، ہاں مولف نے جو ذکر کیا ہے اس قول کی بنیاد پر ظاہر ہے کہ جس نے مذہب امام کا التزام کرلیا اس کے لئے دو سرے کی تقلید جن باتوں پر وہ عمل کر چکا ہے ان کے علاوہ میں بھی جائز نہیں ، اور تمہیں معلوم ہے کہ تحریر کے حوالے سے ہم لکھ آئے ہیں کہ یہ قول مختار کے بر خلاف ہے۔
 (۱؎ منحۃ الخالق علیٰ بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)
Flag Counter