| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
وفــیــہ (۴۵) من ھبۃ المشاع حیث علمت انہ ظاھر الروایۃ ونص علیہ محمد و رووہ عن ابی حنیفۃ ظھر انہ الذی علیہ العمل وان صرح بان المفتی بہ خلافہ ۳؎ اھ
اسی (رد المحتار ) میں ہبہ مشاع کے بیان میں ہے جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہی ظاہر الروایہ ہے، اسی پر امام محمد کا نص ہے او راسی کو ان حضرات نے امام ابو حنیفہ سے روایت کیا ہے توظاہر ہوگیا کہ عمل اسی پر ہوگا اگر چہ یہ صراحت کی گئی ہو کہ مفتی بہ اس کے خلاف ہے ۔
(۳؎ ردالمحتار کتاب الہبہ مطبع دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۱۱)
ھـذہ نصوص العلماء رحمھم اللہ تعالی و رحمنابھم وھی کما تری کلھا موافقۃ لما فی البحر ولم یتعقبہ فیما علمت الا عالمان متأخران کل منھما عاب واٰب وانکر و اقرو فارق و رافق وخالف و وافق وھما العلامۃ خیر الرملی والسید الشامی رحمھما اللہ تعالی ولا عبرۃ بقولٍ مضطرب وقد علمت ان لا نزاع فی سبع صور انما ورد خلاف ضعیف فی الثامن وھی ما اذا خالفہ صاحباہ متوافقین علی قول واحد ولم یتفق المرجحون علی ترجیح شیئ منھما فعند ذاک جاء قیل ضعیف مجہول القائل بل مشکوک الثبوت" ان المقلد یتبع ماشاء منھما" والصحیح المشہور المعتمد المنصور انہ لایتبع الاقول الامام والقولان کما تری مطلقان مرسلا ن لانظر فی شیئ منھما لترجیح او عدمہ۔
یہ ہیں علماء کے نصوص اور ان کی تصریحات اللہ تعالی ان پر رحمت نازل فرمائے اور ان کے طفیل ہم پر بھی رحمت فرمائے ۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ تمام نصوص کلام بحر کے موافق ہیں او رمیرے علم میں کسی نے بھی اس پر کوئی تعاقب نہ کیا سوا دو متا خر عالموں کے ، دونوں حضرات میں سے ہر ایک نے عیب بھی لگایا اور رجوع بھی کیا ، انکار بھی کیا اوراقرار بھی ، مفارقت بھی کی اور مرافقت بھی مخالفت بھی اور موافقت بھی یہ ہیں علامہ خیر الدین رملی اور سید امین الدین شامی رحمہما اللہ تعالی ، اور کسی مضطرب کلام کا یوں ہی کوئی اعتبار نہیں۔ یہ بھی معلوم ہوچکا کہ اس مسئلہ کی سات صورتوں میں کوئی نزاع نہیں ، ایک ضعیف اختلاف صرف آٹھویں صورت میں آیا ہے ۔ وہ صورت یہ ہے کہ صاحبین باہم ایک قول پر متفق ہوتے ہوئے امام کے خلاف ہوں او رمرجحین دونوں قولوں میں سے کسی کی ترجیح پر متفق نہ ہوں ، بس اسی صورت میں ایک ضعیف قول آیا ہے جس کے قائل کا پتا نہیں ، بلکہ اس کے وجود میں بھی شبہ ہے ، وہ قول یہ ہے کہ مقلد دونوں میں سے جس کی چاہے پیرو ی کرے ، صحیح مشہور معتمد منصور قول یہ ہے کہ مقلد قول امام کے سوا کسی کی پیروی نہ کرے ، یہ دونوں قول جیسا کہ آپ کے سامنے ہے ، مطلق اور ہر طر ح کی قید سے آزاد ہیں ۔ کسی میں ترجیح یا عدم ترجیح کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا ہے (ضعیف میں مطلقا اختیار دیا گیا ہے اور صحیح میں مطلقا پابند امام رکھاگیا ہے )
لکـن المحقق الشامی اختار لنفسہ مسلکا جدیدا لا اعلم لہ فیہ سندا سدیدا و ھو ان المقلد لالہ التخییر ولا علیہ التقیید بتقلید الامام بل علیہ ان یتبع المرجحین۔ قال فی صدر ردالمحتار قول السراجیۃ الاول اصح اذا لم یکن المفتی مجتھدا فھو صریح فی ان المجتھد یعنی من کان اھلاً للنظر فی الدلیل یتبع من الاقوال ماکان اقوی دلیلا والا اتبع الترتیب السابق وعن ھذا ترٰھم قدیرجحون قول بعض اصحابہ علی قولہ کما رجحوا قول زفر وحدہ فی سبع عشرۃ مسألۃ فنتبع مارجحوہ لانھم اھل النظر فی الدلیل ۱؎ اھ
لیکن محقق شامی نے اپنے لئے ایک نیا مسلک اختیار کیاہے جس کی کوئی صحیح سند میرے علم میں نہیں وہ مسلک یہ ہے کہ مقلد کو نہ اختیار ہے نہ تقلید امام کی پابندی بلکہ اس پر یہ ہے کہ مرجحین کی پیروی کرے رد المحتار کے شر وع میں لکھتے ہیں سراجیہ کی عبارت '' اول اصح ہے جب کہ وہ صاحب اجتہادنہ ہو '' ، اس بارے میں صریح ہے کہ مجتہد یعنی وہ جو دلیل میں نظر کا اہل ہو ، اس قول کی پیروی کرے گا جس کی دلیل زیادہ قوی ہو ورنہ ترتیب سابق کا اتباع کرے گا ۔ اسی لئے دیکھتے ہو کہ مرجحین بعض اوقات امام صاحب کے کسی شاگر د کے قول کو ان کے قول پر ترجیح دیتے ہیں جیسے سترہ مسائل میں تنہا امام زفر کے قول کو ترجیح دی ہے تو ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے تر جیح دے دی کیوں کہ وہ دلیل میں نظر کے اہل تھے ۔ اھ
(۱؎ ردالمحتار مطلب رسم المفتی دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۸)
وقال فی قضائہ لا یجوز لہ مخالفۃ الترتیب المذکور الا اذا کان لہ ملکۃ یقتدر بھا علی الاطلاع علی قوۃ المدرک وبھذا رجع القول الاول الی ما فی الحاوی من ان العبرۃ فی المفتی المجتھد لقوۃ المدرک نعم فیہ زیادۃ تفصیل سکت عنہ الحاوی فقد اتفق القولان علی ان الاصح ھو ان المجتھد فی المذھب من المشائخ الذین ھم اصحاب الترجیح لایلزمہ الاخذ بقول الامام علی الاطلاق بل علیہ النظر فی الدلیل وترجیح مارجح عندہ دلیلہ ونحن نتبع ما رجحوہ واعتمدوہ کمالو افتوا فی حیاتھم کما حققہ الشارح فی اول الکتاب نقلا عن العلامۃ قاسم ویأتی قریبا عن الملتقط انہ ان لم یکن مجتھدا فعلیہ تقلیدھم واتباع رأیھم فاذا قضی بخلافہ لا ینفذ حکمہ وفی فتاوٰی ابن الشلبی لایعدل عن قول الامام الا اذا صرح احد من المشائخ بان الفتوی علی قول غیرہ وبھذا سقط ما بحثہ فی البحر من ان علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ ۱؎ اھ
اور رد المحتار کتاب القضاء میں لکھا : اس کے لئے تر تیب مذکور کی مخالفت جائز نہیں مگر جب کہ اسے ایسا ملکہ ہو جس سے قوت دلیل پروہ آگا ہ ہونے کی قدرت رکھتا ہے ، اسی سے پہلے قول کامال وہی ٹھہرا جو حاوی میں ہے کہ صاحب اجتہاد مفتی کے حق میں قوت دلیل کا اعتبار ہے۔ ہاں اس میں کچھ مزید تفصیل ہے جس سے حاوی نے سکوت اختیار کیا ۔ تو دونوں قول اس پر متفق ہوگئے کہ اصحاب تر جیح مشائخ میں سے مجتہد فی المذہب پر مطلقا قول امام لینا ضروری نہیں بلکہ اس کے ذمہ یہ ہے کہ دلیل میں نظرکرے اور جس قول کی دلیل اس کے نزدیک راجح ہو اس سے ترجیح دے ، اور ہمیں اس کی پیروی کرنا ہے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی اور جس پر اعتماد کیا جیسے وہ اگر اپنی حیات میں کہیں فتوے دیتے تو یہی ہوتا جیسا کہ شروع کتاب میں علامہ قاسم سے نقل کرتے ہوئے شارح نے اس کی تحقیق کی ہے ، او رآگے ملتقط کے حوالے سے آرہا ہے کہ اگر قاضی صاحب اجتہاد نہ ہو تو اسے مرجحین کی تقلید اور ان کی رائے کا اتباع کرنا ہے اس کے خلاف فیصلہ کردے تو نافذ نہ ہوگا ، اورفتا وی ابن الشلبی میں ہے کہ قول امام سے عدول نہ ہوگا مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ تصریح کردی ہو کہ فتوی کسی اور کے قول پر ہے ، اسی سے بحر کی یہ بحث ساقط ہوجاتی ہے کہ ہمیں قول امام پر ہی فتوی دینا ہے اگر چہ مشائخ نے اس کے خلاف فتو ی دیاہو۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق داراحیاء التراث بیروت ۴ /۳۰۲و ۳۰۳)
اقول اولا فـــــــــ ۱ ھذا کما تری قول مستحدث ۔ اقول اولا :
یہ جیسا آپ دیکھ رہے ہیں ایک نیا قول ہے ۔
فــــ ۱: معروضۃ علی العلامۃ ش
وثانیا فــــــــــــ۲ زاد احداثا باتباع الترجیح المخالف لاجماع ائمتنا الثلثۃ رضی اللہ تعالی عنھم وقد سمعت صرائح النصوص علی خلافہ نعم نتبع القول الضروری حیث کان وجد مع ترجیح او لابل ولو وجد الترجیح بخلافہ کما علمت فلیس الاتباع فیہ للترجیح بل لقول الامام۔
ثانیا : مزید نئی بات یہ بڑھائی کہ اس ترجیح کا بھی اتباع کرنا ہے جو ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کے اجماع کے بر خلاف ہو ، حالاں کہ صریح نصوص اس کے خلاف ہیں،جیسا کہ ملاحظہ کر چکے، ہاں قول ضروری کا ہم اتباع کریں گے جہاں امام کا قول ضروری ہو، خواہ اس کے ساتھ تر جیح ہویا نہ ہو ، بلکہ ترجیح اس کے بر خلاف ہو جب بھی ، جیسا کہ معلوم ہوا تو اس میں ترجیح کی پیر وی نہیں بلکہ قول امام کی ہے ۔
فــــ ۲: معروضۃ علیہ