وفی ط منھا قد تعقب نوح افندی (۲۸) ماذکر فی الدررمن ان الفتوی علی قولھما (ای فی الشفق) بانہ لایجوز فـــ ۱ الاعتماد علیہ لانہ لایرجع قولہما علی قولہ الالموجب من ضعف دلیل او ضرورۃ او تعامل اواختلاف زمان ۱؎ اھ
طحطاوی اوقات الصلاۃ میں یہ بھی ہے : در ر میں جو ذکر کیا ہے کہ شفق کے بارے میں فتوی قول صاحبین پر ہے ،کہ اس پر علامہ نوح آفندی نے یہ تعاقب کیا ہے کہ : اس پر اعتماد جائز نہیں اس لئے کہ قول امام پر قول صاحبین کو تر جیح نہیں دی جاسکتی مگر ضعف دلیل ، یا ضروت ، یا تعامل ، یا اختلاف زمان جیسے کسی موجب کے سبب ۔ اھ
ف : ۱؎ مسئلہ: دربارہ وقت عشا جو قول صاحبین پر بعض نے فتوی دیا علامہ نوح نے فرمایا اس پر اعتماد جائز نہیں
(۱؎ حاشیہ طحطاوی علی الدر المحتار بحوالہ التجنیس کتاب الصلوۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۱۷۵)
ومــر ردالمحقق حیث اطلق علی المشائخ فتوٰھم بقولھما فی مواضع من کتابہ وانہ قال لا یعدل عن قولہ الا لضعف دلیلہ ۲؎ اھ
یہ گزر چکا کہ محقق علی الاطلاق نے قول صاحبین پر افتا کے با عث مشائخ پر اپنی کتاب کے متعد د مقامات پر ردکیا ہے اور انہوں نے فرمایا کہ قول امام سے عدول نہ ہوگا سو ااس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزورہو ۔ اھ
(۲؎ شرح عقو د رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۲۴)
وقــد نقلہ (۳۰) ش واقرہ کالبحر (۳۱) اقول ولم یستثن ما سواہ لما علمت ان ذلک عین العمل بقول الامام لاعدول عنہ فمن فـــ ۲ استثناھا کالخانیۃ والتصحیح وجامع الفصولین والبحر والخیر ورفع الغشاء ونوح وغیرھم نظر الی الصورۃ ومن ترک نظر الی المعنی فان استثنی ضعف الدلیل کالمحقق فنظرہ الی المجتھد وان لم یستثن شیئا کالامام صاحب الھدایۃ والامام الاقدم عبداللہ بن المبارک فقولہ ماش علی ارسالہ فی حق المقلد ۔
اسے علامہ شامی نے بھی بحر کی طرح نقل کیا ہے اور بر قرار رکھا ہے ۔ محقق علی الاطلاق نے ضعف دلیل کی صورت کے علاوہ او رکسی صورت کا استثنا نہ کیا اس کی وجہ معلوم ہوچکی ہے اور صورتوں میں در اصل بعینہ قول امام پر عمل ہے جس سے عدو ل نہیں ہوسکتا تو جن حضرات نے استثنا کیا ہے جیسے خانیہ ، تصحیح ، جامع الفصولین ، بحر ، خیر ، رفع الغشاء ، علامہ نوح وغیرہم ۔ انہوں نے ظاہر صورت پر نظر کی ہے۔ اور جنہوں نے استثنا ء نہیں کیا انہوں نے معنی کا لحاظ کیا ہے ۔ پھر اگر ضعف دلیل کا استثنا کردیا ۔ جیسے محقق علی الاطلاق نے اس میں مجتہد کا اعتبار کیا ہے ۔ اور اگر کچھ بھی استثنا نہ کیا جیسے امام صاحب ہدایہ اور امام اقدم عبداللہ بن مبارک تو یہ مقلد کے حق میں حکم اطلاق پر جاری ہے ۔
ف۲؎ توفیق نفیس من المصنف بین عبارات الائمۃ فی تقدیم قول الامام المختلفۃظاھرا۔
فظھر وللہ الحمد ان الکل انما یرمون عن قوس واحدۃ ویرومون جمیعا ان المقلد لیس لہ الااتباع الامام فی قولہ الصوری ان لم یخالفہ قولہ الضروری والاففی الضروری وفی شرح (۳۲) العقود رأیت فی بعض (۳۳) کتب المتأخرین نقلا عن (۳۴) ایضاح الاستدلال علے ابطال الا ستبدال لقاضی القضاۃ شمس الدّین الحریری احد شراح الھدایۃ ان صدر الدین (۳۵) سلیمن قال ان ھذہ الفتاوی ھی اختیارات المشائخ فلا تعارض کتب المذھب قال وکذا (۳۶) کان یقول غیرہ من مشائخنا وبہ اقول۱؎ اھ وتقدم قول الخیر (۳۷) ثم ش (۳۸) المقرر عندنا انہ لایفتی ولا یعمل الا بقول الامام الاعظم الا لضرورۃ وان صرح المشائخ ان الفتوی علی قولھما۲؎ اھ
بحمد ہ تعالی اس تفصیل وتطبیق سے روشن ہوا کہ سبھی حضرات ایک ہی کمان سے نشانہ لگا رہے ہیں اور سب کا یہ مقصود ہے کہ مقلد کے لئے صرف اتباع امام کاحکم ہے یہ اتباع اما م کے قول صوری کا ہوگا اگر قول ضروری اس کے خلاف نہ ہو ، ورنہ قول ضروری کا اتباع ہوگا ۔ (۳۲۔۔۔۔۔۳۶) شرح عقود میں ہے میں نے بعض کتب متاخرین میں قاضی القضاۃ شمس الدین حریری شارح ہدایہ کی کتاب
'' ایضاح الاستدلال علی ابطال الاستبدال ''
سے منقول یہ دیکھا کہ صد رالدین سلیمان نے فرمایا ان فتا وی کی حیثیت یہی ہے کہ یہ مشائخ کی تر جیحات اور ان کے اختیار کر دہ اقوال واحکام ہیں تو یہ کتب مذہب کے مقابل نہیں ہوسکتے ''فرماتے ہیں کہ یہی بات ہمارے دو سرے شیوخ بھی فرماتے اور میں بھی اسی کا قائل ہوں ۔ خیر یہ پھر شامی کاکلام گزرچکا کہ ہمارے نزدیک مقر ر اور طے شدہ یہی ہے کہ صورت ضرورت کے سوا فتوی او رعمل امام اعظم ہی کے قول پر ہوگا ۔ اگرچہ مشائخ تصریح فرمائیں کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے ۔ اھ
(۱؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۳۶)
(۲؎ ردالمحتار مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ /۴۹
الفتاوی الخیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۳۳)
وایضا قول (۳۹) البحر ثم ش (۴۰) یجب الافتاء بقول الامام وان لم یعلم من این قال ۳؎ اھ
بحر پھر شامی کا یہ کلام بھی گز رچکا کہ قول امام پر ہی افتا واجب ہے اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ ان کا ماخذاور دلیل کیا ہے۔ اھ
(۳؎ البحر الرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹)
(ردالمحتار اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۹)
وفــی ردالمحتار (۴۱) قد قال فی البحر (۴۲) لایعدل عن قول الامام الی قولھما او قول احدھما الالضرورۃ من ضعف دلیل او تعامل بخلافہ کالمزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما ۴؎ اھ وھکذا اقرہ (۴۳) فی منحۃ الخالق ۔
رد المحتار میں بحر سے نقل ہے قول امام سے قول صاحبین کی جانب ضعف دلیل یا قول امام کے خلاف صورت مزارعت جیسے تعامل کی ضرورت کے سوا عدول نہ ہوگا اگرچہ مشائخ کی صراحت یہ ہو کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے اھ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں بھی اس کلام بحر کو اسی طر ح بر قرار رکھا ہے ۔
(۴؎ ردالمحتار کتاب الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۴۰)
وفــیــہ (۴۴) من النکاح قبیل الولی فی مسألۃ دعوی النکاح منہ او منھا ببینۃ الزور وقضاء القاضی بھا عند قول الدر تحل لہ خلافا لھما وفی الشرنبلا لیۃ عن المواھب وبقولھما یفتی۱؎ ما نصہ قال الکمال قول الامام اوجہ قلت وحیث کان الاوجہ فلا یعدل عنہ لما تقرر انہ لایعدل عن قول الامام الا لضرورۃ او ضعف دلیلہ کما اوضحناہ فی منظومۃ رسم المفتی و شرحھا۲؎ اھ
درمختار کتاب النکاح میں باب الولی سے ذرا پہلے یہ مسئلہ ہے کہ مرد یا عورت نے دعوی کیا کہ اس سے میرا نکاح ہو چکا ہے اس دعوے پر جھوٹے گواہ بھی پیش کردئے اور قاضی نے ثبوت نکاح کا فیصلہ بھی کردیا توعورت اس مرد کے لئے حلال ہوجائے گی اور صاحبین کے قول پر حلال نہ ہوگی شرنبلالیہ میں مواھب کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ صاحبین ہی کے قول پر فتوی ہے ۔ اس کے تحت رد المحتار میں یہ کلام ہے کمال نے فرمایا قول امام اوجہ ہے (بہتر وبادلیل ہے ) میں کہتا ہوں جب قول امام اوجہ ہے تو اس سے عدول نہ کیا جائے گا کیونکہ یہ امر طے شدہ ہے کہ ضرورت یا قول امام کی دلیل ضعیف ہونے کے سوا اور کسی حال میں قول امام سے عدول نہ ہوگا جیسا کہ منظومہ رسم المفتی او را س کی شرح میں ہم واضح کرچکے ہیں ۔
(۱؎ الدر المختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۰)
(۲؎ ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۹۴)