اقول : قد علمت فــــ ان کلام العلامۃ قاسم فیما یخالف فیہ قولھم الصوری جمیعا فضلا عما اذا خالف احدھم وکذاکلام فــــ ۱ التاترخانیۃ فانہ انما استثنی مااجمع فیہ المرجحون فــــ ۲ علی خلاف الامام ومن معہ من صاحبیہ ولا یوجد قط الا فی احد الوجوہ الستۃ وح لا یتقید بوفاق احد من الائمۃ الثلثۃ رضی اللہ تعالی عنہم الا تری فـــــ ۳ : الی ذکر اختیار قول زفر۔
اقول : یہ معلوم ہوچکا کہ علامہ قاسم کا کلام مذکور اس صورت سے متعلق ہے جو ان سبھی حضرات کے قول صوری کے بر خلاف ہو ، کسی ایک کے برخلاف ہونا تو درکنا ر یہی حال کلام تا تا ر خانیہ کا بھی ہے ۔ کیوں کہ اس میں استثنا اس صورت کا ہے جس میں امام اور امام کے ساتھ صاحبین میں جو ہیں دو نوں کی مخالفت پر مر جحین کا اجماع ہو ۔ او راس صورت کا سوا ان چھ صورتوں کے کبھی وجو د ہی نہ ہوگا اس صورت کے لئے یہ قید بھی نہیں کہ تینوں ائمہ میں سے کسی ایک کے موافق ہی ہو دیکھ لیجئے ایسی صورت میں تینون ائمہ کو چھوڑ کر امام زفر کا قول اختیار کرنے کا ذکر گزر چکا ہے ۔
۱؎ معروضۃ علیہ ۲؎ معروضۃ علیہ ۳؎ معروضۃ علیہ
ا ما حدیثا اذا صح الحدیث فـــ ۴وضعف الدلیل فـــ ۵ فشا ملان ما یخالف الثلثۃ رضی اللہ تعالی عنہم الا تری ان الامام الطحاوی خالفھم جمیعا فی عدۃ مسائل منھا تحریم الضب والمحقق حیث اطلق فی تحریم حلیلۃ الاب والا بن رضاعا فکیف یخص الکلام بما اذا وافقہ احدھما دون الاٰخر۔
اب رہا اذا صح الحدیث اور ضعیف دلیل کا معاملہ تو یہ دونوں بھی اس صورت کو شامل ہیں جو تینوں ہی ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کے بر خلاف ہو دیکھئے امام طحاوی نے متعد د مسائل میں ان سبھی حضرات کی مخالفت کی ہے ان ہی میں سے حرمت ضب (ایک جانور ) کا مسئلہ ہے ۔ اور محقق علی الاطلاق نے رضاعی باپ اور رضاعی بیٹے کی بیوی کی حرمت میں سب کی مخالفت کی ہے ۔ تو کلام اسی صورت سے خاص کیوں رکھا جائے جس میں صاحبین میں سے کوئی ایک موافق امام ہوں ؟
۴؎ معروضۃ علیہ ۵؎ معروضۃ علیہ
فان قلت اذا وافقاہ فلا خلاف عندنا ان المجتھد فی مذھبھم لایسعہ مخالفتھم فلاجل ھذا الا جماع یخص الحدیثان بما اذا خالفہ احدھما۔
اگریہ کہئے :کہ جب صاحبین موافق امام ہو ں تو ہمارے یہاں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ مجتہد فی المذہب کے لئے ان حضرات کی مخالفت روانہیں اسی اجماع کی وجہ سے اذا صح الحدیث اور ضعیف دلیل کے معاملے کو اس صورت سے خاص رکھا جائے گا جس میں صاحبین میں سے کوئی ایک مخالف امام ہوں۔
قلت کذا لا خلاف فیہ عندنا اذا کان معہ احد صاحبیہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کما اعترفتم بہ تصریحا۔
تو میں کہوں گا : اسی طرح ہمارے یہا ں اس بار ے میں اس صورت میں بھی کوئی اختلاف نہیں جب صاحبین میں سے کوئی ایک موافق امام ہوں جیسا کہ آپ نے صراحۃ اس کا اعتراف کیا۔
[ الحاصل تفصیل بالاسے یہی ثابت ہوا کہ
اذاصح الحدیث
اور ضعف دلیل والی صورتوں میں مجتہد کے لئے جواز ہے کہ وہ اپنی دستیاب حدیث اور اپنی نظر میں قوی دلیل کی رو سے تینوں ائمہ کے خلاف جاسکتا ہے۔ لیکن اس تحقیق پر یہ اعتراض ضرور پڑے گا کہ اس کے لئے تینوں حضرات کی مخالفت کا جواز کیسے ہوسکتا ہے جبکہ علماء نے بالاتفاق یہ قاعدہ رکھاہے کہ جب تینوں ائمہ متفق ہوں یا امام کے ساتھ صاحبین میں سے کوئی ایک متفق ہوں تو ان کے اتباع سے قدم باہر نکالنے کی گنجائش نہیں ۔ یہ اجماع مطلقا مجتھد اور غیر مجتھد دونوں کے حق میں ہے ۔ اختلاف ہے تو اس صورت میں جبکہ صاحبین باہم متفق اور امام کے مخالف ہوں اگر وہ تحقیق درست ہے تو اس اجماعی ممانعت کا معنی کیا ہے ؟ اور اس کھلے ہوئے تضاد کا حل کیا ہے ؟ ۔۔۔۔ اسی کا حل رقم کرتے ہوئے امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ آگے فرماتے ہیں ۱۲ م ]
فالاوجہ عندی ان معنی نھی المجتھد عنہ نھی المقلد ان یتبعہ فیہ نھیا وفاقیا بخلاف مااذا خالفاہ فان فیہ قیلا ان التخییر عام کما سبق فلأن یتبع مرجحا رجح قولھما اولی وربما یلمح الیہ قول المحقق فـــ حیث اطلق فی مسألۃ الجھر بالتأ مین لو کان الی فی ھذا شیئ لوفقت بان روایۃ الخفض یرادبھا عدم القرع العنیف وروایۃ الجھر بمعنی قولھا فی زیر الصوت وذیلہ ۱؎ الخ فلم یمتنع عن ابداء ما عن لہ وعلم انہ لا یتبع علیہ فقال لوکان الی شیئ واللہ تعالی اعلم۔
تو بہتر جواب اورحل: میرے نزدیک یہ ہے کہ اس مخالفت سے مجتہد کی ممانعت کا مطلب مقلد کو اس بارے میں مجتہد مخالف کی متا بعت سے باز رکھنا ہے (یعنی الفاظ تو یہ ہیں کہ مجتہد مخالفت نہ کرے مگر مقصود یہ ہے کہ مقلد ایسی مخالفت کی پیروی نہ کر ے ۔ رہا مجتہد تو جب اس کے خیال میں ائمہ ثلاثہ کے خلاف حدیث صحیح موجود ہے ، یا ان کے مذہب کے بر خلاف قوی دلیل عیاں ہے تو اسے ا پنے اجتہاد کو کام میں لانے اور ائمہ کے خلاف جانے سے رو کا نہیں جاسکتا ۔ اگر اسے روکا گیا ہے تو اس سے مقصود مقلد ہے کہ وہ تینوں یا ان دواماموں کی مخالفت کی صورت میں اس مجتہد کی پیروی نہ کرے ۱۲مترجم) بخلاف اس صورت کے جس میں صاحبین باہم متفق او رامام کے مخالف ہوں (کہ اس میں مقلد کے لئے مجتہد مخالف کی پیروی سے بالاجماع ممانعت نہیں) کیونکہ اس صورت میں ایک قول یہ بھی ہے کہ تخییر عام ہے ۔ یعنی مجتہد وغیر مجتہد ہر ایک کو مخالفت کا اختیار ہے ، جیسا کہ گزرا ، تو اگر مقلد کسی ایسے مرجح کی پیروی کر لے جن نے قول صاحبین کو تر جیح دی ہو تو بدرجہ اولی اس کااسے اختیار ہوگا اس کا کچھ اشارہ امین بالجہر کے مسئلے میں محقق علی الاطلاق کے اس کلام میں بھی جھلکتا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اگر اس بارے میں مجھے کچھ اشارہ ہوتا تو یوں تطبیق دیتا کہ آہستہ کہنے والی روایت سے مراد یہ ہے کہ کرخت آواز نہ ہو اور جہر والی کی روایت کا معنی یہ ہے کہ آواز کے انداز اور اور آواز کے ذیل میں ادا کرے یہاں محقق علیہ الرحمہ اپنی رائے کے اظہار سے باز نہ رہے اور انہیں معلوم تھا کہ اس بارے میں ان کی متابعت نہ ہوگی اس لئے یہ بھی فرمایا کہ" اگر مجھے کچھ اختیار ہوتا" واللہ تعالی اعلم ۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۵۷)
فــ : امام محقق علی الاطلاق نے باوصف مرتبہ اجتہاد مسئلہ جہر آمین میں مخالفت مذہب کی جراء ت نہ کی اور فرمایا مجھے کچھ اختیار ہوتا تو میں یوں دونوں قولوں میں اتفاق کراتا کہ نہ زور سے ہو نہ بالکل آہستہ مسلمانو ! انصاف ، ان اکابر کی تو یہ کیفیت ، اور جاہلان بے تمیز کہ ان اکابر کا کلام بھی نہ سمجھ سکیں وہ امام کے مقابلہ کو تیار ۔
ومجیئ النھی علی ھذا فــــ الاسلوب غیر مستنکران یتوجہ الی احد والمقصود بہ غیرہ قال تعالی
فلا یصدنک عنھا من لا یؤمن بھا ۱؎ وقال عزوجل ولا یستخفنک الذین لا یوقنون ۲؎
ای لا تقبل صدہ ولا تنفعل با ستخفافہم واللہ تعالی اعلم ۔
اور اس طر ز پر نہیں آنا کہ تو جہ کسی کی جانب ہو اور مقصود کوئی اور ہو، کوئی اجنبی ونامعروف چیز نہیں باری تعالی کا ارشاد ہے '' تو ہر گز تجھے اس کے (قیامت کے) ماننے سے وہ نہ روکے جو اس پر ایمان نہیں لاتا '' او ر رب عزوجل کا فرمان ہے :'' اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے '' پہلی آیت میں نہی ان کے لئے ہے جو ایمان نہیں رکھتے مگر '' مقصود یہ ہے کہ ان کی رکاوٹ تم قبول نہ کرو '' اسی طرح دوسری آیت میں کہ وہ سبک نہ کریں اور مقصود یہ ہے کہ'' تم ان کے استخفاف کا اثر نہ لو ''
(۱؎ القرآن ۲۰/۱۶) (۲؎ القرآن ۳۰/۶۰)
فـــ : قد ینھی زید والمقصود نھی عن غیرہ۔
وفی کتاب التجنیس والمزید للامام الاجل صاحب الھدایۃ ثم ط من اوقات الصلوۃ الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ علی کل حال ۳؎ اھ
امام بزرگ صاحب ہدایہ کی کتاب التجنیس والمزید پھر طحطاوی اوقات الصلاۃ میں ہے میرے نزدیک واجب یہ ہے کہ ہر حال میں امام ابو حنفیہ کے قول پر فتوی دیا جائے ۔ اھ
(۳؎ حاشیہ طحطاوی علی الدر المحتار بحوالہ التجنیس کتاب الصلوۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۱۷۵)