| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
اقول وھذہ نفیسۃ افادھا وکم لہ من فوائد اجادھا والا مرکما قال لقول الخانیۃ یأخذ بقول صاحبیہ وقولھا یختار قولھما وقول السراجیۃ وغیرھا وصاحباہ فی جانب (عہ۱)
اقول:یہ ایک نفیس نکتہ ہے جس کا افادہ فرمایا اور ان کے ایسے عمدہ افادات بہت ہیں ، اور حقیقت وہی ہے جو انہوں نے بیان کی ، اس لئے کہ خانیہ میں ہے ، صاحبین کا قول لیا جائے گا ، اور یہ بھی ہے صاحبین کا قول اختیار ہوگا اور سرا جیہ وغیرہا میں ہے کہ اور صاحبین ایک طر ف ہوں ۔
(عہ۱) خانیہ کی دونوں عبارت اس صورت سے مقید ہے جب صاحبین ہم راے ہونے کے ساتھ خلاف امام ہوں اور ان کا یہ اختلاف اصحاب ستہ کی صورتوں میں سے تغیر زماں و عرف کی حالت میں ہو اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب اصحاب ستہ کی بناء پر اختلاف نہ ہو اور صاحبین مخالف امام ہونے کے ساتھ ایک رائے پر نہ ہو ں تو ان کا قول نہیں لیا جائے گا بلکہ قول امام کا اتباع ہوگا ۔۔ اسی طرح سراجیہ وغیرہ میں تخییر مفتی کا حکم اسی صورت میں مذکور ہے جب صاحبین ایک ساتھ ہوں ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مخالفت امام کے ساتھ ان میں باہم اتفاق نہ ہو تو مفتی کے لئے تخییر نہیں بلکہ قول امام ہی کی پابندی ہے ۱۲ م محمد احمد مصبا حی ۔
قال واما اذا خالفاہ واتفقا علی جواب واحد حتی صار ھو فی جانب وھما فی جانب فقیل یترجع قولہ ایضا وھذا قول الامام عبداللہ بن المبارک وقیل یتخیر المفتی وقول السراجیۃ والاول اصح اذالم یکن المفتی مجتھدا یفید اختیار القول الثانی ان کان المفتی مجتھدا ومعنی تخییرہ انہ ینظر فی الدلیل فیفتی بما یظھر لہ ولا یتعین علیہ قول الامام وھذا الذی صححہ فی الحاوی ایضا بقولہ والا صح ان العبرۃ لقوۃ الدلیل لان اعتبار قوۃ الدلیل شأن المفتی المجتھد فصار فیما اذا خالفہ صاحباہ ثلاثۃ اقوال الاول (۱) اتباع قول الامام بلا تخییر الثانی (۲) التخییر مطلقا الثالث (۳) وھو الاصح التفصیل بین المجتھد وغیرہ وبہ جزم قاضی خان کما یأتی والظاھر ان ھذاتوفیق بین القولین بحمل القول باتباع قول الامام علی المفتی الذی ھو غیر مجتھد وحمل القول بالتخییر علی المفتی المجتھد ۱؎ اھ
علامہ شامی آگے لکھتے ہیں لیکن جب صاحبین امام کے مخالف ہو ں او ربا ہم ایک حکم پر متفق ہوں یہا ں تک کہ امام ایک طرف ہوگئے ہوں اور صاحبین ایک طر ف ، تو کہا گیا کہ اس صورت میں قول امام کو ہی ترجیح ہوگی ، یہ امام عبداللہ بن مبارک کا قول ہے ، اور کہا گیا کہ مفتی کو اختیار ہوگا ، اور سراجیہ کا کلام '' اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو'' ۔ یہ مفتی کے مجتہد ہونے کی صورت میں قول ثانی کی ترجیح کا افادہ کر رہا ہے ، تخییر مفتی کا معنی یہ ہے کہ دلیل میں نظر کرنے کے بعد اس پر جو منکشف ہو اسی پر فتوی دے گا ور اس پر قول امام کی پابندی متعین نہ ہوگی اسی کی حاوی میں تصحیح کی ہے، ان الفاظ سے '' اصح یہ ہے کہ اعتبار قوت دلیل کا ہوگااس لئے کہ قوت دلیل کا اعتبارکرنا مفتی مجتہد ہی کا کام ہے ، تو صاحبین کے مخالف امام ہونے کی صورت میں تین قول ہوگئے : اول یہ کہ بلا تخییر قول امام ہی کا اتباع ہوگا دو م یہ کہ مطلقا تخییر ہوگی سوم ، او روہی اصح ہے ، یہ کہ مجتہد اور غیر مجتہد کے درمیان تفریق ہے ( مجتہد کے لئے تخییر ، غیر کے لئے پابندی امام) اسی پر امام قاضی خاں نے بھی جزم کیا جیسا کہ آرہا ہے او رظاہر یہ ہے کہ یہ پہلے دونوں قولوں میں تطبیق ہے اس طر ح کہ اتباع امام والے قول کو اس مفتی پر محمول کیا جو غیر مجتہد ہو او رتخییر والے قول کو اس مفتی پر محمول کیا جو مجتہد ہو،
(۱؎ شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۲۷،۲۶)
ثم قال وقد علم من ھذا انہ لاخلاف فی الاخذ بقول الامام اذا وافقہ احدھما ولذا قال الامام قاضی خان وانکانت المسئلۃ مختلفا فیھا بین اصحابنا ۲ ؔالٰی آٰخر ماقدمنا عنھا۔
آگے فرمایا ، اس سے معلوم ہوگیا کہ صاحبین میں سے کسی ایک کے موافق امام ہونے کی صورت میں قول امام کی پابندی کے حکم میں کوئی اختلاف نہیں اسی لئے امام قاضی خاں نے فرمایا اگر مسئلہ میں ہمارے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے یہاں سے آخر عبارت تک جو ہم پہلے (نص ۶کے تحت) نقل کر آئے ۔
(۲ ؎ شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۲۷،۲۶)
فقد اعترف رحمہ اللہ تعالی بالصواب فی جمیع تلک الابواب غیرانہ استدرک علی ھذا الفصل الاخیر بقولہ لکن قدمنا ان ما نقل عن الامام من قولہ اذا صح الحدیث فھو مذھبی محمول علی مالم یخرج عن المذھب با لکلیۃ کما ظھر لنا من التقریر السابق ومقتضاہ جواز اتباع الدلیل وان خالف ما وافقہ علیہ احد صاحبیہ ولھذا قال فی البحر عن التتارخانیۃ اذاکان الامام فی جانب وھما فی جانب خیر المفتی وان کان احدھما مع الامام اخذ بقو لھما الا اذا اصطلح المشائخ علی القول الاٰخر فیتبعھم کما اختار الفقیہ ابو اللیث قول زفرفی مسائل ۱؎ انتھی ۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ان تمام ابو اب و ضوابط میں درستی وصواب کے معترف ہیں سوا اس کے کہ اس اخیر حصے پریوں استدراک فرمایا ہے لیکن ہم پہلے بتا چکے کہ امام سے نقل شدہ ان کا ارشاد '' جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے '' اس پر محمول ہے جو مذہب سے بالکلیہ خارج نہ ہو ،جیسا کہ تقریر سابق سے ہم پر منکشف ہوا ۔اور اس کا مقتضی یہ ہے کہ دلیل کا اتباع اس صورت میں بھی جائز ہے جب دلیل امام کے ایسے قول کے مخالف ہو جس پر صاحبین میں سے کوئی ایک ، حضرت امام کے موافق ہوں ۔ اسی لئے بحر میں تاتار خانیہ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب امام ایک طر ف ہوں اور صاحبین دو سری طرف تو مفتی کو تخییر ہے اوراگر صاحبین میں سے ایک، امام کے ساتھ ہوں تو ان ہی دونوں حضرات (امام اور ایک صاحب) کا قول لیا جائے گا مگر جب کہ قول دیگر پر مشائخ کا اتفاق ہوجائے تو حضرات مشائخ کا اتباع ہوگا ۔ جیساکہ فقیہ ابو اللیث نے چند مسائل میں امام زفر کا قول اختیار کیا ہے ۔
(۲ ؎ شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۲۷)
وقال (۲۵) فی رسالتہ المسماۃ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء لایرجح قول صاحبیہ او احدھما علی قولہ الا لموجب وھو ا ما ضعف دلیل الامام واما للضرورۃ والتعامل کترجیح قولھما فی المزارعۃ والمعاملۃ واما لان خلافھما لہ بسبب اختلاف العصر والزمان وانہ لوشاھد ما وقع فی عصرھما لوافقھما کعدم القضاء بظاھر العدالۃ ویوافق ذلک ماقالہ (۲۶)العلامۃ المحقق الشیخ قاسم فی تصحیحہ فذکر ماقدمنا من کلامہ فی توضیع مرامہ وفیہ ان الا خذ بقولہ الافی مسائل یسیرۃ اختار والفتوی فیھا علی قولھما اوقول احدھما وانکان الاٰخر مع الامام ۱؎ اھ وھو محل استشھادہ۔
علامہ شامی اپنے رسالہ '' رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء'' میں رقم طراز ہیں صاحبین یا ایک کے قول کو قول امام پر ترجیح نہ ہوگی مگر کسی موجب کی وجہ سے ۔ وہ یا تو دلیل امام کا ضعف ہے ، یا ضرورت اورتعامل جیسے مزار عت ومعاملت میں قول صاحبین کی ترجیح یا یہ ہے کہ صاحبین کی مخالفت عصر و زمان کے اختلاف کے باعث ہے اگر امام بھی اس کا مشاہد ہ کرتے جو صاحبین کے دور میں رو نما ہوا تو ان کی موافقت ہی کرتے ۔ جیسے ظاہر عدالت پر فیصلہ نہ کرنے کا مسئلہ ۔ اسی کے مطابق وہ بھی ہے جو علامہ محقق شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں فرمایا اس کے بعد ان کا وہ کلام ذکر کیا ہے جو ہم مقصود کلام کی تو ضیح میں پہلے نقل کر آئے ہیں ، اس میں یہ عبارت بھی ہے ہر جگہ امام ہی کا قول لیا گیا ہے مگر صرف چند مسائل ہیں جن میں ان حضرات نے صاحبین کے قول پر ، یا صاحبین میں سے کسی ایک کے قول پر ۔ اگرچہ دو سرے صاحب ، امام کے ساتھ ہوں ۔ فتوی اختیار کیا ہے اھ ۔ یہی حصہ یہاں علامہ شامی کا محل استشہاد ہے (کلام بالا سے مطابقت کے ثبوت میں یہی عبارت وہ پیش کرنا چاہتے ہیں )
(۱؎ شرح العقود رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۲۷)