| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
اقول : فرق التعبیر فـــــ۱ لایکون خلافا حتی یوفق وبالجملۃ فتوھم المقابلۃ بینھما اعجب واعجب منہ فـــــ ۲ ان العلامۃ ش تنبہ لہ فی صدر الکتاب ثم وقع فیہ فی کتاب القضاء فسبحٰن من لا ینسی ۔
اقو ل : فرق تعبیرکوئی معنوی اختلاف ہے ہی نہیں کہ تطبیق دی جائے الحاصل ان دو نوں تصحیحوں میں مقابلہ کا تو ہم بہت عجیب ہے او ر اس سے زیادہ عجیب یہ کہ علامہ شامی شرو ع کتاب میں اس پر متنبہ ہوئے پھر کتا ب القضاء میں جاکر اس وہم میں پڑ گئے ۔تو پاکی اس ذات کے لئے جسے فراموشی و نسیان نہیں۔
ف ۱ :معروضۃعلیہ وعلی العلا مۃ ح و علی ط وعلی ش ف ۲:معروضۃ علی ش
ثالثا: کذلک فـــــ ۱ لا یقابلہ ما فی جامع الفصولین فانہ عین مافی الخانیۃ وانما نقلہ عنہا برمز خ وفیہ تقیید التخییر بالمجتہد فالکل و ردوا موردا واحدا وانما ینشؤا لتوھم لاقتصار وقع فی النقل عنہ فان۲۲ نصہ لو مع ح رضی اللہ تعالی عنہ احد صاحبیہ یأخذ بقولھما ولو خالف ح صاحباہ فلو کان اختلافھم بحسب الزمان یأخذ بقول صاحبیہ وفی المزارعۃ والمعاملۃ یختار قولھما لاجماع المتأخرین وفیما عدا ذلک قیل یخیر المجتہد وقیل یأخذ بقول ح رضی اللہ تعالی عنہ ۲؎ اھ فانکشفت الشبھۃ۔
ثالثا: اسی طر ح اس کا مقابل وہ بھی نہیں جو جا مع الفصولین میں ہے اس لئے کہ اس کا کلام تو بعینہ وہی ہے جو خانیہ کا ہے ، اسی سے ''خ'' کا ر مزدے کر نقل بھی کیاہے ، اس اختیارکو اس سے مقید کیا ہے کہ مفتی مجتہد ہو تو سب نے ایک موقف اختیار کیا ہے او روہم اس اختیار سے پیدا ہوا ہے جو نقل میں واقع ہوا ہے ۔جامع کی عبارت اس طر ح ہے اگر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ان کے صاحبین میں سے کوئی ایک ہوں تو ان ہی دونوں ( امام اور وہ ایک صاحب) کے قول کو لے ، اور اگر صاحبین '' ح'' کے مخالف ہو تو اگر ان حضرات کا اختلاف بلحاظ زمان ہے ، تو صاحبین ہی کا قول لے ۔اور مزارعت ومعاملت میں صاحبین ہی کا قول اختیار کر ے کیوں کہ اسی پر اجماع متا خرین ہے ، ان صورتوں کے ماسوا میں ایک قول یہ ہے کہ مجتہد کو تخییرہے اور ایک قول یہ ہے کہ امام ''ح '' رضی اللہ تعالی عنہ کا ہی قول لینا ہے ۔ اس سے شبہہ منکشف ہوگیا ۔
(۲؎ جامع الفصولین،الفصل الاول فی القضاء الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ،۱ /۱۵)
ف :معروضۃعلیہ
و رابــعــا: اھم فـــــ ۲من الکل دفع ما اوھمہ عبارۃ الدر من ان تصحیح الحاوی اعتبار قوۃ المدرک مطلق لا قتصارہ من نصہ علی فصل واحد ولیس کذلک ففی الحاوی ۲۳ القدسی متی کان قول ابی یوسف ومحمد موافق قولہ لا یتعدی عنہ الا فیما مست الیہ الضرورۃ وعلم انہ لوکان ابو حنیفۃ رأی مارأو ا لا فتی بہ وکذا اذا کان احدھما معہ فان خالفاہ فی الظاھر عـــــہ قال بعض المشائخ یأخذ بظاھر قولہ وقال بعضھم المفتی مخیر بینھما ان شاء افتی بظاھر قولہ وان شاء افتی بظاھر قولھما والاصح ان العبرۃبقوۃ الدلیل ۱؎ اھ
رابعا : سب سے اہم اس وہم کو دور کرنا ہے جو عبارت در مختار نے پیدا کیا کہ حاوی کے نزدیک قوت دلیل کے اعتبار کو اصح قرار دینا مطلقا ہے یہ وہم پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ درمختار میں عبارت حاوی کے صر ف ایک ٹکڑے پر اقتصار ہے ۔ حقیقت یوں نہیں ۔کیوں کہ حاوی قدسی کی پوری عبارت یہ ہے :جب امام کے موافق ہو تو اس سے تجاوز نہ کیا جائے گا مگر اس صورت میں جب کہ ضرورت در پیش ہو اور معلوم ہو کہ اگر امام ابو حنیفہ بھی اسے دیکھتے جو بعد والوں نے دیکھا تو اسی پر فتو ی دیتے ،یہی حکم اس وقت بھی ہے جب صاحبین میں سے کوئی ایک ، امام کے ساتھ ہو ، اگر دونوں ہی حضرات ظاہر میں مخالف امام ہوں تو بعض مشائخ نے فرمایا کہ ظاہر قول امام کو لے ، او ربعض مشائخ نے فرمایاکہ مفتی کو دو نوں کا اختیار ہے اگر چاہے تو ظاہر قول امام پر فتوی دے ، اور اصح یہ ہے کہ اعتبار ، قوت دلیل کا ہے اھ،(حاوی قدسی)
(۱؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۲۶)
عـــہ المراد بالظاھر فی المواضح الاربعۃ ظاھر الروایۃ ۱۲ منہ چاروں جگہ لفظ "ظاھر " سے مراد ظاہرالروایہ ہے ۱۲ منہ ( ت)
فھذا کما تری عین مافی الخانیۃ لا یخالفھا فی شیئ فقد الزم اتباع قول الامام اذا وافقہ صاحباہ وکذا اذا وافقہ احدھما وانما جعل الاصح العبرۃ بقوۃ الدلیل اذا خالفاہ معالا مطلقا کما او ھمہ الدرو معلوم ان معرفۃ قوۃ الدلیل وضعفہ خاص باھل النظر فوافق تقدیم الخانیۃ تخییر المجتھد لانہ انما فـــــ۱ یقدم الاظھر الاشھر
دیکھئے بعینہ وہی بات ہے جو خانیہ میں ہے ذرا بھی اس کے خلاف نہیں کیوں کہ حاوی نے بھی امام کے ساتھ موافقت صاحبین کی صورت میں ، اسی طرح صرف ایک صاحب کی موافقت کی صورت میں قول امام ہی کاا تباع لازم کیا ہے ، اور قوت دلیل کے اعتبار کو اصح صرف اس صورت میں قرار دیا ہے جب دو نوں ہی حضرات ، مخالف امام ہوں اسے مطلقا اصح نہ ٹھہرایا جیسا کہ عبارت درمختار نے وہم پیدا کیااور معلوم ہے کہ دلیل کی قوت اور ضیعف کی معرفت خاص اہل نظر کا حصہ ہے تو یہ تصحیح اسی کے مطابق ہے جسے خانیہ نے مقدم رکھا ، یعنی یہ کہ مجتہد کے لئے تخییر ہے اس لئے کہ قاضی خاں اسی کو مقدم کرتے ہیں جو اظہر واشہر ہو ۔
فــــ۱ : ما قدم الامام قاضی خان فھو الاظھر الاشھر ۔
وقد علمت ان لا خلف فاحفظ ھذا کیلا تزل فی فھم مرادہ حیث ینقلون عنہ القطعۃ الا خیرۃ فقط ان العبرۃ بقوۃ الدلیل فتظن عمومہ للصور وانما ھو فی ما اذا خالفاہ معا،
معلوم ہوچکا کہ دونوں میں کوئی فر ق و اختلاف نہیں تو اسے یاد رکھنا چاہئے تا کہ مراد حاوی سمجھنے میں لغزش نہ ہو کیوں کہ لوگ ان کا صرف آخر ی ٹکڑا '' اعتبار ، قوت دلیل کا ہے'' نقل کرتے ہیں ، جس سے خیال ہوتا ہے کہ ان کا یہ حکم تمام ہی صورتوں کے لئے ہے ۔ حالاں کہ یہ صرف اس صورت کے لئے ہے جب دو نوں حضرات مخالف اما م ہوں
وبامثال فـــــــ ۲ ماوقع ھھنا فی نقل ش کلام جامع الفصولین ونقل الدرکلام الحاوی وما وقع فیھما من الاقتصار المخل یتعین انہ ینبغی مراجعۃ المنقول عنہ اذا وجد فربما ظھر شیئ لا یظھر مما نقل وان کانت النقلۃ ثقات معتمدین فاحفظ وقد قال فی شرح ۲۴ العقود بعد نقلہ مافی الحاوی الحاصل انہ اذا اتفق ابو حنیفۃ وصاحباہ علی جواب لم یجز العدول عنہ الالضرورۃ وکذا اذا وافقہ احدھما واما اذا انفرد عنھما بجواب وخالفاہ فیہ فان فــــــ انفرد کل منھا بجواب ایضا بان لم یتفقا علی شیئ واحد فالظاھر ترجیح قولہ ایضا ۱؎۔
یہاں علامہ شامی سے کلام جامع الفصولین کی نقل میں اور صاحب در سے کلام حاوی کی نقل میں جو واقع ہوا ور دو نوں میں جو اختصار مخل در آیا ایسی ہی باتوں کے پیش نظر یہ متعین ہوجاتا ہے کہ منقول عنہ کے موجود اور دستیاب ہونے کی صورت میں اس کی مراجعت کرلینا چاہئے ہوسکتا ہے کہ اس سے کوئی ایسی بات منکشف ہو جو نقل سے ظاہر نہیں ہوتی اگر نقل کر نے والے ثقہ ومعتمد ہیں ، اسے یاد رکھیں ۔شرح عقود میں حاوی کا کلام نقل کرنے کے بعد تحریر ہے : حاصل یہ کہ جب امام ابو حنیفہ اور صاحبین کسی حکم پر متفق ہو ں تو اس سے عدو ل جائز نہیں مگر ضرورت کے سبب یوں ہی جب صاحبین میں سے ایک ان کے موافق ہوں ۔لیکن جب امام کسی حکم میں صاحبین سے علیحدہ ہوں اور دونوں حضرات اس میں امام کے بر خلاف ہوں تو اگر یہ بھی الگ الگ ایک ایک حکم رکھتے ہوں اس طر ح کہ کسی ایک بات پر متفق نہ ہو ں تو ظاہر یہی ہے کہ تر جیح قول امام کو ہوگی۔
(۱؎ شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۲۶)
ف ۲ ـ لیجتنب النقل بالواسطۃ مھما امکن ۔ ف : الترجیح لقول الامام ای بلا خلاف اذا خالفا وتخالفا ۔