تنویر الا بصار اور درمختار میں ہے (عبارت تنویر قوسین میں ہے۱۲م) مفتی کی طر ح قاضی بھی ( مطلقا قول امام کو لگا ) یہی اصح ہے منیہ وسراجیہ ، اور حاوی میں قوت دلیل کے اعتبار کو صحیح کہا ہے ۔ او رقول اول زیادہ ضبط والا ہے نہر (اور تخییر نہ ہوگی مگر جب کہ وہ صاحب اجتہاد ہو)
(۲؎ الدر المحتار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲)
وفی صدر (۱۶) ط ما ذکرہ المصنف صححہ فی ادب(۱۷) اطفال۳؎ اھ (۱۶۔۔۔۔۔۱۷)
طحطاوی کے شرو ع میں ہے ، مصنف نے جو ذکر کیا ہے اسی کو ادب المقال میں صحیح کہا ہے اھ
وفی البحر(۱۸) کما مرقد صححوا ان الافتاء بقول الامام ۴؎ اھ
بحر میں ہے ، جیسا کہ گزرا ، علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے کہ فتوی قول امام پر ہوگا،
(۴؎ البحر الرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء ایچ ایم سعید کمپنی ۱ /۲۶۹)
وقال ش قولہ وھو الا صح مقابلہ مایأتی عن الحاوی وما فی جامع الفصولین من انہ لو معہ احد صاحبیہ اخذ بقولہ وان خالفاہ قیل کذلک وقیل یخیر الا فیما کان الاختلاف بحسب تغیرالزمان کالحکم بظاھر العدالۃ وفیما اجمع المتأخرون علیہ کالمزارعۃ والمعاملۃ فیختارقولھما ۱؎ اھ
علامہ شامی لکھتے ہیں عبارت درمختار ''وھو الاصح''کا مقابل وہ ہے جو حاوی کے حوالے سے آرہا ہے اور وہ جو جامع الفصولین میں ہے کہ اگر صاحبین میں سے کوئی ایک ،ا مام کے ساتھ ہوں تو قول امام لیا جائے گا ، اور اگر صاحبین مخالف امام ہوں تو بھی ایک قول یہی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ تخییر ہوگی مگر اس مسئلے کے اندر جس میں تبدیلی زمانہ کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا ہو جیسے ظاہر عدالت پر فیصلہ کرنے کا مسئلہ اور مزار عت ومعاملت جیسے وہ مسائل جن میں متا خرین کا اجماع ہوچکاہے کہ ان سب میں قول صاحبین اختیار کیا جائے گا ۔
(۱؎ رد المحتار کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق داراحیاء التراث العربی بیرو ت ۴ /۳۰۲)
وفی صدر الدر الاصح کما فی السراجیۃ وغیرھا انہ یفتی بقول الامام علی الاطلاق وصحح فی الحاوی القدسی قوۃ المدرک ۲؎اھ
درمختار کے شرو ع میں ہے جیسا کہ سراجیہ وغیرہا میں مذکور ہے اصح یہ ہے کہ مطلقا قول امام پر فتوی دیا جائے گا ، اور حاوی قدسی میں قوت دلیل کے اعتبار کو صحیح کہا ہے.
وقال ش بعد نقل عبارۃ السراجیۃ مقابل الاصح غیر مذکور فی کلام الشارح فافھم ۴؎ اھ یرید بہ التعریض علی ط۔
علامہ شامی سراجیہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں اصح کا مقابل کلام شارح میں مذکور نہیں،فافہم (تو سمجھو ) اس لفظ سے طحطاوی پر تعریض مقصود ہے .
(۴؎ ردالمحتار،رسم المفتی،داراحیاء التراث العربی بیرو ت ۱ / ۴۸)
اقول: ھھنا امور لا بدمن التنبیہ لھا:
فاولا: اقـحم فـــ ۱ الدر ذکرفی التصحیحین قبل قول المصنّف ولا یخیر الخ فاوھم الاطلاق فی الحکم الاول حتی قال فـــ ۲ قولہ صحح فی الحاوی مقابل الاطلاق الذی فی المصنف ۱؎ اھ مع ان صریح نص المصنف تقییدہ بما اذالم یکن مجتہدا۔
اقول: یہاں چند امور پر متنبہ ہونا ضروری ہے ،
اولا:صاحب تنویر کا قول '' مطلقا قول امام کو لے گا '' غیر مجتہد سے خاص ہے ۔ مگر شارح نے عبارت متن'' اور تخییر نہ ہوگی الخ''سے پہلے دونوں تصحیحوں کا تذکرہ درمیان میں رکھ دیا جس سے یہ وہم پیدا ہوا کہ حکم اول (اخذ قول امام) میں اطلاق ہے ، یہاں تک کہ سید طحطاوی نے یہ سمجھ لیا کہ شارح کا قول'' صحح فی الحاوی'' اسی اطلاق کا مقابلہ ہے جو کلام مصنف میں ہے حالاں کہ مصنف کی عبارت میں صراحۃ وہ اس سے مقید ہے کہ '' جب کہ وہ صاحب اجتہاد نہ ہو''
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب القضاء المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۳ /۱۷۶)
فـــ ۱: تطفل علی الدرالمختار
فــــ۲: معروضۃ علی العلامۃ ط
وثانیا: ما صححہ فی الحاوی عین ما صححہ فی السراجیۃ والمنیۃ وادب المقال وغیرھا وانما الفرق فی التعبیر فھم قالوا الاصح ان المقلد لا یتخیر بل یتبع قول الامام وھو قال الاصح ان المجتہد یتخیر لان قوۃ الدلیل انما یعرفھا ھو فیستحیل فــ ۱ ان یکون مقابل الاصح ما صححہ فی الحاوی بل مقابلہ التخییر مطلقا اذا خالفاہ معاکما ھو مفاد الاطلاق القیل المذکور فی السراجیۃ والتقیید بقول الامام مطلقا وان خالفاہ معا والمفتی مجتہد کما ھو مفاد اطلاق ماصدر بہ فیھا فلاوجہ فــــ ۲ ۔ لترجیح الاول علیہ بانہ اضبط وقد قال ح ط ش فی التوفیق بین ما فی السراجیۃ والحاوی ان من کان لہ قوۃ ادراک قوۃ المدرک یفتی بالقول القوی المدرک والا فالترتیب ۱؎اھ قال ش یدل علیہ قول السراجیۃ والاول اصح اذالم تکن المفتی مجتھدا ۲؎ اھ
ثا نیا: حاوی میں جس قول کو صحیح کہا ہے بعینہ وہی ہے جسے سراجیہ ، منیہ ، ادب المقال وغیرہامیں صحیح کہا ہے، فر ق صرف تعبیرکا ہے ۔ ان حضرات نے یوں کہا کہ مقلد کو تخییر نہیں بلکہ اسے قول امام ہی کی پیروی کرنی ہے ،او رحاوی نے یوں کہا کہ اصح یہ ہے کہ مجتہد کو تخییر ہوگی اس لئے کہ دلیل کی قوت سے آشنا وہی ہوگا ، جب حقیقت یہ ہے تو محال ہے کہ اصح کا مقابل وہ ہو جسے حاوی میں اصح کہا ، بلکہ اس کا مقابل یہ ہے کہ (۱) مطلقا تخییر ہوگی جب کہ صاحبین مخالف امام ہوں ، جیسا کہ سراجیہ میں مذکور قیل، کہا گیا '' کا مفاد ہے ،(۲) اور یہ کہ مطلقا قول امام کی پابند ی ہے اگر چہ صاحبین ان کے مخالف اور مفتی صاحب اجتہاد ہو ، جیسا کہ یہ اس کلام کے اطلاق کا مفا د ہے جسے سراجیہ کے اندر شرو ع میں ذکرکیا ۔[اس میں پہلے یہ کہا کہ'' فتوی مطلقا قول امام پر ہے''۔ پھر یہ لکھا '' کہا گیا کہ جب امام ایک جانب اور صاحبین دو سری جانب ہوں تو مفتی کو اختیار ہے ''۔ اس کے متصل یہ کہا کہ :" اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو'' آغاز کلام سے پتا چلا کہ مجتہد غیرمجتہد سب کے لئے قول امام کی پابندی ہے ، درمیانی قول سے معلوم ہوا کہ مخالفت صاحبین کی صورت میں سب کے لئے تخییر ہے آخر والی تصحیح سے معلوم ہو ا کہ غیر مجتہد کے لئے تو مطلقا قول امام کی پابندی ہے او رمجتہد کے لئے مخالفت صاحبین کی صورت میں اختیار ہے۔۱۲م] جب ایسا ہے تو اول کو '' زیادہ ضبط والا '' کہہ کرتصحیح حاوی پر اسے ترجیح دینے کا کوئی معنی نہیں[ تصحیح حاوی اور تصحیح اول تو بعینہ ایک ہیں ۔۱۲م](۱۹۔۔۔—۲۱) حضرات حلبی ، طحطاوی وشا می نے کلام سراجیہ او رکلام حاوی میں تطبیق کے لئے یہ کہا :کہ جس کے پاس مدرک ودلیل کی قوت سے آگاہی کی قدرت ہو وہ اپنے دریافت کر دہ قوی قول پر فتوی دے گا ورنہ وہی ترتیب ہوگی ۔شامی فرماتے ہیں ، اس پر سراجیہ کی یہ عبارت دلالت کررہی ہے ، او راول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو ۔