| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
اقول : وقول السرخسی برأیہ یدل ان النھی للمجتھد ولا ینبغی ای لا یفعل بدلیل قولہ لابد فلا یقال للمستحب لابد من معرفتہ اذا مالا یحتاج الی فعلہ لا یحتاج الی معرفتہ انما العلم للعمل۔ وفی (۶) فتاوی الامام الاجل فقیہ النفس قاضی خان المفتی فی زماننا من اصحابنا اذا استفتی فی مسألۃ وسئل عن واقعۃ انکانت المسألۃ مرویۃ عن اصحابنا فی الروایات الظاھرۃ بلا خلاف بینھم فانہ یمیل الیھم ویفتی بقولھم ولا یخالفھم برأیہ وانکان مجتہدا متقنا لان الظاھر ان یکون الحق مع اصحابنا ولا یعدوھم واجتھادہ لایبلغ اجتھادھم ولاینظر الی قول من خالفھم ولاتقبل حجتہ لانھم عرفوا الا دلّۃ ومیزوا بین ماصح وثبت وبین ضدہ ۔
اقول: امام سرخسی کا لفظ '' اپنی رائے سے'' یہ بتاتا ہے کہ ممانعت مجتہد کے لئے ہے ، اور '' نہیں چاہئے '' کا معنی یہ ہے کہ '' نہ کرے '' اس کی دلیل ان کا لفظ '' لابد ضروری ''ہےکیوں کہ مستحب سے متعلق یہ نہ کہا جائے گا کہ '' اس کی معرفت ضروری ہے '' اس لئے کہ جس کا ذکر کرنا ضروری نہیں اس کا جاننا بھی ضروری نہیں علم تو عمل ہی کے لئے ہوتا ہے ۔ (۶) امام اجل فقیہ النفس قاضی خاں کے فتاوی میں ہے ،ہمارے دور میں جب ہمارے مسلک کے مفتی سے کسی مسئلہ میں استفتا او رکسی واقعہ پر سوال ہو تو اگر وہ مسئلہ ہمارے ائمہ سے ظاہر الروایہ میں بلا اختلاف باہمی مروی ہے تو ان ہی کی طرف مائل ہو ، ان ہی کے قول پر فتوی دے اور اپنی رائے سے ان کی مخالفت نہ کرے ، اگرچہ وہ پختہ کار مجتہد کیوں نہ ہو ، اس لئے کہ ظاہر یہی ہے کہ حق ہمارے ائمہ کے ساتھ ہے اور ان سے متجاوز نہیں ، اور اس کا اجتہاد ان کے اجتہاد کو نہیں پاسکتا ۔ اور ان کے مخالف کے قول پر نظر نہ کرے نہ اس کی حجت قبول کرے اس لئے کہ وہ دلائل سے آشنا تھے اور انہوں نے ثابت وصحیح اور غیر ثابت و صحیح کے درمیان امتیاز بھی کردیا ۔
فانکانت المسألۃ مختلفا فیھا بین اصحابنا فانکان مع ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی احد صاحبیہ یؤخذ بقولھما لوفور الشرائط واستجماع ادلۃ الصواب فیھما وان خالف ابا حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی صاحباہ فی ذلک فانکان اختلافھم اختلاف عصروزمان کا لقضاء بظاھر العدالۃ یأخذ بقول صاحبیہ لتغیر احوال الناس وفی المزارعۃ والمعاملۃ ونحو ھما یختار قولھما لاجتماع المتاخرین علی ذلک وفیما سوی ذلک قال بعضھم یتخیر المجتھد ویعمل بما افضی الیہ رأیہ وقال عبداللہ بن المبارک یأخذ بقول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی ۱؎ اھ
(۲)اگر مسئلہ میں ہمارے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے تواگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے ساتھ ان کے صاحبین میں سے کوئی ایک ہیں تو ان ہی دو نوں حضرات (امام اور صاحبین میں سے ایک ) کا قول لیا جائے گا کیوں کہ ان میں شرطیں فراہم ، اور دلائل صواب مجتمع ہیں (۳)اور اگر اس مسئلہ میں صاحبین امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے بر خلاف ہیں تو یہ اختلاف اگر عصر و زمان کا اختلاف ہے جیسے گو اہ کی ظاہری عدالت پر فیصلہ کاحکم ، تو صاحبین کا قول لیا جائے گا کیونکہ لوگوں کے حالات بدل چکے ہیں ، او رمزار عت ، معاملت اور ایسے ہی دیگر مسائل میں صاحبین کا قول اختیار ہوگا کیونکہ متا خرین اس پر اتفاق کر چکے ہیں ،(۴) اور اس کے ماسوا میں بعض نے کہا کہ مجتہد کو اختیار ہوگا اور جس نتیجے تک اس کی رائے پہنچے وہ اس پر عمل کرے گا ، اور عبداللہ بن مبارک نے فرمایا کہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کا قول لے گا ۔اھ
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فی رسم المفتی نو لکشور لکھنؤ ۱ /۲)
اقول : ولوجہ ربنا الحمد اتی بکل ما قصدناہ فاستثنی التعامل وما تغیر فیہ الحکم لتغیر الاحوال فقد جمع الوجوہ الستۃ التی ذکرناھا، ونص ان اھل النظر لیس لھم خلاف الامام اذا وافقہ احد صاحبیہ فکیف اذا وافقاہ ثم ما ذکر من القولین فیما عداھا لاخلف بینھما فی المقلد فالاول بتقیید التخییر بالمجتھد افاد ان لاخیار لغیرہ والثانی حیث منع المجتھد عن التخییر فھو للمقلد امنع فاتفق القولان علی ان المقلد لایتخیر بل یتبع الامام وھو المرام وفی (۷) الفتاوی السرا جیۃ و(۸) النھرالفائق ثم (۹) الھندیۃ (۱۰) الحموی وکثیر من الکتب واللفظ للسراجیۃ الفتوی علی الاطلاق علی قول ابی حنیفۃ ثم ابی یوسف ثم محمد ثم زفـــــر عـــہ والحسن۱؎ ولفظ النہر ثم الحسن۔ ۱؎
اقو ل:ُ ہمارے رب ہی کی ذات کے لئے حمد ہے ، امام قاضی خاں نے ہمارے مقصود سے متعلق سب کچھ بیان کردیا ، تعامل اور اس مسئلے کا جس میں حالات کے بدلنے سے حکم بدل گیا ہے ، استثنا کر کے ہمارے ذکر کردہ اسباب ستہ کو جمع کردیا ، یہ صراحت بھی فرمادی کہ صاحبین میں سے کوئی ایک جب امام کے موافق ہوں تو اصحاب نظر کے لئے امام کی مخالفت ر وا نہیں ، اگر دو نوں ہی ان کے موافق ہیں تو کیونکر روا ہوگی؟ پھر ما سوا مسائل میں جو دو قول بیان کئے ہیں ان کے درمیان مقلد کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں قول اول میں تخییر کو مجتہد سے مقید کر کے یہ افادہ کر دیا کہ غیر مجتہد کو اختیار نہیں ۔ اور قول دوم میں جب مجتہد کو تخییر سے منع کیا تو مقلد کو تو اور زیادہ منع کریں گے ، اس طر ح دو نوں قول اس بات پر متفق ٹھہرے کہ مقلد کو تخییر نہیں بلکہ اسے امام ہی کا تباع کرنا ہے ، یہی مقصود ہے ، ( ۷۔۔۔۔۱۰ ) فتاوی سراجیہ ، النہر الفائق ، پھر ہندیہ وحموی اور بہت سی کتا بو ں میں ہے الفا ظ سراجیہ کے ہیں ۔ فتوی مطلقا قول امام ابو حنیفہ پر ہوگا ، پھر امام ابو یوسف ، پھر امام محمد پھر اما زفر ، اورامام حسن کے قول پر اور نہر میں ثم الحسن ہے (پھر امام حسن)۔
عـــہ ھکذا نقل عنھا فی شرح العقود وغیرہ والحسن بالواو وھو مفاد الدر لکن فی نسختی السراجیۃ ثم الحسن واللہ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔
سراجیہ سے شرح عقود وغیرہ میں" والحسن " واو کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہی درمختار کا بھی مفاد ہے ۔ لیکن میرے نسخے سراجیہ میں ثم الحسن ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۱۲غفر لہ
(۱؎ الفتاوی السراجیہ کتاب ادب المفتی والتنبیہ علی الجواب مطبع نو لکشور لکھنو ص ۱۵۷) (۱؎ الدرالمختار بحوالہ النہر کتاب القضاء مطبع مجتبا ئی دہلی ۲ /۷۲) (النہر الفائق شرح کنزالدقائق کتاب القضاء قدیمی کتب خا نہ کرا چی۳ /۵۹۹)
اقول: وھو حسن فان مکانۃ زفر ممالا ینکر لکن قال ش الواوھی المشہورۃ فی الکتب اھ ۱؎ ومعنی الترتیب ای اذ الم یجد قول الامام ثم رأیت الشامی (۱۱) صرح بہ فی شرح عقودہ حیث قال اذالم یوجد للامام نص یقدم قول ابی یوسف ثم محمد الخ قال والظاھر ان ھذا فی حق غیر المجتھد اما المفتی المجتھد فیتخیر بما یتر جع عندہ دلیلہ ۲؎۔
اقو ل: لفظ نہر ''ثم الحسن''عمدہ ہے کیونکہ امام زفر کی ان سے برتری ناقابل انکار ہے لیکن علامہ شامی لکھتے ہیں کہ'' واو''ہی کتا بو ں میں مشہور ہے اھ اور تر تیب مذکور اس صورت میں مقصود ہے جب امام کا قول نہ ملے ، (۱۱) پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شامی نے شرح عقود میں اس کی صراحت بھی فرمائی ہے وہ فرماتے ہیں : جب امام کی کوئی نص نہ ملے تو امام ابو یوسف کا قول مقدم ہوگا پھر امام محمد کا۔ الخ ، اور فرماتے ہیں ، ظاہر یہ ہے کہ یہ غیر مجتہد کے حق میں ہے ، رہا مفتی مجتہد تو یہ اسے اختیار کر ے گا جس کی دلیل اس کے نزدیک راجح ہو اھ
(۱؎ رد المحتار کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق ۴ /۳۰۲) (۲؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈ می لاہور ۱ /۲۷)
اقول: ای اذالم یجد قول الامام لایتقید بالترتیب فیتبع قول الثانی وان ادی رأیہ الی قول الثالث کما کان لا یتخیر اتفاقا اذا کان مع الامام صاحباہ اواحدھما والذی استظھرہ ظاھر ثم قالا اعنی السراجیۃ والنھر وقیل اذاکان ابو حنیفۃ فی جانب وصاحباہ فی جانب فالمفتی بالخیار والاول اصح اذالم یکن المفتی مجتھدا ۱؎ اھ
اقو ل: یعنی جب امام کا قول اسے نہ ملے تو وہ تر تیب کا پابند نہیں کہ امام ثانی ہی کے قول کی پیروی کرے اگر چہ اس کا اجتہاد امام ثالث کےقول پر جائے ، جیسے اس صورت میں بالاتفاق اسے اختیار نہیں جب امام کے ساتھ صاحبین یا ان میں سے ایک ہوں ، اور علامہ شامی نے جس کو ظاہر کہہ کر بیان کیا وہ ظاہر ہے پھر سرا جیہ اور نہر میں یہ بھی ہے: کہا گیا کہ جب امام ابو حنیفہ ایک طر ف ہوں او رصاحبین دوسری طرف تو مفتی کو اختیار ہے اور قول اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہواھ
(۱؎ الفتاوی السراجیۃ کتاب ادب المفتی والتنبیہ علی الجواب مطبع لکنشور لکھنو ص ۱۵۷) (النھرالفائق شرح کنز الدقائق کتاب القضاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۳ / ۵۹۹)