اقول فــــــ۱ بلی لیوشکن ان ینزل عیسی بن مریم علیھما الصلوۃ والسلام علا ان العلم بخصائھم ومناقبھم علیھم الصلاۃ والسلام مطلوب مرغوب وکانہ یشیر الی الجواب عن ھذا بقولہ فی ھذا الکتاب ای ان محلہ کتب الفضائل دون الفقہ۔
اقول کیوں نہیں ، عنقریب عیسٰی بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام نزول فرمانے والے ہیں علاوہ ازیں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے خصائص ومناقب سے آشنائی مطلوب و مرغوب ہے ، شاید اس کے جواب کی طر ف'' اس کتاب میں ''کہہ کر وہ اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کے بیان کا موقع کتب فضائل میں ہے کتب فقہ میں نہیں۔
فــــ ! :معروضۃ علی العلامۃ القھستانی ۔
وفیہ فــــــ۲ ان الطالب ربما یطلع علی حدیث الصحاح انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم حتی نفخ فاتاہ بلال فاٰذنہ بالصّلاۃ فقام وصلی ولم یتؤضا۲؎ فینبغی اعلامہ ان ھذا من خصائصہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم۔
مگر اس پر یہ کلام ہے کہ طالب علم صحاح کی اس حدیث سے آشنا ہوگا کہ: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو نیند آئی یہاں تک کہ سونے کی آواز آئی پھر حضرت بلال نے حاضر ہو کر نماز کی اطلاع دی تو سرکار نے اٹھ کر نماز ادا کی اور وضو نہ فرمایا ،تو اسے یہ بتانا چاہئے کہ یہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کےخصائص میں سے ہے ۔
فــــ ۲ : معروضۃ اخری علیہ۔
(۲؎صحیح البخاری کتاب الوضوء باب التخفیف فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶)
(صحیح البخاری کتاب الاذان باب وضوء الصبیان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۹)
ثـم من فــــــ المتفرع علی ان النوم نفسہ لیس ناقض ما فی حاشیۃ العلامۃ احمد ابن الشلبی علی التبیین سئلت عن شخص بہ انفلات ریح ھل ینتقض وضوؤہ بالنوم فاجبت بعدم النقض بناء علی ماھو الصحیح ان النوم نفسہ لیس بناقض وانما الناقض مایخرج ومن ذھب الی ان النوم نفسہ ناقض لزمہ نقض وضوء من بہ انفلات الریح بالنوم واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱؎ اھ ۔
پھر اس مسئلہ پر کہ نیند بذات خود ناقض نہیں ، علامہ احمد ابن الشلبی کے حاشیہ تبیین الحقائق کا یہ کلام متفر ع ہے وہ لکھتے ہیں : مجھ سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جوانفلات ریح ( برابر ہوا چھوٹتے رہنے) کا مریض ہے کہ نیند سے اس کا وضو ٹوٹے گا یا نہیں ؟ میں نے جواب دیا کہ نہ ٹوٹے گا اس بنیاد پر کہ صحیح یہی ہے کہ نیند خود ناقض نہیں ، ناقض وہی خارج ہونے والی ریح ہے اور جس کا مذہب یہ کہ نیند خود ناقض ہے اس کو اس کا قائل ہونا لازم ہے کہ جو انقلات ریح کا مریض ہے اس کا وضو نیند سے ٹوٹ جائے گا ، واللہ تعالی اعلم اھ۔
فـــ:مسئلہ جسے ریح کا عارضہ حد معذوری تک ہو اس کا وضو سونے سے نہ جانا چاہیئے۔
(۱ ؎ حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۵۳)
(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ فصل ینقض الوضوء دار الکتب العلمیۃ بیروت ص ۹۰)
ونقلہ ط علی مراقی الفلاح فاقرلکن قال فی النھر ینبغی ان یکون عینہ ای النوم ناقضا اتفاقا فیمن فیہ انفلات ریح اذمالا یخلو عنہ النائم لوتحقق وجودہ لم ینقض فالمتوھم اولی ۱؎ اھ نقلہ ش۔
اسے علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں نقل کر کے بر قرار رکھا ۔ لیکن النہر الفائق میں ہے کہ جسے انفلات ریح کا مرض ہے اس کے حق میں خود نیند کے ناقض ہونے کا حکم بالاتفاق ہونا چاہئے اس لئے کہ سونے والا (بطور ظن) جس چیز سے خالی نہیں ہوتا اگر اس کا وجو د متحقق ہوتو ناقض نہیں پھر متوہم تو بدرجہ اولی نہ ہوگا اھ۔ اسے علامہ شامی نے نقل کیا ۔
(۱؎ النہر الفائق کتاب الطہارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۶)
(رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نوم من بہ انفلات ریح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۹۵)
اقول ظاھرہ فـــ یشبہ المتناقض فان مفاد التعلیل عدم النقض اذلما علمنا ان النوم لاینقض بنفسہ بل لما یتوھم فیہ وھھنا محققہ لاینقض فماظنک بالموھوم وجب الحکم بعدم النقض لکن محط نظرہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی استبعاد ان یصلی الرجل العشاء فی اول الوقت فینام ولا یزال مستغرقا فی النوم طول اللیل الی قبیل الصباح ثم یقوم کما ھو فیجعل یصلی التھجد ولا یمس ماء فاضطر الی الحکم بجعل النوم نفسہ ناقضافی حقہ۔
اقول اس کلام کا ظاہر گویا تنا قض کاحامل ہے حامل ہے اس لئے کہ ( مدعایہ ہے کہ ناقض ہو اور ) تعلیل کا مفاد یہ ہے کہ ناقض نہ ہو ، کیوں کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ نیند بذات خو د ناقض نہیں بلکہ اس کی وجہ سے جو نیند کی حالت میں متوہم ہے ، او ریہاں وہی چیز جب تحقیقی طور پر موجود ہے او رناقض نہیں تو موہوم کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ ضروری ہے کہ ناقض نہ ہونے ہی کا حکم ہو ۔ لیکن صاحب نہر رحمہ اللہ تعالی عنہ کا مطمع نظر اس امر کو بعید قرار دینا ہے کہ وہ شخص اول وقت میں عشا کی نماز ادا کر کے سوجائے اور رات بھر صبح کے ذ را پہلے تک نیند میں مستغر ق رہے پھر اٹھ کر ویسے ہی نماز تہجد پڑھنے لگے اور پانی کو ہاتھ بھی نہ لگائے اس کے لئے ناچار اس کے حق میں نیند کو ناقض قرار دینے کا حکم کیا ۔
فـــــ : تطفل علی النھر
اقول کیف یعدل عن حق معول لمجرد استبعاد لاجرم ان قال الشامی بعد نقلہ'' فیہ نظر والاحسن مافی فتاوی ابن الشلبی ۱؎ اھ''۔
اقول محض ایک استبعا د کے باعث حق معتمد سے انحراف کیسے ہوسکتا ہے؟ اسی حقیقت کے پیش نظر علامہ شامی نے کلام نہر نقل کرنے کے بعد اسے محل نطر بتا یا :''اور کہا کہ احسن وہ ہے جو ابن شلبی کے فتاوی میں ہے ''اھ۔
(۱؎رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نوم من بہ انفلات ریح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۹۵)
اقــول ولا تظن ان النوم مظنۃ الانتشار والانتشار مظنۃ خروج المذی فان المظنۃ الثانیۃ غیر مسلمۃ لعدم الغلبۃ ولذا قال فی الحلیۃ اذالم یکن الرجل مذأ فالانتشار لایکون مظنۃ تلک البلۃ ۲؎ اھ
اقول یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ نیند میں انتشار آلہ کا غالب گمان ہوتا ہے اور انتشار میں مذی نکلنے کا گمان ہوتا ہے (اس گمان کی بنا پر اس کی نیند کو ناقض ہونا چاہئے ، مگر یہ خیال درست نہیں ) اس لئے کہ دوسرا مظنہ (خروج مذی کا گمان) قابل تسلیم نہیں کیوں کہ غالب و اکثر اس کا عد م وقوع ہے ، اسی لئے حلیہ میں فرمایا جب مرد کثیر المذی نہ ہو تو انتشار آلہ اس تری کا مظنہ نہیں اھ۔
(۲؎؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
ولذا صرحوا بعدم سنیۃ الاستنجاء من النوم کما فی الدر وغیرہ فالاظھر ماذکر ابن الشلبی ولیتأمل عندالفتوی فانہ شیئ لانص فیہ عن الائمۃ واللّٰہ المرجو لکشف کل غمۃ ولنسم ھذا التحریر ''نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم'' والحمدللّٰہ علی ماعلم وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا واٰلہٖ وصحبہ وسلم واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اسی لئے نیند سے استنجاکے مسنون نہ ہونے کی تصریح کی گئی ہے جیسا کہ درمختار وغیر ہ میں ہے ، تو اظہر وہی ہے جو ابن الشلبی نے ذکر کیا، مگر وقت فتوی اس پر تامل کی ضرورت ہے کیو ں کہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے بارے میں ائمہ سے کوئی نص نہیں ، اور خداہی سے ہر مشکل کے ازالہ کی امید ہے مناسب ہے کہ ہم اس تحریر کو نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم ،۱۳۲۵ ھ(آسانی سے دستیاب لوگو ں کی وہ گم شدہ چیز کہ وضو کس نیند سے لازم ہوتا ہے ) سے موسوم کریں ، اور خداہی کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمائی ،اور اللہ تعالی کی رحمت اور سلامتی نازل ہو ہمارے آقا اور ان کی آل واصحاب پر ، واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ،(ت)
رسالہ
نبہ القوم ان الوضوء من ایّ نوم ختم ہوا
ختم ہوا
جلد اول کا حصّہ اول ختم ہوا
حصہ دوم رسالہ '' خلاصۃ تبیان الوضوء'' سے شروع ہو رہا ہے