Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
122 - 123
وتبعہ ولدہ السید ابو السعود لکن استثنی الاغماء والغشی بدلیل ماعن المبسوط قال واصرح منہ ماوجدتہ بخط شیخنا (ای ابیہ) حیث قال ونوم الانبیاء لاینقض واغماؤھم وغشیھم ناقض ۱؎ اھ قال والحاصل ان ماذکرہ القھستانی من تعمیم عدم النقض بالنسبۃ لما عدا الاغماء والغشی والایلزم ان یکون کلامہ منافیا لما سبق عن المبسوط۲؎ اھ
اس کلام پر ان کے فرزند سید ابو السعود نے بھی ان کا تباع کیا مگر عبارت مبسوط کے پیش نظر اغماء اور غشی کا استثنا ء کیا اور فرمایا اس سے زیادہ صریح وہ ہے جو میں نے اپنے شیخ یعنی اپے والد کی تحریر میں پایا انہوں نے لکھا ہے کہ انبیاء کی نیند ناقض نہیں اور ان کا اغما اور غشی ناقض ہے اھ- انہوں نے کہا کہ حاصل یہ ہے کہ قہستانی نے وضو نہ جانے کا حکم جو عام بتایا  ہے وہ اغما و غشی کے ماسوا کے لئے ہے ورنہ لازم آئے گا کہ ان کا کلام مبسوط کی سابقہ عبارت کے مخالف ہو ا ھ۔
 (۱؎ فتح المعین     کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/ ۴۷)

(۲؎ فتح المعین    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۴۷)
ورأیتنی کتبت علیہ اقول اولافــــــ۱ لاغروفی المنافاۃ بعد اختلاف الروایات وثانیا لایظھر ولن یظھر فــــ۲وجہ اصلایفید النقض بالغشی والاغماء لابالفضلات بل الظاھر ان الغشی والاغماء لابالفضلات بل الظاھر ان الغشی والاغماء مثل النوم لان النقض بھما انما ھو حکما لما عسی ان یخرج فالظاھر عدم نقض وضوئھم صلی اللّٰہ تعالٰی علیھم وسلم بھما مثلہ وان قیل بالنقض بمثل البول لالانہ منھم نجس حقیقۃ بل لانہ نجس فی حقہم خاصۃ لعظم شانھم وعلو مکانھم علیھم الصلاۃ والسلام ابدا من رحمانھم۱؎ اھ۔
میں نے اس پر یہ حاشیہ لکھا ہے اقول ،اولا روایات میں اختلاف ہونے کی صورت میں اگر منافات ہوگئی تو کوئی حیرت کی بات نہیں ثانیا کوئی ایسی وجہ ظاہر نہیں اور نہ ہرگز کبھی ظاہر ہوگی جویہ افادہ کر ے کہ فضلات سے تو وضو نہ جائے اور غشی واغما سے چلا جائے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ غشی اور اغما نیند کی طر ح ہیں اس لئے کہ ان دونوں سے وضو ٹوٹنے کا حکم خروج ریح کے گمان غالب کے باعث ہے تو ظاہر یہ ہے۔ کہ نیند کی طر ح ان دونوں سے بھی حضرات انبیاء صلی اللہ تعالی علیہم  وسلم کا وضو نہ جائے ، اگر چہ پیشاب جیسی چیز سے وضوجانے کا حکم کیا جائے اس وجہ سے نہیں کہ ان سے یہ حقیقۃً نجس ہے بلکہ ان کی عظمت شان او ر بلندی مرتبت کی وجہ سے خاص ان کے حق میں حکما نجس ہے ان پر ان کے رب رحمن کی طر ف سے دائمی درود و سلام ہو۔ اھ حاشیہ ختم
فـــ۱: تطفل علی سید ابو السعود ۔  فــــ۲: تطفل اخر علیہ۔
 (۱؎ حواشی فتح المعین للامام احمد رضا    قلمی فوٹو  ص۱)
ثم رأیت العلامۃ ط نقل فی حاشیۃ المراقی بعد جزمہ ان لانقض من الانبیاء علیھم الصّلاۃ والسلام (ماینحو منحی بعض ماذکرت حیث قال) بحث فیہ بعض الحذاق بانہ اذا کان الناقض الحقیقی المتحقق غیر ناقض فالحکمی المتوھم اولی علی ان مافی المبسوط لیس بصریح ولوسلم فیحمل علی انہ روایۃ ۲؎ اھ واعتمد فی حاشیۃ الدر مامشی علیہ ابو السعود قال ''وظاھرہ ان الاغماء والغشی نفسھما ناقضان لاما لایخلوان  عنہ والا لکانا غیرناقضین فی حقھم ایضا۳؎ اھ''
پھر میں نے دیکھا کہ علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں پہلے تو اس پر جز م کیا کہ کسی چیز سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو نہ جاتا پھر کچھ ویسا ہی کلام ذکر کیا جو میں نے لکھا ،وہ فرماتے ہیں اس میں بعض ماہرین نے بحث کی ہے کہ جب ناقض حقیقی متحقق ناقض نہیں تو حکمی متوہم بدرجہ اولی نہ ہوگا علاوہ ازیں مبسوط کی عبارت صریح نہیں اگر چہ مان بھی لی جائے تو اس پر محمول ہوگی کہ وہ ایک روایت ہے اھ اور انہوں نے درمختار کے حاشیہ میں اس پر اعتماد کیا ہے جس پر ابو السعود گئے ، لکھتے ہیں ،'' اور ظاہر یہ ہے کہ اغما وغشی بذات خود حدث ہیں اس ظن ریح کے با عث نہیں جس سے یہ دونوں خالی نہیں ہوتے ورنہ ان حضرات کے حق میں یہ دونوں بھی  ناقض نہ ہوتے ۔اھ''
 (۲؎حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح       فصل ینقض الوضوء         دار الکتب العلمیہ بیروت      ص۹۰و۹۱ )

(۳؎ ؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار      کتاب الطہارۃ          المکتبۃ العربیۃ کو ئٹہ       ۱/ ۸۲)
اقول ھذا فــــــ ان تم یصلح جوابا عن بحث بعض الحذاق لکن فــــــ۱ الذی علیہ کلمات العلماء عدھما کالنوم من النواقض الحکمیۃ وھو مفاد الھدایۃ حیث علل الاغماء بالاسترخاء ونقل العلامہ ش عن ابن عبدالرزاق عن المواھب اللدنیۃ نبہ السبکی علی ان اغماء ھم فــــــ۲ علیھم الصلاۃ والسلام یخالف اغماء غیرھم وانما ھو عن غلبۃ الاوجاع للحواس الظاھرۃ دون القلب وقد ورد تنام اعینھم لاقلوبھم فاذا حفظت قلوبھم من النوم الذی ھو اخف من الاغماء فمنہ بالاولی ۱؎ اھ وبہ یتجہ البحث۔
اقول یہ کلام اگر تام ہو تو بعض ماہرین کی اس بحث کا جواب ہوسکتا ہے - لیکن کلمات علماء جس پر ہیں وہ یہی ہے کہ ان دونوں کا شمار نواقض حکمیہ میں ہے یہی ہدایہ کا بھی مفاد ہے اس لئے کہ اغما کے ناقض ہونے کی علت -استر خا بتا ئی علامہ شامی نے ابن عبدالرزاق کے حوالے سے مواہب لدنیہ سے نقل کیا ہے کہ علامہ سبکی نے اس پر تنبیہ فرمائی کہ انبیاء علیہم السلام کو غش آنا دوسروں کے بر خلاف ہے ان کا اغما قلب پر نہیں بلکہ صرف حواس ظاہر ہ پر درد وتکلیف کے غلبہ سے ہوتا ہے اور حدیث میں وارد ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتے تو جب ان کے قلب اغما سے ہلکی چیز نیند سے محفوظ رکھے گئے تو اغما سے بدرجہ اولی محفوظ ہوں گے اھ اس سے اس بحث کی وجہ اور دلیل ظاہر ہوجاتی ہے ۔
فــــــ:معروضۃ علی العلامۃ ط ۔ 

فــــــ۱:مسئلہ ، غشی وبیہوشی سے وضو جاتا ہے مگر یہ خود ناقض وضو نہیں بلکہ اسی ظن خروج ریح وغیرہ کے سبب سے ۔

فــــ۲ : غشی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے جسم ظاہری پر بھی طاری ہوسکتی دل مبارک اس حالت میں بھی بیدار وخبر دار رہتا ۔
 (۱؎ردالمحتار      کتاب الطہارۃ      مطلب نوم الانبیاء غیر ناقض     دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۹۷)
قلت والعجب فــــــ۳ ان السید ط ذکرہ ھذا الاستظھار عاد فاورد البحث ثم قال ھذا ینا فی ما ذکرہ الملا علی القاری فی شرح الشفاء من الاجماع علی انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی نواقض الوضوء کالامۃ الا ماصح من استثناء النوم لانہ کان صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم تنام عیناہ ولاینام قلبہ وقد حکی فی الشفاء قولین بالطھارۃ والنجاسۃ فی الحدثین منہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎ اھ۔
قلت عجب یہ کہ سید طحطاوی اس استظہار کے بعد پلٹ کر پھر وہی بحث لائے ، پھر کہا:'' یہ اس کے منافی ہے جو ملا علی قاری نے شرح شفا میں بیان کیا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نواقض وضو کے حکم میں امت کی طر ح ہیں مگر نیند کااستثنا ء بطریق صحیح ثابت ہے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل نہ سوتا -اور شفا میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے دونوں حدث سے متعلق دونوں قول طہارت اور نجاست کے حکایت کئے ہیں اھ۔
فــــ۳ : معروضۃ اخری علی العلامۃ ط
 (۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار     کتاب الطہارۃ      المکتبۃ العربیہ کوئٹہ     ۱/ ۸۲)
اقول والقول الفصل عندی ان لانقض منھم صلی اللّٰہ تعالٰی علیھم وسلم بالنوم والغشی ونحوھما مما یحکم فیہ بالحدث لمکان الغفلۃ، واما النواقض الحقیقیۃ منافتنقض منھم ایضا صلوات اللّٰہ تعالٰی علیھم وسلامہ علیھم لالانھا نجسۃ کلا بل ھی فــــــ طاھرۃ بل طیبۃ حلال الاکل والشرب لنا من نبینا صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کما دل علیہ غیر ماحدیث بل لانھا نجاسۃ فی حقہم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہم وسلم لرفعۃ مکانھم ونھایۃ نزاھۃ شانھم کما اشرت الیہ فھذا مانختارہ ونرجوا ن یکون صوابا ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۔
اقول میرے نزدیک قول فیصل یہ ہے کہ نیند ، غشی اور ان دونوں جیسی چیز یں جن میں جائے غفلت کے باعث حدث کا حکم ہوتا ہے ایسی چیزوں سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو نہ جاتا ، لیکن ہمارے حق میں جونواقض حقیقیہ ہیں وہ ان حضرات صلوات اللہ تعالی و سلامہ علیہم کے حق میں بھی ناقض ہیں اس وجہ سے نہیں کہ نجس ہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ طاہر بلکہ طیب ہیں ہمارے لئے اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ان کا کھانا پینا حلال ہے ، جیسا کہ متعد د حدیثوں سے ثابت ہے ، بلکہ اس لئے ناقض ہیں کہ ان چیزوں کے لئے ان حضرات کے حق میں حکم نجاست ہے جس کا سبب ان کی رفعت مکان او رانتہائی نزاہت شان ہے جیسا کہ میں نے اس کی طر ف اشارہ کیا ، یہی وجہ ہے جسے ہم اختیار کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان شاء اللہ تعالی حق یہی ہوگا۔

فـ : مسئلہ حضو ر سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے فضلات شریفہ مثل پیشاب وغیرہ سب طیب وطا ہر تھے جن کا کھانا پینا ہمیں حلال وبا عث شفا وسعادت مگر حضور کی عظمت شان کے سبب حضو رکے حق میں حکم نجاست رکھتے ۔
والعجب ان العلامۃ القھستانی مع تصریحہ بما مرجعل ھذا البحث مستغنی عنہ فقال ولا نقضاء زمن الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام لایحتاج فی ھذا الکتاب الی ان یقال ان نومھم غیر ناقض ۱؎ اھ
اور تعجب ہے کہ علامہ قہستانی نے سابقہ تصریح کے باوجود یہ کہا کہ اس بحث کی ضرورت نہیں ان کے الفاظ یہ ہیں :'' چوں کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا زمانہ گزرگیا اس لئے اس کتاب میں یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ ان کی نیند ناقض نہیں ''اھ۔
 (۱ ؎ جامع الرموز 	کتاب الطہارۃ	 مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران 	 ۱/ ۳۷)
Flag Counter