| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
اقول لقدثقلت فـــ ھذہ الکاف علی واحسن منہ قول مرقاۃ الصعود ان ھذا کان من المکربہ لیستیقظ القلب فی الفجور والمفسدۃ لیکون ابلغ فی عقوبتہ بخلاف استیقاظ قلب المصطفٰی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فانہ فی المعارف الالھٰیۃ ومصالح لاتحصی فھو رافع لدرجاتہ ومعظم لشانہ ۱؎ اھ
اقول یہ'' جیسے'' مجھ پر گراں گزررہاہے ، اس سے بہتر مرقاۃ الصعود میں اما م جلال الدین سیوطی کی عبارت ہے وہ لکھتے ہیں :''یہ اس کے ساتھ خفیہ تدبیر تھی کہ فساد وفجور میں اس کا دل بیدار رہے تا کہ اس کاعقاب بھی سخت تر ہو بخلاف قلب مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بیدار ی کے کہ وہ معارف الہیہ اور مصالح بے حد و شمارمیں ہوتی وہ ان کے درجات کی بلندی اور شان گرامی کی عظمت کا سبب تھی اھ۔
فـــــ: تطفل علی الامام القاضی عیاض والعلامۃ علی القاری ۔
(۱؎ مرقاۃ الصعود الی سنن ابی داؤد للسیوطی)
وبالجملۃ اذا جاز ھذا للدجال ولابن صیاد استد راجالھما فلان یجوز لکبراء الامۃ بوراثۃ المصطفٰی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اولی واحری۔
الحاصل جب یہ بطور استدراج دجال اور ابن صیاد کے لئے ہوسکتا ہے تو مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی وراثت میں ان کی امت کے بزرگوں کے لئے بدرجہ اولی ہوسکتاہے ۔
ثم رأیت العارف باللّٰہ سیدی عبدالوھاب الشعرانی قدس سرّہ الربانی نقل فی المبحث الثانی والعشرین من کتاب الیواقیت والجواھر عن سیدی الشیخ محمّد المغربی رحمہ اللّٰہ تعالٰی انہ کان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ یقول ان من ادعی رؤیۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کما رأتہ الصّحابۃ فھو کاذب وان ادعی انہ یراہ بقلبہ حال کون القلب یقظانا فھذا لایمنع منہ وذلک لان من بالغ فی کمال الاستعداد بتنطیف القلب من الرذائل المذمومۃ حتی من خلاف الاولی صار محبوباللحق تعالٰی واذا احب الحق تعالٰی عبدا کان فی نومہ من کثرۃ نورانیۃ قلبہ کانہ یقظان ۱؎ الخ
پھر میں نے دیکھا کہ عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی نے اپنی کتاب'' الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر'' کے بائیسویں مبحث میں سیدی شیخ محمد مغربی رحمہ اللہ تعالی سے نقل کیا ہے کہ یہ حضرت شیخ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے کہ جو یہ دعوی کرے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اس طر ح دیکھا ہے جیسے صحابہ کرام نے دیکھا تو وہ جھوٹا ہے- اور اگریہ دعوی کرے کہ وہ قلب کے بیدار ہونے کی حالت میں اپنے قلب سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتا ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اس لئے کہ جو شخص بری عادات یہاں تک کہ خلاف اولی سے بھی دل کو صاف ستھراکر کے کمال استعداد پیدا کرلے وہ حق تعالی کا محبوب بن جاتا ہے اور جب حق تعالی کسی بندے کو محبوب بنالیتا ہے تو وہ اپنی نورانیت قلب کی فراوانی کی وجہ سے خواب کی حالت میں بھی گویا بیدار ہوتا ہے الخ۔اھ۔
(۱؎ الیواقیت والجواھر المبحث الثانی والعشرون دارا حیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۳۹)
ثم رأیت وللّٰہ الحمد ماھو اصرح قال سیدنا الشیخ الاکبر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی الباب الثامن والتسعین من الفتوحات المکیۃ من شرط الولی الکامل ان لاینام لہ قلب بحکم الارث لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وذلک لان الکامل مطالب بحفظ ذاتہ الباطنۃ عن الغفلۃ کما یحفظ ذاتہ الظاھر۲؎ اھ ونقلہ المولی الشعرانی فی الکبریت۳؎ الاحمر مقرا علیہ واللّٰہ تعالٰی اعلم
پھرمیں نے اس سے بھی زیادہ صریح دیکھا ۔ وللہ الحمد- سیدنا شیخ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ فتوحات مکیہ کے باب ۹۸میں لکھتے ہیں: ولی کامل کی شرط یہ ہے کہ بحکم وراثت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اس کا قلب نہ سوئے اس لئے کہ کامل سے اس امر کا مطالبہ ہے کہ وہ اپنی ذات با طن کو غفلت سے محفوظ رکھے جیسے اپنی ذات ظاہر کو بیداری کے ذریعہ محفوظ رکھتاہے اھ- اسے امام شعرانی نے کبر یت احمر میں نقل کر کے بر قرار رکھا ہے واللہ تعالی اعلم
(۲؎الفتوحات المکیۃ الباب الثامن والتسعون فی معرفۃ مقام السھر دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۱۸۲) (۳؎ الکبریت الاحمر مع ا لیواقیت والجواہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۲۸و۲۲۹)
ثم وقع فـــــ الخلف بینھم فی سائر النواقض سوی النوم ھل تکون ناقضۃ من الانبیاء علیھم الصّلٰوۃ والسلام ام لا۔
پھر ان حضرات کے درمیان یہ اختلاف ہوا کہ نیند کے سوا دیگر نواقض سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو جاتا یا نہیں ؟
فــــ: مسئلہ نیند کے سوا باقی اور نواقض سے بھی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو جاتا یا نہیں ، اس میں اختلاف ہے ، علامہ قہستانی وغیرہ نے فرمایا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو کسی طرح نہ جاتا اور مصنف کی تحقیق کہ نواقض حکمیہ مثل خواب و غشی سے نہ جاتا اور نواقض حقیقیہ مثل بول وغیرہ سے ان کی عظمت شان کے سبب جاتا رہتا ۔
اقول ای ماامکن منھا علیھم لاکجنون فـــــ۱ اوقھقھۃفـــــ۲ فی الصلاۃ وماضاھا ھما ممافـــــ۳ ھو محال علیھم صلوات اللّٰہ تعالٰی وسلامہ علیھم ففی الدر المختار العتہ فـــــ۴ لاینقض کنوم الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام وھل ینقض اغماؤھم وغشیھم ظاھر کلام المبسوط نعم ۱؎ اھ واعترضہ السید علی الازھری بعبارۃ القہستانی لانقض من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام فلاحاجۃ الی تخصیص النوم بعدم النقض وحینئذ یکون وضوؤھم تشریعا للامم۲؎ اھ۔
اقول مراد وہ نواقض ہیں جو حضرات انبیاء علیہم السلام کے لئے ممکن ہیں وہ نہیں جوان کے لئے محال ہیں صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہم ، جیسے جنون یا نماز میں قہقہہ اور اس کے مثل- درمختار میں ہے عتہ ( جنون سے کم درجہ کا ایک دماغی خلل) کسی کے لئے ناقض وضو نہیں ، جیسے انبیاء علیہم الصلوہ والسلام کی نیند ناقض وضو نہیں - ان حضرات کے لئے اغماء اور بیہوشی ناقض ہے یا نہیں ؟ مبسوط کا کلام اثبات میں ہے اھ - اس پر سید علی ازہری نے قہستانی کی یہ عبارت پیش کی :''انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو کسی طر ح نہ جاتا''- اور درمختار پر اعتراض کیا کہ جب حکم عام ہے تو نیند کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی ضرورت نہیں- اور اس صورت میں ان حضرات کا وضو فرمانا امتوں کے لئے شریعت جاری کرنے اور قانون بنانے کے لئے تھا ''اھ۔
فــــ۱:مسئلہ جنون سے وضو جاتا رہتا ہے ۔ فــــ۲:مسئلہ نماز جنازہ کے سوا اور نماز میں بالغ آدمی جاگتے میں ایسا ہنسے کہ اور وں تک ہنسی کی آواز پہنچے تو وضو بھی جاتا رہے گا ۔ فــ۳:مسئلہ بعض نواقض وضو ء انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے لئے یوں ناقض نہیں کہ ان کا وقوع ہی ان سے محال ہے جیسے جنون یا نماز میں قہقہہ ۔ فـ۴:مسئلہ بوہر اہو جانا یعنی دماغ میں معاذ اللہ خلل پیدا ہو رہے فاسد ہوجائے آدمی کبھی عاقلوں کی سی باتیں کرے کبھی پاگلوں کی سی ، مگر مجنون کی طر ح لوگوں کو مارتا گالیاں دیتا نہ ہوتو اس حالت کے پیدا ہونے سے وضو نہیں جاتا ۔
(۱؎الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۷) (۲؎ ؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارت المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱/ ۸۲ فتح المعین کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۴۷)