Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
120 - 123
الخامسۃ النوم فــ۱ لیس بنفسہ حدثا بل لما عسی ان یخرج وعلیہ العامۃ بل حکی فی التوشیح الاتفاق علیہ وھو الحق لحدیث ان العین وکاء السہ ۱؎ ولذا لم ینتقض فـــ۲ وضوؤہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بالنوم کما ثبت فی الصحیحین ۱؎ عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما
افادہ خامسہ: نیند بذات خود حدث نہیں بلکہ خروج ریح کا گمان غالب ہونے کی وجہ سے حدث ہے اسی پر عامہ علماء ہیں بلکہ تو شیح میں اس پر اجماع واتفاق کی حکایت کی ہے او ریہی حق ہے اس لئے کہ حدیث میں ہے کہ آنکھ مقعد کا بندھن ہے اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا وضو نیند سے نہیں ٹوٹتا جیسا کہ صحیحین (بخاری ومسلم) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ثابت ہے ۔
ف ۱:مسئلہ ، نیند خود ناقض وضو نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ سوتے میں خروج ریح کا ظن غالب ہے ۔

ف۲:مسئلہ ، انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضوسونے سے نہ جاتا ۔
 (۱؎ تاریخ بغداد     ترجمہ بکر بن یزید ۳۵۲۷    دار الکتاب العربی بیروت     ۷ /۹۲

(   سنن الدار قطنی باب فیما روی فیمن نام قاعدا الخ حدیث ۵۸۶    دار المعرفہ بیروت        ۱ /۳۷۷)

 (۱ ؎ صحیح البخاری کتا ب الوضوء     ۱/ ۲۷و۳۰    و کتاب الاذان     ۱/ ۱۱۹ وابواب الوتر ۱/ ۱۳۵  قدیمی کتب خانہ کراچی 

مسند احمد بن حنبل     عن ابن عباس     المکتب الاسلامی بیروت     ۱/ ۲۸۳)

صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافرین         باب صلوۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ ودعائہ باللیل     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲۶۰)
وذلک لقولہ ف صلی اللّٰہ علیہ تعالٰی علیہ وسلم ان عینی تنامان ولاینام قلبی رواہ الشیخان ۲؎عن ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا وعدوہ من خصائصہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کما فی الفتح عن القنیۃ ۳؎
اور اس کا سبب حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد ہے بیشک میری آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا اسے شخین ( بخاری ومسلم) نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ااور اسے علماء نے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے خصائص سے شمار کیا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں قنیہ سے منقول ہے ۔
ف: انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی آنکھیں سوتی ہیں دل کبھی نہیں سوتا ۔
 (۲؎ صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافرین     باب صلوۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللہ تعالی علیہ ودعائہ باللیل    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲۵۴)
قلت ای بالنسبۃ الی الامۃ والا فالا نبیاء جمیعا کذلک علیھم الصلاۃ والسلام لحدیث الصحیحین عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الانبیاء تنام اعینھم ولاتنام قلوبھم ۱؎ فاندفع فــــ مافی کشف الرمز ان مقتضی کونہ من الخصائص ان غیرہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام لیس کذلک ۲؎ اھ
قلت یعنی امت کے لحاظ سے سرکار کی یہ خصوصیت ہے ورنہ تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا یہی وصف ہے اس لئے کہ صحیحین میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتے ، تو (خصوصیت بہ نسبت امت مراد لینے سے ) وہ شبہ دور ہوگیا جو کشف الرمز میں پیش کیا ہے کہ اس امر کے خصائص سرکار سے ہونے کا متقضایہ ہے کہ سرکار اقد س صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ السلام کا یہ حال نہیں اھ
فــــ ۱: تطفل علی العلامۃ المقدسی۔
 (۱؎ صحیح البخاری کتاب المناقب باب کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم تنام عینہ الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۰۴

کنز العمال بحوالہ الدیلمی عن انس حدیث ۳۲۲۴۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ / ۴۷۷)

(۲؎ فتح المعین بحوالہ کشف الرمز کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷)
وھل یجوز ان فــــ۲ یکون ذلک لاحد من اکابر الامۃ وراثۃ منہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال المولی ملک العلماء بحرالعلوم عبدالعلی محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی الارکان الاربعۃ ان قال احد ان کان فی اتباع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من بلغ رتبۃ لایغفل فی نومہ بقلبہ انما تغفل عیناہ بیمن اتباعہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کالشیخ الامام محی الدین عبدالقادر الجیلانی قدس سرّہ وغیرہ ممن وصل الی ھذہ الرتبۃ وان لم یصل مرتبتہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لم یکن قولہ بعیدا عن الصواب فافھم ۱؎ اھ
کیایہ ہوسکتا ہے کہ سرکار اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی وارثت کے طور پر ان کی امت کے اکابر میں سے کسی کو یہ وصف مل جائے ؟

ملک العلمابحر العلوم مولانا عبدالعلی محمد رحمۃ اللہ تعالی ارکان اربعہ میں لکھتے ہیں : اگر کوئی یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے متبعین میں سے کوئی اس رتبہ کو پہنچ گیا تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کی برکت سے نیند میں اس کا دل غافل نہ ہوتا صرف اس کی آنکھیں غافل ہوتیں ، جیسے امام محی الدین شیخ عبدالقادر جیلا نی قدس سر ہ اور ان کے علاوہ وہ اکابر جن کا یہ وصف رہا ہو اگر چہ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے مرتبے تک ان کی رسائی نہ ہو، تو یہ قول حق سے بعید نہ ہوگا ، فافہم اھ۔
فــ۲: ملک العلماء بحر العلوم مولنا عبدالعلی نے فرمایا کہ اگر کہا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی وراثت سے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی یہ مرتبہ تھا کہ حضور کا وضو سونے سے نہ جاتا ، آنکھیں سوتیں دل بیدار رہتا ، اور اکابر اولیاء جو اس مرتبہ تک پہنچے ہوں اگر چہ حضور غوث اعظم کے مراتب تک نہیں پہنچ سکتے تو یہ کہنا حق سے بعید نہ ہوگا ، اور مصنف کا حدیث سے اس کی تائید کرنا ۔
 (۱؎ رسائل الارکان ، الرسالۃ الاولی فی الصلوۃ ، فصل فی الوضو، مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ، ص۱۸)
اقـول لیس من الشرع حجر فی ذلک انہ لایجوز الا لنبی والامرفیہ وجد انی یعلمہ من یرزقہ فلاوجہ للانکار وقداخرج الترمذی وقال حسن عن ابی بکرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یمکث ابو الدجال وامہ ثلثین عاما لایولد لھما ولد ثم یولد لہما غلام اعوراضر شیئ واقلہ منفعۃ تنام عیناہ ولاینام قلبہ ۲؎ الحدیث۔
اقول شریعت سے اس بارے میں کوئی روک نہیں کہ یہ نبی کے سوا اور کے لئے نہیں ہوسکتا ۔ یہ معاملہ وجدان کا ہے جسے یہ نصیب ہو وہی اس سے آشنا ہوگا تو انکار کی کوئی وجہ نہیں- ترمذی نے حسن بتاتے ہوئے -حضرت ابوبکرۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: دجال کا باپ اور اس کی ماں تیس سال تک اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں کوئی بچہ پیدانہ ہوگا پھر ان کے ایک لڑکا پیدا ہوگا جو ایک آنکھ کا ہوگا ہر چیز سے زیادہ ضرر والا اور سب سے کم نفع والا ، اس کی آنکھیں سوئیں گی اور اس کادل نہ سوئے گا ۔ الحدیث ۔
 (۲ ؎ رسائل الارکان الرسالۃ الاولی فی الصلوۃ فصل فی الوضو مکتبہ  اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۸)
وفیہ ولادۃ ابن صیادو قول والدیہ الیھودیین ولدلنا غلام اعوراضر شیئ واقلہ منفعۃ تنام عیناہ ولاینام قلبہ ۱؎ 

وفیہ قولہ عن نفسہ نعم تنام عینای ولا ینام قلبی۲؎
اور اس حدیث میں ابن صیاد کے پیدا ہونے اور اس کے یہودی ماں باپ کے یہ کہنے کا بھی ذکر ہے کہ ہمارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے جو ایک آنکھ کا ہے ہر چیز سے زیادہ ضرر والا اور سب سے کم نفع والا ، اس کی آنکھیں سوتی ہیں او راس کا دل نہیں سوتا - اور اس میں خود ابن صیاد کا اپنے متعلق یہ قول مذکورہے کہ ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا ۔
 (۱ ؎ سنن الترمذی   کتاب الفتن     باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد      حدیث ۲۲۵۵     دار الفکر بیروت     ۴ /۱۰۹)

(۲؎ سنن الترمذی    کتاب الفتن    باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد     حدیث ۲۲۵۵     دار الفکر بیروت    ۴/ ۱۰۹)
قال القاری قال القاضی رحمھما اللّٰہ تعالٰی ای لاتنقطع افکارہ الفاسدۃ عنہ عند النوم لکثرۃ وساوسہ وتخیلاتہ وتواتر مایلقی الشیطان الیہ کما لم یکن ینام قلب النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من افکارہ الصالحۃ بسبب ماتواتر علیہ من الوحی والالہام ۳؎اھ
مولانا علی قاری لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض رحہما اللہ تعالی نے فرمایا ، یعنی سونے کے وقت بھی اس کے فاسد خیالات کا سلسلہ اس سے منقطع نہ ہوگا کیونکہ اس کے لئے وسوسوں اور خیالات کی کثرت ہوگی متواتر و مسلسل شیطان اسے یہ سب القاکرتا رہے گا جیسے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا قلب ان کے صالح وپاکیزہ افکار سے خوابیدہ نہ ہوتا کیونکہ مسلسل ان پر وحی والہام ہوتا رہتا اھ۔
 (۳ ؎ مرقاۃ المفاتیح   کتاب الفتن   باب قصہ ابن صیاد  تحت الحدیث ۵۵۰۳     المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ    ۹/ ۴۳۴)
Flag Counter