| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
بل اقول وباللّٰہ التوفیق مسئلۃ التنور لاتلتئم علی ھذا ایضا لان تحقیق فــ۲ ھذا القول علی ماالھمنی ذوالطول ان الحالات ثلث وذلک ان نفس وجود الاسترخاء لازم النوم مطلقا ثم یبقی معہ بعض الاستمساک مالم یستغرق فاما غالبا کالنوم قائما او راکعا اوعلی ھیاۃ السنۃ ساجدا فان بقاء ہ علی تلک الھیات دلیل واضح علی غلبۃ الاستمساک اومغلوبا کالنوم قاعدا او راکبا وینتفی اصلا فی صورۃ الاضطجاع والاسترخاء ونحوھما فالاول لاینقض مطلقا والثالث ینقض من دون فصل ومنہ المتکیئ الی مالو ازیل سقط لان عدم سقوطہ لیس لبقاء شیئ من المسکۃ فیہ بل للسند کمیت یسند الی شیئ والثانی یفصل فیہ فان کان متمکن المقعدۃ لم ینقض لان التمکن یعارض غلبۃ الاسترخاء والانقض والنوم علی راس التنور جالسا متمکنا مدلیا من القسم الثانی قطعا دون الثالث اذلو انتفی التماسک لسقط بل کون الجلوس علی راس وطیس حام ربما یوجب تیقظ القلب اکثر مما لو کان حیث لامخافۃ فی السقوط فیکون التمکن مانعا للنقض وھو الموافق للضابطۃ ۔
بلکہ میں کہتا ہوں اور تو فیق خداہی کی طر ف سے ہے-- تنور کا مسئلہ اس سے بھی موافقت نہیں رکھتا -- اس کے لئے اس قول کی تحقیق-- جیسا کہ رب کریم نے میرے دل میں القا کی -- -یہ ہے کہ تین حالتیں ہوتی ہیں وہ یوں کہ نفس استرخاء تو نیند کے لئے مطلقا لازم ہے پھر استرخاء کے ساتھ کچھ بندش باقی رہتی ہے جب تک کہ استغراق نہ ہو ، اب یہ بندش یا تو غالب ہوتی ہے جیسے قیام یا رکوع یاسنت طریقہ پر سجدہ کی حالتوں میں سونا کیونکہ سونے والے کا ان حالتوں پر بر قرار رہنا اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ بندش غالب ہے ---یا یہ بندش مغلوب ہوتی ہے جیسے بیٹھے ہوئے یا سوار ہونے کی حالت میں سونا اور کروٹ لیٹنے ، چت لیٹنے اور ان دونوں جیسی صورتوں میں بندش بالکل ہی ختم ہوجاتی ہے پہلی صورت مطلقا ناقض نہیں ، اور تیسری صورت بغیرکسی تفصیل کے ناقض ہے اور اسی قسم میں وہ شخص داخل کیاجائے تو وہ گرپڑے ، کیونکہ اس کا نہ گرنابندش کے باقی رہ جانے کے باعث نہیں بلکہ محض ٹیک کی وجہ سے ہے جیسے مردے کو سہارے سے کھڑا کردیا جائے ، اور دوسری صورت میں تفصیل ہے اگر مقعد کو پوری طر ح جماؤ حاصل ہے تو ناقض نہیں اس لئے کہ استقرار غلبہ استرخاء کے معارض ہے ، اور ایسا نہ ہو تو ناقض ہے ، اورتنور کے کنارے بیٹھ کر اس میں پیر لٹکائے استقرار مقعد کے ساتھ سونا قطعا قسم دوم سے ہے قسم سوم سے نہیں اس لئے کہ بندش اگر ختم ہوجاتی تو گر جاتا بلکہ گرم تنور کے سرے پر بیٹھنا ایسی جگہ سے زیادہ بیدار قلبی کا موجب ہے جہاں گرنے کا اندیشہ نہ ہو تو بہ استقرار نقض وضو سے مانع ہوگا یہی ضابطہ کے مطابق ہے ۔
فـــ۲:تحقیق مناط النقض بالنوم علی مختارالھدایۃ
ولکن ھیبۃ تلک الکتب الکبار کانت تقعد فی عن الاجتراء علی انکارھذا الفرع حتی رأیت الامام ابن امیر الحاج الحلبی رحمہ اللّٰہ تعالٰی اوردہ فی الحلیۃ عن الخانیۃ ثم قال وھو غیر ظاھر بل الاشبہ عدم النقض لان مظنۃ الحدث من النوم مایتحقق معہ الاسترخاء علی وجہ الکمال والظاھر عدم وجود ذلک والا لسقط لفرض عدم المانع من استناد اوغیرہ ۱؎ اھ ومع ذلک احببت ان یجدد الوضوء ان وقع ذلک لانھا صورۃ نادرۃ فلا علینا ان نعمل فیھا بالاحتیاط بمعنی الخروج عن العہدۃ بیقین وان کان حقیقۃ الاحتیاط ھو العمل باقوی الدلیلین۔
لیکن ان بڑی بڑی کتابوں کی ہیت اس جزئیہ کے انکار کی جسارت سے مجھے روکتی تھی یہاں تک کہ میں نے امام ابن امیر الحاج حلبی رحمہ اللہ تعالی کو دیکھا کہ حلیہ میں یہ جزئیہ خانیہ سے نقل کیاپھر لکھا ، یہ غیر ظاہرہے بلکہ اشبہ ناقض نہ ہونا ہے اس لئے کہ مظنہ حدث (گمان حدث کا محل) وہ نیند ہے جس کے ساتھ استرخاء کامل طور پر متحقق ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایسا استرخاء کامل طور پر متحقق ہو او ر ظاہر یہ ہے کہ ایسا استرخامتحقق نہ ہوگا ورنہ گرجائے گا کیونکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ ٹیک لگانا یا اس طر ح کا اور کوئی مانع نہیں ہے ،اھ اس کے باوجود میں نے پسندیہ کیا کہ اگر یہ صورت واقع ہوجائے تو تجدید وضو کرلے کیونکہ یہ ایک نادر صورت ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ ہم احتیاط پر عمل کرلیں ، احتیاط کامعنی یہ کہ یقینی طور پر عہد بر آہوجائیں اگر چہ حقیقت احتیاط یہی ہے کہ قوی تر دلیل پر عمل ہو۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
ثم الذی سبق منہ الی ذھن الحلیۃ ان سبب الاسترخاء نفس الادلاء حیث قال فالقیاس علی ھذا یفید انہ لورکب علی اکاف علی الدابۃ فادلی رجلیہ من الجانبین کما یفعلہ بعضھم انہ ینقض وھو غیر ظاھر ۲؎ الخ
پھر اس جزئیہ سے صاحب حلیہ کا ذہن اس طر ف گیا کہ استرخا کا سبب خود پاؤں لٹکانا ہے اس طر ح کہ وہ فرماتے ہیں ، اس پر قیاس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر کسی جانور کے پالان پر سوار ہو کر دونوں جانب سے دونوں پاؤں لٹکالئے ، جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں تو وضو ٹوٹ جائے اور یہ غیر ظاہرہے الخ۔
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
قلت : ھکذا فی نسختی وھی سقیمۃ جدا والظاھر فادلی رجلیہ من احد الجانبین لان ھذا ھو الذی یفعلہ البعض دون العامۃ وھو المشابہ للا دلاء فی التنویر فسقط لفظ احد من قلم الناسخ۔
قلت : میرے نسخہ حلیہ میں اسی طر ح ہے اور یہ نسخہ بہت سقیم ہے ، ظاہر یہ ہے کہ عبارت اس طر ح ہوگی ، فادلی رجلیہ من احد الجانبین ، ایک جانب سے اپنے دونوں پاؤں لٹکائے ، اس لئے کہ اکثر کے بر خلاف بعض لوگ اسی طر ح کرتے ہیں اور یہی تنور میں پاؤں لٹکائے کے مشابہ بھی ہے تو کاتب کے قلم سے لفظ '' احد ''چھوٹ گیا ہے ۔
اقول : لکن یرد علیہ ان فـــ۱ الادلاء ان کان سببہ فالادلاء من الجانبین اولٰی لزیادۃ انفراج یحصل بہ فی المقعدۃ مع ان المصرح بہ فی الخانیۃ نفسھا والکتب قاطبۃ انہ ان نام علی ظھر الدابۃ فی سرج اواکاف لاینتقض وضوؤہ لعدم استرخاء المفاصل ۱؎۔اھ
اقول : لیکن اس پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں اول اگر استرخاکا سبب پاؤں لٹکانا ہے تو دو نوں جانب سے پاؤں لٹکانا بدرجہ اولی اس کا سبب ہوگا اس لئے کہ اس سے مقعد کو زیادہ کشادگی مل جاتی ہے باوجودیکہ خود خانیہ میں اور تمام کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے کہ اگر جانور کی پشت پر زین یا پالان میں سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ استرخائے مفاصل نہ ہوگا (جوڑ ڈھیلے نہ پڑیں گے )اھ
فـــ۱:تطفل علی الحلیۃ
(۱؎ فتاوی قاضی خان،تاب الطہارۃ ،صل فی النوم نو لکشور لکھنؤ ۱/ ۲۰ )
وثانیا قد قال فــ۲فی الخلاصۃ وغیرھا ان نام متربعا لاینقض الوضوء وکذا لونام متورکا وھو ان یبسط قدمیہ عن جانب ویلصق الیتیہ بالارض ۲؎ اھ
دوم خلاصہ وغیرہا میں ہے اگر چار زانو بیٹھ کر سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اسی طر ح اگر بطور تو رک بیٹھ کر سوگیا ، تورک کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں ایک طرف کو پھیلا دے اور سر ینوں کو زمین سے ملادے اھ۔
فـــ۲: تطفل اٰخر علیھا۔
(۲؎خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کویٹہ ۱ /۱۹)
فلا یدخل الادلاء المذکور فی ھذا التفسیر بل ھو امکن للمقعدۃ من بسط القدمین علی محل مستوکما لایخفی۔
تو کیا تنور میں پاؤں لٹکانے کی مذکورہ صورت اس صورت میں داخل نہ ہوگی بلکہ اس میں مقعد کو زیادہ قرار ہوگا بہ نسبت اس کے کہ دونوں پاؤں کسی ہموار جگہ پھیلا ئے جائیں ، جیسا کہ واضح ہے ۔
بل الوجہ عندی ان المراد تنورحام فیہ شیئ من الجمرات اوبقیۃ من حرارۃ الایقاد کما اومأت الیہ فان الحر یوجب الارخاء ولذا عبروا بالتنور دون الکرسی مع کون الجلوس علی التنور بھذا الوجہ فی غایۃ الندور علی الکرسی معھود مشہور واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
بلکہ میرے نزدیک وجہ یہ ہے کہ مراد ایسا گرم تنور ہے جس میں کچھ انگارے ہیں یا بھڑ کانے سے جو گرمی پیدا ہوئی تھی کچھ باقی رہ گئی ہے جیسا کہ میں نے اس کی طر ف اشارہ کیا اس لئے کہ گرمی اعضامیں ڈھیلا پن لانے کا سبب ہوتی ہے اسی لئے تنور سے تعبیر کی گئی ہے کرسی سے تعبیر نہ ہوئی باوجود یکہ تنور پر اس اندازسے بیٹھنا انتہائی نادر ہے اور کرسی پر بیٹھنا معروف ومشہور ہے واللہ تعالی اعلم