| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
قال الشامی افادان النوم بنفسہ غیر مفسد لکن ھذا اذا کان غیر عمد لمافی حاشیۃ نوح افندی النوم اما عمدا ولا فالاول ینقض الوضوء ویمنع البناء والثانی قسمان مالا ینقض ولایمنع البناء کالنوم قائما او راکعا او ساجدا وما ینقض الوضوء ولا یمنع البناء کالمریض اذا صلی مضطجعا فنام ینتقض وضوؤہ علی الصحیح ولہ البناء فغیر العمد لایمنع البناء اتفاقا سواء نقض الوضوء اولا بخلاف العمد اھ ملخصا ۱؎ اھ
اس پر علامہ شامی فرماتے ہیں ، افادہ ہو اکہ نیند کچھ مفسد نہیں لیکن یہ اس وقت ہے جب نیند بلا قصد ہو اس لئے کہ حاشیہ علامہ نوح آفندی میں ہے ، سونا یا تو قصدا ہوگا یا بلا قصد اول ناقض وضو اور مانع بناء ہے ثانی کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ جو نہ ناقض وضو ہے نہ مانع بناء جیسے قیام یا رکوع یا سجود کی حالت میں سونا ، دوسری وہ جو ناقض وضو ہے مانع بناء نہیں ہے ، جیسے مریض کر وٹ لیٹ کر نماز پرھتے ہوئے سوجائے تو صحیح قول پر اس کا وضو ٹوٹ جائے گا اور وہ بناء کرسکے گا ( نماز جہاں سے رہ گئی تھی وہیں سے پوری کرلے گا ) تو بلا قصدسونا بناء سے بالاتفاق مانع نہیں خواہ وضوٹوٹ جائے یا نہ ٹوٹے ، بخلاف قصدا سونے کے اھ ، ملخصا ۔
(۱؎ رد المحتار کتاب الصلوۃ باب الاستخلاف ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۰۶ )
اقـول ھذا ف ناطق بملأفیہ انہ ماش علی الروایۃ عن ابی یوسف الا تری انہ جعل نوم العمد مطلقا ناقض الوضوء وھذا خلاف ظاھر الروایۃ المعتمد المختارۃ کما قدم المحشی والشارح وقدمنا نقلہ مع تصحیح المحیط فما کان للعلامۃ ان یعتمد ھذا ھھنا سبحٰن من لاینسی۔
اقول یہ عبارت بآ واز بلند ناطق ہے کہ ان کی مشی امام ابو یوسف کی روایت پر ہے ، دیکھئے انھوں نے قصدا سونے کو مطلقاناقض وضو قرار دیا ہے او ریہ معتمد مختار ، ظاہر الروایہ کے خلاف ہے جیسا کہ محشی وشارح نے پہلے بیان کیا اور ہم اسے محیط کی تصحیح کے ساتھ نقل کر چکے تو علامہ شامی کو یہاں آکر اس پر اعتماد نہ کرنا تھا لیکن پاکی ہے اسی کے لئے جسے نسیان نہیں۔
ف :معروضۃ علی العلامۃ ش ۔
الــرابـعۃ مسألۃ التنورف مذکورۃ فی الخانیۃ وھی الاصل وعنہا نقل فی خزانۃ المفتین والہندیۃ وایاھا تبع فی الخلاصۃ والخلاصۃ فی البزازیۃ وعن الخلاصۃ اثر فی البحر قال الامام قاضی خان رحمہ اللّٰہ تعالٰی ان نام علی راس التنور وھو جالس قد ادلٰی رجلیہ کان حدثا لان ذلک سبب لاسترخاء المفاصل ۱؎ اھ
افادہ رابعہ: مسئلہ تنور خانیہ میں مذکورہے ، خانیہ ہی اصل ہے اسی سے خزانۃ المفتین اور ہندیہ میں نقل ہے اسی کی پیروی خلاصہ میں ہے اور خلاصہ کی پیروی بزازیہ میں ہے اور خلاصہ ہی سے البحر الرائق میں نقل کیا ہے ، امام قاضی خاں رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا ، اگر تنور کے کنارے میں بیٹھا اس میں پاؤ ں لٹکائے سوگیا تو وضو جاتارہے گا اس لئے کہ یہ جوڑوں کے ڈھیلے پڑجانے کا سبب ہوتا ہے اھ۔
ف: تحقیق مسئلۃ النوم علٰی رأس التنّور۔
(۱؎ فتاوی قاضیخان کتاب الطہارۃ فصل فی النوم نولکشور لکھنؤ ۱/ ۲۰)
وقد قدمنا انھا لاتلتئم علی الضابطۃ المؤیدۃ بالحدیث والقیاس الصحیح۔
اورہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث اور قیاس صحیح سے تائید یافتہ ضابطے کے بر خلاف ہے ۔
قلت ولم ارلھا ما اشدھا بہ الاشیاء ابداہ المحقق فی الفتح توجیہا لمسألۃ مخالفۃ لظاھر الروایۃ واختیار الجمھور وھی مسألۃ المستند الی مالوازیل سقط حیث قال ظاھر المذھب عن ابی حنیفۃ عدم النقض بھذا الاستناد ما دامت المقعدۃ مستمسکۃ للا من من الخروج والانتقاض مختار الطحاوی واختارہ المصنّف والقدوری لان مناط النقض الحدث لاعین النوم فلما خفی بالنوم ادیر الحکم علی ماینتھض مظنۃ لہ ولذا لم ینقض نوم القائم والراکع والساجد ونقض فی المضطجع لان المظنۃ منہ مایتحقق معہ الاسترخاء علی الکمال وھو فی المضطجع لافیھا وقد وجد فی ھذا النوع من الاستناد اذ لا یمسکہ الا السند وتمکن المقعدۃ مع غایۃ الاسترخاء لایمنع الخروج اذقد یکون الدافع قویا خصوصا فی زماننا لکثرۃ الاکل فلا یمنعہ الامسکۃ الیقظۃ ۱؎ اھ واقرہ الحلبی فی الغنیۃ۔
قلت اس کی موافقت میں مجھے کوئی ایسی بات نہ ملی جس سے اس کو تقویت دے سکوں مگر ایک بات جو حضرت محقق نے فتح القدیر میں ظاہر الروایہ اور اختیار جمہور کے مخالف ایک مسئلہ کی تو جیہ میں پیش کی ہے وہ مسئلہ اس کی نیند سے متعلق ہے جو ایسی چیز کی طر ح ٹیک لگائے ہوئے ہے کہ اگر وہ ہٹادی جائے تو گر جائے ، وہ لکھتے ہیں ، امام ابو حنیفہ رضی ا للہ تعالی عنہ سے منقول ظاہر مذہب یہی ہے کہ اس ٹیک لگانے سے وضو نہ ٹوٹے گا جب تک مقعد جمی ہوئی رہے اس لئے کہ خروج ریح سے بے خوفی ہوگی اور اس سے وضو ٹوٹ جانے کا حکم امام طحاوی کا مختار ہے اسی کو مصنف اور امام قدوری نے اختیار کیا اس لئے کہ وضو ٹوٹنے کا مدار حدث پر ہے خود نیند پر نہیں چونکہ نیند کی وجہ سے حدث مخفی رہ جائے گا اس لئے حکم کا مدار اس پر رکھا گیا جو وجود حدث کے گمان غالب کا موقع بن سکے ، اسی لئے قیام ، رکوع او رسجود والے کی نیند ناقض ہے ۔ اس لئے کہ گمان حدث کا محل وہ نیند ہے جس کے ساتھ استرخاء کامل طور پر متحقق ہو اور یہ کروٹ لیٹنے والے کی نیند میں ہوتا ہے ، ان سب میں نہیں ہوتا اور استرخاء اس طر ح ٹیک لگانے کی صورت میں بھی موجود ہے اس لئے کہ صرف ٹیک نے اس کو روک رکھا ہے اور کمال استرخاء ہوتے ہوئے مقعد کا مستقر ہونا خروج ریح سے مانع نہیں اس لئے کہ ہمارے زمانے میں ، کیوں کہ کھانا زیادہ کھایا کرتے ہیں تو اس کے لئے مانع صرف بیداری کی بندش ہی ہوگی اھ-- اس کلام کو حلبی نے بھی غنیہ میں بر قرار رکھا ۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۴۳)
اقول وقولہ لایمنعہ الامسکۃ الیقظۃ ای عند وجود نھایۃ الاسترخاء بخلاف القائم والراکع والساجد علی ھیاۃ السنۃ فلا یرد ان ھذا التقریر یوجب النقض بالنوم مطلقا وھو خلاف مااجمعنا علیہ۔
اقول ان کے قول اس کے لئے مانع صرف بیداری کی بند ش ہی ہوگی ، کا معنی یہ ہے کمال استرخاء کی صورت میں مانع صرف یہی ہوگی بخلاف اس کے جو قیام یا رکوع یا سنت طریقہ پر سجدہ کی حالت میں ہو تو یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اس تقریر پر تو مطلقا ہر نیند ناقض وضو ہوگی ، اوریہ ہمارے اجماع کے بر خلاف ہے ۔
لکنی اقـول کمال فــــ۱ الاسترخاء مظنۃ الخروج وتمکن المقعدۃ مظنۃ منعہ فیتعارضان ولا یثبت النقض بالشک ولا نسلم ان قوۃ الدافع بحیث لایقاومہ التمکن بلغ من الکثرۃ مایعدبہ غالبا ولامظنۃ الابالغلبۃ وکیفما کان فمخالفتہ للمذھب ولجمھور اھل الاختیار عَلَم کاف علی تقاعدہ عن الحجیۃ۔
لیکن میں کہتاہوں کمال استرخا گمان خروج کی جگہ ہے او رمقعد کا استقرار منع خروج کے گمان کی جگہ ہے اس لئے دو نوں میں تعارض ہوگا اور شک سے نقض کا ثبوت نہ ہوگا اور یہ ہمیں تسلیم نہیں کہ دافع کی اتنی قوت کا استقرار اس کی مقاومت نہ کرسکے کثر ت کی اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ اس کو غالب واکثر شمار کر لیاجائے اور جائے گمان کا ثبوت غالب واکثر ہونے ہی سے ہوتا ہے اور جو بھی ہو مذہب اور جمہور اہل ترجیح کے مخالف ہونا ہی اس کی بات کی کافی علامت ہے کہ وہ حجت بننے کے قابل نہیں ،۔
فـــ۱: تطفل علی الفتح۔