اقـول فـــ اولا رحم اللّٰہ العلامۃ الفاضل والسید الناقل الشیئ یبتنی علی ملزومہ لالازمہ لجواز عموم اللازم فلا یقضی بوجود الملزوم ولا شک ان نقض الوضوء یستلزم فساد الصلاۃ عند التعمد لکونہ حینئذ تعمد حدث وھو مفسد قطعا۔
اقول اولا علامہ فاضل اور سیدنا قل پر خدا کی رحمت ہو ---- شیئ اپنے ملزوم پر مبنی ہوتی ہے لازم پر نہیں، اس لئے کہ ممکن ہے لازم اعم ہو تو اس کے وجود سے ملزوم کا حکم نہیں ہو سکتا اور اس میں شک نہیں کہ قصدًا وضو توڑنے کو فسادِ نماز لازم ہے اس لئے کہ یہ عمدًا حدث کو عمل میں لانا ہے جو قطعاً مفسد نماز ہے ( نقض وضو با لعمد ملزوم ہے فساد نماز لازم ،لہذا جب بھی اول ہوگا ثانی ہوگا اورثانی کا اول پر حمل اس لحاظ سے بجا ہے اور برعکس صورت نہ یہاں ہے نہ ہوسکتی ہے ۱۲ م )
فـــ تطفل علی الشیخ اسمعیل شار ح الدرر والعلامۃ ش۔
وثانیا فـــ۱ الکلام فی فساد الصلاۃ لاجل تعمد النوم وما ذکر من الصورۃ فالفساد فیھا لیس لہ بل لزیادۃ رکعۃ تامۃ وحمل کلام الخانیۃ علی روایۃ الامام الثانی لایستلزم ان لاتفسد صلوۃ بشیئ قط مالم ینتقض الوضوء فالبحر عقول لاغفول ھذا ۔
ثانیًا کلام اس میں ہے کہ قصدًا سونے سے نماز فاسد ہوجائے گی اور جو صورت ذکر کی ہے اس میں فسادِنماز کا سبب یہ نہیں بلکہ کامل ایک رکعت کی زیادتی ہے----اور کلام خانیہ کوامام ثانی کی روایت پرمحمول کرنا اسے مستلزم نہیں کہ کوئی نماز کسی شئی سے اس وقت تک فاسد ہی نہ ہو جب تک وضو نہ ٹوٹ جائے ۔محقق بحر اسے خوب سمجھتے ہیں اس نکتے سے غافل نہیں ---یہ ذہن نشین رہے۔
فـــ ۱:تطفل اخر علیہما ۔
واجاب فی المنحۃ عن ھذا الاعتراض بان مافی الخانیۃ من الفساد مبنی علی نقض الوضوء لتفریقہ بین الرکوع والسجود تامل۱؎ اھ
اور منحۃ الخالق میں اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ خانیہ میں جو فسا د مذکور ہے وہ نقض وضو پر مبنی ہے اس لئے کہ اُنہوں نے رکوع وسجود کے درمیان فرق رکھا ہے ۔اس میں غور کرو اھ۔
(۱؎ منحۃ الخالق علی بحرالرائق بحوالہ شرح الشیخ اسمٰعیل کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۹)
اقول فـــ ۲ رحم اللّٰہ الفاضلین السؤال والجواب کلاھما من وراء حجاب فان الخانیۃ قدنصت علی انتقاض الوضوء بہ فی نواقضہ حیث قال کما تقدم ان تعمد النوم فی سجودہ تنتقض طھارتہ وتفسد صلاتہ ولو تعمد النوم فی قیامہ اورکوعہ لاتنتقض طہارتہ فی قولھم ۱؎ اھ
اقول دونوں فاضلوں پر خدا رحم فرمائے۔ سوال اور جواب دونوں پردوں کے پیچھے سے ہو رہے ہیں ---اس لئے کہ قاضی خا ن نواقض وضو کے بیان میں اس سے وضو ٹوٹنے کی تصریح فر ما چکے ہیں ۔ان کی عبارت جیسا کہ گزری اس طرح ہے :'' اگر سجدے میں قصدًا سویا تو اس کی طہارت ٹوٹ جائے گی اور نماز بھی فاسد ہوجائے گی اور اگر قیام یا رکوع میں قصدًا سویا تو حضرات ائمہ کے قول پر اس کی طہارت نہ جائے گی ۔''اھ
(۱؎ فتاوی قاضی خان کتاب الطہارۃ فصل فی النوم نو لکشور لکھنؤ ۱/ ۲۰)
فـــ۲:تطفل ثالث علیھما ۔
والوجہ ان الفساد فی التعمد وانتقاض الوضوء متلازمان فایھما اثبت اثبت الاٰخر وایھما نفی نفی الاٰخر ولذا اقتصر فی الخانیۃ ھھنا اعنی فی مفسدات الصلٰوۃ علی فساد الصلاۃ وعدمہ ولم یتعرض للوضوء وثمہ ای فی نواقض الوضوء ذکرھما معافی السجود واقتصر علی ذکر عدم النقض فی الرکوع ولم یتعرض لعدم الفساد فاتی فی کل باب بما یحتاج الیہ وکیفما کان فقد صرح باجلی تصریح ان تعمد النوم لیس ممایفسد الصلٰوۃ مطلقا وکذلک الخلاصۃ وعلیہ مشی الفتح والحلیۃ وعنہ تکلم البحر۔
وجہ یہ ہے کہ تعمد کی صورت میں فسادِنماز اور وضو ٹوٹنا دونوں ایک دوسرے کو لازم ہیں تو ایک کے اثبات اور ایک کی نفی سے دوسرے کی نفی ہو جائے گی اسی لئے خانیہ نے یہاں بمعنی مفسداتِ نماز کے بیان میں صرف نماز کے فساد وعدمِ فساد کے ذکر پر اکتفا کی اور بیان وضو سے تعرض نہ کیا ---اور وہاں یعنی نواقض وضو میں سجود کے تحت دونوں کو ذکر کیا اور رکوع کے تحت عدمِ نقض کے ذکر پر اکتفا کی عدمِ فساد سے تعرض نہ کیا--تو ہر باب میں جس قدر حاجت تھی اس قدر بیان کردیا --اور جو بھی ہو اس بات کی تو روشن تصریح فرمادی کہ قصدًا سونا مطلقًا مفسدِنماز نہیں --اسی طرح صاحب خلاصہ نے بھی ذکر کیا ۔اور اسی پر صاحبِ فتح القدیر اور صاحب حلیہ بھی چلے --اور اسی سے متعلق بحر نے بھی گفتگو کی ---
اقول وھو قضیۃ اطلاق المتون قاطبۃ فانھم یذکرون من صور الحدث الذی یمنع البناء مااذا جن اونام فاحتلم او اغمی علیہ فیفیدون ان النوم بمفردہ لیس بحدث ولا مانع للبناء مطلقا والالم یحتج الی ضم الاحتلام قال فی العنایۃ ثم البحر انما قال او نام فاحتلم لان النوم بانفرادہ لیس بمفسدعـــــہ الخ ۱؎
اقول یہی سارے متون کا بھی مقتضا ہے ---اس لئے ارباب متون مانع بنا حدث کی صورتوں میں سے یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ جب مجنون ہو جائے یا سو جائے تو احتلام ہوجائے یا بیہوش ہوجا ئے (تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز از سر نو پڑھنی ہو گی جہاں چھوٹی اس کے آگے نہیں پڑھ سکتا )اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ نیند تنہا حدث اور مطلقًا مانع بنا نہیں ورنہ نیند کے ساتھ احتلام کو ملانے کی کوئی ضرورت نہ تھی ---عنایہ پھر بحر میں ہے :'' نام فاحتلم سوئے تو احتلام ہو جائے '' کہا اس لئے کہ تنہا نیند مفسدِنماز نہیں اھ ۔
(۱؎ البحرالرائق بحوالہ العنایۃ کتاب الصّلٰوۃ باب الحدث فی الصّلٰوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۷۲)
عـہ: اعترضہ العلامۃ خیر الدین رملی کما نقل عنہ فی المنحۃ بانہ ذکر فی التتارخانیۃ اقوالا واختلاف تصحیح فی المسألۃ وکذلک ذکر فی الجوھرۃ فی نوم المضطجع والمریض فی الصلاۃ اختلافا والصحیح انہ ینقض وبہ ناخذ وفی التتارخانیۃ عن المحیط فی النوم مضطجعا الحال لا یخلو ان غلبت عیناہ فنام ثم اضطجع فی حالۃ نومہ فھو بمنزلۃ مالو سبقہ الحدث یتوضا ویبنی ولو تعمد النوم فی الصلاۃ مضطجعا فانہ یتوضأ ویستقبل الصّلٰوۃ ھکذا حکی عن مشائخنا اھ فراجع المنقول ولا تغتربما اطلقہ ھنا۱؎ اھ
اس پرعلامہ خیر الدین رملی کا یہ اعتراض ہے جیسا کہ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں ان سے نقل کیا ہے کہ : تاتار خانیہ میں اس مسئلہ کے تحت چند اقوال اور اختلاف تصحیح کا ذکرہے--- اسی طرح جوہرہ میں نماز کے اندر کروٹ لینے والے اور بیمار کی نیند سے متعلق اختلاف کا ذکر ہے اور یہ کہ صحیح ناقض ہونا ہے اور ہم اسی کو لیتے ہیں--- اور تاتارخانیہ میں محیط کے حوالے سے کروٹ لیٹ کر سونے سے متعلق ہے کہ اگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے اسے نیند آگئی پھر سو نے ہی کی حالت میں وہ کروٹ لیٹ گیا تو ایسا ہی ہے جیسے بلا اختیار حدث ہو گیا وہ وضو کرے گا اور بناء کرے گا (نماز جہاں سے چھوٹی تھی وہیں سے پوری کرے گا) اور اگر نماز میں قصدًا کروٹ لیتا تو اُسے وضو کر کے از سر نو پڑھنا ہے ۔ ہمارے مشائخ سے ایسا ہی حکایت کیا گیا اھ تو منقول کی طرف رجوع کرو اور اس سے فریب خوردہ نہ ہو جو یہاں مطلق رکھا ہے اھ۔
(۱؎ منحۃ الخالق علی بحر الرائق کتاب الصلوۃ باب الحدث فی الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۷۲)
اقول ،اولافـــ۱ اذا اختلف التصحیح فای اغترار فی الاقتصار علی احد القولین ۔ وثانیا فــ ۲ مسئلۃ الجوھرۃ فی انتقاض الوضوء والکلام ھنا فی فساد الصلوۃ والانتقاض لایستلزم الفساد اذا لم یکن ھناک تعمد ۔ وثالثا فرع فــــ۳ المحیط لیس فیہ الفساد للنوم بانفرادہ بل لانضمام التعمد علی ھیات الحدث فما ھذہ الایرادت من مثل المحقق السامی والاعتماد علیہا من العلامۃا لشامی و باللہ التو فیق ۱۲منہ حفظہ ربہ جل وعلا۔
اقول اولا جب اختلاف تصحیح ہے تو ایک قول پر اکتفاء میں فر یب خورد گی کیا ؟ثانیا مسئلہ جو ہر ہ وضو ٹوٹنے کے بارے میں ہے اور یہاں پر فسادنماز کے بارے میں کلام ہے اور ٹوٹنا اس کو مستلزم نہیں کہ نماز بھی فاسد ہو جب کہ قصدا وضو توڑنے کی صورت نہ ہو۔
ثالثا محیط کے جزئیہ میں تنہا نیند سے فساد نماز نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ نیند کے ساتھ ہیات حدث کا قصدا ارتکاب بھی ہوگیا ہے پھر ایسے بلند محقق سے یہ اعتراض کیسے ؟ اور ان پر علامہ شامی کا اعتماد کیسا ؟ وباللہ التوفیق ۱۲ منہ رضی للہ تعالی عنہ (ت)
فــــ۱: تطفل علی العلامۃ الخیر الرملی وش ، فــــ۲: تطفل اخر علیھما،فــــ۳: تطفل ثالث علیھما
ثم ھم یرسلونہ ارسالا فیشمل العمد والغلبۃ وکذلک سکوتھم قاطبۃ عن عد تعمد النوم فی المفسدات دلیل علی ذلک لاسیما المتاخرین الذین جنحوانحو الا ستیعاب مھماحضرکالدر المختار ومراقی الفلاح نعم یفسد اذا تعمدہ علی ھیاۃ یکون بھا حدثا وھم قد ذکروا فی المفسدات تعمد الحدث فقد ترجح ماجزم بہ ھؤلاء الجلۃ علی ما فی جامع الفقہ ان النوم فی الرکوع والسجود لاینقض الوضوء ولو تعمدہ ولکن تفسدصلاتہ کما نقلہ فی البحر ۱؎ عن شرح منظومۃ ابن وھبان واعتمدہ ش ۔
پھر یہ حضرات نیند کو مطلق ذکر کرتے ہیں تو قصدا سونا اور نیند کے غلبہ سے سوجانادونوں ہی اس میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح تعمد نوم کو مفسدات نماز میں شمار کرانے سے ان تمام اہل متون کا سکوت بھی اس پر دلیل ہے خصوصا متا خرین کا سکوت جن کا میلان اس طر ح ہوتاہے کہ جتنی صورتیں بھی مستحضر ہوں سب کا استیعاب اور احاطہ کرلیں جیسے درمختار اور مراقی الفلاح ، ہاں نیند مفسد اس وقت ہے جب ایسی ہیات پر قصدا سوئے جس پر سونا حدث ہے اور مفسدات نماز میں تعمد حدث مذکور ہے تو ترجیح اسی کو ملی جس پر ان بزرگوں کا جز م ہے جیسا کہ جامع الفقہ میں ہے ، رکوع وسجود میں سونا ناقض وضو نہیں اگر چہ قصدا سوئے لیکن اس کی نماز فاسد ہوجائے گی جیسا کہ اسے بحر میں منظومہ ابن وہبان کی شرح سے نقل کیا ہے اور علامہ شامی نے اس پر اعتماد کیا ہے ۔
(۱ ؎ البحرالرائق بحوالہ جامع الفقہ کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۸)
جئنا علی مااستدرک بہ ش علی العلامۃ العلائی قال فی الدر یتعین الاستیناف لجنون اوحدث عمدا و احتلام بنوم ۱؎ الخ
اب ہم اس پر آئے جو علامہ شامی نے علامہ علائی پر استدارک کیا ہے درمختار میں فرمایا ، از سر نوپڑھنا متعین ہے جنون کے با عث یا قصدا حدث کی وجہ سے نیند میں احتلام کے سبب الخ ۔
(۲؎ الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب الاستخلاف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۷)