| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
قال فی منحۃ الخالق الذی تقدم من روایۃ ابی یوسف انہ اذا تعمد النوم فی الصلاۃ نقض وکذا فی الفتح وھی کما تری غیر مقیدۃ بالسجود تأمل ثم رأیت فی غایۃ البیان مانصّہ وروی عن ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی الاملاء انہ اذا تعمد النوم فی السجود ینقض وان غلبت عیناہ لاینقض اھ وبہ یترجح الحمل المذکور ویکون المراد حینئذ مما تقدم من قول فی الصلاۃ ای فی سجودھا فقط فافھم ۲؎ اھ
البحر الرائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں علامہ شامی فرماتے ہیں امام ابو یوسف کی روایت جو پہلے مذکور ہوئی یہ ہے کہ نماز میں قصدا سوناناقض وضو ہے اسی طر ح فتح میں منقول ہے یہ روایت جیسا کہ سامنے ہے ، حالت سجدہ سے مقید نہیں ، غور کرو ، پھر میں نے غایۃ البیان میں یہ عبارت دیکھی ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی سے'' املا'' میں مروی ہے کہ سجدہ میں قصدا سونا ناقض وضو ہے اور اگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے (بلا قصد) سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اھ ، اس روایت کی بنیاد پر کلام خانیہ کو اس پرمحمول کرنے کی بات کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے اور اس صورت میں امام ابو یوسف سے سابقا جو روایت بلفظ فی الصلوۃ ( نماز میں قصدا سونا ناقض ہے ) منقول ہوئی اس میں ''نماز میں ''سے مراد''صرف سجدہ نماز میں ''ہوگا تو اسے سمجھئے اھ
(۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۸ و ۳۹)
اقول: اولا فـــ الحکم فی المقید لاینافی الحکم فی المطلق کما افادہ فی الفتح لاجرم ان ذکر فی التحفۃ والبدائع ان النوم فی غیر حالۃ الاضطجاع والتورک فی الصلاۃ لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمد فی ظاھر الروایۃ و روی عن ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی انہ قال سالت ابا حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النوم فی الصّلاۃ فقال لاینقض الوضوء ولا ادری سالتہ عن العمد او عن الغلبۃ وعندی انہ ان نام متعمدا انتقض وضوؤہ ۱؎
اقول: اولا مقید کے بارے میں حکم ، مطلق کے بارے میں حکم کے منافی نہیں جیسا کہ فتح القدیر میں افادہ فرمایا (توہوسکتا ہے کہ امام ابو یوسف سے دونوں روایت ہو ، خاص سجدہ میں قصدا سونا ناقض ہے او ریہ بھی کہ اندرون نماز کسی بھی رکن میں سونا ناقض ہے ۱۲م) یہی وجہ ہے کہ تحفہ اور بدائع میں ذکر کیا ہے کہ اندرون نماز کروٹ لیٹنے اور سرین پر ٹیک دے کر لیٹنے کے علاوہ حالت میں سونا حدث نہیں خواہ نیند کے غلبہ سے سوگیا ہو یا قصدا سویا ہو ظاہر الروایہ میں یہی ہے ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اندرون نماز نیند کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا ناقض وضو نہیں ، میں نہیں جانتا کہ ان سے میں نے قصدا سونے کے بارے میں پوچھا تھا یانیند کے غلبہ سے سونے کے بارے میں پوچھا تھا اور میرے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگر قصدا سویا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا ،
(فـــ معروضۃ اخری علیہ)
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل واما بیان ما ینقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۵۲)
قال فی البدائع وجہ روایۃ ابی یوسف ان القیاس فی النوم حالۃ القیام والرکوع والسجود ان یکون حدثا لکونہ سببا لوجود الحدث الا اناترکنا القیاس لضرورۃ التہجد نظر ا للمجتہدین وذلک عند الغلبۃ دون التعمد ۱؎ اھ قال فی الحلیۃ بعد نقلہ ھذا یفید اطلاقہ انہ ینتقض عند ابی یوسف بالنوم راکعا اذا تعمدہ ۲؎ اھ ای وکذا قائما۔
بدائع میں کہا کہ روایت امام ابو یوسف کی وجہ یہ ہے کہ قیام ، رکوع اور سجود کی حالت میں سونا قیاس کی رو سے حدث ہے اس لئے کہ یہ وجود حدث کا سبب ہے لیکن ہم نے تہجد گزاروں کا لحاظ کرتے ہوئے ضرورت تہجد کے باعث قیاس ترک کردیا اور یہ ضرورت غلبہ نوم ہی کی صورت میں ہے قصدا سونے میں نہیں اھ حلیہ میں اسے نقل کرنے کے بعد کہا: اس کے اطلاق سے یہی مستفاد ہے کہ امام ابو یوسف کے نزدیک قصدا رکوع کی حالت میں سونے سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا اھ۔مقصد یہ ہے کہ یوں ہی قیام میں بھی۔
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل واما بیان ما ینقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۵۳ ) (۲ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول : انمافـــ الاطلاق فی تحفۃ الفقہاء اما فی البدائع فتنصیص صریح لقولہ ان القیاس فی النوم حالۃ القیام والرکوع الخ فافادان ابا یوسف عمل فی جمیعہا بالقیاس عند العمد والعالم ربما یسأل عن صورۃ خاصۃ فیجیب فتأتی الروایۃ عنہ مقیدۃ بصورۃ السؤال مع ان الحکم مطلق عندہ عرف ھذا من مارس الفقہ وعن فــــ ھذا قلنا ان المطلق یحمل علی اطلاقہ وان اتحد الحکم والحادثۃ مالم تدع الی التقیید ضرورۃ۔
اقول: اطلاق صرف تحفۃ الفقہاء میں ہے ۔ بدائع میں تو صاف تصریح ہے قیام ، رکوع ، سجود ، کی حالت میں سونا قیاس کی رو سے حدث ہے جس سے یہ افادہ فرمایا کہ امام ابو یوسف قصد کی صورت میں تمام ہی حالتوں میں قیاس پر عامل ہیں ۔ اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عالم سے کوئی خاص صورت پوچھی جاتی ہے وہ اس کے بارے میں جواب دے دیتا ہے تو اس کے حوالے سے روایت صورت سوال کے ساتھ مقید ہوکر نقل ہوتی ہے حالاں کہ اس کے نزدیک حکم مطلق ہوتا ہے ۔ فقہ کی مما رست اور مشغولیت والا اس سے اچھی طرح آشنا ہے ۔ اسی لئے ہم اس کے قائل ہیں کہ مطلق اپنے اطلاق پرمحمول ہوگا اگرچہ حکم اور معاملہ ایک ہی ہو ، جب تک تقیید کی جانب کوئی ضرورت داعی نہ ہو۔
ثم القیاس الذی ذکر فی البدائع لروایۃ ابی یوسف وقد ذکرہ فی الہدایۃ والتبیین ایضا فی مسئلۃ الاغماء فالجواب عنہ انا نمنع کون القیاس فیھا ذلک بل القیاس ایضا عدم النقض لعدم کمال الاسترخاء کما افادہ فی الفتح۔
اب رہاوہ قیاس جو بدائع میں امام ابویوسف کی روایت سے متعلق پیش کیا ہے اور اسے ہدایہ وتبیین میں بھی بیہوشی کے مسئلہ میں ذکر کیا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ اس بارے میں قیاس نقض وضو ہے بلکہ قیاس بھی یہی ہے کہ وضونہ ٹوٹے اس لئے کہ پورے اعضاء ڈھیلے نہ ہوں گے ۔ جیسا کہ فتح القدیر میں اس کا افادہ کیا ہے ۔
وثانیا اطلاق فـــ روایۃ ابی یوسف لاینافی حمل کلام قاضی خان فی السجود علیہا لان ائمۃ الترجیح کما یختارون احد القولین کذلک ربما یفصلون فیختارون قولا فی صورۃ و اخر فی اخری فیکون المعنی ان مافی الخانیۃ مشی فی صورۃ السجود علی روایۃ ابی یوسف وای عتب فیہ ۔
ثانیا اگرچہ امام ابو یوسف کی روایت مطلق ہے ۔ اس میں خاص حالت سجدہ کی قید نہیں ۔ اور قاضی کا کلام خاص حالت سجدہ سے متعلق ہے لیکن اس کلام کو اس روایت پر محمول کیا گیا ہے تو یہ اس کے اطلاق کے منافی نہیں ۔ اس لئے کہ ائمہ ترجیح جیسے دوقولوں میں سے ایک کو اختیار کرتے ہیں ویسے ہی بعض اوقات صورتوں کی تفصیل کرکے ایک صورت میں ایک قول کواور دوسرے قول کو اختیار کرتے ہیں ۔ تو ( البحرالرائق میں کلام خانیہ کو روایت مذکورہ پر محمول کرنے کا ) معنی یہ ہوا کہ خانیہ میں جو حکم مذکور ہے وہ صورت سجدہ میں امام ابویو سف کی روایت پر جاری ہے اس پر کسی عتاب کا کیا موقع ہے !
فـــ:معروضۃ ثالثۃ علی العلامۃ ش۔
ثم اعترض ھذا الحمل العلامۃ الشیخ اسمٰعیل فی شرح الدرر بانہ لایلزم من فساد الصلاۃ انتقاض الوضوء لما فی السراج لوقرأ و رکع وسجد وھو نائم تفسد صلاتہ لانہ زاد رکعۃ کاملۃ لایعتد بھا ولا ینتقض وضوؤہ اھ ولم یحکم فی الخانیۃ علی الوضوء بالنقض والظاھران فی البحر غفولا عن ذلک فتدبرہ ۱؎ اھ
پھر اس حمل پر علامہ شیخ اسمعیل نے شرح درر میں اعتراض کیا ہے کہ نماز فاسد ہونے سے وضو ٹوٹنا لازم نہیں آتا کیوں کہ سراج وہاج میں ہے کہ اگر سونے کی حالت میں قرأ ت کی اور رکوع و سجدہ کیا تو نماز فاسد ہوجائے گی اس لئے کہ کامل ایک رکعت ایسی زیادہ کردی جو قابل شمار نہیں ۔ اور وضو نہیں ٹوٹے گا اھ ( علامہ شامی نے منحہ میں اسے نقل کرکے لکھا ۱۲م ) اور خانیہ میں وضو سے متعلق ناقض ہونے کا حکم نہیں کیا ہے۔ ظاہریہ ہے کہ البحرالرائق میں اس نکتے سے غفلت ہوگئی ہے تو اس میں تدبر کرو ۔ اھ
( حاصل اعتراض یہ کہ روایت امام ابویوسف میں قصدا سونے سے '' وضو ٹوٹنے '' کا ذکر ہے اور کلام خانیہ میں سجدہ کے اندر قصدا سونے سے ''فساد نماز'' مذکور ہے ، ہوسکتا ہے کہ نمازفاسد ہو اور وضو نہ ٹوٹے تو کلام خانیہ کا روایت مذکورہ پر حمل کیسے درست ہوگا ؟ ۱۲م )
(۱ بحوالہ منحۃ الخالق علی حاشیۃ البحرالرائق بحوالہ شرح الشیخ اسمٰعیل کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کراچی ۱/ ۳۹)