Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
115 - 123
وانت علی علم ان الحکم لایختص بالمضطجع فقد اجمعنا علی النقض فی الاستلقاء والانبطاح لانا رأینا الحدیث ارشد الی المعنی فی ذلک وھو استرخاء المفاصل ولا یراد بہ مطلقہ لحصولہ فی کل نوم فیناقض اٰخرہ اولہ بل کمالہ کما تقدم عن الکافی فتحصل لنا من الحدیث ان المدار علی نھایۃ الاسترخاء فحیث وجد وجد النقض وحیث عدم عدم کما اشار الیہ المحققون فاستقرت الضابطۃ وانحلت العقدۃ عن کلتا الدعویین فی القول الاول فان خصوصیۃ الصلاۃ لادخل لہا فی منع الاسترخاء ولا لخارجہا فی احد اثہ بل الحدیث مطلق عن التقیید بالصلاۃ کما اعترف بہ فی البدائع قائلا فی النوم خارج الصلاۃ علی ھیاۃ السجود ان العامۃ علی انہ لایکون حدثا لماروی من الحدیث من غیر فصل بین الصلاۃ وغیرھا کما فی الحلیۃ فمن سجد خارجہا سجدۃ مشروعۃ واٰخر غیر مشروعۃ واٰخر لم ینو ا لسجود اصلا فلا یفترقون الافی النیۃ ولا اثرلہا فی ارخاء اومنعہ بداھۃ وانما ذلک الی ھیاۃ النوم کیفما وجدت فیجب ادارۃ الحکم علیہا ولا شک ان النوم علی ھیاۃ سجود السنۃ یمنع الاسترخاء التام اذالو کان لسقط کما افادہ فی الھدایۃ فوجب ان لاینقض حتی فی خارج الصلوۃ وان النوم علی غیرھا مفترش الذر اعین ملصق البطن بالفخذین لیس الا السقوط ھو ھوفوجب ان ینقض حتی فی الصّلاۃ۔
اور آپ کومعلوم ہے کہ کروٹ لیٹنے والے ہی سے حکم خاص نہیں چت لیٹنے اور منہ کے بل لیٹنے کی صورت میں بھی وضو ٹوٹنے پر ہمارا اجماع ہے اس لئے کہ ہم نے دیکھا کہ حدیث نے اس بارے میں بنیادی علت کی رہ نمائی فرمادی ہے وہ ہے استر خائے مفاصل ( جوڑوں کا ڈھیلے پڑجانا) اور اس سے مطلق استر خاء مراد نہیں یہ تو ہر نیند میں ہوتا ہے تو آخرحدیث ، ابتدائے حدیث کے بر خلاف ہوجائیگا بلکہ کامل استر خا مراد ہے جیسا کہ کافی کے حوالے سے بیان ہوا تو حدیث سے ہمیں یہ نتیجہ ملاکہ مدار کامل استر خا پر ہے جہا ں یہ موجود ہوگا وہاں وضو بھی ٹوٹ جائے گا اور جہاں یہ نہ ہوگا وہاں وضو بھی نہ ٹوٹے گا ، جیسا کہ محققین نے اس کی طر ف اشارہ فرمایا ہے تو ضابطہ مستقر ہوگیا اور قول اول کے دونوں دعووں سے متعلق عقدہ کھل گیا اس لئے کہ خصوصیت نماز کو نہ استرخا کے روکنے میں کوئی دخل ہے نہ خارج نماز کو استر خا پیدا کرنے میں کوئی دخل ہے بلکہ حدیث نماز کی تقییید سے مطلق ہے جیسا کہ بدائع میں اس کا اعتراف کیا ہے اور بیرون نماز ہیات سجدہ پر سونے کے بارے میں کہا ہے کہ عامہ علماء اسی پر ہیں کہ وہ حدث نہیں اس لئے کہ حدیث نماز اور غیر نماز کی تفریق کے بغیر وارد ہے جیسا کہ حلیہ میں ہے تو بیرون نماز مشروع سجدہ کرنے والا ،دوسرا غیر مشرو ع سجدہ کرنے والا ، تیسرا بغیر کسی نیت کے سجدہ کی حالت میں ہونے والا تینوں کے درمیان سوا نیت کے کسی بات کا فر ق نہیں اور بدیہی بات ہے کہ اعضاء کو ڈھیلا کرنے یا استر خاء کو روکنے میں نیت کا کوئی اثر نہیں اس کا مدار تو سونے کی ہیات پر ہے کہ وہ کس حال میں پائی جارہی ہے تو حکم کو اسی پر دائر رکھنا لازم ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ سجدہ سنت کی ہیات پر سونا کامل استرخا سے مانع ہے اس لئے کہ اگر کامل استر خاہوتو گرجا ئے جیسا کہ ہدایہ میں فرمایا تو ضروری ہے کہ یہ سوناناقض وضو نہ ہو یہاں تک کہ بیرون نماز بھی اور خلاف سنت طریقے پر کلائیاں بچھائے ہوئے پیٹ رانوں سے ملائے ہوئے سونا کیاہے پس گرپڑنا، اس کے سوا کچھ اور نہیں تو واجب ہے کہ وہ ناقض وضو ہو یہاں تک کہ اندرون نماز بھی ۔
اقول: وبہ ظھر الجواب عن استحسان البدائع والبحر والغنیۃ فان ذلک انما کان یسوغ لو ان النص لم یکن فیہ الانفی النقض عن الساجد فعلی التنزل وتسلیم ان لیس الظاھر فی کلام الشارع علیہ الصلٰوۃ والسلام ارادۃ الھیاۃ المسنونۃ المعھودۃ کان یمکن ان یدعی ان الشارع ناط ذلک بکل ماینطق علیہ اسم السجود کیفما کان ولیس کذلک بل النص نفسہ ارشدنا الی العلۃ بقولہ استرخت مفاصلہ فعلمنا ان الحکم معلول معقول وقد وجدت العلۃ فی سجود غیر السنۃ فلامعنی لعدم النقض علی خلاف القیاس والنص جمیعا نعم یترک ای لایجری ھھنا القیاس بالمعنی المصطلح علیہ لان فــــ العلۃ منصوصۃ فاجراؤھا لایکون قیاساولا یخص المجتہد کما بینہ خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی کتاب الجلیل المفاد اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد۔
اقول: اسی سے بدائع ، بحر اور غنیہ کے استحسان کا جواب بھی ظاہر ہوگیا اس کی گنجائش محض اس صورت میں نکل سکتی تھی کہ نص میں سجدہ کرنے والے سے متعلق وضو ٹوٹنے کی نفی کے سوا کچھ اور نہ ہوتا اس صورت میں بطور تنزل یہ مان کر کہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں معہود ہیات مسنونہ کا مراد ہونا ظاہر نہیں یہ دعوی کیا جاسکتا تھا کہ شارع نے عدم نقض کا حکم ہر اس حالت سے وابستہ کر رکھا ہے جس پر نام سجدہ کا اطلاق ہوجائے چاہے جو بھی کیفیت ہو اور یہ صورت ہے نہیں بلکہ خود نص نے '' استر خت مفاصلہ'' کے لفظ سے علت کی جانب رہ نمائی وہدایت کردی ہے جس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ حکم ایک علت پر مبنی ہے اور وہ علت ہماری عقل میں آنے والی بھی ہے اور خلاف سنت سجدے میں علت ( اعضا کا کامل استرخا) موجود ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ قیاس اور نص دونوں ہی کے بر خلاف وضو ٹوٹنے سے بچ جائے ہاں قیاس بمعنی اصطلاحی یہاں متروک ہے یعنی جاری نہیں ہوتا اس لئے کہ علت منصوص ہے تو اسے جاری کرنا قیاس نہیں اور نہ ہی یہ کا م مجتہد سے خاص ہے جیسا کہ اسے خاتم المحققین سیدنا الوالد قد س سرہ الماجد نے اسے اپنی عظیم افادہ بخش کتاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد میں بیان کیا ہے ۔
فــــ : اجراء العلۃ المنصوصۃ لایختص بالمجتہد۔
فاستقر بحمداللّٰہ تعالٰی عرش التحقیق علی القول الاول وانہ ھو الصحیح وعلیہ المعول والحمدللّٰہ فی الاٰخر والاول۔

الثالثۃ فــ۲ـ: تعمد النوم فی الصلاۃ لایفسدھا مطلقا بل اذا کان حدثا کما نبھنا علیہ وقد قدمنا عن الخانیۃ انہ ان تعمد النوم فی رکوعہ لاتفسد ۱؎ وفی الخلاصۃ لو نام فی رکوعہ اوسجودہ جازت صلاتہ لکن لایعتدبھما واعادھما اذالم یتعمد ذلک فان تعمد تفسد صلاتہ فی السجود دون الرکوع ۲؎ اھ واسلفنا عن الفتح ان مبناہ علی زوال المسکۃ فی السجود فلو سجد متجافیا ونام عامدا لم تفسد صلاتہ واثرہ فی الحلیۃ فاقرہ ونقلہ فی البحر و زاد علیہ انھا لاتفسد ولو غیر متجاف وذلک لما اختار ان النوم فی السجود المشروع لاینقض الوضوء مطلقا ولو علی غیر ھیاۃ السنۃ فسجود غیر المتجافی ایضا لما لم یکن النوم فیہ حدثا عندہ لم یجعل تعمدہ فیہ مفسدا۔
توبحمدہ تعالی عرش تحقیق قول اول ہی پر مستقر ہوا اور اس پر کہ وہی صحیح اور وہی معتمد ہے۔ اور اول وآخر تمام تر حمد اللہ ہی کے لئے ہے ۔
افادہ ثالثہ : نماز میں قصدا سونا مطلقا مفسد نما زنہیں بلکہ صرف اس صورت میں جب وہ ناقض وضو ہو جیسا کہ ہم نے اس پر تنبیہ کی اور خانیہ کے حوالے سے ہم نے نقل کیا کہ اگر رکوع میں قصد ا سوئے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور خلاصہ میں ہے: اگر رکوع یا سجدے میں سوجائے تو اس کی نماز ہوجائے گی ، لیکن اس رکوع وسجود کا شمار نہ ہوگا اور ان کا اعادہ کرنا ہوگا ، یہ اس وقت ہے جب قصدا نہ سویا ہو اگر قصدا سویا تو سجدے میں ایساسونا مفسد نماز ہے رکوع میں نہیں اھ اور سابقہ ہم نے فتح القدیر کے حوالے سے نقل کیا کہ اس کی بنیاد سجدے میں بندش کھل جانے پر ہے تو اگر کر وٹیں جدا رکھ کر سجدہ کیا اور قصدا سوگیا تو نماز فاسد نہ ہوگی اسے حلیہ میں نقل کر کے بر قرار رکھا ہے اور بحر میں اسے نقل کر کے اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ '' اگر کروٹیں جدا نہ ہوں تو بھی نماز فاسد نہ ہو گی'' اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب بحر نے یہ اختیار کیا ہے کہ سجدہ مشروع میں سونا مطلقا ناقض وضو نہیں اگرچہ طریقہ سنت کے بر خلاف ہو ، تو سجدہ میں کروٹیں جدا نہ رکھنے والے کا سونا بھی چوں کہ ان کے نزدیک ناقض وضو نہیں اس لئے انہوں نے اس کے بالقصد سونے کو مفسد نماز قرار نہ دیا ۔
فـــــ۲( تحقیق مسئلۃ تعمد النوم فی الصلوۃ)
 (۱؎ فتاوی قاضی خان     کتاب الطہارۃ     فصل فی النوم     نولکشور لکھنو     ۱/ ۲۰)

(۲؎خلاصۃ الفتاوی    کتاب الصلوۃ     الفصل الثالث عشر     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱/ ۱۳۲)
ولنقص عبارۃ البحر لیکون تذکیرا لما عبر وتمہید الماغبر قال رحمۃ اللّٰہ تعالٰی واطلق فی الھدایۃ الصلاۃ (قلت یرید النوم فیھا فتجوز بحذف المضاف وبہ یسقط فـــ اعتراض المنحۃ علی البحر فیما تابع ھو فیہ الفتح قال البحر) فشمل ماکان عن تعمد وما عن غلبۃ وعن ابی یوسف اذا تعمد النوم فی الصلاۃ نقض والمختار الاول وفی فصل مایفسد الصلٰوۃ من فتاوی قاضی خان لونام فی رکوعہ او سجودہ ان لم یتعمد لاتفسد وان تعمد فسدت فی السجود دون الرکوع اھ کانہ مبنی علی قیام المسکۃ فی الرکوع دون السجود ومقتضی النظر ان یفصل فی السجود ان کان متجافیا لاتفسد والا تفسد کذا فی الفتح القدیر ، وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ( ان النوم فی السجود المشروع لاینقض مطلقا ولو غیر متجاف) ان لا ینتقض بالنوم فی السجود مطلقا وینبغی حمل مافی الخانیۃ علی روایۃ ابی یوسف ۱؎ اھ ما فی البحر مزید ا مابین الاھلۃ ۔
ہم عبارت بحر کا پورا قصہ بتا تے ہیں تاکہ سابق کی یاددہائی بھی ہوجائے اور باقی مباحث کی تمہید بھی صاحب بحر فرماتے ہیں (ہلالین میں صاحب فتاوی رضویہ کا اضافہ ہے ۱۲م) '' ہدایہ میں نماز کو مطلق رکھا ہے ''(قلت ان کی مراد یہ ہے کہ نماز میں نیند کو مطلق رکھا ہے تو مضاف حذف کر کے مجاز حذف کا طریقہ اپنایا ہے اس تو ضیح سے منحۃ الخالق کاوہ اعتراض ساقط ہوجاتا ہے جو البحر الرائق پر فتح القدیر کی متابعت کے معاملہ میں کیا ہے بحر میں آگے فرمایا) تو یہ اس نیند کو بھی شامل ہے جو قصدا ہو اور اسے بھی جو نیند کے غلبہ کی وجہ سے ہو اور امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ نماز میں قصدا سونا ناقض وضو ہے اور مختار اول ہے اور فتاوی قاضی خان میں مفسدات نماز کی فصل میں ہے اگر رکوع یا سجدے میں سوگیا تو بلا قصد سونے کی صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر قصدا سویا تو سجدہ میں سونا مفسد نماز ہے رکوع میں نہیں اھ شاید یہ تفریق اس بناء پر ہے کہ رکوع میں بندش باقی ہوگی اور سجدے میں نہ ہوگی اور نظر کا تقاضایہ ہے کہ سجدے میں تفصیل کی جائے کہ اگر کر وٹیں جدا ہوں تو نماز فاسد نہ ہوگی ورنہ فاسد ہوجائے گی ایسا ہی فتح القدیر میں ہے او رکہا جاتا ہے کہ جو قول اصح پہلے گزرا (کہ مشروع سجدہ میں سونا مطلقا ناقض نہیں اگر چہ کروٹیں جدا ہوں ) اس کا تقاضایہ ہے کہ سجدہ میں سونے سے وضو مطلقا نہ جائے ۔اور کلام خانیہ کو امام ابو یوسف کی روایت پر محمول کرنا چاہئے اھ بحر کی عبارت ہلالین کے درمیان اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔
 (۱؎ البحرالرائق     کتاب الطہارۃ      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی      ۱/ ۳۸)
Flag Counter