امافــــ الکلام فی الدا لانی وما افحش فیہ ابن حبان من القول کعادتہ فقال کثیر الخطاء فاحش الوھم لایجوز الاحتجاج بہ اذا وافق الثقات فکیف اذا تفرد عنھم بالمعضلات ۱؎
رہا دالانی سے متعلق کلام اور ان سے متعلق ابن حبان نے حسب عادت جو سخت کلامی کی اور کہا وہ کثیر الخطاء ، فاحش الوہم ہے جب ثقات کے موافق ہو تو اس سے استناد روا نہیں پھر معضلات میں جب ثقات سے متفرد ہو تو اس سے کیوں کر استدلال ہوگا ،
فمردود بان البخاری قال فیہ ابو خالد صدوق لکنہ یھم بالشیئ ۲؎
تو یہ سب اس وجہ سے نامقبول ہے کہ امام بخاری نے ان کے بارے میں فرمایا ابو خالد صدوق ہیں لیکن انہیں کچھ وہم ہوتا ہے ۔
(۲؎ نصب الرایۃ بحوالہ محمد بن اسمعیل کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور ۱/ ۹۲)
وقال احمد وابن معین والنسائی لاباس بہ ۳؎
امام احمد ، ابن معین اور نسائی نے کہا ، لاباس بہ ( ان میں کوئی حرج نہیں)
(۳؎ نصب الرایۃ بحوالہ محمد بن اسمعیل کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور ۱/ ۹۲)
وقال ابو حاتم صدوق ۴؎
ابوحاتم نے کہا صدوق (بہت راست باز ) ہیں ۔
(۴؎ میزان الاعتدال ترجمہ یزید بن عبدالرحمن ۹۷۲۳ دار المعرفۃ بیروت ۴/ ۴۳۳)
وقال الذھبی فی المغنی مشہور حسن الحدیث ۵؎
ذہبی نے مغنی میں کہا مشہور حسن الحدیث ہیں۔
(۵؎ المغنی فی الضعفاء ترجمہ یزید بن عبدالرحمن ۹۷۲۳ دار الکتب العلمیۃبیروت ۲/ ۵۴۰)
وما فــــ ذکر ابو داؤد عن شعبۃ ھھناعــہ انہ لم یسمع قتادۃ من ابی العالیۃ الااربعۃ عـــہ۱؎ احادیث وحکی عـــہ۲؎ عن ابی داؤد نفسہ لم یسمع منہ الاثلثۃ احادیث۔
وہ کلام جو ابو داؤد نے یہاں امام شعبہ سے نقل کیا کہ قتادہ نے ابو العالیہ سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں، اور خود ابو داؤد ہی سے یہ بھی حکایت کی گئی ہے کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف تین حدیثیں سنی ہیں۔
(ف: قالوا لم یسمع قتادۃ من ابی العالیہ الاربعہ اوثلثۃ)
عـــہ: ای فی باب الوضو من النوم لاکما یتوھم من کلام الامام الزیلعی المخرج انہ ذکر ھھنا مایدل علی ان قتادۃ لم یسمع ھذا الحدیث من ابی العالیۃ ونقل کلام من شعبۃ فی موضع اٰخر۔ (۱۲م)
یعنی نیند سے وضو کے باب میں ویسا نہیں جیسا کہ امام زیلعی مخرج حدیث (صاحب نصب الرایہ کے کلام سے وہم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہاں وہ ذکر کیا جس سے پتا چلتا ہے کہ قتادہ نے یہ حدیث ابوالعالیہ سے نہ سنی ، اور امام شعبہ کا کلام ایک دوسرے مقام پر نقل کیا )
عـــہ۱؎ حدیث یونس بن متی وحدیث ابن عمر فی الصلاۃ وحدیث القضاۃ ثلثۃ وحدیث ابن عباس حدثنی رجال مرضیون منھم عمر وارضاھم عندی عمر ۱؎ اھ ابو داؤد ۱۲ منہ (م)
عہ۱؎ (۱) حدیث یونس بن متی(۲) حدیث ابن عمر دربارہ نماز(۳) حدیث القضاۃ ثلاثۃ(۴) حدیث ابن عباس ، مجھ سے پسندیدہ حضرات نے حدیث بیان کی جن میں عمر بھی ہیں ، اور ان میں میرے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ عمر ہی ہیں اھ ابو داؤد(۱۲م۔ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء من النوم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۷)
عـــہ۲؎ الحاکی الامام الزیلعی المخرج انہ ذکرہ ابو داؤد فی کتاب السنۃ فی حدیث لاینبغی لعبد ان یقول انا خیر من یونس بن متی قلت و راجعت ثلث نسخ من الکتاب فلم ارہ ذکر فی کتاب السنۃ شیئا من ھذا واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (م)
عہ۲؎:حکایت کرنے والے امام زیلعی مخرج حدیث ہیں کہ ابوداؤد نے یہ بات کتاب السنۃ میں ذکر کی ہے اس حدیث کے تحت کہ کسی بندے کو یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں قلت میں نے ابوداؤد کے تین نسخے دیکھے کسی میں نہ پایا کہ انہوں نے کتاب السنۃ میں اس سے کچھ ذکر کیا ہو۔ واللہ تعالی اعلم۱۲ منہ(ت)
فـاقـول وتلک شکاۃ ظاھر عنک عارھا فلو سلم لشعبۃ وابی داؤد شہادتہما علی النفی مع اضطراب اقوالہما فیہ فـــ مع انھا لم تقبل من الذین( عــہ) ھم اکبر واکثرمع کونھا مھم اکد(عـــہ۱ ) واظہر وذلک فی روایۃابن اسحٰق عن امرأۃ ھشام بن عروۃ فلیس غایتہ الا الارسال فکان ماذا فان المرسل مقبول عندنا وعند الجمھور مع انا فی غنی عن النظر فیہ فقداحتج بہ اصحابنا وقبلوہ من غیر نکیر۔
فاقول یہ ایسی شکایت ہے جس کا عار آپ ہی سے ظاہر ہے پہلی بات یہ ہے کہ قتادہ کے خلاف شعبہ اور ابوداؤد کی نفی سماع سے متعلق شہادت قابل تسلیم کیسے ہوگی جب کہ ان کے بارے میں ان کے اقوال بھی مضطرب ہیں اورایسی شہادت ان لوگو ں سے قبول نہ کی گئی جو ان سے بزرگ اور تعداد میں ان سے زیادہ ہیں جب کہ ان کی شہادت بھی ان سے زیادہ موکد اورزیادہ ظاہر ہے دوسری بات یہ کہ اگر تسلیم بھی کر لی جائے تو اس کامدعا زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ حدیث مرسل ہے تو اس سے کیا ہوا ؟ حدیث مرسل ہمارے نزدیک اور جمہور کے نزدیک مقبول ہے باوجودیکہ ہمیں اس حدیث میں نظر کی ضرورت نہیں اس لئے کہ ہمارے ائمہ نے اس سے استدلال کیا ہے اور بلا نکیر اسے قبول کیا ہے ۔
فــــ لم تقبل شہادۃ نفی سماع ابن اسحق من فاطمۃ بن المنذر من ائمۃ اجلۃ ۔
عـــہ ھم ھشام بن عروۃ وامام دارالھجرۃ مالک بن انس و الامام وھب بن جریر والامام یحیی بن سعید القطان اخرج ابن عدی عن ابی بشر الدولابی ومحمد بن جعفر بن یزید عن ابی قلابۃ الرقاشی ثنی ابو داؤد سلیمان بن داؤد قال قال یحیی القطان اشہد ان محمد بن اسحق کذاب قلت وما یدریک قال قال لی وھب فقلت لوھب مایدریک قال لی مالک بن انس فقلت لمالک وما یدریک قال قال لی ھشام بن عروہ قلت لھشام بن عروۃ وما یدریک قال حدث عن امرأتی فاطمۃ بنت المنذر وادخلت علی وھی بنت تسع وما راھا رجل حتی لقیت اللّٰہ تعالٰی ۱؎حاول التفصی عند الذھبی فی المیزان فقال وما یدری ھشام بن عروۃ فلعلہ سمع منہا فی المسجد اوسمع منھا وھو صبی اودخل علیہا فحدثتہ من وراء حجاب فای شیئ فی ھذا الخ۱؎ وقد ضعفنا اعتذارہ فی کتابنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین مع ان المحقق عندنا ایضاً ھو توثیق ابن اسحاق وبذل الامام البخاری جہدہ فی الذب عنہ اذ اتی بحدیث القراء ۃ خلف الامام وان لم یرض بالاخراج لہ فی صحیحہ المسند ۱۲منہ۔ (م)
عہ: وہ حضرات یہ ہیں (۱) ہشام بن عروہ(۲) امام دارا لہجرۃ مالک بن انس (۳) وہب بن جریر (۴) امام یحیی بن سعید قطان، ابن عدی نے ابو بشر دولابی اور محمد بن جعفر بن یزید سے روایت کی ہے وہ ابوقلابہ رقاشی سے روای ہیں انہوں نے کہا مجھ سے ابو داؤد سلیمان بن داؤد نے بیان کیا کہ یحیی قطان نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد بن اسحق کذاب ہے میں نے کہا آپ کو کیسے معلوم ؟ کہا مجھ کو وہب نے بتایا اب میں نے وہب سے کہا آپ کو کیسے معلوم؟ انہوں نے کہا مجھے مالک بن انس نے بتایا میں نے مالک سے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ؟ انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا میں نے ہشام بن عروہ سے دریافت کیا آپ کو کیسے معلوم ؟ انہوں نے کہا : اس نے میری بیوی فاطمہ بنت منذر سے حدیث روایت کی ، جب کہ وہ میرے یہاں نوسال کی عمر میں لائی گئی او رکسی مرد نے اسے دیکھا نہیں یہاں تک کہ وہ خدا کو پیاری ہوئی اس جرح سے چھٹکارے کی کوشش کرتے ہوئے میزان الاعتدال میں ذہبی نے کہا ہشام بن عروہ کو کیا پتہ ، ہوسکتا ہے ابن اسحق نے ان کی بیوی سے مسجد میں سنا ہو ، یا ان سے اپنے بچپن میں سنا ہو ، یا ان کے پاس گئے ہوں تو انہوں نے پردہ کی اوٹ سے حدیث سنائی ہو ، تو اس میں کیا بات ہے الخ ، ہم نے اپنی کتاب منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین میں ذہبی کا یہ اعتذار ضعیف قرار دیا ہے باوجودیکہ ہمارے نزدیک بھی تحقیق یہی ہے کہ ابن اسحاق ثقہ ہیں اور امام بخاری نے ان کے دفاع میں پوری کوشش صرف کی ہے جہا ں جزء القراء ۃ میں قرأت خلف الامام کی حدیث ان سے روایت کی ہے اگر چہ اپنی صحیح مسند میں ان کی روایت لانا پسند نہ کیا ہو ۱۲منہ (ت)
عــہ ۱ : اکد للفظ اشھد واظہر لان الانسان بحال امرأتہ المخدرۃ اعلم۱۲منہ۔
عـہ: زیادہ موکد اس لئے کہ اس میں لفظ اشھد (میں شہادت دیتا ہو ں) ہے اور زیادہ ظاہر اس لئے کہ آدمی اپنی پردہ نشین بیوی کے حال سے زیادہ با خبر ہوگا ۱۲منہ(ت)