وفی لفظ لاحمدان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال لیس علی من نام ساجدا وضوء حتی یضطجع فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ ۱؎ ولابی داؤد انما الوضوء علی من نام مضطجعا فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ۲؎
امام احمد کی ایک روایت کے الفاط یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، جو سجدے کی حالت میں سوجائے اس پر وضو نہیں یہاں تک کہ کروٹ لیٹے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ابو داؤد کے الفاظ یہ ہیں وضو اسی پر ہے جو کروٹ لیٹ کر سوجائے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ،
(۱؎ مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۲۵۶)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الوضوء من النوم آفتا ب علم پریس لاہور ۱/ ۲۷)
وللدار قطنی لاوضو علی من نام قاعدا انما الوضو علی من نام مضطجعا فان نام مضطجعا استرخت مفاصلہ اھ۳؎
دار قطنی کے الفاظ یہ ہیں ۔اس پر وضو نہیں جو بیٹھا ہوا سوجائے وضو اس پر ہے جو کہ کروٹ لیٹ کر سوئے اس لئے کہ جو کرو ٹ لیٹ کر سوئے گا اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ،
(۳؎ سنن الدرا قطنی باب فیما روی فیمن نام قاعدا الخ حدیث ۵۸۵ دار المعرفۃ بیروت ۱/ ۳۷۶)
وللبہیقی لایجب الوضوء علی من نام جالسا اوقائما اوساجدا حتی یضع جنبہ فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ ۴؎
بیہقی کے الفاظ یہ ہیں اس پر وضو واجب نہیں جو بیٹھے بیٹھے ، یا کھڑے کھڑے ، یا سجدہ میں سوجائے یہاں تک کہ اپنی کروٹ زمین پر رکھ دے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے ،
(۴؎السنن الکبری کتاب الطہارۃ باب ورد فی نوم المساجد دارصادر بیروت ۱/ ۱۲۱)
وذکر المحقق فی الفتح حدیثا اٰخر عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ فیہ مھدی بن ھلال واخر عن ابن عباس عن حذیفۃ بن الیمان رضی اللہ تعالی عنہم فیہ بحر بن کنیز (عــــــہ ۱ )السقاء (عــــــہ ۲ )ثم قال وانت اذا تأملت فیما اوردناہ لم ینزل عندک الحدیث عن درجۃ الحسن ۱؎ اھ
اور حضرت محقق نے فتح القدیر میں ایک دوسری حدیث بروایت عمر و بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ذکر کی ہے اس میں ایک راوی مہدی بن ہلال ہے او رایک حدیث بروایت حضرت ابن عباس حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالی عنہم سے ذکر کی ہے اس میں ایک روای بحرین کنیز سقاء ہے پھر فرمایا ہے : ہم نے حدیث جن طرق سے نقل کی ہے ان میں غور کرو گے تو حدیث تمہارے نزدیک درجہ حسن سے فروتر نہ ہوگی اھ
عــہ ۱ : بنون وزای ووقع فی نسخ الفتح و الغنیہ ونصب الرایۃ وغیرھا ا لمطبوعات کلھا کثیر بثاء وراء وھوتصحیف ۔
عــہ۱: نون اور زاسے اور فتح ، غنیہ ، نصب الرایہ وغیرہا کے سبھی مطبوعہ نسخوں میں ثا اور راسے کثیر چھپاہوا ہے یہ تصحیف ہے۔۱۲منہ(ت)
عـہ ۲ :کان یسقی الحجاج فسمی السقاء ۱۲ منہ۔ عــہ۲ : یہ حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس لئے سقاء نام پڑگیا ۱۲منہ(ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ،فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۴۵)
قال فی الغنیۃ لما تقرران ضعف الراوی اذاکان بسبب الغفلۃ دون الفسق یزول بالمتابعۃ ویعلم بھا ان ذلک الحدیث مما اجاد فیہ ولم یھم فیکون حسنا ۲؎ اھ۔
غنیہ میں فرمایا ، اس لئے کہ یہ طے شدہ ہے کہ راوی کا ضعف جب فسق کی وجہ سے نہ ہو غفلت کی وجہ سے ہو تو وہ متابعت سے دور ہوجاتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوجاتاہے کہ روای نے اس میں عمدگی برتی ہے اور وہم کا شکار نہ ہواتو وہ حدیث حسن ہوجاتی ہے ، اھ
اقول اما ف۱ ابن ھلال فلا(ف۲)یصلح متابعافقد کذّبہ یحیی بن سعید ۳
اقول ابن ہلال تو متا بعت کے قابل نہیں ، یحیی بن سعید نے اسے کا ذب کہا ۔
ف۱: تطفل علی الفتح والغنیۃ ۔ ف۲: طرح مھدی بن ھلال۔
(۳ میزان الاعتدال ترجمہ مہدی بن ہلال ۸۸۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۴/ ۱۹۶)
وقال ابن معین یضع الحدیث ۱؎وقال ابن المدینی کان یتھم بالکذب۲؎ وقال الدار قطنی وغیرہ متروک۳؎
ابن معین نے کہا ، وہ حدیث وضع کرتا تھا ، ابن مدینی نے کہا ، مہتم بالکذب تھا ، دار قطنی اور ان کے علاوہ نے بھی کہا متروک ہے ۔
(۱؎ میزان الاعتدال ترجمہ مہدی بن ہلال ۸۸۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۴/ ۱۹۶)
( ۲ میزان الاعتدال ترجمہ مہدی بن ہلال ۸۸۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۴/ ۱۹۶)
(۳میزان الاعتدال ترجمہ مہدی بن ہلال ۸۸۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۴/ ۱۹۶)
واما فـــ ۱ ابن کنیز فقال النسائی والدار قطنی متروک ۴؎ وھو قضیۃ قول ابن معین لایکتب حدیثہ ۵؎ لکن الحافظ فی التقریب اقتصر علی انہ ضعیف تبعا ۶؎للبخاری وابی حاتم فکان یجب اسقاط الاول وما کان کبیر حاجۃ الی الاٰخر فان الحدیث بنفسہ لاینزل عن درجۃ الحسن علی اصولنا ان شاء اللّٰہ تعالٰی وکلام الاثرین ماش علی اصولہم من ردالمراسیل وعنعنۃ المدلسین مطلقا۔
رہاابن کنیز ، تو اس کے بارے میں نسائی اوردار قطنی نے کہا متروک ہے یہی ابن معین کے قول '' لایکتب حدیثہ''( اس کی حدیث نہ لکھی جائے) کا بھی تقاضا ہے لیکن حافظ ابن حجر نے تقریب التہذیب میں بہ تبعیت امام بخاری وابو حاتم اسے ضعیف بتانے پر اکتفاکی ، تو پہلی روایت ( روایت ابن ہلال )کو ساقط کر دینا واجب تھا اور دوسری (روایت ابن کنیز )کی بھی کوئی بڑی ضرورت نہ تھی ، اس لئے کہ اصل حدیث ہمارے اصول کی رو سے خود ہی درجہ حسن سے فروتر نہ ہوگی ان شاء اللہ تعالی اور محدثین کا کلام ان کے اپنے اصول پر جاری ہے کہ مرسل حدیثیں اور اہل تدلیس کا عنعنہ مطلقا نامقبول ہے ۔