| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
اقــول: کل کلامہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی مبتن علی انہ فھم فھم النھر رجوع الضمیر الی ماھو القیاس وقد علمت انہ غیر الواقع الا تری الی قولہ بل فی عقدالفرائد ولو کان کما فھمتم لقال نعم فی عقدالفرائد لکن فــــ ارشدتم الی وجہ اٰخر شید مبانی ایراد النھر فان البحر ذکر بعدہ مسألۃ تعمد النوم فی الصلاۃ وان ابا یوسف یقول فیہ بالنقض والمختار لاوان قاضی خان فصّل فجعلہ ناقضافی السجود دون الرکوع وان المحقق فی الفتح حملہ علی سجود لم یتجاف فیہ ثم قال البحر وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ان لاینتقض بالنوم فی السجود مطلقا ۱؎ اھ ای سواء کان متجافیا اولا فقد افصح انہ جعل الاطلاق فی الصّلاۃ ھو الاصح فظھرانہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی اراد بالضمیر قولہ ترکناہ فیہا بالنص کما کان ھو اقرب المتبادر وایاہ فھم فی النھر وحینئذ ھو سھو لاریب فیہ ۔
اقول: علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی کے سارے کلام کی بنیاد اس پر ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ صاحب نہر نے ضمیر کا مرجع ماھوا لقیاس کو سمجھا ہے اور واضح ہوچکا کہ واقعہ ایسا نہیں صاحب نہر کے الفاظ دیکھئے وہ لکھتے ہیں بل فی عقد الفرائد (بلکہ عقد الفرائد میں ہے) کہ اندرون نماز سجدہ کر نے والے کی نیند وضو کو فاسد نہیں کرتی بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیت پر ہو ) اگر ان کے فہم میں وہ ہوتا جو ان سے متعلق آپ نے سمجھا تو وہ یوں کہتے نعم فی عقد الفرائد (ہاں عقد الفرائد میں ایسا ہے) لیکن آپ نے تو ایک دوسرے ہی رخ کی رہنمائی فرمائی جس نے صاحب نہر کے اعتراض کی بنیادیں اور زیادہ مضبوط کردیں ، اس لئے کہ صاحب بحر نے اس کے بعد نماز کے اندر قصدا سونے کا مسئلہ ذکر کیا ہے اور یہ کہ امام ابویوسف ایسی نیند کے ناقض وضو ہونے کے قائل ہیں اور مختار یہ ہے کہ ناقض نہیں ، اور یہ کہ امام قاضی خان نے تفصیل کی ہے انہوں نے اس نیند کو سجدے میں ناقض قرار دیا ہے اور رکوع میں نہیں اور یہ کہ حضرت محقق نے فتح القدیر میں اسے ایسے سجدے پر محمول کیا ہے جس میں کروٹیں جدا نہ ہو ں اس کے بعد صاحب بحر نے فرمایا ہے ''وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ان لا ینتقض بالنوم فی السجود مطلقا اھ''کہاجاتا ہے کہ اصح متقدم کا تقاضایہ ہے کہ مطلقا سجدہ میں نیند سے وضو نہ ٹوٹے ، یعنی کروٹیں جدا ہوں یا نہ ہوں اس نے تو اسے صاف واضح کردیا کہ نماز میں اطلاق ہی اصح ہے جس سے ظاہر ہوگیا کہ صاحب بحر رحمہ اللہ تعالی نے ضمیر سے اپنا قول'' ترکناہ فیھا بالنص نماز میں اس قیاس کو ہم نے نص کی وجہ سے ترک کردیا '' مراد لیاہے جیسا کہ قریب تر اور متبادر یہی تھا اور اسی کو صاحب نہر نے سمجھا بھی ایسی صورت میں تو بلا شبہ یہ سہو ہے ۔
(۱؎البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۸)
ف: معروضۃ سادسۃ علیہ
وبالجملۃ تصحیح الزیلعی کالبدائع لامساس لہ بمخالفۃ مانرتضیہ ا ماما ذکر فی الخانیۃ ان النقض مطلقا فی السجود خارج الصلاۃ ظاھر الروایۃ ۱؎
بالجملہ بدائع کی طر ح تصحیح زیلعی کو بھی ہمارے پسند کردہ قول کی مخالفت سے کوئی مس نہیں لیکن وہ جو خانیہ میں مذکور ہے کہ بیرون نماز کے سجدے میں مطلقا ناقض ہونا ظاہر الروایہ ہے
(۱؎ خلاصۃ الفتاوی،کتاب الطہارات،الفصل الثالث فی نواقض الوضوء ،امام النوم مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۱۸)
وقــدمـہ وھو فـــ یقدم الاظھر الاشھر وعبر عن قول التفصیل بالھیاۃ بقیل فافاد ضعفہ فاعلم انہ قال ذلک ولم یوافق علیہ بل جعل فی الخلاصۃ ظاھر المذھب عدم الفرق فی الصلاۃ وخارجہا وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ انہ المشہور ۲؎
اور امام قاضی خاں نے اسی کو مقدم کیا ہے اوروہ اظہر اشہر ہی کو مقدم کرتے ہیں ، اور تفصیل والے قول کو انہوں نے قیل سے تعبیر کر کے اس کے ضعف کاافادہ کیا ہے تو واضح ہو کہ انہوں نے یہ کہا ہے مگر اس پر ان کی موافقت نہ ہو ئی بلکہ خلاصہ میں نماز اور بیرون نماز کے درمیان عدم فرق کو ہی ظاہر مذہب قرار دیا حلیہ میں ذخیرہ سے نقل ہے کہ یہی مشہور ہے
(۲؎ رد المحتار بحوالہ الذخیرہ کتاب الطہارۃ،بحث نواقض الوضوء،دار احیاء التراث العربی بیروت،۱/ ۹۶ )
وفیھا عن البدائع ان علیہ العامۃ ۳؎وفیھا عن التحفہ انہ الاصح ۴؎ وقال فی الھدایۃ ھوالصحیح ۵؎
اوراسی میں بدائع کے حوالے سے ہے کہ اسی پر عامہ علماء ہیں اسی میں تحفہ کے حوالے سے ہے کہ وہی اصح ہے ہدایہ میں فرمایا ہے کہ وہی صحیح ہے
(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی ) (۴؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی ) (۵؎ الہدایۃ،کتاب الطہارات،فصل فی نواقض الوضوء، المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/ ۱۰)
وقال فی العنایۃ الذی صححہ وھو ظاھر الروایۃ ۶؎
عنایہ میں فرمایا کہ صاحب ہدایہ نے جسے صحیح کہا وہی ظاہر الروایہ ہے
(۶؎ العنایۃ شر ح الہدایۃ علے ہامش فتح القدیر ، فصل فی نواقض الوضوء،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،۱/ ۴۳)
وانما نسب العنایۃ وکتب اُخر الفرق الی ابن شجاع بل فی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن الامام ابی الحسین القدوری انہ قال فیما عن ابن شجاع انہ اذا نام خارج الصلاۃ علی ھیاۃ الساجد ینقض وضوؤہ ھذا قولہ ولم یقل بہ احد من اصحابنا ۷؎ اھ
عنایہ اور دوسری کتابوں میں نماز بیرون نماز کی تفریق ابن شجاع کی جانب منسوب ہے بلکہ حلیہ میں ذخیرہ سے اس میں امام ابو الحسین قدوری سے منقول ہے کہ انہوں نے ابن شجاع سے مروی اس مسئلہ سے متعلق کہ جب سجدہ کرنے والے کی ہیات پر بیرون نماز سوجائے تو اس کا وضو ٹوٹ جائیگا ، یہ فرمایا کہ یہ ابن شجاع کا اپنا قول ہے ہمارے اصحاب میں سے کوئی اس کا قائل نہیں اھ
(۷؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
وفی ھذا مایکفینا للخروج عن عھدتہ وللّٰہ الحمد۔
اس تصریح میں اس قول سے ہماری سبکدوشی کے لئے سب کچھ موجود ہے ، وللہ الحمد۔
فاستبان ان القول الاول ھو المحتظی بصریح التصحیح۔الرابع ھو الاقوی من حیث الدلیل اعلم انہ اذقد تحقق ان القول الاول علیہ الاکثر وعلیہ المتون ولہ التصحیح ولو کان بعض ھذہ لمساغ لمثلی ان یتکلم عن الدلیل فکیف وقد اجتمعت۔ فالان اقول وبحول ربی احول اخرج الائمۃ احمد وابو داؤد والترمذی وابو بکر بن ابی شیبۃ فی مصنّفہ والطبرانی فی المعجم الکبیر والدار قطنی والبیہقی فی سننھما من طریق ابی خالد یزید بن عبدالرحمٰن الدالانی عن قتادۃ عن ابی العالیۃ عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما انہ رأی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم نام وھو ساجد حتی غط او نفخ ثم قام یصلی فقلت یارسول اللّٰہ انک قدنمت قال ان الوضوء لایجب الا علی من نام مضطجعا فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ ھذا لفظ الترمذی ۱؎
تو یہ واضح وروشن ہوگیا کہ قول اول ہی صریح تصحیح سے بہرہ ور ہے ۔وجہ چہارم : دلیل کے لحاظ سے بھی قول اول ہی زیادہ قوی ہے واضح ہو کہ جب یہ تحقیق ہوگئی کہ قول اول ہی پر اکثر ہیں اسی پر متون ہیں اسی کی تصحیح ہے اور اگر ان باتوں میں سے ایک بھی ہوتی تو مجھ جیسے شخص کے لئے دلیل سے متعلق کلام کا جوا ز ہوجاتا پھر جب یہ سب جمع ہیں تو مجھے یہ حق کیوں نہ ہوگا ۔ تو اب میں کہتا ہوں اور اپنے ر ب ہی کی قدرت سے حرکت میں آتاہوں ، امام احمد ،ابوداؤد ، ترمذی ، ابوبکر بن ابی شیبہ اپنی مصنف میں ، طبرانی معجم کبیر میں ، دار قطنی اور بیہقی اپنی اپنی سنن میں بطریق ابو خالد یزید بن عبدالرحمن دالانی قتادہ سے وہ ابو العالیہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ہیں کہ انہوں نے دیکھا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ ولسم کو سجدے میں نیند آئی یہاں تک کہ سونے میں دہن مبارک یا بینی مبارک کی آواز آئی پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، تومیں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کو تو نیند آگئی تھی ، فرمایا وضو واجب نہیں ہوتا مگر اسی پر جو کروٹ لیٹ کر سوجائے اس لئے کہ جب وہ کروٹ لیٹے گاتو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ، یہ ترمذی کے الفاظ ہیں ۔
(۱؎ سنن الترمذی،ابواب الطہارۃ ،باب جاء فی الوضوء من النوم ،الحدیث ۷۷،دار الفکر بیروت،۱/ ۱۳۵)